پاکستانی سیاحت توجہ اور کام چاہتی ہے


ہماری دھرتی پاکستان قدرتی حسن سے مالا مال وہ خطہ جہاں فطرت نے جابجا اپنی فیاضی بکھیری ہے۔ یہاں دنیا کے تین عظیم و شان پہاڑی سلسلے قراقرم، ہمالیہ، اور ہندوکش ایک ساتھ اپنا دیدار کراتے ہیں جن کے پہاڑ وں کی چوٹیاں دیکھنے والوں کو خودبخود خالق قائنات کی کاری گری کے سامنے سر جھکانے پر مجبورکردیتی ہیں پھر چاہے وہ دنیا کی آٹھ ہزار میٹر سے بلندچودہ چوٹیوں میں سے پاکستان کی پانچ، کے ٹو، نانگا پربت، گیشربرم 1، بروڈ پیک، گیشربرم 2 ہوں یا ان کے علاوہ ترچ میر، راکا پوشی، چوگو لیزا، لیلیٰ پیک جیسی بے شمار جہاں برفوں کے اس جہاں میں پرہے ئبت گلیشے ئر ز، جن میں بیافو اور ہیسپر کا پولر ریجن کے بعد دنیا کا طویل ترین سلسلہ بھی ہے۔

یہیں گلگت بلتستان میں انگنت پھولوں کے رنگ لیے دیو سائی کے میدان کے علاوہ کئی ایسی محسور کن وادیاں اور جھیلیں ہیں جو دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں مبتلا کردیتی ہیں جن کہ لیے شاہراہ قراقرم جیسے عجوبے پر سفر کا یادگار تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ چترال کی جانب سفر کریں تو دیر، گولین گول اور کیلاش کی پراسراروادیاں آپ کی منتظر ہوتی ہیں، چترال سے بھی شندور پاس کا سفر کرکے بلند ترین میدان پر شندور فیسٹیول کا مزا لیا جاسکتا ہے۔

ناران کاغان کا سفر شوگران سری پایہ سے ہوتا ہوا جھیل سیف الملوک کی داستان بیان کرتا ہے۔ گرمی تو گرمی برف کی چادر اوڑھ کر بھی ملکہ کوہسار مری، سوات اور نلتر جیسے علاقے آئس ایکٹیویٹیز کے لیے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں۔ کشمیرکے حسن کا ذکر ہو یا صحرائے تھر اور چولستان کے رنگ ہو ں، بلوچستان کے دلفریب سا حل ہوں یا ہڑپہ، ٹیکسلا، موہنجودڑوجیسی تہذیبوں کے آثار اور تاریخ کی گواہی دیتے قلعے غرض کے اللہ نے پاکستان کو کس رنگ سے نہیں نوازا۔ جب ہی تو برطانیہ کی بیک پیکر سوسائیٹی نے بھی پاکستان کے سیاحتی مقامات کو سیاحت کے لحاظ سے پہلے نمبر پر فائز کیا۔

پاکستانی تو بہت عرصے بعد اپنے ان علاقوں کے حسن سے واقف ہوئے یا ہورہے ہیں ان سے قبل تو گورے کوہ پیما یا کوہ نورد ہمارے ان پرشکوہ پہاڑوں کے عشق میں مبتلا ہوکرانہیں سر کرنے کی جستجو لیے یا ان کے درمیان مختلف ٹریکس پر فطرت کے حسن کا قریب سے مشاہدہ کرنے انہیں دریافت کرنے آتے رہے اور اس چیزسے بے نیاز رہے کے ان سحر انگیز پہاڑوں اور وادیوں میں انہیں عام سیاحوں کی مانند وہ سب کچھ کرنے کی سہولیات اور آزادی نہیں جو دوسرے ممالک میں حاصل ہوتی ہے لیکن فطرت کے نشے میں مبتلا ہونے والے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ہمارے پہاڑوں پر کئی فلمیں بھی بنی ہیں۔

افسوس کے شروع سے ہی حکومتوں نے سیاحت کی اہمیت اور افادیت کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور نہ ہی کبھی اس پر مسلسل کام ہوا تو اب دوسرے ممالک کی سیاحت یا وہاں سیاحوں کی تعداد سے اس کا موازنہ کرنا بھی بلاجواز ہے۔ اب لوگوں میں سیاحت کا شوق بڑھ رہا ہے ورنہ خود پاکستانیوں کی کثیر تعداد اپنے ملک سے لاعلم رہی کہ جھیل سیف الملوک سے آگے بھی چند خوبصورت جھیلیں اور ہیں۔ لوگ اب اڑنگ کیل اور تاؤ بٹ کا رخ بھی کرتے ہیں، سندھ کے مری جیسے مقام گورکھ ہل اسٹیشن پر اب جاکر کام ہوا۔

بدقسمتی سے پاکستان میں آہستہ آہستہ پنپتی غیر ملکی سیاحت کو اصل نقصان سانحہ 9 / 11 پر امریکہ افغان جنگ کے بعد پہنچا پھر آئے روز ہونے والے دہشت گردی، خودکش حملے چاہے وہ عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں، سیکیورٹی فورسس، عوامی مقامات، کھیل کے میدان یا پہاڑوں پر آئے غیر ملکی سیاحوں کا قتل، جیسے واقعات کی خبروں نے عالمی سطح پر بری طرح پاکستان کی شہرت کو متاثر کیا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ بھی ختم ہوگئی۔

لیکن اب آہستہ آہستہ پھر امن کا راستہ بحال ہورہا ہے تو غیر ملکی سیاحوں کو ہر قسم کی آزادی دینے یا نہ دینے کی وجہ سے سیاحت کا ترقی نہ کرناکی غیر ضروری متنازع بحث میں پڑنے سے پہلے اور بھی بہت سے ادھورے پڑے بنیادی کام توجہ کے طلبگار ہیں۔ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں سیاحت بھی شامل ہے توسارے شمال کا انفرا اسڑکچر ٹھیک کرنا ہوگا۔ نیلم ویلی ہو یا کیلاش ویلیز، پرخطر ٹوٹے پھوٹے کچے راستے، مخدوش ہوئے لرزتے پل، سیاح تو سیاح مقامی لوگ بھی اللہ بھروسے سفر کرتے ہیں کہ جہاں سے گرنے کے بعد گارنٹی نہیں کے آپ کی نعش ملے یا نہ ملے۔

ہر علاقے میں فوری ریسکیوسروس نہیں ہوتی۔ حفاظتی انتظامات کے فقدان کے سبب اکثر اندوہناک حادثات کی خبریں سنیں کو ملتی ہیں جب کے دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ موسم کے تیور بدلتے ان علاقوں میں سفر اور بھی خطرناک ہوجاتا ہے خاص طور پر جب آپ کے ساتھ فیملیز ہوں، مقامی لوگ بھی انتظامیہ کے منتظر نظر آتے ہیں۔ مری جسے ڈیویلپ مقام پر بھی سیاحوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے۔ کہیں ٹریفک جام کا مسئلہ رہتا ہے۔ صفائی ستھرائی کی عادت نہ ہونے کے سبب کچھ جگاہوں کا قدرتی حسن برباد ہورہا ہے۔ حکومت کی عدم توجہی کے سبب اکثر تاریخی مقامات و عمارات کا برا حال ہے حالانکے پاکستان میں تو مذہبی سیاحت کو بھی فروغ دے کر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

دوسرے شمالی علاقہ جات کی زیادہ سے زیادہ پبلیسٹی کی ضرورت ہے۔ حکومتی سطح پر بیرون ممالک سفارت خانوں کو پابند کیا جائے کہ وہ ہر ملک میں پاکستان کے سیاحتی مقامات کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کریں ان کے بارے میں عام لوگوں کو آگاہی دیں، ان ممالک سے آنے والے سیاحوں کے تاثرات کوان کے اپنے لوگوں کے سامنے پیش کریں۔

اور آخر میں گلگت اسکردو کے نوجوانوں کا ایک شکوہ جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد سے جلد پاکستان کے آئین میں ان کے علاقے کو صوبائی حیثیت اور انہیں بھی دیگر پاکستانیوں کی طرح نیشنل اسمبلی اور سینیٹ میں برابر کی نمائندگی دی جائے جس سے ان کے کئی مسائل حل ہوسکیں۔

Facebook Comments HS