پولیو ایک وائرل بیماری ہے جس طرح چیچک، خسرہ، ہیپیٹائٹس، ٹا ئفائڈ وغیرہ کی بیماریاں ہیں۔ یہ اس لئے بھی خطرناک ہے کہ یہ ایک سے دوسرے کو لگنے والی اور پھیلنے والی بیماری ہے۔ یونائیٹڈ نیشن کے چارٹرڈ کے مطابق دنیا کے تمام ملکوں نے اس پر قابو پا لیا ہے ما سوائے افغانستان اور پاکستان میں اب بھی یہ وائرس موجود ہے جس کے لئے اقوام متحدہ نے کمپین مزید تیز کردی ہے۔ اور اب پانچ سال کی بجائے 10سال کے بچوں کو بھی قطرے پلانے پڑتے ہیں۔
اور اقوام متحدہ کی طرف سے پولیو کو ختم کرنے پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ پاکستان کے ریاستی اداروں پر جتنا دباؤ بڑھ رہا ہے اس قدر اس مہم کو روز بروز مشکل اور مشکوک بنایا جارہا ہے۔ جس میں وہی ادارے بھی شامل ہیں جو ادارے اس کو ختم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ اس کے پیچھے کیا کچھ کارفرما ہے اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لئے جتنا فنڈ اور پراجیکٹ آتے ہیں اس میں افسر شاہی کے جتنے مراعات ہیں افسر شاہی اس مراعات کو چھوڑنے پر تیار نظر نہیں آتے اور ان کا خیال ہے کہ اگر پولیو کے مرض کا خاتمہ ہوگیا اور یہ پراجیکٹ بند ہوگیا تو ان کی عیاشیاں ختم ہوجائیں گی۔ یہی وہ بنیا دی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے پولیو کے قطرے روز بروز مشکوک بنائے جا رہے ہیں۔
Read more