جعلی اکاؤنٹس: سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواستیں
سپریم کورٹ نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری، فریال تالپور، انور مجید اور اومنی گروپ کی نظر ثانی کی تمام درخواستیں مسترد کر دیں۔
ملک میں کئی قانون بنے بنائے اور گئے۔ ایبڈو سے لے نیب تک، مگر کوئی قانون بھی اس وقت تک کام نہیں کرتا جب تک اس قانون کے تخلیق کار کی منشاء نہ ہو یا جب مدعا پورا نہ ہوجائے اور جیسے ہی اس قانون سے اپنی مطلب کے لوگ سکریو ہوگئے تو پھر اسی قانون میں سے وہ وہ لوپ ہول نکال لیے جاتے ہیں کہ بڑے سے بڑا مجرم بھی معصوم بن کر مکھن کے بال کی طرح آزاد ہوجاتا ہے۔ اگرچہ ہر غریب کی نفسیاتی خواھش ہوتی ہے ہے ہر امیر یا تو اس کی سطح پر آجائے یا کم از کم اتنا خوار تو ہو کہ وہ اس کا مذاق نہ اڑا سکے اور مزے کی بات تو یہ ہے ہر صاحب ثروت اور صاحب حثیت، غریبوں کے حقوق کی بات اس وقت کرتا ہے جب اسے ان کی حمایت و تائید چایہے ہوتی ہے ورنہ پھر تو کون اور میں کون۔ بعض مفکریں کا خیال ہے کہ یہ احتساب، قانون، انصاف ہم مرتبہ ہاتھیوں کی لڑائی ہوتی ہے جس میں ان کا نہیں بلکہ غریب کا ہی جوس نکلتا ہے۔
آج جبکہ سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے بیرون ملک رقم منتقل کیے جانے کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سابق صدر آصف علی زارداری کے وکیل لطیف کھوسہ، اومنی گروپ کے مالکان انور مجید اور عبد الغنی مجید کے وکیل شاہد حامد، سندھ حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل، وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کے وکیل مخدوم علی خان اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو کے وکیل خالد جاوید نے اپنے اپنے دلائل دیے جس کے جواب میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدالت مفروضوں پر کام نہیں کر سکتی، مستقبل کے احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔ بعد ازاں چیف جسٹس نے آصف زرداری، فریال تالپور اور اومنی گروپ کے انور مجید اور عبدالغنی مجید کی نظر ثانی کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آج جتنی بھی بحث ہوئی وہ سب خدشات پر ہوئی۔
ایف آئی اے کی قائم کردہ جے آئی ٹی میں کہا گیا ہے کہ یہ کیس 2015 ء میں شروع ہوا جب سمٹ (Summit) بینک خیابان عظیم برانچ، ڈیفینس کراچی کا ایک ملازم ایف آئی اے کراچی کے اینٹی کرپشن سرکل میں آیا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر کو سمٹ بینک کا ایک اکاؤنٹ نمبر دیا اور اسے بتایا، ”یہ اکاؤنٹ جعلی ہے اور اس کے ذریعے اربوں روپے دائیں بائیں ہو رہے ہیں“۔ ایف آئی اے نے خفیہ تحقیقات کیں، پتہ چلا یہ اے ون انٹرنیشنل کمپنی کا اکاؤنٹ ہے اور کمپنی کا مالک طارق سلطان ہے۔
ایف آئی اے نے طارق سلطان کو بلا لیا۔ طارق سلطان اکاؤنٹ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس نے بتایا کہ میں نے آج تک کوئی کمپنی بنائی اور نہ کوئی اکاؤنٹ کھلوایا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نے رپورٹ بنا کر ڈائریکٹر کو بھجوا دی۔ شاہد حیات اس وقت ایف آئی اے سندھ کے ڈائریکٹر تھے۔ شاہد حیات نے مزید انکوائری کا حکم دے دیا۔ ایف آئی اے نے بینک سے اکاؤنٹ اوپننگ فارم منگوا لیا۔ ملزم طارق سلطان اور بینک اوپننگ فارم کے دستخطوں کی پڑتال کی گئی۔ رائٹنگ ایکسپرٹس نے دستخطوں کے فرق کی تصدیق کر دی۔ ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرا دیا یوں اے ون انٹرنیشنل کے اکاؤنٹ کی تحقیقات شروع ہوگئیں۔
تفتیش کے دوران سات نئے اکاؤنٹ سامنے آ گئے۔ ان اکاؤنٹ ہولڈرز کو بلایا گیا۔ یہ بھی اپنے اکاؤنٹس سے واقف نہیں تھے۔ کسی نے ان کے شناختی کارڈز پر اکاؤنٹس کھولے تھے۔ اربوں روپے کا لین دین کیا اور ان لوگوں کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ ان اکاؤنٹس سے کراچی کی ایک ٹریول ایجنسی فضل ربی کو بھی پے منٹس ہوئی تھیں۔ فضل ربی کے مالک کوبلایا گیا، مالک نے بتایا، ”یہ بلاول ہاؤس کے ایئر ٹکٹس کی پے منٹس ہیں“۔ ایف آئی اے نے ٹکٹوں کا ریکارڈ مانگ لیا، ایجنسی نے ریکارڈ دے دیا۔
ریکارڈ میں بلاول ہاؤس کے تمام اہم لوگوں کے ٹکٹ شامل تھے۔ ایان علی کے ٹکٹ بھی فضل ربی نے جاری کیے تھے اور ان کی پے منٹس بھی جعلی اکاؤنٹ سے ہوئی تھیں۔ یہاں تک کی انکوائری تین لوگوں تک محدود تھی۔ سب انسپکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرکل اور ڈائریکٹر شاہد حیات۔ ان تینوں پر بے تحاشا دباؤ آیا۔ سمٹ بینک کے صدر حسین لوائی اور اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید دونوں نے دباؤ ڈالنے کا کوئی طریقہ نہ چھوڑا۔ یہ تینوں ڈٹ گئے اور انھوں نے رپورٹ ہیڈ کوارٹر اور وزیرداخلہ چوہدری نثار کو بھجوا دی۔
چوہدری نثار نے 12 اگست 2016 ء کو پریس کانفرنس میں انکشاف کیا، ”بلاول بھٹو اور ایان علی کے ایئر ٹکٹ کی پے منٹس ایک ہی اکاؤنٹ سے ہوتی ہیں“۔ چوہدری نثار نے یہ انکشاف اسی رپورٹ کی بنیاد پر کیا تھا۔ ایف آئی اے نے اس دوران اسٹیٹ بینک کے اعلیٰ حکام کوبھی بلا کر پوچھا، ”سمٹ بینک کے 29 اکاؤنٹس سے چار ارب 58 کروڑ روپے کا لین دین ہوا لیکن آپ کے سسٹم کو کیوں پتہ نہیں چلا“۔ اسٹیٹ بینک نے سمٹ بینک پر ذمے داری ڈال دی۔
اس کا کہنا تھا سمٹ بینک نے ہمیں اطلاع نہیں دی۔ ایف آئی اے نے برانچ منیجر عادل شاہ، ریلیشن شپ منیجر نورین سلطان اور آپریشن منیجر کرن امان کو بلایا۔ تینوں نے نہ صرف جعلی اکاؤنٹس کا اعتراف کر لیا بلکہ یہ بھی بتا دیا یہ اکاؤنٹس اومنی گروپ کے چیف فنانس افسر اسلم مسعود اور عارف خان نے کھلوائے تھے۔ ہم نے ان اکاؤنٹس کے بارے میں بینک کے صدر حسین لوائی کو لکھا تھا لیکن انھوں نے ہمیں اکاؤنٹس کھولنے اور خاموش رہنے کا حکم دیا تھا۔
جے آئی ٹی نے کہا ہے کہ یہ تفتیش ابھی جاری تھی کہ بول ٹی وی کا ایشو سامنے آ گیا۔ وفاقی حکومت جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم توڑنا چاہتی تھی چنانچہ چوہدری نثار کے حکم پر ڈپٹی ڈائریکٹر کو پولیس ڈیپارٹمنٹ واپس بھجوا دیا گیا۔ یہ کراچی میں ایس ایس پی لگ گئے۔ ڈائریکٹر شاہد حیات اور تفتیشی افسر کو بھی کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ یوں 29 جعلی اکاؤنٹس اور 4 ارب 58 کروڑ روپے کا ایشو فائل بنا اور یہ فائل فائلوں کے انبار میں دفن ہو گئی۔
یہ فائل دو سال فائلوں کے اندر چھپی رہی۔ 4 اگست 2017 ء کو بشیر میمن ایف آئی اے کے ڈی جی بن گئے۔ یہ پولیس سروس سے تعلق رکھتے ہیں اور انتہائی ایماندار اور دبنگ افسر ہیں۔ یہ آئے اور انھوں نے پرانی فائلیں نکالنا شروع کر دیں۔ جعلی اکاؤنٹس کی فائل ان کے سامنے آ گئی۔ ڈی جی نے ڈائریکٹر سندھ سے اس فائل کے بارے میں پوچھا۔ اس نے جواب دیا ”سر یہ انتہائی حساس کیس ہے۔ ہم اسے ہاتھ نہیں ڈال سکتے“۔
بشیر میمن نے اس کیس کو ایکٹو کرنے کے لئے سندھ میں دو دبنگ ڈائریکٹر تعینات کیے۔ یہ افسر امیر شیخ اور منیر احمد شیخ تھے۔ یہ دونوں بھی اس فائل کو ہاتھ لگانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ بشیر میمن کے لیے یہ صورتحال قابل قبول نہیں تھی چنانچہ یہ جون 2018 ء میں چیف جسٹس ثاقب نثار کے پاس گئے۔ ساری صورت حال ان کے گوش گزار کی اور ان سے عرض کیا آپ کے علاوہ پورے ملک میں کوئی شخص اس کیس میں ہاتھ نہیں ڈالے گا۔
چیف جسٹس نے 29 جون کو سو موٹو نوٹس لے لیا۔ 8 جولائی کو پہلی سماعت ہوئی اور آصف زرداری، فریال تالپور اور اسٹیٹ بینک کے حکام سمیت 20 افراد کو طلب کر لیا گیا۔ ایف آئی اے نے سماعت سے قبل 6 جولائی 2018 ء کو انور مجید، عبدالغنی مجید، حسین لوائی، اسلم مسعود، سمٹ بینک کے چیئرمین نصیر عبداللہ لوتھا، نزلی مجید، نمرہ مجید، محمد عارف خان، نورین سلطان، کرن امان، عدیل شاہ راشدی اور طحہٰ رضا کے خلاف ایف آئی آردرج کر دی۔
آصف علی زرداری اور فریال تالپور نے اس ایف آئی آر کے بعد بینکنگ کورٹ کراچی سے ضمانت قبل از گرفتاری کرا لی۔ اس ضمانت میں بار بار توسیع ہوتی رہی۔ یہ اب تک ضمانت پر ہیں۔ ڈی جی ایف آئی اے نے اس دوران سندھ کے لیے ایڈیشنل ڈی جی کا نیا عہدہ تخلیق کیا اور مشہور پولیس افسر نجف قلی مرزا کو اس عہدے پر تعینات کر دیا۔ نجف مرزا آصف علی زرداری کے انتہائی قریبی دوست (سابق) ذوالفقار علی مرزا کے کزن ہیں۔ یہ انتہائی ایماندار اور جرأت مند پولیس افسر ہیں۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


