انڈین گیدڑ بھبکیاں , بالی وڈ اور ہم


کچھ جملے بچپن سے سنتے سنتے دل تنگ آچکا ہے حکومتوں سے لے کر گھروں کے دالانوں تک چند ایک گھسی پٹی باتیں۔

کچھ روز پہلے مقبوضہ کشمیر میں ایک دل خراش واقعہ جس میں انڈین فوجی جوان مارے گئے الزام حسب روایت پاکستان پہ عائد کیا گیا۔ کیا سچ ہے کیا جھوٹ کچھ روز میں عیاں ہو جائے گا۔ حسب روایت انڈین دھمکی آمیز رویہ جو کبھی انڈین چیف کے منہ سے سن لیں یا مودی سرکار سے کوئی نہ کوئی نئی پھلجھڑی پٹاخہ پھوٹ رہا ہے۔ نئی بات نہیں لیکن اس وقتی ابال کی وجہ سے ہمارے سوشل میڈیا پہ ایسی ایسی مضحکہ خیز باتیں دیکھنے اور سننے میں آ رہی ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ جیسے آج کل بہت سے فیس بک فرینڈز کی وال پہ ”انڈین موویز“ کا بائیکاٹ کریں ٹائپ چیزیں۔ کیونکہ وہ ہماری اقدار اور اخلاق کو تباہ کر رہے ہیں۔ انڈین کلچر یہ انڈین کلچر وہ۔ لامحالہ لفظوں کی جنگ۔

کچھ لمحوں کے لئے اگر ہم سوچیں کہ اگر ایسا ہو بھی رہا ہے تو ہماری کون سی اقدار کون سا کلچر رہ گیا ہے جو بالی وڈ کا بائیکاٹ کرنے سے سیدھا ہو جائے گا۔ ہماری سوسائٹی میں ان کا رہن سہن، پہناوا، ان کے ناچ گانے ان کے روزمرہ کے انداز، غیر محسوس طریقے سے ہم اپنا چکے ہیں۔ کیا وہ وقتی بائیکاٹ کرنے سے ہمیشہ کے لئے ٹھیک ہو جائیں گے؟

من حیث القوم ہماری عادت ہے کہ پانی جب سر سے گزر جاتا ہے تب ہم سوچنا شروع کرتے ہیں۔ ہمارے لیڈران نے یا گھر کے بڑوں نے کبھی اس بارے مستقل مزاجی سے پلاننگ کی؟ اب جب کہ انڈین کلچر ہمارے گھروں کی دیوار پھلانگ کر ہمارے بیڈرومز میں پہنچ چکا ہے بلکہ اپنی جگہ بنا چکا ہے تو ہم بلا وجہ کا واویلا مچا رہے ہیں۔

آج سے بیس پچیس سال پہلے کی اقدار، ادب آداب، لحاظ، شائستگی، وقار، انداز تکلم اور رویوں پہ نظر ڈالیں۔ کیا کچھ نہ تھا۔ اور اب کیا ہے ہم سب کے سامنے ہے۔ کچھ روک تھام ہوتی تو حالات اتنے دگر گوں نہ ہوتے۔ گھر گھر ڈش انٹینا، کیبل، اور کئی جائز ناجائز ذرائع مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مارکیٹس میں نئی پرانی انڈین موویز ہر جگہ 10 روپے کیسٹ میں دستیاب ہوتی تھیں۔ اس وقت کے حکمران اور گھروں کے سربراہ یہ کیوں نہیں سوچتے تھے کہ پاک سر زمین پہ یہ سب خرافات نہیں ہونی چاہیے۔ جس ملک میں اللہ رسول کا نام لیا جاتا ہے۔ وہاں انڈین گیت اور بھجن اٹھتے بیٹھتے سنائی دیتے ہوں وہاں یہ کہنا کہ بالی وڈ کا بائیکاٹ کیا جائے۔ ٹریڈ بند کی جائے۔ تو ان باتوں سے کیا ہی حاصل؟

اور یہی باتیں انڈین میڈیا اپنے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے کر رہا ہے کہ پاکستان سے ٹریڈ بند کر دیں پاکستان پی حملے کی باتیں، وغیرہ وغیرہ۔ بس کر دیں یہ ڈرامہ بازی۔ فائدہ کسی کو نہیں۔

کبھی ہم نے اپنے گھروں میں جھانک کے دیکھا ہے عورتوں سے لے کر بچیوں تک ہر کوئی انڈین ڈراموں کا اسیر ہو چکا ہے ان کے پہناوے ویسے ہی شادی کے فنکشنز ناچ گانے مکس گیدرنگنز۔ کب ہوتا تھا یہ سب؟ کہاں کہاں سے نکالیں گے کہاں کہاں سے بائیکاٹ کریں گے۔ یہ سب بچوں والی باتیں ہیں۔

ان سب باتوں کی روک تھام پہلے ہونا چاہیے تھی اب تو کوا ہنس کی چال چل چکا ہے۔ یہ میرے اور آپ کے ہاتھ میں جو ڈیوائس ہے جسے ہم فون کہتے ہیں اس کا ایک بٹن دبانے سے انڈین کلچر پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آ جاتا ہے۔ لیکن اب بھی اپنے آپ کو سدھارا جا سکتا ہے سمجھایا جا سکتا ہے کہ ہماری اچھی اقدار، روایات، رکھ رکھاو، طور طریقہ سلیقہ، جو ہمارے اجداد کا تھا اسے کیسے واپس لایا جائے کس طرح اپنی سوسائٹی کو اپنے کلچر سے روشناس کرایا جائے۔

باقی رہ گئیں انڈین گیدڑبھبکیاں تو ہر الیکشن پہ مودی سرکار ہو یا کوئی اور ایسی ڈرامے اور دھمکیاں پاکستان کے لئے نئی بات نہیں ہیں۔ انڈیا اچھی طرح جانتا ہے وہ پاکستان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔

فلموں میں شاہ رخ کو ہیرو بنا کر دکھا دینا کوئی بڑی بات نہیں اگر انڈیا نے اصل ہیرو دیکھنے ہیں تو پاک فوج میں دیکھ لے۔ انڈیا کسی بھی غلطی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ہماری قوم کو ان گیدڑ بھبکیوں میں آنے کی ضرورت نہیں۔

ہاں ضرورت ہے تو اپنے اخلاق، اقدار، ظاھر باطن کو درست کرنے کی۔ سچائی کی ایمان داری کی اور حب الوطنی۔ کیونکہ پاکستان کو باہر سے کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہمارے اپنے ہی اپنے ملک کی جڑیں بہت جان فشانی سے کاٹنے میں مصروف ہیں اس لئے کوئی کلچر کوئی بالی وڈ کوئی یلغار کسی ملک و قوم کو تباہ نہیں کر سکتی۔ اپنے آپ کو درست کر لیں۔ کوئی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

Facebook Comments HS