شہزادے کا دورہ، کشمیر چین اور دہشت گردی


اب جب کہ شہزادہ محمد بن سلمان کا ایشیائی ممالک کا دورہ مکمل ہو چکا ہے وقت ہے غور کریں کہ اس سے ہمیں کیا سبق سیکھنا چاہے۔

شہزادہ اگر چہ ابھی ولی عہد ہے مگر حقیقی طور پر مملکت کے اندرونی اور بیرونی تمام معاملات میں وہی حرف آخر ہے۔ انہوں نے اپریل 2016 میں سعودیہ کا وژن 2030 کا پروگرام پیش کیا جس کا ہدف اپنی معیشت کا انحصار تیل سے کم کر کے دوسرے ذرائع اختیار کرنا ہے۔ دوسرے ممالک کے ساتھ معاشی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا، جس میں تیل کے ساتھ ساتھ اشیاء کی تجارت مثلا ہتھیار، اشیاء صرف، سیاحت وغیرہ کو فروغ دینا ہے۔

اس سلسلے میں اکتوبر 2018 میں ریاض میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جو کہ پوری طرح کامیاب نہ ہوئی کیونکہ اس سے پہلے ترکی میں جمال خشوگی کا قتل ہو گیا۔ اس قتل کے بعد سعودیہ مغربی دنیا میں کارنر ہوتا چلا گیا۔ اور شاید اسی وجہ سے ولی عہد کا ملائشیا اور سنگا پور کا موجودہ دورہ بھی ملتوی ہوا۔ سعودیہ پچھلے چار سال سے یمن میں بری طرح الجھا ہوا ہے۔ یمن کی جنگ کی طوالت کی وجہ سے ہلاکتیں اور عام شہریوں کی تکلیفات بڑھ رہی ہیں اوراس سے بھی سعودیہ پر عالمی دباوبڑھتا جا رہا ہے۔

امریکی کانگریس میں سعودیہ پر تنقید میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اگر چہ چین اس معاملہ میں سعودیہ کو مورد الزام نہیں ٹھہراتا۔ شام میں بھی بدلتی ہوئی صورتحال اس کے لئے تشویش ناک ہے جس میں امریکی اتحاد ناکام ہو رہا ہے۔ بشارالاسد، ترکی، روس اور ایران کی مدد سے آ ہستہ آہستہ اپنی بنیادیں مضبوط کرتے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں سعودیہ کو نئے حلیفوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے اپنے تعلقات پہلے ہی بہتر کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اور اب ولی عہد نے ایشیاء کے تین ممالک، پاکستان انڈیا اور چین کا دورہ کیاہے۔ اس دورہ میں ان کے بڑے مقاصد پاکستان، انڈیا اور چین کے ساتھ تجارتی تعلقات اور ایران پر امریکی پابندیوں کے بعد تیل کی فروخت بڑھاناتھے۔

اس دورہ کے دوران پاکستان، انڈیا اور چین تینوں ممالک میں تیل کی ریفائنری بنانے کے سودے طے ہوے۔ سعودیہ، انڈیا کے ساتھ مل کر وہ بحری مشقیں بھی کرے گا۔ ہندوستانی کمپنیان مستقبل میں سعودیہ میں کھاد، توانائی، بنیادی ڈھانچہ، سمارٹ سٹی اور بحر احمر میں نئے بسنے والے سیاحتی شہر میں سرمایہ کاری کریں گی۔

اس دورہ کے دوران پاکستان اور انڈیا میں پلوامہ حملہ کی وجہ سے تناؤ عروج پرتھا۔ سعودیہ ہمیشہ مسلمانوں اور خصوصی طور پر ان کی مختلف ممالک میں چلنے والی تحریکوں کا حامی رہا ہے۔ اورخادم حرمین شریفین کا لقب اختیار کرنے کے بعد تو ان کی قیادت کا ان دیکھا تا ج بھی انہوں کے سر آگیا تھا۔ وژن 2030 میں ان کا پہلا دعو یٰ ہے کہ سعودیہ اسلامی اور عرب دنیا کا دل ہے۔ کشمیر پر سعودیہ ہمیشہ پاکستان کے موقف کا ہامی رہا ہے۔

سعودی وزیرخارجہ نے انڈیا ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوے کہا کہ سعودیہ کشمیر کا مسئلہ پر امن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی کہا کہ ہم بہت سی تنظیموں کوجن میں سے کچھ پاکستان میں بھی کام کر رہی ہیں دہشت گرد قراردینے پر کام کر رہے ہیں۔ جیسا کہ اقوام متحدہ، امریکہ اور بہت سے دوسرے ممالک قرار دے چکے ہیں۔

چین نے سنکیانگ صوبہ میں تقریبا 10 لاکھ مسلمانوں کو حراستی کیمپوں میں نظر بند کیا ہوا ہے۔ ان کیمپوں میں ان پر مذہبی اقدار پر عمل کرنے کی پابندی ہے اور ان کو انتہاپسندی کے خلاف تعلیم دی جاتی ہے۔ ترکی کے صدر طیب اردوان ابھی پچھلے ماہ ہی ان کیمپوں کو انسانیت کی تذلیل اور نسل کشی کہہ کر ان کو بند کرنے کاکہہ چکے ہیں۔ وہاں کی مسلمان تنظیموں نے ولی عہد سے مدد کی درخواست بھی کی تھی، کیونکہ سعودیہ مسلمانوں کے مفادات کا پوری دنیا میں محافظ ہونے کا دعویدار رہا ہے۔ ۔

لیکن سعودیہ نے جو کہ دہشت گردی کا خود بھی شکار رہا ہے، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے چین کی حمایت کرتے ہوے چینی صدر کو یقین دلایا کہ وہ ان کے اپنے ملک کی حفاظت کے سلسلے میں کیے جانے والے تمام اقدامات کا احترام کرتے ہیں۔

اس دورہ سے جو بات سب سے زیادہ واضح ہوئی وہ یہ تھی کہ اب سعودیہ دہشت گردی کے معاملہ میں بہت محتاط ہو کر چلے گا اور دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی مفادات کو زیادہ اہمیت دے گا۔ انڈیا کو OICکے اجلاس میں آبزرور کے طور پر بلانا اس کی واضح مثال ہے۔ اب وہ پاکستان پر مختلف تنظیموں پر پابندیاں لگانے پر بھی اثر اندازہو گا۔ اس دورہ کے بعد پاکستان نے فلاح انسانیت فاونڈیشن اور جماعت الدعوہ (جو کہ سعودیہ کی قربت کی دعویدار ہیں ) پر پابندی لگا دی اوروفاقی وزیر اطلاعات نے جیش محمد کے خلاف اقدامات کی انڈیا کو یقین دہانی کروائی۔

کشمیر کی موجودہ جدوجہد اس کے اندرونی مسائل کی وجہ سے ہے اس پر راولپنڈی کاکوئی خاص اثر نہیں۔ امریکی انسٹیٹوٹ براے امن میں ہندوستانی حکومت کے سیکریٹری وجاہت حبیب اللہ نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوے کہا تھا کہ اس مسئلہ میں اب مقامی عنصر غالب آچکا ہے۔ جب تک ہندوستانی فوج کشمیر میں موجود رہے گی نا انصافی، ظلم، خوف، بیروزگاری اور انتقام کے خلاف مقامی شکائتیں بڑھتی رہیں گی۔ جوں جوں عوام کے نقصانات بڑھتے جائیں گے، تحریک شدت اختیار کرتی جاے گی۔

پلوامہ حملہ بھی اس کا ردعمل ہے لیکن انڈیا کے الزامات کے مطابق اس میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔ اگر چہ یہ سچ نہیں لیکن جیش محمد جیسی تنظیموں کی پاکستان میں موجودگی اورکام کوئی اچھی بات نہیں۔ خصوصی طور پر جب کہ تاریخ یہ ثابت کرتی ے کہ یہ لوگ ہمارے اپنے ملک میں بھی دہشت گردی، علاقائی و فرقہ وارانہ اختلافات اور ہمسایوں کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کے ذمہ دار رہے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کشمیر کی جدوجہد کو نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔ سابق سیکریٹری خارجہ ریا ض محمد خان کے مطابق کشمیری جدوجہد کوممبئی 2008 کے حملوں سے (جو کہ انڈیا کے بقول لشکر طیبہ نے کرواے ) ناقابل تلافی نقصان پہنچا تھا۔

اب پاکستان کو ان سے سختی سے نمٹنا چاہیے۔ اس بار شاید مولانا مسعود اظہر کی مدد چین نہ کرے اور اس کو اقوام متحدہ سے دہشت گرد قرار دے دیا جاے۔ پاکستان کو بھی سعودیہ کی طرح صرف تجارت پر توجہ دینی چاہے۔ اور اس بوجھ کو اپنے کندھوں سے اتار دینا چاہے۔

Facebook Comments HS