ٹیکنالوجی اور معاشرتی مسائل
دنیا سکڑ کر گلوبل ولیج بن جائگی، یہ دنیا اب وژیول ورلڈ میں تبدیل ہورہی ہے۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو کچھ سال پہلے مختلف اوقات میں سننے کو ملے جو ہمارے دور طالب علمی میں اور جو ہمارے اسباق کا حصہ تھے اب عملی صورتحال اختیار کر گئے ہیں۔
شاید اسٹیو جابز کو اندازہ نہ تھا کہ مستقبل میں اس کی ایجاد کردہ اینڈرائڈ ٹینکالوجی دنیا میں انقلاب برپا کرنے کی بنیاد ہوگی اور شاید یہی اندازہ مارک زگربرگ کو بھی نہ ہوگا کی اس کی ایجاد کردہ فیس بک سوشل ویب سائٹ دنیا کی مقبول ترین ویب سائٹ ہوگی جو دنیا میں انقلاب برپا کرنے کے ساتھ انسانی زندگی میں اپنے دورس اثرات پیدا کرے گی۔
ٹیکنالوجی کے آنے اور انٹرنیٹ کے عام ہونے سے دنیا میں انقلابات برپا ہوگیا، وہیں یہ آن لائن میڈیا اور سوشل میڈیا میں تبدیل ہوگیا۔ ٹیکنالوجی کے آنے سے جہاں ترقی کا تیز ترین سفر شروع ہوا اور برقی رفتار کے ساتھ ترقی میں بین الاقوامی تعلقات اور سماجی تعلقات میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا۔
موبائل کے ایک بٹن کے دبانے پر جہاں دنیا سے ٓبرقیاتی رابطہ کرنے میں آسانی پیدا ہوئی وہی اس کا فائدہ سوشل میڈیا اور مخلتف ویب سائٹ سے سماجی تعلقات کے حوالے سے بھی ہوا۔ پاکستان میں اس وقت تقریبا ہر شہری انڈرایڈ موبائل یا دیگر موبائل استعمال کرنے کے سا تھ سوشل میڈیا پر سرگرم ہے جہاں وہ اپنے خیالات کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔ لیکن پاکستان میں اس کے برعکس دوسرے ممالک نے اس ٹیکنا لوجی سے فائدہ اٹھایا وہیں پاکستان میں اس کے منفی اثرات دیکھنے کو ملے۔ پاکستان میں اس وقت سوشل میڈیائی ٹیکنالوجی کے منفی اثرات دیکھنے میں آرہے ہیں۔ جس کا اثر روز مرہ زندگی کے ساتھ رشتوں ناطوں میں اور خاص کر انسانی رشتوں میں دراڑوں کی صورت میں پڑا ہے۔
ماضی میں ایسی کسی ٹیکنالوجی کی ترقی کے نہ ہونے سے میاں بیوی کے رشتے قائم رہتے تھے۔ اب کراچی کے ایک علاقے کی یونین کونسل 20 ہزار سے زائد ووٹرز کی آبادی پر مشتمل ہے جہاں ایک سال میں 250 سے زائد طلاق و خلاء کے کیسز دیکھنے کو ملے ہیں اور ایسا ہی کچھ کراچی کے علاوہ ملک کے دوسرے شہروں کا حال ہے۔
ماضی میں نوبیاہتا جوڑا جب رشتے میں مسنلک ہوتا تو اس وقت ایسے کسی ٹیکنالوجی موبائل، سوشل میڈیا ٹیکنالوجی کا کوئی عام استعمال نہیں تھا جس سے وہ شادی شدہ زندگی گزارنے میں آسانی واقع ہوئی۔ میاں بیوی میں تکرار یا لڑائی جھگڑا ہونے کی صورت میں بھی میاں بیوی کا رشتہ قائم و دائم رہتا۔ ماضی میں موبائل فون، ای میل، فیس بک کے بجائے خط و کتابت ڈاک کی صورت ہوتی تھی۔ جب ایک شخص خط لکھتا تو دو دن سے زائد دن کے بعد خط پہنچتا اور جسے پڑھ کر اطمینان کا اظہار ہوتا اور رشتوں میں محبت، ادب و احترام کے رشتہ قائم رہتے۔
موجودہ وقت میں نو بوبیاہتا جوڑوں کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اگراب نئی نویلی دلہن کو اس کی ساس کچھ بول دے تو فوراّ لمحہ سوچے بغیر اپنی والدہ کو فون ملا دیتی ہے۔ ماں اور بیٹی کا دن بھر کال کے ذریعے تبادلہ خیال کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور شادی شدہ لڑکی کو اس کی والدہ گھر آباد کی تلقین سمجھانے کے بجائے ایسے مشوروں سے مستفید کرتی ہے کہ جو اس لڑکی کی زندگی میں نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ اور پھر یہ سلسلہ تب تک جاری رہتا ہے جب تک دونوں کے درمیان طلاق اور خلع کی صورت میں علیحدگی نہ ہوجائے۔ جہاں یہ سب ہو رہا ہے وہیں بعض ممالک میں بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح کا الزام بھی سوشل میڈیا کے سر ہے۔
ٹیکنالوجی کے آنے کا مقصد ملکوں کی ترقی کے ساتھ عوام کی ترقی تھا جسے پاکستان میں زیادہ منفی انداز سے استعمال کیا جارہا ہے۔ حکومتی سطح پر یا کسی یونی ورسٹی کی سطح پر موبائل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے استعمال اوراس منفی اثرات کے بارے آگاہی مہم کی شروعات کرنی چاہیے بین الاقوامی ممالک جہاں ترقی مخلتف منازل طے کررہے ہیں وہیں پاکستان میں استعمال منفی سرگرمیوں میں ہورہا ہے۔ جس کا اثر روز مرہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد پر پڑا ہے۔


