پاک بھارت کشیدگی میں اِضافہ، ایک لمحہ فکریہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس بات سے کوئی دلیلاً انکار نہیں کر سکتا کہ پاک بھارت تعلقات ہمیشہ ہی سے کم و بیش کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ دونوں ممالک شروع ہی سے ایک دوسرے کو آنکھیں دِکھاتے آ رہے ہیں۔ بغیر کسی ہلچل کے ایک ماہ کا گزرنا ایک دیوانے کا خواب لگتا ہے۔ آپ اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی، سمندروں کی تہہ تک پہنچ چکی ہے اور یہ دونوں ملک واہگہ بارڈر پر اس کشمکش میں ہیں کہ کس کی ٹانگ اوپر جاتی ہے!

بات کرتے ہیں ابھی کی صورتحال کی تو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بہت بڑھ چکی ہے۔ بھارت کھلے و دبے الفاظ میں حملے کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔ میں بھارت و بھارتی عوام سے مخاطب ہوں کہ کیا جنگ اس مسئلے کا حل ہو گا؟ ہر گز نہیں بلکہ جنگ تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔ بربادی ایک ملک کی نہیں دونوں ممالک کی ہوگی۔ کیا دونوں ممالک پہلے کی جنگیں فراموش کر چکے ہیں؟ اور اب اگر جنگ ہوگی تو بلاشبہ اس کا نقصان پہلی ہونے والی تمام جنگوں کے نقصان سے بھی کئی گنا زیادہ ہوگا۔ تباہی بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ جنگ کے حامی حضرات بلاشبہ زُود پشیماں ہوں گے ۔ دونوں ملکوں کی اکثریتی عوام ایک دوسرے کو اپنا جانی دشمن تعبیر کرتی ہے، میرا معصومانہ سوال ہے کیا انسانیت کا رشتہ نہیں ہے؟

کیا بھارت حملہ کرے گا تو پاکستان چوڑیاں پہنے بیٹھا رہے گا؟ ہرگز نہیں، کوئی بھی ملک ہو تو وہ جوابی کارروائی کرے گا، سو پاکستان بھی ہر حال میں کرے گا اور بربادی کے انمٹ نقوش نقش ہوں گے ! دونوں ممالک اگر اتنا سنجیدگی سے اپنی ترقی پر زور دیں تو دنیا کے صفِ اوّل کے ممالک ہمیں نام درج کروا سکتے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ نفرتوں کو ختم کریں اور امن و محبت کا پیغام دیں۔ بھارتی حکومت کو اب ہٹ دھرمی ترک کرنا ہوگی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
امتیاز حسین حسرت کی دیگر تحریریں