خواجہ سراؤں کو عزت دی جائے


ایک خواجہ سرا بھیک مانگتے مانگتے سہیل صاحب کی کار کے قریب آیا اور خیرات کی فریاد کی پہلے پہل تو سہیل نے معافی طلب کرنا چاہی مگر ایک دم سے ناجانے اُسے کیسا خیال آیا کہ جیب میں موجود سارے پیسے اُس خواجہ سرا کو تھما دیے۔

شاید اُسے خواجہ سرا کی آنکھوں میں وہی خالی پن نظر آیا ہو جس کا سامنا وہ اپنی ذات میں پچھلے کئی سالوں سے کر رہا تھا گاڑی، پیسا، اعلئی عہدہ، دوست، بیوی، بچے حتٰی کہ زندگی کی ہر آسائش کے ہوتے ہوئے بھی وہ احساسات سے خالی زندگی گزار رہا تھا۔

اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اُس نے خواجہ سرا سے شادی کرنے کا اظہار کیا تو وہ حیرانی کے عالم میں مبتلا ہو کر اُسے سمجھاتا رہا کہ ایسا ممکن نہیں اپنے لئے کوئی ایسی لڑکی دیکھو جو تمہیں خوشیاں دے سکے۔

خواجہ سرا آبدیدہ ہو کر اپنی آپ بیتی سنانے لگا کہ مجھے تو میرے والد نے پیدا ہوتے ہی میری ماں کی ممتا سے محروم رکھتے ہوئے خواجہ سراؤں کے گُرو کے حوالے کر دیا جہاں میری ساری جوانی ناچ کود اور شُرفا کی گندگی دور کرتے کرتے ڈھل گئی اب نا تو کوئی میرا عاشق ہے اور نہ کسی کو اپنی گندگی دور کرنے کی خواہش۔ اس لئے بھیک مانگ کر گزارا کرنے کے علاوہ کوئی ذریعہ معاش نہ ہے۔

مگر سہیل نا مانا اور کافی دِنوں کی پُر اصرار گزارش پر بلآخر خواجہ سرا نے اس سے شادی کر لی۔

زندگی بھر کا پیار اس نے خواجہ سرا پہ نچھاور کر دیا اور اس خالی پن کو دور کر کے اپنی زندگی سے مطمئن ہو گیا مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ موت تو بس اُس کی اِسی تسکین کی منتظر تھی ہو سکتا ہے یہ تسکین سہیل کو اس کے اچھے اعمال کی بدولت ملی ہو خواجہ سرا کے ساتھ بخوشی دو سال گزارنے کے بعد ایک معمولی سی بیماری کی وجہ سے سہیل صاحب انتقال کر گئے۔

یہ دو سال خواجہ سرا کے پچھلے تمام دُکھوں کو بُھلانے اور باقی زندگی سکون سے گزارنے کے لیے کافی تھے۔ خواجہ سرا اس کی محبت کو تروتازہ رکھنے کے لیے اپنے سارے دُکھ درد بُھلائے اس کے بچوں کی خدمت میں مشغول ہو گیا۔

نوٹ: ہمارے معاشرے میں سب سے حقیر باپ اسے سمجھا جاتا ہے جس کے ہاں ایک خواجہ سرا پیدا ہو اور اسی حقارت سے بچنے کے لیے مجبور باپ اپنی اولاد کو درندوں کی دلدل میں خود دھکیلتا ہے۔ حالانکہ سب کی تنقید کا نشانہ بننے والے خواجہ سراؤں کے ناچ کود کی بدولت ہی شُرفا کی خوشیوں کی تکمیل ہوتی ہے۔

خواجہ سرا بھی اسی پاک ذات کی مخلوق ہیں جس ذات نے ہمیں بنایا ہے تو خدا کی اِس مخلوق کو حقارت کی نظر سے دیکھنے کی بجائے معاشرہ میں باوقار زندگی دینے پہ توجہ مرکوز کرانے کی ضرورت ہے۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف ناچ کود یا لوگوں کی غلاظت دور کرنے کا نہیں ہونا چاہیے۔

Facebook Comments HS