آج بریانی کی خوشبو اچھی نہیں لگ رہی
ماں باپ کے کتنے خواب ہوں گے اپنے بچوں کے حوالے سے۔ جگماتی آنکھوں سے پھوٹتی روشن کرنیں۔ دوران سفر چھوٹی چھوٹی شرارتوں سے لطف اندوز ہوتے گھر والے۔ رات ہوی تو شہر قائد میں پڑاؤ ڈالا۔ گیسٹ روم میں قیام کے بعد رات کے کھانے پر بچوں کی پسند پوچھی گئی ہو گی۔ ہنستے کھیلتے بچوں نے بریانی کی فرمایش کی۔ سب نے مل کے کھائی ہو گی۔ لیکن کسی نے نہ سوچا ہو گا یہ آخری کھانا ثابت ہو گا۔ بیمار بیوی کو ہاسپتال لے جانے والے باپ نے سوچا تک نہ ہو گا کہ معصوم جگر گوشے کیسے تڑپ کر جان دے رہے ہوں گے۔
موت بھی کیسی بھیانک حقیقت ہے۔ سننے والے کا کلجیہ چھلنی کر دیتی ہے۔ یہ تو پھر ماں باپ کے پانچ پھول۔ کیا بیتی ہو گی ذرا چشم تصور سے دیکھیں۔ دل دکھ کے مارے پھٹتا ہے۔ اکیسی قیامت ہو گی ا اپنوں کے سامنے معصوم تڑپ رہے ہیں ہمیشہ کے لیے جدا ہونے والے ہیں اس پھوپھو کی حالت کیا ہو گی۔ یہ ساری باتیں آنکھیں نم کر دیتی ہیں بے ساختہ اپنے بچوں کو ساتھ لپٹا لیتی ہوں۔ جان لیوا بریانی ہمارے نظام کے منہ پر اک غلیظ پچکاری ہے۔
خواب غلفلت میں ڈوبی فوڈ اتھارٹی کے منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے۔ انسانی جانوں کی اس قدر تذلیل۔ چند روپیوں کا لالچ انسان کو فرعون سے بھی گھٹیا بناتا جا رہا ہے۔ فرعون تو اپنے تخت کے لیے بنی اسرائیل کے ہر لڑکے کو مروا دیتا تھا۔ ہم اپنے تھورے سے نفع کے لیے قیمتی جانوں سے کھیل جاتے ہیں۔ گویا انسان نہ ہوں جانور ہوں۔ بچا کھچا ڈال دیا باسی ہے تو کیا ہوا نکل جائے بس کسی طرح۔ پیارے نبی نے تو فرمایا ہے ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں۔
ملاوٹ چھوڑ ذرا فایدے کے لیے انسانی جانوں سے کھیلنا ہمری عادت بن چکی ہے۔ بے حسی ہے یا لالچ۔ اشرف المخلوقات کہلانے کے لائق نہیں ہم۔ ماں باپ سے تو بچے کی ذرا تکلیف برداشت نہیں ہوتی۔ کس ہوسلے سے پانچ معصوموں کو لحد میں اتارا ہو گا۔ کتنے ارمانوں سے بچوں کو پلا ہو گا۔ اک لمحے کو اپنے بچے کو اس جگہ رکھ کے سوچئے۔ دل تڑپ اٹھتا ہے۔ ایسا کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنانا ضروری ہے۔ پچھلے سال بھی ایسی دو معصوم جانیں ضائع ہوئی۔
کتنی۔ گندگی اور غلاظت بھری ہوی ہیں ان ریسٹوراتنٹس کے باورچی خانوں میں۔ ہم پیسوں سے موت خود خرید رہے ہیں۔ میرے بچے بریانی کے دیوانے ہیں۔ ایسے ہی شوق سے ان معصوموں نے کھائی ہو گی آج بریانی بناتے ہوے میرا دل بہت بوجھل ہے۔ بریانی کی خوشبو مجھے اچھی نہیں لگ رہی۔ معصوم بچوں کے چہرے میری نظروں سے نہیں ہٹ رہے۔ ایک آنسو بے ساختہ میری آنکھ سے لڑھکتا ہوا نجانے کدھر گم ہو گیا ہے۔


