جعلی اکاؤنٹس: سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواستیں


آصف علی زرداری جن دنوں جیل میں تھے یہ اس وقت سینٹرل جیل کراچی کے سپرنٹنڈنٹ ہوتے تھے۔ آصف علی زرداری نے ان سے جیل میں چند رعایتیں مانگیں لیکن نجف مرزا نے انکار کر دیا۔ زرداری صاحب برا منا گئے چنانچہ 2008 ء میں جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو نجف مرزا کو او ایس ڈی بنا دیا گیا۔ یہ پانچ سال کھڈے لائن رہے۔ ذوالفقار مرزا اس وقت صدر آصف علی زرداری کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہوتے تھے۔ یہ سندھ کے دبنگ وزیر داخلہ بھی تھے۔ نجف مرزا اور ذوالفقار مرزا اس زمانے میں بھی ایک دوسرے کے انتہائی قریب تھے۔

یہ ذوالفقار مرزا کی گاڑی تک ڈرائیو کرتے تھے لیکن ذوالفقار مرزا پوری کوشش کے باوجود انھیں کسی اہم پوزیشن پر بحال نہ کرا سکے۔ یہ او ایس ڈی ہی رہے۔ درمیان میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب ذوالفقار مرزا نے نجف مرزا سے کہا ”آپ اگر بڑے صاحب سے ایک بار معذرت کر لیں تو یہ مسئلہ ختم ہو سکتا ہے“۔ لیکن نجف مرزا نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا، یہ بعد ازاں نواز شریف حکومت میں پروموٹ بھی ہوئے اور ان کی تقرریاں بھی شروع ہوئیں۔ بشیر میمن نے انھیں ایڈیشنل ڈی جی ساؤتھ بنا کر کراچی تعینات کر دیا۔ سپریم کورٹ نے 6 ستمبر 2018 ء کو 6 رکنی جے آئی ٹی بھی بنا دی۔

اس جے آئی ٹی نے نجف مرزا کی مدد سے تحقیقات شروع کر دیں۔ نجف مرزا اندر کے بھیدی تھے چنانچہ ہر چیز کھلتی چلی گئی۔ تحقیقات دسمبر میں مکمل ہوئیں اور 19 دسمبرکو جے آئی ٹی نے 750 صفحات کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا۔ تحقیقات کے دوران 104 جعلی اکاؤنٹس نکلے۔ 220 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں اور 620 لوگوں کو سمن بھیجے گئے۔ جے آئی ٹی کا کہنا تھا ”یہ صرف ’ٹپ آف دی آئس برگ‘ ہے۔ اگر مزید تحقیقات کی جائیں تو اس ٹپ کے نیچے کرپشن، منی لانڈرنگ اور سیاسی لین دین کا پورا پہاڑ نکلے گا۔ یہ پہاڑ پورے سسٹم کو ہلا کر رکھ دے گا اور ملک کا کوئی ادارہ، کوئی باعزت شخصیت اور کوئی با اثر عہدہ نہیں بچے گا“۔

اطلاعات کے مطابق جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران پتہ چلا یہ اسکینڈل سینیٹ کے مارچ 2018 ء کے الیکشن کو بھی لپیٹ میں لے لے گا اور اگر آزادانہ تحقیقات ہوں تو بلوچستان کے بے شمار ایم پی ایز اور تازہ ترین سینیٹرز بھی پھنس جائیں گے۔ بلوچستان میں ثناء اللہ زہری کی حکومت کی تبدیلی کی فائل بھی کھل جائے گی۔ 2018 ء کے جنرل الیکشن بھی زد میں آجائیں گے۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا نیٹ ورک بھی سامنے آ جائیں گے۔ جنرل الیکشن کے لیے فنڈنگ کی فائل بھی کھل جائے گی۔ موجودہ حکومت کے بے شمار کردار بھی سامنے آ جائیں گے اور ملک سے باہر موجود طاقتیں اور چہرے بھی عیاں ہو جائیں گے۔

بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ یہ کیس مستقبل میں سیاسی ایٹم بم ثابت ہو گا اور یہ ایٹم بم سسٹم کو ہلا کر رکھ دے گا۔ یہ ایشو، یہ داستان مستقبل میں نہ ختم ہونے والی کہانی ثابت ہو گی۔ یہ فائل کھلتی اور بند ہوتی رہے گی مگرشاید یہ کبھی نقطہ انجام تک نہیں پہنچ سکے گی۔ کیوں؟ کیونکہ اس کا کوئی نہ کوئی کردار ہر حکومت کا حصہ رہے گا اور جاتی ہوئی حکومت کا کوئی کردار نئی حکومت کے کسی کردار کے ہاتھ میں یہ فائل دے جائے گا اور وہ بھی اسے اپنی الماری میں رکھ کر پانچ سال گزار دے گا اور یوں ایک دن اس کیس کا انجام بھی اصغر خان کیس جیسا ہو جائے گا۔ یہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔

نوٹ :اس تحریر کو متوازی ہلکی پھلکی موسیقی جیسے سراج درانی، علیم خان وغیرہ کی گرفتاری سے نہ جوڑا جائے کیونکہ یہ سلسلہ عوام کی تفنن طبع کے لیے جاری رہے گا۔ کیونکہ عوام کی آنکھوں میں بھی دھول۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2