ن م راشد کی کہانیاں اور تمثیلیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ہاں ن م راشد نظم کے سب سے بڑے شاعر ہیں لیکن فخر الحق نوری اور ڈاکٹر ناصر عباس نیر کے سوا کسی نے راشد صاحب پر خاطر خواہ کام نہیں کیا۔ میں کوئی نقاد تو نہیں لیکن ادب کا ادنیٰ سا طالب علم ہوں اور میں راشد صاحب کے تصور آدم نو وغیرہ پر بھی بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ایسی تنقید خالص ادب کے طلباء کے لئے ہوتی ہے۔ راشد صاحب کی فکری جہات اور کرافٹ کا لطف اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی شاعری کو گایا جائے، سنا جائے، محسوس کیا جائے اور اگر ہمت ہو تو پڑھا بھی جائے۔

اگر انہیں پڑھ کر جمالیاتی حظ اٹھانا آسان ہوتا یا ان کے نظام فکر کو گرفت میں لینا سہل ہوتا یا انہیں فیس بک پر درج کر کے اپنی جمالیاتی و شعوری بالیدگی کا ثبوت پیش کرنا آسان ہوتا تو فیض اور ناصر کی طرح دھڑا دھڑ نظموں کے ٹکڑے چسپاں ہو رہے ہوتے۔ انقلاب کے نعرے، محبت کی بازی، حسن کے قصیدے، ہجر و وصال کے گیت راشد کے ہاں روایتی انداز سے موجود نہیں اور نہ ہی ان کی شاعری کوئی سستا نشہ ہے کہ ہر للو بھٹیار چار مصرعے یاد کر کے اپنے تئیں ابوالکلام بن جائے گا۔

ہم نے اعادہ کیا ہے کہ راشد کی شاعری کو عوام تک پہنچانا ہے۔ خبرناک کے پلیٹ فارم سے یہ مشن ابتدائی مراحل میں ہے۔ معروف قوال جناب شیرمیانداد نے کچھ نظمیں قوالی کے فارمیٹ پر جدید میوزک کے ساتھ گائی ہیں اور کمال کر دیا ہے۔ یہ شو گزشتہ کل اتوار کے دن پیش کیا گیا ہے اور بہت پذیرائی بھی ہوئی۔

۔ میں نے راشد صاحب کی بیٹی محترمہ یاسمین حسن صاحبہ کو یہ قوالی بھیجی ہے اور وہ عش عش کر اٹھیں۔ کیا گائیکی ہے، کیا کمپوزیشن ہے اور کیا اچھا میوزک اریجمنٹ ہے گو کہ انہیں اس قوالی کو خبرناک میں گائے جانے پر اعتراض تھا اور ان کا خیال ہے کہ میں راشد صاحب کی نظموں سے خبرناک کا معیار بلند کرنا چاہتا ہوں۔

راشد کی کچھ نظموں کا سورس الف لیلوی داستانیں ہیں مثلاً ابولہب کی شادی، کچھ ہندو دیومالا کا پس منظر لئے ہوئے ہے مثلاً گماں کا ممکن، کچھ خالص انگریزی پس منظر لئے ہوئے ہے مثلاً مسز سالامانکا۔ پس منظر کوئی بھی ہو، سورس کچھ بھی ہو ہر نظم کچھ خوبصورت تمثیلوں پر مشتمل ہے اور قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ دیکھے بھالے راستے پر سفر کر رہا ہے لیکن وہ تمام راستے نئی خوشبو سے کہیں معطر ہیں کہیں بوجھل۔ ہر نظم ایک کہانی کہتی ہے اور آپ نے تمثیلوں سے کہانی مکمل کرنا ہوتی ہے۔

حسن کوزہ گر، گماں کا ممکن، اسرافیل کی موت، ابولہب کی شادی، زنجبیل کے آدمی، یاران سر پل تو بہت مشہور نظمیں ہیں اور ادب پڑھنے والے ان بڑی نظموں سے شناسا ہوتے ہی ہیں لیکن راشد صاحب کی غیر معروف نظمیں بھی اپنے اندر ایک جہان سموئے ہوئے ہیں۔ اس بلاگ میں ان کی غیر معروف نظموں پر ہی بات کروں گا لیکن ان ناقد کی حیثیت سے نہیں بلکہ عام قاری کی حیثیت سے لہزا اسے ایک عام قاری کے تاثرات ہی سمجھے جائیں۔ ایک نظم ہے، ”گناہ“ جس میں گناہ ایک مجسم صورت میں گھر آکر اپنے خلاف شاعر کے تمام ضبط توڑ دیتا ہے اور شاعر صاحب خود کو ہوش آنے پر د ہلیز پر افتادہ پاتے ہیں۔ خاک آلودہ، افسردہ، غمگین و نزار جیسا لذت گناہ کے بعد کی کیفیت ہوتی ہے لیکن نظم کے آخر میں پتہ چلتا ہے کہ یہ شیطان نہیں تھے جنہوں نے لذت گناہ سے ہم کنار کیا بلکہ خداوند کی بے بسی تھی کہ گناہ کی لذت ضبط کے پیمانے پر حاوی ہو گئی۔

ایک نظم ہے، ”خودکشی“ جس میں شاعر ساتویں منزل سے کود کر خودکشی کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ یکسانیت، درماندگی، عشوہ ساز محبوبہ اور اس کے تخت تلے رخشاں لہو دیکھنا نہیں چاہتا۔ وہ نوک زباں سے چاٹ کر دیوار کو ناتواں کرتا ہے کہ صبح ہونے تک وہ دوبارہ بلند ہو جاتی ہے۔ وہ خودکشی کرنا چاہتا ہے لیکن ہمت مجتمع نہیں کر پاتا۔

ایک نظم ہے، ”رقص“ جس میں شاعر اپنی محبوبہ سے کہتا ہے کہ اسے تھام لے کہ وہ زندگی سے بھاگ کر آ یا ہے۔ زندگی سے بھاگ کر آ نے کا خیال ہی بہت اچھوتا ہے اور زندگی اس کے لئے ایک خونی بھیڑیے سے کم نہیں۔ ڈرتا ہے کہ کہیں رقص گہ کے چور دروازے سے زندگی اسے ڈھونڈ نہ لے اور جرم عیش کرتا نہ دیکھ لے۔ جس کے پاس بھاگ کر آیا ہے وہ بھی آرزوؤں کی ایسی تمثیل ہے جو آج تک شاعر سے گریزاں رہیں ہیں۔

ایک اور خوبصورت نظم ہے، ”عہد وفا“ جس میں ایک پتنگا خوف سے سہما ہوا اور خطروں سے گھبرایا ہوا سر دیوار چلا جاتا ہے اور سائے کی لکیروں کو سرحد مرگ وحیات سمجھتا ہے۔

”حیلہ ساز“ میں ایک بھکارن کے ساتھ جسمانی تعلق اور اس کو جواز دینے کی بھونڈی کوشش شاعر کی کیفیت کو مزید ذلت آمیز بنا دیتی ہے۔ وہ ایک بوسے کا مجرم ہے، ایک تجربہ کرنا چاہتا ہے اور گوشت کے کہنہ و فرسودہ پیکر سے کھیلتا ہے جو پوری سرگرمی کے دوران اپنی دلدوز آنکھوں سے تندو سرافراختہ چیلوں کو تکتی رہتی ہیں۔

” وزیرے چنیں“ میں ایک ایرانی وزیر اپنے دماغ کی صفائی کی غرض سے اپنا مغز ایک دلاک کے پاس رکھوا کر جلدی میں بڑے وزیر سے ملنے چلا جاتا ہے اور واپسی پر اس کا مغز بلی لے گئی ہوتی ہے۔ وہ ساری زندگی بغیر مغز کے کام چلاتا ہے اور بہت ترقی کرتا ہے۔

ایک نظم ہے، آرزو راہبہ ہے ”جس میں راہبہ یعنی آرزو شمع لئے پھرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ در معبد پہ کبھی گھاس پر اوس جھلک اٹھے گی اور سنگریزوں پر چاپ سنائی دے گی لیکن راہبہ کا انتظار کبھی ختم نہیں ہوتا۔

” ہم کہ عشاق نہیں“ میں شاعر بڑے جتن کرتا ہے، بڑے پاپڑ بیلتا ہے، بڑے ارادے باندھتا ہے کہ زندگی کی اٹل بے معنویت سے ٹکرایا جائے اس لئے وہ صحراؤں کے وحشی بن کر رقص کرنے کا اعادہ کرتا ہے لیکن رقص کے لئے نغمے نہیں ہیں۔ ذات ایک ایسا بیاباں ہے جہاں نغمئہ جاں کی صدا ریت میں آمیختہ ہے۔ تفنن ہو کہ رقت ہو کہ نفرت ہو کہ رحم ایک دوسرے کو ہرزہ سراؤں کی طرح محو ہی کرتے چلے جاتے ہیں اور عشاق ہر وقت ڈرتے ہیں کہ انہیں اپنے ہی سپنوں کے سراب نہ کھا جائیں۔

” تسلسسل کے صحرا میں“ ہر دن نئے حادثے جنم لے رہے ہیں جن کے دم سے تسلسل کا رویا یقیں ہے اور جن کے لطف و کرم کی نہایت نہیں۔ یادیں ہیں جو نگاہوں کے آگے گزرتے ہوئے راہگزار بن جاتی ہیں۔

” مری مور جاں“ میں اساطیر کے روزنوں میں خواب چھپانے سے بچنے کے لئے انہوں نے مری مور جاں کو مارا نہیں بلکہ رینگنے دیا تا کہ غم آ گہی سے آنے والی نسلوں کو بچایا جا سکے۔

راشد کی ہر نظم ایک کہانی لئے ہوئے ہے، تمثیلوں سے بھرپور کہانی، تاریخ میں جست لگاتے کہانی، اول آخر، زندگی وموت، ہست و وجود، گناہ و سجود، مکاں و لا مکاں، کن مکن، رو مرو تو بتو پھیلی کہانیاں ہیں۔ بس تمثیلیں جوڑے جائیں اور حظ اٹھاتے جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •