جنگل نما معاشرہ اورانصاف


پاکستان کی موجودہ حیثیت اور شکل کا جائزہ لیا جائے تو ایک خطرناک جنگل کا شکل اختیار کیا ہوا ہے جس میں خونخواد درندے روز بروز تعداد میں بڑھ رہے ہیں اور معصوم اور بے ضررجانوروں کی بہتاط نظرآرہی ہے۔ روز ہزاروں ایسے کیسز نظر آجاتے ہیں جو ظلم بربریت اوروحشت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ چند دن میڈیا خبروں کی زینت بنتے ہیں پولیس حکام بالا اورریاستی اداروں کی طرف سے افسوس، مذمت اور قانونی کارروائی کے دعوے ہوتے ہیں۔ لیکن اگر رپورٹ کیے گئے کیسوں کوانصاف کے تناظر سے دیکھ لیں تو ہزاروں میں گنتی کے چندلوگوں کے مجرموں کو سزا مل جاتی ہے باقی ہزاروں تھانے کچہریوں اورعدالتوں میں ذلیل و خوار ہوتے رہتے ہیں۔

پولیس تیز کارروائی کرتے ہیں تو عدالت نہیں کرتی عدالت کارروائی کرنا چاہتی ہے تو پولیس عدالت کو لفظوں، ثبوتوں، گواہوں میں پھنساتی ہے

غرض پاکستان کے موجودہ عدالتی و پولیس کے نظام میں غریب لوگ انصاف تو کیا پیروی بھی نہیں کرسکتے اور مجبور ہوکر یا تو مخالف فریقین سے صلح کرتے ہیں یا خدا کے آسر ے پر بیٹھ جاتے ہیں۔ کہتے ہیں جب غربت انقلاب نہیں لاتی تو جرائم پیداکرتی ہے۔

مکمل انارکی اس وقت مملکت پاکستان میں راج کرتی ہے۔ ہر شخص اپنی طاقت اوربساط کے مطابق اپنے سے کمزور پرظلم، استحصال کرتے ہیں۔ انصاف نامی چیز کے لئے دولت، تعلق، اثررسوخ اورمکمل فارغ الوقت بندے کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر یہ چیزیں نہ ہوں تو پھر انصاف کی توقع بھی نہ رکھیں اور معاملہ خدا پر چھوڑنے میں ہی عافیت رکھنی چاہیے۔ اس جنگل نما معاشرے میں خونخوار درندے ہر جگہ دستیا ب ہوتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لئے یا تو گھرمیں قیدہوکررہنا ہوگا اور یا ان خونخوار درندوں کے رحم و کرم کے سہارے جینا ہوگا۔

جنگل نما معاشرے سے انسانی معاشرے بنانے کے لئے ریاستی مشینری، ادارے ابھی تک سنجیدہ اقدامات اٹھانے سے قاصر ہیں۔

تعلیمی نصاب میں جھوٹی تاریخ، جعرافیہ منافرت پر مبنی مذہبی فرقہ واریت تمام الیکٹرانکس و پرنٹ میڈیا پر محلاتی سازشوں اوراقتدارکے حصول کی جنگ نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیاہوا ہے۔ عوام بھی ایسے عادی ہوگئے ہیں کہ اپنی بنیادی ضرورتوں، مسائل اورترقی وخوشحالی کے بجائے نان ایشوز میں الجھے ہوئے ہوتے ہیں۔ محنت، کوشش، جدوجھد کی بجائے کوئی آسان اور شارٹ کٹ کا راستہ ڈھونڈنے کی تلاش میں ہیں۔ پیروں، فقیروں، تعویذ، گنڈوں والے بھی عوام کی اس حالت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔

غیر یقنی صورتحال، بے اعتمادی اورسرمایہ داروں، جاگیرداروں اورمذہبی پیشوائیت کے گٹھ جوڑ نے عوام میں مایوسی پیداکی ہے۔

ان حالات میں جنگل نما معاشرے سے انسانی معاشرے بنانے والے جو چند ہیں وہ ایک تو تقسیم در تقسیم ہیں دوسرے ریاستی اداروں کے مقابل کافی کمزورہیں۔

تاریخ شاید ہے کہ مسلمان حکمرانوں کے ظلم سے عوام کو اکثر غیر مسلموں نے بچایا ہے جیسا کہ عباسیوں کو ہلاکو خان نے، مغل کے ظلم سے انگریز نے اور پاکستانی جرنیلوں کے ظلم سے بنگالیوں کو ہندوں نے بچایا ہے۔ سعودی بادشاہت، امریکی وار اکانومی اورپاکستانی جرنیلوں کے ذاتی مفادات ہی پاکستان کو خونخوار جنگل بنانے کے ذمہ دار ہیں۔

پاکستان کو انسانی اورانصاف کا معاشرہ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ایک منظم تحریک یاٹیم ورک کی شکل میں جابر، ظالم اورخونخوار حکمرانوں کے خلاف منطم کرکے متبادل نظام انصاف کا راستہ ہموار کرکے مستقل جدوجھد کے ذریعے اس جنگل نما معاشرے سے نجات دلائے۔

اس کے خاتمے کے لئے نہ صرف بھرپور آواز اٹھانے کی ضرورت ہے بلکہ متبادل کے طور پر بھی ایک بہترین، منطم اورعلم کے معماروں کی ٹیم کا ہونا بھی ضروری ہے۔ جو سماجی، سیاسی اور معاشی نظام کا سائنسی طریقے سے حل نکال سکے۔

Facebook Comments HS