بچوں کی درندہ صفت انسانوں سے حفاظت کے لئے چند گائیڈ لائنز


آہ و بکا سسکیاں یہ ہوتاہے اس گھر کا ماحول جہاں کسی پھول کو درندے کچل دیتے ہیں اور پھر جب وہ واقعہ میڈیا کی زینت بنتاہے تو یہ بحث شروع ہوتی ہیں کہ جنسی تعلیم بچوں کے لیے ضروری ہے یا نہیں؟ میں نہیں سمجھتی کہ جنسی تعلیم یہ ہے کہ آپ اپنے بیٹا یا بیٹی کا ہاتھ پکڑے انھیں سامنے بیٹھائے اور جنسی عمل اور تعلق کے بارے میں لکچر دے ڈالے کچھ فعل بے ضرر ہوتے ہیں مگر وہ فعل ہی بچوں کا مستقبل محفوظ کررہے ہوتے ہیں۔ معمعولی سے کچھ امور ایسے ہیں جو مائیں سرانجام دے رہی ہوتی ہیں اور انھیں احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ غلط کررہی ہیں ان امور سے خود کو روک کر بچوں کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔ آئیں ان چند امور کی جانب میں آپ کی توجہ مبذول کراتی ہوں۔

کزن کے ساتھ مارکیٹ بھیج دینا

ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہے جہاں جوائنٹ فیملی سسٹم موجود ہیں۔ سب اکٹھے رہتے ہیں ایسے میں کزنز بھی اکٹھے اٹھتے بیٹھتے ہیں دوستانہ ماحول کھیل کود معمول کا حصہ ہے اور اس کا ہونا بھی کچھ غلط نہیں۔ مگر وہ کہتے ہیں نہ گہہوں کے ساتھ گھن بھی پستا ہے بالکل اسی طرح بچیوں کو غیروں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کزنز کے ساتھ بھی باہر بھیجنے سے گریز کیا جائے تاکہ وہ کسی غیر کے ساتھ باہر جانے سے خود ہی اجتناب برتے۔

پبلک ٹرانسپورٹ میں ڈرائیور کے ساتھ بٹھا دینا

اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ رکشہ کی پچھلی سیٹ پر خواتین سوار ہیں اور آگے ڈرائیور کے ساتھ چھوٹی عمر کی بچی بیٹھی ہوئی ہے۔ جو ماں اس وقت پچھلی سیٹ پر براجمان ہوتی ہے اس کی یہیں سوچ ہوتی ہے کہ چونکہ وہ ساتھ ہے اس لیے ڈرائیور کوئی بدنیتی نہیں کرے گا یقینا ڈرائیور آپ کے زیر نگرانی ہونے کے باعث کسی بھی عمل سے خود کو بعض رکھے گا۔ مگر جب آپ موجود نہیں ہوں گی اور اسکول وین ڈرائیور بچی کو اگلی سیٹ پر اپنے ساتھ کسی غلط ارادہ سے بٹھائے گا تو وہ اسے غلط نہیں سمجھے گی کیونکہ وہ آپ کے زیر نگرانی ڈرائیور کے ساتھ بیٹھی ہوگی۔

ناسمجھی کی عمر میں قاری صاحب کے پاس اکیلے پڑھنے بھیج دینا

یوں تو ہمارے معاشرے میں پردہ کا رواج دن بہ دن کم ہورہا ہے مگر اگر آپ پردہ کرتی ہیں اور گھر میں قاری صاحب بیٹا بیٹی کو پڑھانے آتے ہیں تو اس بات کا دھیان رکھیے کہ کبھی بھی بند کمرے میں بچے کو اکیلے پڑھنے نہ بھیجے جس کمرے میں بچہ پڑھ رہا ہو اس کہ آس پاس موجود رہے اور اگر آپ کے لیے چل پھر کر دھیان رکھنا ممکن نہیں تو بہتر ہے برقع پہن کر اس کمرے میں ہی بیٹھ جائیں جہاں بچے کو پڑھایا جارہا ہے۔

کزنز کے ساتھ نائٹ اسٹے

آج کل ماڈرن دور ہے نائٹ اسٹئیز عام ہوگئے ہیں مگر ہمیشہ اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے بچوں کو بڑے کزنز کے ساتھ نائٹ اسٹے کی اجازت نہ دیں کیونکہ اکثر دکھ وہیں سے ملتا ہے جہاں سے اس کے ملنے کی امید نہیں ہوتی۔

یہ تو وہ عوامل ہوگئے جو بے دھیانی میں ہورہے ہیں اور ان سے اجتناب ضروری ہیں اس کے ساتھ ساتھ کچھ احتیاطی تدابیر اپنا کر بھی بچوں کو سمجھایا جاسکتا ہے۔

چند احتیاطی تدابیر

حرکات و سکنات

جیسے جیسے بچے بڑے ہونے لگتے ہیں ویسے ویسے ان کا مشاہدہ بڑھنے لگتا ہے اس لیے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اردگرد کے ماحول میں موجود حرکات و سکنات پر غور کیا جائے اور ان عناصر سے دور رکھا جائے جس سے جنسی تحریک ملنے کا اندیشہ ہو۔

چینل کنٹرول

آفسوس یہ ہے کہ ہمارا میڈیا کچھ زیادہ ہی آزاد ہوگیا ہے اس لیے اس امر کی ضرورت ہے کہ ٹی وی پر چلنے والے مواد پر نظر رکھی جائے چائلڈ لاک لگایا جائے اور ان چینلز کو بند کیا جائے جو کسی بھی قسم سے بچوں کو جنسی سوالات پر آپ سے مجبور کریں اور ان کے سامنے ان فلموں اور ڈراموں کو دیکھنے سے گریز کی جائیں جنھیں وہ سن اور دیکھ ضرور لینگے مگر ان کی سمجھ سے دور ہوں گے اور وہ غلط کو بھی صحیح سمجھنے لگے گے۔

علیحدہ کمرے

سات سال کی عمر کے بعد اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ بچوں کے کمرے الگ کردیے جائے تاکہ ان کی نظروں کے سامنے کوئی ایسی حرکت ہو ہی نہیں جو عمر کے حساب سے درست نہ ہو اگر وسائل ہو تو بہن بھائی کے بھی کمرے الگ کردیں تو یہ انتہائی اچھا عمل ہے کیونکہ کچھ پردے محرم رشتوں میں بھی قائم ہو تو زندگی خوبصورت ہوتی ہے۔

روم مینرز

بچوں کو یہ بات سکھائے کہ وہ والدین کے بھی کمرے میں آنے سے پہلے دروازے پر دستک دیں تاکہ انھیں اس بات کا اندازہ ہو کہ ہر کسی کی کچھ حدود ہوتی ہیں اور ان کا احترام کرنا ان پر فرض ہے۔

جانچ پڑتال

آپ کو اگر کبھی اپنا بچہ بلاوجہ اداس دیکھائے دے تو اس سے ضرور جانچ پڑتال کریں تاکہ ناشدنی ہونے سے پہلے روکی جا سکے۔

کولہوں پر ہاتھ مارنا

عمومی طور پر دیکھنے میں آتا ہے کہ چاچا، ماموں بھانجے، بھتیجی کے ساتھ کھیل، مذاق میں کولہوں پر ہاتھ مار دیتے ہیں بے شک ان کی نیت میں کوئی کھوٹ نہیں ہوتا اور وہ اپنی محبت میں ایسا کرتے ہیں مگر جب یہیں عمل باہر کا کوئی شخص ان کے ساتھ غلط نیت سے کرتا ہے تو وہ فرق نہیں سمجھ پاتے اورکسی حادثہ کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ جب مائیں یہ عمل گھر میں ہوتے ہوئے دیکھیں تو منع کریں کہ اس قسم کا رویہ قابل قبول نہیں۔

ان چند احتیاطی تدابیر کے ساتھ سب سے اہم ہے والدین کا دوستانہ رویہ اور اس بات کا احساس کہ ہر ذمہ داری کو کسی دوسرے کے ساتھ شیئر کیا جاسکتا ہے مگر بری الزمہ نہیں ہواجاسکتا چاہے وہ اسکول، مدرسہ لینا چھوڑنا ہو یا پھر پڑھانا والدین کو ہی چوکنا رہنا پڑتا ہے۔ کچھ بہت ہی اپنے ہوتے ہیں جن پر اعتبار کیا جاسکتا ہے اور وہ پھر آپ کے ہی والدین ہوتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ کچھ عوامل سے خود کو روکا جائیں چند احتیاطی تدابیر اختیار کی جائے تاکہ پھر صرف اس جنسی تعلیم کی ضرورت ہو جو عمر کے لحاظ سے ہو اس کی نہیں جس کا وقت سے پہلے جان جانا درست نہیں بلکہ غلط ہی ہے۔

Facebook Comments HS