عمران خان مشرف کابینہ میں کیوں نہیں تھے؟


پاکستان تحریک انصاف کی وفاق اور دوصوبوں میں حکومت پر ناقدین کا خیال ہے کہ اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔ اس سوال کا جواب ناقدین پر ہی چھوڑدیتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا کتنا ہاتھ تھا؟ اور اس بیانیے کو لے کر وہ کتنی عوامی ہمدردی حاصل کرسکتے ہیں۔ عمومی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کا عروج 2012 سے شروع ہوا جب انہوں نے شاہ محمود قریشی، جاوید ہاشمی اور دیگر بڑے بڑے پہلوانوں کا دل جیت لیا تھا۔

2013 کے الیکشن میں تحریک انصاف کو نمایاں کامیابی نہیں مل سکی البتہ خیبرپختونخواہ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی اور کئی اہم قلعوں میں اپنے سپاہیوں کو داخل کرانے میں کامیاب ہوگئی جن میں اسلام آباد، لاہور کراچی اور دیگر شاہی قلعے شامل تھے۔ اس دورانیہ میں عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف نے حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کیا موجودہ اپوزیشن حقیقی نہیں ہے کیونکہ یہ اسمبلی میں بولتے ہیں اور حکومت کو کہتے ہیں کہ آپ قانون سازی کریں ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔ وہ تو اچھا ہوا کہ تحریک انصاف ابھی تک اپنے اس پرانے روپ سے باہر نہیں آسکی ہے جس کی وجہ سے ابھی تک قانون سازی تک ہاتھ نہیں بڑھاسکی ہے۔

نواز شریف دور حکومت میں عمران خان کا عروج تھا۔ اس دورانیے میں میڈیا کو مجبوراً بھی اور بخوشی بھی دن کے 24 گھنٹوں میں سے 12 گھنٹے عمران خان کو کوریج دینی ہی پڑتی تھی۔ اس موقع پر روایتی اپوزیشن کوغرق کرکے نئی اپوزیشن کی ریت ڈالی گئی جس کا کردار مسائل کی نشاندہی کرنا نہیں ناپسند چہروں کی نشاندہی کرنا تھاوہ بھی ایک سپیکر کے سامنے نہیں بلکہ عوام کی شکل میں معزز جج صاحبان کے سامنے۔ اس دورانیہ میں احتجاجاً استعفیٰ پیش کرنا، سول نافرمانی کی تحریک چلانا، ڈی چوک کو دھرنا چوک بنانا، مخالفین کو تیرتلوار کے دھانے پر رکھنا اور سب سے بڑا یہ کہ مہمانوں کی آمد پر راستے بلاک کرنے جیسے حربے استعمال کیے گئے۔

اس نئی شکل کی اپوزیشن نے عوام کو ’شعور‘ دیا کہ اسمبلی کے معاملات، قانون سازی، ادارے، مہمانوں کا استقبال جیسی چیزیں معمول اور فارمیلٹی ہے جس کی ’اصل‘ دنیا میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جو لوگ روایتی سیاست کے حامی ہیں وہ پروٹوکول مانگتے ہیں تاکہ وہ عوام سے ممتاز نظر آسکے، گول دائرے کی شکل میں باربار سامنے آنے والے چہروں نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا اور ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ’کرپٹ ٹولہ‘ ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے بار بار جیت کر اسمبلی آتے ہیں۔ بجٹ نام کی کوئی چیز تو ہے ہی نہیں ہر جون اسمبلی میں اپنے سالانہ ا خراجات کا بل پیش کیا جاتا ہے ورنہ یہ لوگ چاہیں تو ایک سال کے اندر ہی غربت مٹاسکتے ہیں۔

اس بیانیے کا امتحان 2018 کے الیکشن میں سامنے آنا تھا جس سے خائف ہوکر ریحام خان اور عائشہ گلالئی کو بطور مدعی متعارف کرایا گیا تاکہ مدعی بھی اور گواہ بھی چست ہو لیکن دونوں حربے ناکام ہوگئے۔ اور تحریک انصاف وفاق، خیبرپختونخواہ اور پنجاب میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ چونکہ مزاجاً عمران خان جارح سیاستدان واقع ہوئے ہیں اس لئے بعض عادتیں اب بھی ترک نہیں ہوسکی ہے۔ ملک کے وزیراعظم ہونے کے باوجوداکثر مرچی زبان کو لگی ہی رہتی ہے لیکن دھیرے دھیرے سنبھل گئے اور عوام کے مسائل پر سوچنا شروع کردیا اور اپنا فلسفیانہ اصلاحاتی عمل کوٹ کے بائیں چندے سے نکال کر عملدرآمد کرانا شروع کردیا۔

ہرفارمولے میں رکاوٹیں نظر آتی گئیں۔ میڈیا کے سامنے کیسے آنا ہے اس کے لئے تیاری کرنی پڑی، بغیر تیاری سامنے آنے والوں کو سبکی اٹھانی پڑی۔ معلوم پڑگیا کہ خودمختار پاکستان میں خودمختار صرف ’بیوروکریسی‘ ہے۔ دشمن ممالک کے بیچ گھراپاکستان کا ہر قدم محتاط ہے، اسلام آباد کو بند کرنا تو دور ’ایک صاحب‘ کو ٹریفک میں روکنا ہی ڈی پی او کے لئے خطرناک ثابت ہوا، بجلی کے لئے سڑک پر آنے والوں کو انڈیا نے دیش دروہی قراردیا۔

جن کو دھمکی دی ان کے پاس جاکر معاہدہ کرنا پڑا۔ ایک گائے ایک وزیر کو کھاگئی۔ ایک شاہی مہمان کے لئے اتنا استقبالی خرچہ کرنا پڑا جس سے وزیراعظم ایک سال کے لئے اپناہاؤس چلاسکتے تھے۔ بیرونی ممالک میں جانے کے لئے انتہائی ایمرجنسی نافذ رہتی ہے جس کی وجہ سے بھاری اخراجات بھی برداشت کرتے ہوئے پہنچنا پڑا۔ جن نئے چہروں کو اسمبلی تک رسائی دیدی انہوں نے اسمبلی اور ہاؤسز کو تجربہ گاہ بنادیا اور گزشتہ چھ سات ماہ سے تجربوں پر تجربے کررہے ہیں اور ایک حاکم بننے کا تھوڑا سایہ بھی نہیں پڑسکا۔ پرانے چہرے پرانی چالیں چلنے لگیں۔ بھری مجلسوں میں ایک دوسروں کو کہنے لگے کہ

بنے ہیں شاہ کا مصاحب پھرے ہیں اتراتے
وگرنہ اس شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

عوامی مسائل کی کوئی فائل سامنے نہیں آتی ہے، تلاش کرنے پر صرف اعلیٰ افسر ان کے تبادلوں اورمنظوریوں کی فائلیں مل رہی ہیں، کوئی شکایت نہیں مل رہی ہے، کسی پیرصاحب یا پیرنی سے پوچھا تو بتایا کہ عوام کے مسائل تو اسمبلی سے حل ہوتے ہیں جہاں پر قانون سازی کا قحط پڑا ہوا ہے۔ ایک دن بے اختیار ٹی وی دیکھنے پر پتہ چل گیا کہ ڈالر بڑی تیزی سے اوپر چڑھتا جارہا ہے بہت افسوس ہوا کہ اب تک ٹی وی کیوں نہیں دیکھا۔ جس کے بعد فیصلہ کیا کہ آئندہ سے روزانہ کی بنیاد پر ٹی وی چینلوں کو مانیٹر کروں گا تاکہ ڈالر اچانک بہت اوپر نہ چلاجائے ہلکی پھلکی اونچ نیچ میں ہی علم میں آجائے۔

اب جناب ٹیلی ویژن میں اکثر صرف تنقید ہوتی رہتی ہے بہرحال اب وزیراعظم ہیں تو برداشت کرنا ہی پڑے گا۔ ایک روز اسی مانیٹرنگ کے دوران پرویز مشرف کی جانب سے بیان چل پڑا کہ ’عمران خان حکومت میں سارے وزراءمیرے کابینہ والے شامل ہیں۔ سی وی کی فائل منگوا کے تفتیش شروع کی تو معلوم ہو گیا کہ دعویٰ میں بڑی حد تک سچائی ہے۔ چند ایک وزراءکے باقی سارے وہی تھے جو پرویز مشرف کے ساتھ آمریت کی حکومت کو انجوائے کرچکے تھے اور جو بچے کچھے تھے وہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ سے تعلق رکھتے تھے۔ اندر سے ایک آواز آئی اور خود سے ہی سوال کیا کہ‘ عمران خان پرویز مشرف کی کابینہ کا حصہ کیوں نہیں تھے؟ ’

Facebook Comments HS