جوتے کی نوک پر

”اری او سوہنی! کہاں ہو؟ جب دیکھو جوتوں سے ہی کھیلتی رہتی ہو۔ “ ”جی، بی بی جی۔ آئی۔ “ ”صبح سے کیا کام کیا ہے؟ “ ”بی بی جی، سارا صحن صاف کر چکی ہوں۔ کمرے جھاڑ پونجھ لئے، اب صاحب کے جوتے پالش کر رہی ہوں۔ “ ”اب چھوڑ بھی دو ان کو۔…

Read more

مجھے مرد چاہیے، نکھٹو نہیں

ہمارے قریب ہی سکھوں کی متروکہ ایک بہت بڑی پرانی حویلی ہے جس کا داخلی دروازہ بڑی سی کمان کی شکل کا اتنا اونچا ہے کہ اس میں سے ہاتھی باآسانی گزر جائے۔ چالیس سال پہلے جب پرائیویٹ سکولوں کو کاروبار کی دوبارہ اجازت ملی تو علاقے کی ایک معتبر خاتون خانم جہاں آرا نے…

Read more

کنج کنواری نہیں، کنواری

”ماں تم ہمیشہ میری شادی کے پیچھے ہی پڑی رہتی ہو۔ اب چھوڑ بھی دو۔ بیس سال میں کوئی نہیں آیا۔ خدا نے میرے لئے کوئی پیدا ہی نہیں کیا۔ اب وہ پیدا کر بھی دے تو مجھ سے چالیس سال چھوٹا ہو گا۔ اب جب کہ میری آنکھوں کی چمک ماند پڑ گئی ہے…

Read more

عشق کینہ ور کی آگ

وہ میرے پاس آیا تو سخت تکلیف میں تھا۔ تین لڑکے اس کو پکڑکر لائے تھے۔ انتہائی خوبصورت لڑکا تھا۔ نزاکت، اسم با مسمیٰ۔ چہرہ اتنا ملائم کہ نگاہیں پھسل پھسل جاتی تھیں۔ موٹی موٹی آنکھیں جن میں خدا نے اپنے ہاتھ سے سرمہ لگایا تھا۔ رخساروں پر سبزہ کا آغاز ہوا ہی تھا۔ صاف…

Read more

مقدس ناتا

اب سفید بالوں نے کنپٹیوں پرہنسنا شروع کر دیا تھا۔ برف کے ان گالوں نے چہرے پر چھائے سال ہا سال کے آلام کو ٹھنڈا ٹھار کر دیا۔ موسم خضاب شروع ہوچکا تھا لیکن مریم جیسی عورتوں کی زندگی میں کبھی کوئی رنگ نہیں چڑھتا۔ جوانی کا ذائقہ چکھا ہی تھا کہ اس کے ارمان…

Read more

غلطی بانجھ نہیں ہوتی، بچے جنتی ہے

زوجہ شاہ حاملہ تھی۔ سارے حمل کے دوران عجیب و غریب مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بچہ شایدزیادہ صحت مند تھا۔ جب بھی حرکت کرتا ایک ٹیس سی اٹھ کرریڑھ کی ہڈی کے راستے سر تک چلی جاتی۔ وہ پریشان اورخوفزدہ بھی تھی۔ وہ کوئی کمزور عورت تھی اور نہ ہی یہ اس کا…

Read more

وٹا سٹا

دونوں ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوئے۔ عورت کومرد نے تقریباً گود میں اٹھا رکھا تھا۔ اس کے پاؤں زمین کے ساتھ رگڑ کھا رہے تھے۔ اس کوکمرے میں پڑے ہوئے بنچ پر لٹا کر مرد کو کچھ حوصلہ ہوا۔ ”ڈاکٹر صاحب، ان ظا لموں نے میری بیوی کو بہت مارا ہے۔ دو دن ہمیں…

Read more

جب شب زفاف داغدار ہو جائے (دوسرا حصہ)

پہلا حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں جب شب زفاف داغدار ہو جائے (پہلا حصہ) ***           *** وہ روتی جا رہی تھی۔ روتے روتے میرے ساتھ لگ جاتی۔ اور زیادہ زور سے روتی۔ کچھ حوصلہ ہوتا تو پھرمجھ سے دور ہو جاتی۔ غصے سے بولنا شروع کر دیتی۔ اسے آج…

Read more

شب زفاف جب داغدار ہو جائے

مجھے ڈاکٹر بنے تین سال ہو گئے تھے۔ میری ماں کہہ رہی تھی کہ یہ سال میری شادی کا ہے۔ کوئی لڑکی میرے دل کو بھاتی ہی نہیں تھی۔ بہت سی شعلہ، شبنم، مہتاب جبیں اردگر د موجود تھیں، میرا دل کسی پر جمتا ہی نہیں تھا۔ آج جب گھر سے نکلا تو ماں نے…

Read more

پیاسی لڑکی، لمبے قد کا دولہا اور چوتھا صنعتی انقلاب

بہت انوکھی لڑکی تھی وہ۔ باپ ملک کا مشہور باکسر، چھ فٹ پانچ انچ قد۔ رِنگ میں مخالف اس کی مار سے بے حال ہو جاتے تھے۔ اس کے مکے کوہساروں میں زلزلے کے جھٹکوں سے گرنے والے پتھروں کی طرح برستے تھے۔ رِنگ کے باہر اس کاشوق صرف جنس مخالف تک ہی محدود تھا۔…

Read more