ہمیں عورت مارچ کی کیا ضرورت؟

ہمارے ہاں 8 مارچ آتے ہوئے دو فریقوں کی لڑائی شروع ہو جاتی ہے ایک جو اقلیت میں ہے اور عورت کے حق کے لئے آواز اٹھاتی ہے وہ الگ بات کہ عورتیں بھی ان کے ساتھ نہیں دیتی کیونکہ ان کی ذہن سازی پر اربوں روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ دوسرافریق جو اکثریت میں ہے وہ سمجھتے ہیں کہ عورتوں کا دن یہ غیر مسلمان ملکوں کی ایجاد ہے چونکہ ہم مسلمان ہیں عورتوں کے حقوق ہم سے بہتر کون

Read more

کرونا وائرس اور نا اہل حکمران

ایک طرف کرونا وائرس کی وبا پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور پروڈکشن سے لے کر ہر قسم کام دھندہ بند پڑا ہے تو دوسری طرف حکمرانوں کی نا اہلیت اور ترجیحات کو بھی ایکسپوز کردیا ہے۔ امریکہ سمیت جہاں بھی ہیلتھ سسٹم پرائیویٹ ہے وہاں کرونا وائرس سے تباہی اور بربادی زیادہ ہوگی اور عوام خستہ حال ہوں گے۔ جو ریاست عوام کو تعلیم، کھانا اور میڈیسن نہیں دے سکتی اسے کوئی حق نہیں کہ توپیں،

Read more

بے حس سماج میں احساس کا قتل

قوم کے لئے کیوں کوئی کام کرے؟ ذات کے لئے کیوں نہ کریں؟ یہ کون لوگ ہیں جو ذات کو چھوڑ کرقوم کے لئے کام کرتے ہیں؟ اپنی ذات کی خوشگواریاں، بچوں کی فکر، گھر کی فکر چھوڑ کریہ دیوانے کون ہیں جن کو گھربار، ذات کی پرواہ نہیں اورقوم کے لئے ہر لمحہ فکر منددیکھے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسے دیوانے زیادہ نہیں تو گنتی کے چند ضرور ایسے دیکھے ہیں جن کو اپنی ذات، گھر بار،

Read more

کشمیربنے گا پاکستان سے کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت تک کا سفر

بٹوارے کے بعد کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے آزاد رہنے کا فیصلہ کیا تو پاکستان کے قبائل نے 1948 میں کشمیر پر لشکر کشی کی۔ ہری سنگھ گاندھی کے پاس گئے اور کشمیر کو ہندوستان میں شامل کرنے پر دستخط کردیے۔ ہندوستان ایک طرف اقوام متحدہ گیا تو دوسری طرف جنگ چھیڑ دی اور آخر کار کشمیر بھی ٹوٹ گیا۔ گلگت بلتستان اورمظفرآباد تک کا علاقہ آزاد کشمیر پاکستان کے پاس رہ گیا اور جموں کشمیر، لداخ ہندوستان کے

Read more

انسانی فطرت اور عمل پرمیرا ذاتی مشاہدہ

تاریخ میں سماج، انسانی ارتقا، ثقافت، جعرافیہ اور مختلف اداورپرتحقیق اورکافی مواد مل جاتا ہے۔ انسانوں کے لئے مخلتف سماجی نظام بھی بنائے گئے۔ لیکن کوئی بھی نظام انسانوں کی اکثریت کوزیادہ دیر تک خوشحال رکھنے میں ناکام رہا۔ میری نظر میں انسانی ذات وفطرت پرتحقیق کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ انسان کیا ہے، چاہتا کیا ہے، اس کی ضرورت کیا ہے پھر انسان کی ضرورت، چاہت، خواہش، خوشی، غم کچھ بھی مستقل نہیں ہوتی اس کی کیا وجوہات ہیں۔

Read more

پاکستانی عوام کے مسائل اور متبادل راستہ

پاکستان کے عوام 72 سال سے مختلف ناموں سے بے وقوف بنائے جارہے ہیں مگراسکے باوجود عوام نہ اپنا دشمن پہچان سکے اور نہ خود اپنے مسائل کے حل کے لئے ایک ہوسکے بلکہ اپنے مسائل کا حل ان لوگوں سے امید لگائے ہوئے ہیں جو ان مسائل کو پید ا کرنے کے ذمہ دارہیں۔ یہ حکومت بری ہے اگلی حکومت اچھی ہوگی۔ جو حکومت میں ہو ں اس کے جانے پر بھی جشن اور جو آئے آنے پر جشن

Read more

لیبر ڈے اور پاکستان

لیبرڈے 1886 شکاگوکے شہیدوں کی یاد میں ہرسال پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ اس دن پوری دنیا میں مزدوروں کی چھٹی ہوتی ہے اور ریاستیں مزدورں کے لئے معاوضے اورکام کے وقت کا تعین کرتی ہیں۔ یوں تو سرمایہ دارانہ نظام ہر قسم کے محنت کشوں کا استحصال کرتا ہے لیکن جدید دنیا میں سرمایہ دارانہ ریاستوں نے ایسے قانون بنائے ہیں جس میں مزدور کم سے کم بھوک افلاس سے نہیں مرتا۔ کام کے لئے وقت اور اجرت

Read more

پولیو مہم: سازش اور حقیقت

پولیو ایک وائرل بیماری ہے جس طرح چیچک، خسرہ، ہیپیٹائٹس، ٹا ئفائڈ وغیرہ کی بیماریاں ہیں۔ یہ اس لئے بھی خطرناک ہے کہ یہ ایک سے دوسرے کو لگنے والی اور پھیلنے والی بیماری ہے۔ یونائیٹڈ نیشن کے چارٹرڈ کے مطابق دنیا کے تمام ملکوں نے اس پر قابو پا لیا ہے ما سوائے افغانستان اور پاکستان میں اب بھی یہ وائرس موجود ہے جس کے لئے اقوام متحدہ نے کمپین مزید تیز کردی ہے۔ اور اب پانچ سال کی بجائے 10سال کے بچوں کو بھی قطرے پلانے پڑتے ہیں۔

اور اقوام متحدہ کی طرف سے پولیو کو ختم کرنے پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ پاکستان کے ریاستی اداروں پر جتنا دباؤ بڑھ رہا ہے اس قدر اس مہم کو روز بروز مشکل اور مشکوک بنایا جارہا ہے۔ جس میں وہی ادارے بھی شامل ہیں جو ادارے اس کو ختم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ اس کے پیچھے کیا کچھ کارفرما ہے اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ پولیو کے خاتمے کے لئے جتنا فنڈ اور پراجیکٹ آتے ہیں اس میں افسر شاہی کے جتنے مراعات ہیں افسر شاہی اس مراعات کو چھوڑنے پر تیار نظر نہیں آتے اور ان کا خیال ہے کہ اگر پولیو کے مرض کا خاتمہ ہوگیا اور یہ پراجیکٹ بند ہوگیا تو ان کی عیاشیاں ختم ہوجائیں گی۔ یہی وہ بنیا دی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے پولیو کے قطرے روز بروز مشکوک بنائے جا رہے ہیں۔

Read more

ظلم کے بڑھتے ہوئے سانحات اور ریاست کا کردار

ظلم کے بڑھتے ہوئے سانحات کی بنیادی وجوہات میں معیشت، سیاست اورسماجی پالیسیوں کا بنیادی کردارہوتا ہے۔ یوں تو سرمایہ داری نظام استحصالی نظام کہلاتا ہے جو اس وقت پورے آب و تاب کے ساتھ پوری دنیا میں رائج ہے۔ لیکن دنیا نے غریب، محکوم عوام کو زندہ رکھنے اورکام کرنے کے لئے بنیادی ضرورتیں آسان، لازمی اوریقینی بنا دی ہیں۔ تعلیم، صحت، روزگار، سوشل سکیورٹی تمام سرمایہ دار ممالک میں ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جس کے لئے

Read more

کینسر کے مرض میں مبتلا ریاست کا علاج ممکن ہے؟

اگردیکھاجائے تو پاکستان اس وقت ایک لاعلاج مرض میں مبتلا ہوچکا ہے۔ جس میں ہر شہری خواہ غریب ہو امیر ہو، شہری ہو دیہاتی ہو، خواتین ہو، مرد ہو اقلیت ہو یا اکثریت تمام خراب معیشت، عدم تحفظ، عدم برداشت، انتہاپسندی، اور غیر یقینی کی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اور ان تمام برائیوں کی جڑ وہ تصور ہے جس کی بنیاد پراکہتر سالوں سے ملک کو چلایا جارہا ہے۔ ہندوستان دشمنی اور دو قومی نظریہ مذہبی سوچ کی

Read more

سول ملٹری حکمران اور عوام

پاکستان میں پینتیس سال ڈائریکٹ فوجی حکمرانوں نے حکومت کی ہے اور اس باقی عرصے میں بھی اپنے من پسند جاگیردار، سرمایہ دار یا ذاتی وفاداروں کو حکومت کرنے دی ہے جس کو جمھوریت نہیں کہہ سکتے لیکن با امر مجبوری چلو اس کو ہم جمھوریت مان لیتے ہیں کیونکہ تھی تو سول حکمرانوں کی حکومتیں جو ان جرنیلوں کے بنائے ہوئے لوگ تھے لیکن پھر یہی اپنے لوگ بھی جرنیلوں کو کچھ عرصے بعد برے لگتے ہیں۔ ان میں سے جب بھی کسی نے عوام کی بات کی ہو تو ان کے متبادل تلاش کرتے ہیں۔ستر سال سے یہ کھیل تماشا جاری ہے عوام کے ووٹوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اقتدار پہلے سول اورملٹری اسٹبلشمنٹ دونوں کے ہاتھ میں ہوتا تھا، اب یہ کام تن تنہا ملٹری اسٹبلشمنٹ کر رہی ہے۔ معاشی، خارجہ، داخلہ اور دفاع کی پالیسیاں ہمیشہ ملٹری اسٹبلشمنٹ کے اختیارمیں رہی ہیں۔ اختیار ان کے پاس لیکن ذمہ داری سول حکومت پر ڈالتے ہیں۔ جو حکومت چھوڑ کے جاتے ہیں وہ چور ڈاکو اور لٹیرا اور جن کو اقتدار دیتے ہیں ان کو قوم کا مسیحا بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

Read more

جھوٹ اورحکمرانوں کے مفادات پر مبنی تاریخ اور عوام کی حالت زار

ہمارے معاشرے کی پسماندگی، پستی اوربربادی کے عوامل زیادہ ہوں گے لیکن جھوٹ ا اورحکمرانوں کے مفادت پر مبنی تاریخ کا کردار سب سے زیادہ ہوگا۔ انسانی ذہن رب کائنات کا ایسا شاہکار ہے کہ اس کو کسی طرح بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثبت بھی اور منفی بھی اورجس راستے پراس کی پرورش انسان کرتا ہے اسی راستے پر یہ انتہا تک پہنچتاہے۔ انسانی فطرت اورعقل دومختلف چیزیں ہیں۔ انسانی عقل اکثر فطرت کے مخالفت میں چلنے پر بضد ہوتی ہے۔

Read more

عورتوں کا بین الاقوامی دن اور پاکستانی عورتوں کی حالت

امریکی عورتوں کا دن انیس سو گیارہ سے باقاعدہ طور پر مناتے ہیں۔ یوں تو یہ دن سرمایہ دار دنیا مناتے ہیں جہاں پر بھی عورت انسان نہیں جنس ہوتی ہے لیکن ایسی جنس جو کم از کم معاشی اور سماجی طور پر اتنی خود انحصار ہوتی ہیں کہ وہ اپنے فیصلے خود کرسکتی ہیں۔ چاہے ان کے اپنے والدین ہوں، رشتہ دار یا سماج کوئی طاقت یا مجبورکرکے ان پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کرسکتا۔ اور اپنے زندگی کے ذاتی فیصلے خود کرتی ہیں۔ اتنی سی بات ہے جس کی بدولت مغربی ممالک سماجی، سیاسی اور معاشی طورترقی یافتہ ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ عورت جنس نہیں انسان ہے تو سرمایہ داری نظام میں نہ صرف عورت بلکہ ہر فرد کو جنس اور نفع و نقصان کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اور یہ دن منانے کا مقصد عورتوں کے حقوق، ذمہ داری اور ترقی کے حوالے سے احساس دلانے کے لئے ہوتا ہے۔

Read more

جنگل نما معاشرہ اورانصاف

پاکستان کی موجودہ حیثیت اور شکل کا جائزہ لیا جائے تو ایک خطرناک جنگل کا شکل اختیار کیا ہوا ہے جس میں خونخواد درندے روز بروز تعداد میں بڑھ رہے ہیں اور معصوم اور بے ضررجانوروں کی بہتاط نظرآرہی ہے۔ روز ہزاروں ایسے کیسز نظر آجاتے ہیں جو ظلم بربریت اوروحشت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ چند دن میڈیا خبروں کی زینت بنتے ہیں پولیس حکام بالا اورریاستی اداروں کی طرف سے افسوس، مذمت اور قانونی کارروائی کے دعوے ہوتے

Read more

پاکستان کو لاحق خطرات اور تدارک

اگر دیکھا جائے تو پاکستان کو اس وقت بے پناہ خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ جس میں ہر شہری خواہ غریب ہو امیر ہو، شہری ہو دیہاتی ہو، خواتین ہو، مرد ہو اقلیت ہو یا اکثریت تمام خراب معیشت، عدم تحفظ، عدم برداشت، انتہا پسندی اور غیر یقینی کی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اور ان تمام برائیوں کی جڑ وہ تصور ہے جس کی بنیاد پر اکہتر سالوں سے ملک کو چلایا جا رہا ہے۔ ہندوستان دشمنی، دو

Read more

بجلی پرسیاست اور عوام کی حالت زار

دنیا میں سیاست پالیسیوں، قانون سازی اورعوام کے لئے نئے منصوبوں پرہوتی ہے جبکہ پاکستان میں بدقسمتی سے آج بھی نالیاں، گلیاں پکی کرنے اور ٹرانسفارمر، بجلی پول لگانے پر ہوتی ہے۔ مشرف کے دورسے جان بوجھ کر بجلی کی شدید کرائسزپیدا کرکے بجلی کی سیاست زیادہ زورپکڑی ہے۔ لوڈ شیڈنگ، ٹرانسفارمر، پول کی تنصیب سے لے کر بجلی میٹر لگانے تک سیاست کی نذر ہوچکی ہے۔ اور اگر کسی کا سیاسی اثر رسوخ نہ ہو تو مطلوبہ آالات کے

Read more