سنگ مرمر کو دیکھنے کے دن

اسے یقین تھا کہ یہ چٹان اس کے حسین تصورات کا روپ دھارے گی۔ سرمئی دھنک اور سپیدی سے ابھرتی باریک سیاہ لکیروں میں خلط ملط شبیہ ظہور پذیر ہونے کو ترس رہی تھی۔ اس کے ہاتھ اوپر پڑی ٹیڑھی میڑھی سنگی چادر ہٹا دیں تو غیر واضح جسم سامنے آ جائے گا۔ مجسمے کا ایک ایک نقش اور خط اس کے دماغ میں محفوظ تھا۔ اس نے کاغذ پر بھی تین طرفہ شبیہ بنا لی تھی۔ چھینی ہتھوڑی سے

Read more

مریم نواز ہیلتھ کلینک: مسائل، امیدیں اور خدشات

مشترکہ ہندوستان میں مغربی طریقہ علاج کی تاریخ 1600 کی ہے، جب پہلے ڈاکٹر ایسٹ انڈیا کمپنی کے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ سرجن کے طور پر ہندوستان پہنچے۔ 1757 میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں اپنی حکمرانی قائم کی جس کی وجہ سے سول اور ملٹری سروسز کی ترقی ہوئی۔ بنگال میں 1764 میں کمپنی کے فوجیوں اور ملازمین کو طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے ایک طبی شعبہ قائم کیا گیا۔ ہندوستان کا پہلا ہسپتال مدراس جنرل

Read more

اردو بازار کے بزنس ٹائیکون

شام ڈھلنے لگی تو اورینٹل کالج سے باہر نکل آیا۔ چند قدم چلنے کے بعد دائیں طرف مڑ گیا۔ کالج کی دیو مالائی عمارت داہنے ہاتھ پر تھی۔ رک کر اس مادر علمی کو آخری بار دیکھا۔ اس کا نقشہ اپنی روح میں جذب کر لینا چاہتا تھا۔ تنگ سڑکوں پر گاڑیاں ہی گاڑیاں تھیں۔ پیدل چلنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ بچتا بچاتا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے بہت پہلے اورینٹل

Read more

مقبوضہ علاقوں کے باسیوں کی زندگی

جہلم ندی کی موجیں انہیں جھولے جھلا رہی تھیں۔ لائف جیکٹس سے کبھی ہوا نکال کر گہرے پانی میں غوطہ زن ہو جاتے اور کبھی منہ سے پھلا کر ندی کے اندر دور تک چلے جاتے۔ کنارے پر آتے تو توپوں کی گھن گرج اور بندوقیں چلنے کا شور سن کر پہاڑی تودوں کے پیچھے چھپ جاتے۔ ان کی نگاہیں افق کے پار اس مقام تک پہنچنا چاہتی تھیں جہاں توپیں چلنے کے دھماکے ہو رہے تھے۔ ”ہاشم بھائی! مجھے

Read more

بھوری مٹیالی آنکھیں

شبانہ تیوری پر بل ڈالے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ بھوری آنکھیں خوف کو اجاگر کر رہی تھیں۔ ”ذرا مسکراؤ!“ فوٹوگرافر نے مسکرانے کی اداکاری کرتے ہوئے اسے سمجھایا۔ بولو، ”چیز۔“ وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ کسی کو پرواہ نہیں تھی؛ ایک بچی کو انجان آدمی کے سامنے بٹھا کر مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ مسکرا کر بھی دکھائے۔ تیوری چڑھانا اس ظلم کے خلاف احتجاج تھا۔ زندگی کے پہلے دروازے پر کھڑی سات سال کی

Read more

دانتے کی دوزخ میں ایک اور حلقے کا اضافہ

”ورجل یہاں کیا ہو رہا ہے؟ مجھے تو بتایا گیا تھا کہ دوزخ کے نو گڑھے ہیں۔“ ”ہاں! بیسویں صدی تک نو ہی تھے لیکن اب دوزخ کو بڑا کیا جا رہا ہے۔“ ”وہ کیوں؟“ ”یہاں ایک نئی وادی کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ گول بھی نہیں۔ ٹیڑھی میڑھی ہے بالکل اِس دور کے گناہوں کی طرح۔“ ”ورجل، میں تو پہلے ہی تھک چکا ہوں۔ رنج و محن کے اس شہر اور اقلیم درد و الم میں موت بھی

Read more

شیر خوار (افسانہ)

وہ سات برس کا ہو چکا تھا۔ اس کے بعد میرے تین بچے پیدا ہوئے۔ جب بھی بچہ میری کوکھ میں اپنی ٹانگیں پسارنے کی کوشش کرتا تو اس کی محبت کی قندیل اور روشن ہو جاتی۔ بہت پیارا بچہ تھا، گھنگریالے بال، گول چہرہ، دودھ ملائی سا رنگ، موتی جیسے دانت اور پھر جب وہ مسکراتا تو گالوں میں ایسا گڑھا پڑتا کہ دو بوند پانی آ کر ٹھہر جائے۔ ہم تو اسے باقی بچوں سے زیادہ چاہتے تھے۔

Read more

غزہ کے بچوں کے نام

دھوئیں اور گرد و غبار کے بادل روزانہ ابھرتے آفتاب کی نقاب پوشی کرتے۔ دن بھر فضائے آسمانی پر یہی چھائے رہتے۔ شام کو دبیز دھویں کی سحابی فوج تحت الثریٰ کی طرف جاتے سورج کی روشنی ڈھلنے سے بہت پہلے چھین لیتی۔ رات کو یہ سموگ پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی تو میرا کام مزید آسان ہو جاتا۔ تمام علاقہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ عمارتیں عجب ہیبت کذائی کی صورت اختیار کر چکی تھیں۔ چہار

Read more

برساتی مینڈک

  (اس افسانہ میں شہزادہ آزاد بخت اور مکھی کے کردار انتظار حسین کے افسانہ ’کایا کلپ‘ سے لیے گئے ہیں۔ The Frog Prince ایک جرمن کہانی ہے ) برسات کو کس نے سہانا موسم کہہ دیا؟ ہندوستان میں جو بھی آیا لوگوں نے کچھ دیکھے سوچے سمجھے بغیر اسے اپنا لیا، اس کی اچھائیاں برائیاں سب اختیار کر لیں۔ برسات مشہد و شیراز کے ٹھنڈے علاقوں میں خوشگوار رہی ہوگی۔ فارسی ادب میں اس موسم کو پیارا لکھا جاتا

Read more

وجود ایک وہم ہے

گڈ مارننگ! اس نئی کلاس میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ میرے پڑھانے کا طریقہ روایتی ہے اور نہ ہی آپ سکول کے بچے کہ آپ کو قلم پکڑنا سکھایا جائے یا رٹے لگوائے جائیں۔ یونیورسٹی کی تعلیم سکول سے مختلف ہوتی ہے۔ ماشا اللہ آپ جوان اور سمجھدار ہیں۔ آج ہم صرف ایک دوسرے کا تعارف حاصل کریں گے۔ کچھ فلسفے کے مضمون پر بات ہوگی اور کل آپ کا پہلا امتحان لیا جائے گا۔ امتحان میں بیٹھنے

Read more

نہر کنارے

موجوں کی روانی تھی یا کسی کمسن الہڑ حسینہ کی چال، بہتے پانی کی ہلکی ہلکی آواز تھی یا دوشیزاؤں کی پائل کی جھنکار جو مجھے مست کیے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ سردیوں کی یہ گھنیری شام اور اس کی یاد، پانی میں کھڑی اس کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ میرے بچپن کی دوست، میری سہیلی سمرا، جو اسی نہر کنارے مجھے ملا کرتی تھی۔ جس نے کہا تھا، ’جب سب ختم ہو جائے تو اسی نہر پر

Read more

عریاں احتجاج

”یہ کیسے ممکن ہے؟“ کرسٹینا نے سوال کیا۔ نیلما سوچ میں پڑ گئی۔ کچھ دیر بعد بولی، ”تحریک عوام میں مقبولیت حاصل کر چکی ہے لیکن ملک کے کرتا دھرتا ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ کچھ نیا کرنا پڑے گا۔“ ”یہ امریکہ یورپ نہیں، ایک مسلمان ملک ہے یہاں کسی بندے کو کیسے تیار کیا جا سکتا ہے کہ وہ ننگا ہو کر احتجاج کرے۔“ ”دنیا بھر میں احتجاج کا یہ بہترین طریقہ گنا جاتا ہے، ہم اس پر عمل

Read more

اس نے ڈائری کا ورق الٹا اور تاریخ لکھی: 10 دسمبر 1976

”میرا دل اس کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا۔ وہ کتابوں میں کھویا تھا اور میں اس کے کتابی چہرے میں۔ گھبرو جوان پنجابی مرد، دراز قد، مضبوط ہاتھ پاؤں اور بڑی بڑی خمار آلود آنکھیں۔ ماتھے پر گری گھنگریالی کالی زلفوں کی شمیم مچل رہی تھی۔ اس نے ایک تاریخی ناول اٹھایا اور اس کی ورق گردانی کرنے لگا۔ ایسے خوبصورت جوان کو جنگ اور مار دھاڑ سے کیا لینا ہے۔ میں اس کے قریب پہنچ گئی۔ ’کیا

Read more

بندگی و الوہیت

بے انت اداسی و مایوسی اس انجام سے پہلے کی کہانی ہے۔ یہ تباہی ایک نئی آبادکاری لائے گی، یہ خرابی ایک نئی بحالی کی بنیاد بنے گی۔ موت ایک نئی زندگی کی ابتدا ہے : یہی خدا کا قانون ہے۔ خدا جو طاقتور ہے اور جس کے پرتو سے اس خاک کے پتلے میں زندگی کی دمک دکھائی دیتی تھی۔ وہ خاکی جس نے اس دنیا کو سنوارنے کے لیے صدیوں محنت کی۔ یہ اختتام اس کے لیے ایک

Read more

کیا بدقسمتی سے گریٹر اسرائیل امن کا اکلوتا حل بچا ہے؟

ایک وقت تھا سلطنت روم کی فوجیں فرانس سے آگے بڑھتے ہوئے برطانیہ میں گھس چکی تھیں۔ ان کے بچے افریقی ملک تیونس کی انجیر، الجیریا کی کھجور اور مصر کا گیہوں کھاتے تھے۔ مراکش تک ان کی حکومت تھی۔ ایشیا کا ساعد سیمیں شام جو دولت کی کان اور تمدن کا گہوارہ تھا، اس پر بھی رومی پھریرے لہراتے تھے۔ ایشیائے کوچک جو میوے کا گھر تھا اس کا مالیہ بھی وہی وصول کرتے تھے۔ عراق سے لے کر

Read more

کاہے کو بیاہی بدیس

میں نے اسے پروپوز کیا تو وہ یوں سمٹ گئی جیسے چھوئی موئی کملا گئی ہو۔ تیز طرار زہرہ پہلی بار اپنی چوکڑی بھولی تھی۔ میں نے اسے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔ اندھیری رات کی کالی چادر اوڑھے پیار کا یہ پہلا اظہار تھا۔ وہ الگ ہوئی تو پہلا جملہ تھا، ”مجھے اماوس کا آسمان بہت پسند ہے۔“ ”اماوس ہی کیوں؟“ ”یہ اندھیرا راز محبت کی پردہ داری کرتا ہے، جذبات کے لیے حجاب بن جاتا ہے۔“ ”کالی ٹھنڈی اماہ

Read more

خصم؛ سرہانے کا سانپ

میں بات بات کی آہٹ لیتے اونچے مکانوں سے گھری تنگ گلیوں میں اسے ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ گلیاں جہاں روشن دن میں بھی سورج کی کرنیں پہنچ نہیں پاتیں۔ جہاں بھوک اور مفلوک الحالی نے اپنا مسکن بنا رکھا تھا۔ ویرانی ہی ویرانی۔ ایک تھڑے کے نیچے لیٹے، بوری کا لبادہ اوڑھے شخص سے اس کے بارے میں پوچھا تو انوکھا ہی جواب پایا، ”کیوں ملنا چاہتی ہو؟“ ”سنا ہے وہ سکھ بانٹتی ہے۔“ ”دکھ کی اس آماجگاہ میں

Read more

ایک صوفی اور آزاد عورت کی محبت

اسوج کا مہینہ شروع ہوتے ہی گرمیاں رخصت مانگتی ہیں اور جاڑا دستک دینے لگتا ہے۔ اس مہینے میں بارش ہو جائے تو کسان بھی نہال ہو جاتا ہے، ’برسے اسوج تو ناج کی موج‘ ۔ ہلکی ہلکی خنکی بھلی لگتی ہے۔ بارش رک گئی تو راجو بازار سے واپس چل پڑا۔ سہانا موسم اور تنہائی، وہ اردگرد لگے بل بورڈز دیکھتا ہوا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف کھلی خود رو بھنگ کے پھولوں کی بھینی

Read more

بچوں کی پرورش میں والدین کا منفی کردار

میری بیٹی نے بہت چھوٹی عمر میں سکیٹنگ شروع کر دی تھی۔ اس وقت مجھے خدشہ رہتا کہ کہیں گر کر ناک نہ تڑوا لے۔ جب اس نے سکیٹنگ میں رقص کی بندشوں کو بھی شامل کر لیا تو کئی مرتبہ گر جاتی۔ مڑ کر ہماری طرف دیکھتی۔ اکثر اس کی ماں گھبرا کر ’بسم اللہ، بسم اللہ‘ کہنے لگتی۔ ماں کو خوفزدہ دیکھ کر بیٹی بھی رونا شروع کر دیتی۔ جب ماں پاس نہ ہوتی اور میں بھی کوئی

Read more

ملن کے گیت

سردیوں کی لمبی اور اداس رت میں دھڑکنیں بھی برف ہو جاتی ہیں۔ اپریل کے مہینے میں سورج نے منہ دکھایا تو برف پگھلنا شروع ہوئی۔ درختوں سے جھانکتا سورج بمشکل اتنا گرم تھا کہ دیودار اور صنوبر کے درختوں پر جمی برف کی دھول کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل کر سکے۔ ان ٹکڑوں سے لدی سرنگوں شاخوں سے جب ہلکی سی ہوا ٹکراتی ہے تو برف زمین پر گر کر یوں بکھر جاتی ہے جیسے جوانی کے خواب۔

Read more

چغد

میرا وکیل مسلسل ایک ہی بات کہہ رہا تھا، ”میں جھوٹا کیس نہیں لیتا اور کبھی کوئی کیس ہارا بھی نہیں۔ مجھے مخالف فریق کے حیلے بہانوں کی پرواہ ہے اور نہ ہی جھوٹی شہادتوں کی۔ اس آسان سے کیس کو ہارنا میری بدنامی کا باعث ہو گا۔“ وکیل نے تاکیداً فرمایا تھا کہ عدالت نے آخری وارننگ دی ہے اس بار سیمپل ضرور دینا ہے۔ میں نے سربمہر سمن میز کی دراز میں رکھ کر تالا لگا دیا۔ ***

Read more

فردوس گم گشتہ

اس شہر کا نام تھا، فردوس بریں۔ سائنسی ترقی کے سامنے دنیا بھر کی مشکلات سرنگوں ہوئیں تو انسان کی سب خواہشات بھی پوری ہو گئیں۔ چمکتا سورج اور روشن نیلا صاف آسمان، عالی عمارتیں، لوازم شاہانہ سے آراستہ اور ان کے شیشے جیسی شفاف رنگت کے سٹیل کے مینار، ابدیت کا استعارہ تھے۔ ان کے سامنے طاق کسریٰ و قصرِ نعمان سب ہیچ، دولت بے زوال کا احوال بیان سے باہر۔ باغات پھولوں سے لدے، آب و ہوا وہاں

Read more

انتہا پسندوں کی جمہوریت

1835 میں امریکی صدر پر پہلا قاتلانہ حملہ ہوا۔ اس کے بعد سے اب تک کے سولہ حملوں میں ملوث ملزمان کی زندگی پر لکھی جانے والی کتاب American Assassins: The darker side of politics میں مصنف کلارک لکھتے ہیں کہ زیادہ تر قاتلانہ حملوں کا مقصد امریکی حکومت کی پالیسی میں تبدیلی لانا تھا۔ قاتل ذہنی مریض تھا یا ایک عام انسان، وہ سیاست کی روش سے ناراض پایا گیا۔ موجودہ دور میں انتہا پسندی اور تشدد کو امریکی سیاست میں

Read more

مجھے بچہ نہیں چاہیے

ہر چرچ، ہر میوزیم میں موجود مجسموں اور اکثر کرسچن گھروں میں موجود مصوری کے شاہکاروں میں خدا کا بیٹا کہہ لیں یا پرتوِ خدا، مقدس ماں کی گود میں لپٹا لپٹایا نظر آتا ہے۔ پرتگال کے اس میوزیم میں زیر نمائش یہ ایک ایسا مجسمہ ہے جس میں وہ پالن ہار دودھ پیتا نظر آ تا ہے۔ ماں اور بیٹے کا یہ مجسمہ تمام مذہبی استعارات کی طرح وہمی مورت سجھائی دیتا تھا جنہیں چھوا نہیں جا سکتا؛ وہ

Read more

ماں کو حنوط کرنا

کوئی رات اس پر اتنی بھاری نہیں تھی۔ کسی رات کا سکوت اتنا گہرا نہیں تھا۔ آج تو دنیا کی ہر چیز، ہر ذرہ اس خاموشی سے چھو کر ایک سکتے میں بدل گیا تھا جیسے بن چاند کی رات میں سمندر کی ہر موج سکوت آموز ہو جاتی ہے۔ یہ گہرا سکوت دنیا کے نشیب و فراز پر بھی طاری ہو چکا تھا۔ گہری تاریکی کو توڑتی ایک کافوری شمع کی ٹمٹماتی لو اس سکون مطلق کی ہیبت کو

Read more

دوسرا بوسہ

”وقت کا دیوتا کرونس مر گیا ہے۔ وہی کرونس جس نے اپنا مادہ منویہ دھرتی کے تنگ دروں میں ڈالا تو تمام دیوی دیوتا پیدا ہوئے۔“ ”دیوی دیوتا تو لافانی ہوتے ہیں۔ وہ کسے مر سکتا ہے؟“ ”میں نے اس کا وجود ہی مٹا دیا ہے۔“ ”کیوں؟“ یہ دیوی دیوتا کائنات کے بنیادی اصول علت و معلول پر پورا نہیں اترتے۔ اس لیے میں نے اسے مار دیا۔ مندروں کی گھنٹیاں جو زور زور سے مسلسل بج رہی تھیں یہ

Read more

مدھر ملن کی شبھ گھڑی

(وہ ایک ایسے میوزیم میں ملتے ہیں جہاں مورتیاں اور پینٹنگز ہندو دھرم کی پریم کتھائیں بیان کرتی ہیں۔ شکنتلا کے ملاپ کی مورتی، اروشی کی جدائی کی پینٹنگ، پریتم ملن کے بعد شکنتلا کی واپسی کی پینٹنگ۔ کہانی آگے بڑھتی ہے اور دونوں مہا بھارت کے کرداروں میں کھو جاتے ہیں۔ ) میں اس میوزیم میں صرف دو شہ پارے دیکھنے آتا ہوں۔ مرکزی ہال کے بیچ میں کھڑے شکنتلا و راجہ دشونت کی بغلگیر مورتیاں اور راجہ روی

Read more

گناہ بے لذت اور معصوم کا خون

ڈاکٹر شبانہ میرے سامنے کھڑی تھی۔ ہسٹری اس نے لی تھی۔ اور وہ ہی انہیں حوصلہ دے رہی تھی۔ لڑکیوں کو جانے کی جلدی تھی اور ڈاکٹر شبانہ کہہ رہی تھی کہ ڈاکٹر صاحب کے پاس مریضوں کی بہت بھیڑ ہے وہ چھٹ جائے تو تمہیں دکھاؤں گی۔ وہ دونوں بہنیں بمشکل چودہ پندرہ سال کی ہوں گی ۔ میں بھی ان کی بے چینی دیکھ رہا تھا۔ جلدی جلدی مریض فارغ کیے اور شبانہ کو پاس بلایا۔ اس معاشرے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل

مذہب اور جنس کی بنیاد پر طاقت کی سیاست ہمیشہ سے انسان کے چال چلن اور بحیثیت مجموعی انسانی معاشروں کے رسم و رواج کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اب جب کہ انسان زیادہ آزادی کی طرف قدم بڑھا رہا ہے تو مذہب اور جنس کی بنیادیں نئے ڈھنگ اختیار کر رہی ہیں اور طاقت کی سیاست بھی نئے نئے انداز میں ان دونوں کو استعمال کر رہی ہے۔ طاقت کبھی گولا بارود بن کر

Read more

بچہ باپ کا نہ بھی ہو شکل تو اس ہی پر ہو گی

ماں بننے والی نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ سابقہ ساس سرہانے کھڑی تھی۔ وہ غصے سے بولتی جا رہی تھی۔ سابقہ خاوند اسے پکڑ کر باہر لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ”میں تم پر کیس کروں گی۔ تمہیں عدالت میں گھسیٹوں گی۔“ وہ بھی غصے میں تھا، بڑبڑا رہا تھا، ”تم نے بچے کو مار دیا۔ جان بوجھ کر یہ حمل ضائع کیا ہے۔“ کوسنے والا تو ہر مرحلے پر ساتھ نبھانے کا دعویدار تھا۔ وعدے ایفا

Read more

موہنی مصلن

کھلی کھلی اجلی سی سردیوں کی دھوپ میں سرسوں کے پھول لہرا کر موسم کو زرد رنگ دے گئے تھے۔ یہ لپکتا لہکتا کھیت برف پوش پہاڑوں کی یخ بستہ ہوا میں تیلئر کی ڈار کی طرح اوپر سے اوپر جا تا دکھائی دیتا تھا۔ اس نے دو پھول توڑ کر ہاتھ میں پکڑ لیے اور ایک ایک کر کے اس کی پتیوں کو سہلانے لگی جیسے سنار کی نرم و نازک انگلیاں سنہری جھمکوں کو چمکا رہی ہوں پھر

Read more

زندگی محبت اور ذلت کی آمیزش ہے

یہ حقیقت مجھ پر دریائی ویرانوں میں کھلی۔ سفید چادر اوڑھنے والا محبت نہیں کر سکتا۔ داغدار دامن والا ہی زندگی کی ان بہاروں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ میری پہلی پوسٹنگ طالب والا پتن کے اس پار ماورائی داستانوں کی زمین تخت ہزارہ میں ہوئی۔ موٹر وے اس وقت نہیں تھی اس لیے سیال موڑ سے وہاں تک ویرانہ ہی ویرانہ تھا۔ چناب کی منہ زور موجوں کو بند باندھ کر قید کر لیا گیا تھا لیکن عشق و

Read more

اس الیکشن نے ملک میں ایک نئی جہت کی بنیاد رکھی ہے۔

1997 کے بعد سے اس وقت کی سیاسی جماعتوں نے قوم کو کوئی نئی فکر یا قیادت نہیں دی۔ مشرف کے خلاف مہم کی قیادت وکلا کے ہاتھوں میں تھی اور وہ اس کا پھل کھا رہے ہیں۔ اس مہم میں سیاسی جماعتیں ان کا دم چھلا بنیں اور اب تک ملک کی سیاست میں وہی کام نبھا رہی ہیں۔ وکلا نے اس کے بعد عدلیہ میں کوئی نقب نہیں لگنے دی اور اب سپریم کورٹ سے لے کر گلی

Read more

نفرت کی سیاست کا شکار الیکشن

اب کی بار اسلام آباد میں بہار آئی ہے لیکن پھول کھلے ہیں کائی کے۔ کائی کا بے رنگ و بو پھول جو پک جائے تو اس کے پولن ہوا میں ہر طرف پھیل کر انسانوں کے لیے الرجی کا باعث بنتے ہیں اور ان کا سانس اکھڑنے لگتا ہے۔ کائی جس کا پھول کسی کام کا نہیں ہوتا اور پودا تو ویسے ہی نرپھل ہے۔ آج یہ بے رنگ پھول ہوا میں یوں لہرا رہے ہیں جیسے مفتوح قوم

Read more

شیخوپورہ: کون جیت سکتا ہے اور کون ہارے گا؟

شیخوپورہ پنجاب کا ایک اہم ضلع ہے جس کی سیاست ہمیشہ رخ بدلتی رہتی ہے۔ اس ضلع میں کوئی فرد یا خاندان مستقل چوہدراہٹ قائم نہیں کر سکا۔ یہی حال سیاسی پارٹیوں کا رہا ہے۔ تحریک پاکستان سے لے کر ایوب خان کے دور تک یہاں مسلم لیگی لیڈر جیتتے رہے۔ 1970 سے لے کر 1988 تک یہاں پیپلز پارٹی کو زبردست پذیرائی ملی اسے پنجاب کا لاڑکانہ کہا جاتا تھا۔ پھر سیاست نے پلٹا کھایا اور یہ پاکستان مسلم

Read more

کاش اس دنیا سے برائی ختم ہو جائے

یہ وہ خواہش ہے جو کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔ ہمارے آباؤ اجداد تمام قسم کی برائیوں کی موجودگی میں زندگی گزار کر گئے : ہم بھی ان برائیوں کی موجودگی میں زندہ ہیں۔ کاش! اس دنیا سے نشہ آور چیزیں ختم ہو جائیں۔ یہ بھی ممکن نہیں۔ نشہ وہ برائی ہے جو امرا و غربا، شاہ و گدا، دیوتا و پجاری، موحد و ملحد اور علما و جہلا سب کی انجمنوں میں رونق افروز رہی ہے۔ بلکہ وہ سبھائیں

Read more

بلاول بھٹو لاہور سے جیت بھی سکتے ہیں

پاکستان کی سیاست نے مولانا فضل الرحمٰن اور آصف علی زرداری، دو ایسے سیاست دان پیدا کیے ہیں جنہیں کوئی مات نہیں دے سکتا۔ کس وقت کون سی چال چلنی ہے، کون سا مہرہ پھینکنا ہے اور کس سے کیا بیان دلوانا ہے، یہ ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ ان دونوں کی ایسی ایسی باتیں ہیں جو پاکستانی سیاست کا روزمرہ بن چکی ہیں۔ ان کی کئی چالیں اس ملک کی مشکل ترین سیاست میں قابل تقلید ہیں۔ پاکستان

Read more

نوجوانوں کے سیاسی شعور کی قربان گاہ

پاکستان پیپلز پارٹی نے 1967 میں لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر سے اپنے سفر کا آغاز کیا تو اس وقت اس کے بانی ارکان اوسط عمر 34 سال تھی۔ خود ذوالفقار علی بھٹو 39 سال کے تھے۔ غلام مصطفے ٰ کھر، حیات محمد خان شیر پاؤ، رفیع رضا کی عمر تیس سال تھی جب کہ کراچی یونیورسٹی کے طالب علم رہنما معراج محمد خاں ان سے بھی کم عمر تھے۔ بعد میں یہی لوگ ان کی کابینہ کے

Read more

اولاد پیدا کرنے سے انکار

کیا آپ نے کبھی کسی بوڑھے اور بیمار جانور کو ویرانے میں مرتے دیکھا ہے۔ اب تو ہر طرف انسانوں کا جنگل پھیل کر ویرانوں کو کھا گیا ہے لیکن ہمارے بچپن میں جب ملک کی آبادی سات کروڑ سے بھی کم تھی تو بہت سے ویرانے نظر آتے تھے۔ بہت سی چیلیں اور گنجی گردن والے مردار خور گدھ ٹیلوں پر بیٹھے مل جاتے تھے۔ چیل اور گدھ زندہ اور صحت مند جانور کا شکار نہیں کرتا بلکہ بیمار

Read more

مقبولیت کی سیاست

جوں جوں دنیا معاشی مشکلات کا شکار ہو رہی ہے چھینا جھپٹی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہی جنگل کا قانون ہے اور یہی نسل انسانی کا وتیرہ رہا ہے۔ بس انسان کی کوشش رہی ہے کہ اپنی اس خواہش پر ملمع کاری کر کے اسے قابل قبول بنا لیا جائے۔ برطانیہ میں 1970 سے 2016 تک تقریباً نصف صدی میں صرف آٹھ وزرائے اعظم حکمران رہے لیکن 2116 سے 2023 کے درمیان آٹھ سال میں چار حکمران ناکام ہوئے۔ اب اگلا

Read more

قید محبت

”جانور اور پرندے کھلی فضاؤں میں ہی اچھے لگتے ہیں۔ زندہ چیزوں کو چھوڑیں قید میں تو در و دیوار بھی گہنائے جاتے ہیں، پتھر روتے ہیں اور ہوائیں چیختی چنگھاڑتی ہیں۔“ بیگم سنی ان سنی کر کے پنجرے میں موجود پرندوں کو دیکھ رہی تھی۔ ”یہ لو برڈ کی جوڑی دیکھو، یہ کسی ایک جگہ پر ٹکتے ہی نہیں۔“ ”ہاں! بالکل اس انسان کی طرح جس کے دل میں محبت بس جائے تو اسے کسی پہلو چین نہیں آتا۔“

Read more

جو سات سمندر پار جا بسی ہے

رات ڈھل رہی تھی۔ سرد و جامد بے خواب رات میں احمریں ستارے جگمگا کر اپنا دیوانہ پن ظاہر کر رہے تھے۔ مکان، درخت، پہاڑ، چاند سب رت جگا منا رہے تھے۔ پورا عالم سما مع دب اکبر و اصغر قطبی تارے کے گرد طواف کر رہا تھا۔ وہی پانی جو سمندروں سے بخارات بن کے اڑا تھا بوند بوند دھرتی کی کوکھ میں ٹپک کر اسے زمردیں رنگ دے گیا تھا۔ مخملیں دوب اور درختوں کے سبز پتے مزید

Read more

نصف عورت

وہ نصف عورت تھا/تھی اور نصف انفعال و جستجو۔ اس کا شباب سرور سے سکر، سکر سے سرشاریت کی حد تک پہنچ گیا تھا اور وہ کوئی فیصلہ نہیں کر سکی تھی کہ وہ عورت ہی کہلاتی رہے یا دنیا کو اپنی کشمکش سے آگاہ کر کے اپنی دلی جذبات بیان کر دے۔ لیکن اس شباب کا کیا کرتی جو رعنائی جمال کا اعلیٰ نمونہ تھا۔ جو عورتوں کی دنیا میں نسوانی حسن کا سحر آگیں اعجاز کہلاتا تھا۔ انتخاب

Read more

ایموجیز اور سیکسٹنگ

تمام افواج اپنے جوانوں کو بہادری کی داد دیتے ہوئے یہ سبق پڑھاتی ہیں کہ وہ دنیا میں سب سے بہترین ہیں۔ ہماری فوج کا تو نعرہ ہی یہ ہے کہ بہترین آدمی فوج میں نظر آتے ہیں۔ زور تو جسمانی طاقت اور خوبصورتی پر ہوتا ہے لیکن جب فوجی ڈاکٹر بھی ہو تو وہ عقل و فہم اور حسن تدبیر میں بھی بہترین مخلوق ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہمارے کرنل (ر) ڈاکٹر صاحب بھی ناک پر مکھی نہیں

Read more

وارث شاہ کا عرس

آج عرس مبارک کا آغاز تھا اور آج ہی ڈاکٹر نے پلاسٹر اتار کر کہا تھا کہ ہڈی جڑ چکی ہے، اب وہ چلنے پھرنے میں آزاد ہے۔ سینے کا درد بھی ٹھیک ہو چکا تھا۔ اسے پچپن کے وہ دن یاد آ رہے تھے جب دادا ابو کی انگلی پکڑ کر پنجابی زبان کے عظیم شاعر پیر وارث شاہ کے میلے میں جایا کرتی تھی۔ وہ ہیر کے حافظ تھے۔ بہت سریلی آواز میں پڑھتے تھے اور سننے کے

Read more

بے کفن لاشے کا ماتم

اشاروں کنایوں کی زبان وہ بہت اچھی طرح سمجھتی تھی کیونکہ وہ طوائف تھی اور گاہک کی رگ رگ سے واقف۔ طوائفوں سے عشق نہیں، سودا ہوتا ہے۔ لوگ کھلونوں سے دل بہلانے آتے ہیں اور وہ ان کی جیبوں سے اپنا سرمایہ تجارت حاصل کرتی ہیں۔ طوائف سے عشق کا دعویٰ بہت کرتے ہیں لیکن ان کا عشق اس غزل کی مانند ہوتا ہے جس کا مقطع خلوت بے ناموس ہے اس لیے آہ سرد اور لب خشک اسے

Read more

تم نے حاتم طائی کا قصہ سنا ہو گا؟

”ہاں بچپن میں سنا تھا۔ پھر کالج پہنچے تو ’آرائش محفل‘ پڑھی۔ یہ ایک دیو مالائی داستان ہے۔ اس میں حاتم طائی کی بہادری اور اس کی دریا دلی کے قصے ہیں۔ “ ”اس میں خاص بات کیا ہے؟“ میں نے پوچھا۔ ”جنات و بشر کی کہاوتیں اور حور پریوں کے تذکرے ؛ پند و نصائح اور کچھ سبق آموز کہانیاں۔ سب نے مل کر اس عظیم قصے کو ’گوہر نایاب اردو‘ بنا دیا۔“ جواب ظاہر کرتا ہے کہ اس

Read more

امریکی سپاہی اور یخ پارہ افغان لڑکی

وہ ایک عجیب سی جنگ تھی۔ جس میں مقصد واضح تھا نہ طریقہ کار۔ دشمن پوشیدہ تھا اور ہم ہویدا۔ دنیا کا سب سے امیر و طاقتور ملک ایک انتہائی غریب قوم پر حملہ آور تھا۔ افغانیوں کی زیست فاقوں سے تلملاتی تھی اور امریکیوں کے بازوؤں کی مچھلیاں پیچ و تاب کھا رہی تھیں۔ امریکہ نے تو یہ سمجھ کر حملہ کیا تھا کہ ’ہمہ آہوان صحرا سر خود نہادہ برکف‘ ان کے قدم لیں گے لیکن اب انہی

Read more

یہ چھٹیاں: شیطان اور عورت کی چال

شریعت موسوی میں تو ایک دن چھٹی کا تھا۔ یہواہ نے کہا تھا ”چھ دن تک تو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا لیکن ساتواں دن خداوند تیرے خدا کا سبت ہے اس میں نہ کوئی کام کرے نہ تیرا بیٹا نہ تیری بیٹی نہ تیرا غلام نہ تیری لونڈی نہ تیرا چوپایہ نہ کوئی مسافر جو تیرے ہاں تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو۔“ پہلے کرسچن بازنطینی قیصر کرسٹینین نے اتوار کو مقدس ٹھہرا کر چھٹی کا فرمان

Read more

شمالی علاقہ جات کی سیاحت

پاکستان کے نقشے پر مشرق سے مغرب کی طرف نظر دوڑائیں تو سب سے پہلے کشمیر کی وادی آتی ہے جو کہ شمال میں مزید مشرق کی طرف جھک کر بلتستان میں داخل ہو جاتی ہے۔ مغرب کی طرف بڑھتے ہوئے کاغان، سوات، ہنزہ اور پھر چترال تک ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑوں میں گھری یہ وادیاں ایک دوسرے سے مختلف اور انوکھے رنگ لیے ہوئے ہیں۔ بلتستان میں اٹھلاتی بل کھاتی ندیاں مغرور حسیناؤں کی طرح دامن اٹھا

Read more

اینٹونینا کی جرات گناہ

اسے یہ خبر سسلی کی کامیاب مہم کے بعد ملی۔ عظیم رومی جنرل کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی لیکن وہ اس حد تک گر جائے گئی شاید سوچا بھی نہیں تھا۔ تمام دنیا جانتی تھی کہ وہ اس کی محبت میں دیوانہ ہے۔ بحیرہ روم کے پانیوں، افریقہ کے ریگستانوں، یورپ کی پہاڑیوں اور ایشیا کے میدانوں میں جھنڈے گاڑنے والا جنرل بیلی سیریس اپنی بیگم کی اداؤں کے سامنے سر نگوں ہو جاتا تھا۔ انٹونینا کی

Read more

سرمایہ دار اور غریب، سب سڑکوں پر موت بانٹ رہے ہیں

ہماری موجودہ دنیا طبقات میں بٹی ہوئی ہے۔ طبقاتی نظام انسانی تہذیب کی انتہائی ناگوار حقیقت ہے۔ اس نظام میں غالب لوگ نہ صرف ذرائع پیداوار پر قابض ہوتے ہیں بلکہ معاشرے کے تمام ادارے مثلاً فوج، پولیس، عدالتیں اور انتظامیہ سب ان کے طابع ہوتے ہیں۔ قانون وہ خود بناتے ہیں اور جوڑ توڑ کر کے فائدہ اٹھانے کے طریقے بھی ایجاد کر لیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ارتقا کے ابتدائی مراحل میں انسانی معاشرہ اشتراکی نوعیت کا

Read more

عمران خان کے حواس پر سوار موت کا خوف

زندگی انسان کے ہاتھ سے یوں کھسک رہی ہے جیسے پانی کو چلو میں بھر لو تو وہ انگلی کی درزوں سے کھسک جاتا ہے۔ جو بچتا ہے وہ موت ہے۔ موت ایک ایسا معمہ ہے جو سمجھنے کا ہے، نہ سمجھانے کا۔ فلسفہ دانوں، شاعروں اور تخلیق کاروں نے موت اور اس کے ارد گرد پھیلے ہوئے غبار میں بہت ہاتھ پیر مارے ہیں لیکن حاصل ایک بے انت اداسی اور مایوسی ہے۔ یہ یاس و نراس خوف و

Read more

خیالوں کی ادھوری دیوی

صدیوں پرانے بت، فن پارے، یہ انسانی تخلیقات، سب مظاہر فطرت کی شخصی تشکیل ہیں۔ یہ دیویاں دیوتا، معبود بہت بعد میں بنے، پہلے پہل تو یہ قومی ہیرو تھے : مظاہر قدرت کی اعلیٰ شکل، انسان۔ اس کی کرامات نے کف خاک کو رتبۂ اعلیٰ بخشا اور لوگوں نے ان کی پوجا شروع کردی۔ نیفریٹیٹی، جس کا لفظی معنی خوبصورت عورت ہے، ایک طاقتور ملکہ؛ جب مصر کا سکہ شام سے لے کر سوڈان تک چلتا تھا۔ اس دور

Read more

نوری نت اور موگیمبو کا زمانہ لوٹ آیا

بہت سی فلمیں ہیرو نہیں ولن کے ڈائیلاگ کی وجہ سے مقبول ہوئیں۔ مولا جٹ بہت بڑا نام ہے، لیکن نوری نت کا سوہنیا نہ ہوتا تو فلم سو فی صد فلاپ تھی۔ مسٹر انڈیا کا ’موگیمبو خوش ہوا‘ تو فلم کامیاب ہوئی۔ کامیابی کی ایک اور علامت مار دھاڑ اور خونی مناظر کے ساتھ مخالف کی عزت خاک میں ملانے والے جملے بھی ہیں۔ اب تو مکالموں میں گندی گالیاں بھی بے دھڑک استعمال ہو رہی ہیں۔ جس سٹیج

Read more

وہ آکاس سے تارے چرا لایا

طلوع و غروب آفتاب کے ارغوانی مناظر میں سوریا دیوتا کا مندر ایک خونیں کیفیت میں نظر آتا تھا۔ پروہت دونوں وقت دیوتا کے سامنے ملول و غمگین بیٹھا رہتا۔ سوریا کی یہی خونیں رنگت اکلوتی بیٹی کی آنکھوں میں دیکھ کر اس کا دل مٹھی میں آ جاتا۔ وہ نسل در نسل اسی مندر کے خدمت گار تھے۔ جنم کے فوراً بعد ماتا نے دیوتا کے چرنوں ڈال دیا۔ اس نے اسی فرح بخش معبد کی حدود میں پرورش

Read more

پانی میں ستی

اسے انگ انگ کو صاف کرنا تھا، رواں رواں کو دھونا تھا۔ ہر بن مو سے پھوٹتے پگھلتی جوانی کے عرق کو بھی پونچھنا تھا۔ بدن پر موجود دو دہائیوں کی میل پانی سے دھلنا ناممکن تھی۔ گرچہ بوڑھی ماں دور پنگھٹ سے گھگریاں بھر بھر کر پانی لا رہی تھی اور وہ اپنے بدن پر انڈیلتی جا رہی تھی لیکن تنہائی کی جوالا جو شعلہ بھڑکاتی ہے اس کو غسل ارتماسی بھی نہیں بھیجا سکتا۔ جوانی کا دریا تین

Read more

سزا – افسانہ

گرچہ یہ ہمارے شعبہ کا قاعدہ ہے کہ خوش پوشی اور قرینہ و سلیقہ سے زندگی گزاری جائے لیکن میری طبیعت اس سے رغبت نہیں رکھتی۔ میں درویش خصلت تو نہیں لیکن سادہ مزاج ضرور ہوں، جہاں اور جیسا بھی بستر ملا سو گئے، جہاں جگہ ملی بیٹھ گئے، کھانے کی فکر نہ پہننے کی، اسی لیے مجھے فارما سوٹیکل کمپنیوں کی دعوت قبول کرنے میں ہمیشہ عار محسوس ہوتی ہے۔ اس بار دوستوں کا بہت اصرار تھا۔ ایک دہائی

Read more

نقرئی لومڑی

”کیا عجب عنوان ہے! بڑی عمر کی عورت اپنی اپیل کھو نہیں دیتی؛ 71 سالہ زینت امان نوجوانوں میں کیوں مقبول ہو رہی ہے؟“ ”نقرئی لومڑی Silver Vixen اپنے چاندی کے بالوں کی جھالر لٹکائے اس عمر میں جب انسٹاگرام پر انٹری مارتی ہے تو نوجوان دیوانے ہو جاتے ہیں۔“ وہ دونوں فروری کی روپہلی دھوپ میں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔ گل و ریحان کا موسم شروع ہو رہا تھا۔ وہ موسم جس میں پرندے جوڑے بناتے ہیں۔ موسم

Read more

غیر آئینی بندوبست اور عوامی احتجاج

اس وقت ملک کو ایک مرتبہ پھر غیر آئینی طریقے سے چلانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ دونوں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نوے دن کے اندر کروانا آئینی پابندی ہے۔ صدر پاکستان اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے الیکشن کی تاریخ دے چکے ہیں۔ ادھر جن کی ذمہ داری ہے وہ اس آئینی پابندی کو ہوا میں اڑانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ بظاہر یہ غیر آئینی بندوبست کامیابی سے اپنے قدم آگے بڑھا رہا ہے۔ بات عدالتوں میں جائے

Read more

دو گولی ویاگرا

اس کی زندگی میں وصل کی رت کم ہی آتی تھی؛ کبھی کبھار ملاپ کا چاند نکلتا تو وہ مد و جذر سے لطف اندوز ہو لیتی۔ نواب اختر کا دیا کرنے کو دل چاہتا تو ایک دو راتیں دان کر دیتے ورنہ تنہائیوں میں اس کا بدن چونے کی بھٹی کی طرح دہکتا رہتا۔ نواب اختر سر شام باہر جانے لگتے تو مہرالنساء کئی بار روکنے کی کوشش کرتی۔ وہ اپنی برائی کو اس کے سر منڈھ دیتے۔ ”اس

Read more

نون لیگ کا نیا بیانیہ

گرچہ اس ملک میں قانون کی عملداری کبھی نہیں رہی لیکن غیر آئینی اقدام ہمیشہ باوردی خواص کا وتیرہ رہے ہیں۔ پچھلے سال تحریک عدم اعتماد کے دوران غیرآئینی کام کر کے سویلین عمران خان اور صدر عارف علوی نے پہلی مرتبہ ان کی ہم سری کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ اس بار کو اٹھانے کا حوصلہ، آئینی عہدے پر کام کرنے والے خاں صاحب کے قریبی ساتھی، سپیکر کو بھی نہیں تھا۔ عمران خان یہ اندازہ لگانے میں

Read more

کافوری خوشبو

سبز و سفید ردا پر نور کی برسات تھی۔ گرد آلودہ وردی چمک رہی تھی۔ ریت اور مٹی سے اٹا، کافوری خوشبو میں لپٹا چہرہ سکون اور ثبات کا مظہر تھا۔ اجنبی لوگوں کا جمگھٹا، اجنبی عورتوں کی باتیں سب تیری یاد کو بھڑکا رہی تھیں۔ تم چلے گئے تو یہی کافور میرے زخموں کا مرہم بن گیا۔ ماں کہتی تھی کہ روہی کے لوگ وہاں کی مٹی کی طرح نرم و ملائم ہوتے ہیں۔ پیاس اور افلاس کے مارے

Read more

جنم، بیماری، بڑھاپا اور موت کا چکر

اے کر شا گوتمی! تو پھر آ گئی۔ وہ دن جب سدھارتھ کی بیوی یشودھرا کی امیدوں کے باغ میں پھل آیا اس دن تو خیر مقدمی گیت گا رہی تھی۔ خوشی کا گیت ” سب خوش ہیں، باپ خوش، ماں خوش اور وہ بیوی جس کا شوہر فرد فرید ہے، بیٹا چاند کا ٹکڑا۔“ گوتم دکھ دیکھ کر آیا تھا اس کو یہ گیت ایسا بھایا کہ اپنا ہار اتار کر تجھے پہنا دیا۔ ہار انعام میں پا کر

Read more

درد بے لگام ہو گئے

بہادر خاتون کو کھل کر ہنستے دیکھا۔ پوچھا، ”سنا ہے کہ ہر ہنسی کے پیچھے کچھ غم چھپا ہوتا ہے۔ آپ نے کبھی وہ راز نہیں کھولا۔“ طنز یا کنایہ بازی تو حد ادب سے آگے ہے، ہاں رمز و اشارہ کا طریقہ تو برتا جاسکتا تھا سو کہہ دیا، ”کیا آپ بے غم ہیں؟“ جواب ملا ”انسان کے اندر پرت ہی پرت۔“ ذہین عورت تھی۔ جواب کچھ مبہم، زیادہ آشکار تھا۔ دکھوں کے جہان کی پرت پرت کھولنے کی

Read more

آکسفورڈ یونیورسٹی کے طلبا اور آکسفورڈ قصبے میں جنگ اور بادشاہ کی مداخلت

ہزار سال کی زندگی میں بہت سے موڑ آتے ہیں، بہت سی کہانیاں بنتی ہیں۔ مشکلات ہوتی ہیں، کامیابیاں ملتی ہیں جنہیں سمیٹ کر ہی اتنی لمبی زندگی پائی جا سکتی ہے۔ وہاں سب کچھ تھا۔ بہت سے متاثر کن واقعات۔ بہت سے مقامات جو پاؤں جکڑ لیتے ہیں۔ ٹیمز اور شارول دریاؤں کے درمیان تقریباً دو کلومیٹر کی حدود میں یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے نئے اور پرانے اور کچھ بہت ہی پرانے کالج موجود ہیں۔ ان میں چھتیس آزاد

Read more

سمرقند و بخارا اور آکسفورڈ

آکسفورڈ پہنچے تو سمر قند و بخارا بہت یاد آئے۔ یونیورسٹی کے صدیوں پرانے کالجوں میں نوجوان دمکتے چہروں کو دیکھا تو ریگستان سکوائر کے ویران مدارس آنکھوں میں گھومنا شروع ہو گئے۔ ان کالجوں میں موجود خوبصورت چیپل دیکھے تو دھیان مدارس کے ساتھ موجود غیر آباد مساجد کے منقش اور رنگین گنبدوں میں الجھا رہا۔ دونوں کا طرز تعمیر ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے لیکن ان دونوں میں طلبا کے لیے لائبریریاں، لیکچر ہال اور رہائش کے

Read more

راز کونین کی عقدہ کشائی

میں تمام دنیا اور کیفیات سے خالی الذہن ہو کر بنچ پر بیٹھی ادھر ادھر دیکھ رہی ہوں۔ ریل کی پٹریوں کی چمک کے ساتھ ساتھ دوڑتی ہوئی نگاہیں دور کہیں اندھیرے میں کھو جاتی ہیں تو پھر مڑ کر پلیٹ فارم کے ہجوم کو تکنا شروع کر دیتی ہوں۔ مجمع کے مد و جذر میں تھپیڑے کھاتا کوئی شخص سامنے آ جاتا ہے، پاس سے گزرتا ہے، تو نظر بھر کر اس کو ضرور دیکھتی ہوں۔ یہ اسٹیشن، یہ

Read more

توتن خامون کے مقبرے کی دریافت

علم کے سمندر آکسفورڈ کو چھاننے کا دوسرا دن تھا۔ سن رکھا تھا کہ اس کی گہرائیوں میں بہت سے گوہر ہائے گراں مایا پنہاں ہیں۔ پہلا دن نئے آنے والے طلبا و طالبات کا استقبالیہ میلہ ’فریشرز ویک‘ دیکھتے گزر گیا۔ دوسرے دن بھی کسی کالج کے اندر گھسنے کی بجائے سڑکوں پر ہی گھوم رہا تھا۔ دیومالائی شہر کی عمارتیں صدیوں کی کہانیاں سنا رہی تھیں۔ گھوم پھر کر سب سے خوبصورت عمارت ’ریڈکلف کیمرہ‘ کے سامنے آ

Read more

ہماری جمہوریت کو لیڈر کی تلاش

ہماری نسل نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی طاقتور کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ پچھلی نصف صدی میں دنیا کے طاقتور ترین آمروں کو زبردست عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ فاشسٹ جماعتوں اور ان کی فوجوں کو شکست فاش ہوئی۔ جمہوری قوتیں اور حکومتیں سد راہ بننے والی ہر قوت کو روندتے ہوئے کامیابی کی منازل کی طرف گامزن ہیں۔ دنیا کی سب سی بڑی آمریت نے جمہوری ملک یوکرین میں پہلے اپنے

Read more

توہین عدالت اور مریم نواز کا پاسپورٹ

پاکستان کی عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ عوام الناس کی نظر میں اپنا وقار، عزت اور حیثیت کھو رہی ہیں۔ وہ اس مقام تک پچھتر سال کی ’عرق ریزی و جاں فشانی‘ سے پہنچی ہیں۔ دائیں بازو کے مذہبی سیاسی لیڈر ہوں یا بائیں بازو کے مزدور کسان، ان کی زیادتیوں سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہا۔ سلار عسکر کی انگلیوں کے اشارے پر کٹھ پتلیوں کی طرح سر مٹکاتے، فرمان بردار، اطاعت گزار سردار ہوں یا تماشا گروں کو تباہی و

Read more

عمران خان کا فاشسٹ رویہ

مقبولیت کا مزیدار میٹھا زہر انسان کو مغرور بنا دیتا ہے۔ موافق ہواؤں میں ابھرنے والے عوامی سیلاب کے تند و تیز دھارے کس کس کو ملیا میٹ کر دیتے ہیں، مغرور انسان کو ان کی پروا بھی نہیں ہوتی۔ اس سیلاب بلا میں پلنے والا ’بطل زماں‘ تصوراتی ریاست کا خواب مذہبی تڑکا لگا کر بیچنے لگے تو مخالفین کی گردنیں اڑانا بھی ثواب کہلاتا ہے۔ نسل در نسل استوار شدہ اصول، قانون اور ادارے، سب اس کی موجوں

Read more

سوت پر سوت اور جلاپا

میں جانتا تھا کہ اس نے جو پوسٹ لگائی اس کا مخاطب میں ہوں۔ وہ میری دیوانی تھی اور مجھ سے منسوب بھی لیکن کئی سال کی ہم رکابی کے باوجود میں اس کے دل میں مستور راز جاننے میں ناکام رہا تھا۔ اب اس تصویر میں وہ غیر کی بغل میں گھسی نظر آ رہی تھی۔ میں اس سے تمام ناتے توڑ چکا تھا۔ وہ انتہائی تیز لڑکی تھی۔ جو تصویر اس نے انسٹا گرام پر لگائی اس کا

Read more

کج روی کا حسن (دوسری اور آخری قسط)

پہلا حصہ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے دو دن کے سفر کے بعد وہ ماں کے شہر پہنچے۔ باپ نے دو دن سے کپڑے بدلے تھے اور نہ ہی شیو بنائی تھی۔ چھوٹے چھوٹے بال اس کے رخساروں پر نظر آنا شروع ہو گئے تھے۔ وہ اس وقت ایک بھیگا ہوا چوہا لگ رہا تھا جو سردی سے بچنے کے لیے اپنے بال کھڑے کر لیتا ہے۔ ”ادھر آ کر میرے پاس بیٹھ جاؤ۔“ وہ کچھ اور بھی کہنا

Read more

کج روی کا حسن

اس کو اپنے باپ سے پیار بھی بہت تھا اور شاید نفرت بھی۔ وہ بہت اچھا لگتا تھا لیکن اس کی کچھ حرکات ایک آنکھ نہ بھاتی تھیں۔ خاندان کے لوگ کہتے تھے کہ جب سے میر بھجڑی کی کڑھائی کا حلوہ کھایا ہے اسے کسی پہلو کل نہیں پڑتی۔ اس کا انگ انگ تھرکتا رہتا تھا۔ یہی باتیں وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ انہوں نے اپنا شہر چھوڑ دیا۔ اس ملک کے لوگوں کو تمیز ہی نہیں، ہمدردی

Read more

شیخوپورہ کا ضمنی انتخاب: جیت کس کی؟

پی ٹی آئی اور پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی میں اپنی واضح شکست دیکھتے ہوئے پانچ دن کا وقت مانگنے سپریم کورٹ گئے۔ روباہ سیاست سمجھتا تھا کہ پانچ دنوں کے بعد بھی حالات نے حسب مقصود کوئی کروٹ نہیں لینی اس لیے حمزہ شہباز کو بیس دن تک وزیراعلیٰ مان لیا۔ پی ٹی آئی کو سمجھ کچھ دیر بعد آئی۔ پھر اعلیٰ عدلیہ سے ڈانٹ کھا کر وہ بھی اسی نتیجے پر پہنچے۔ اب ان کی ساری امیدیں سترہ جولائی

Read more

کیریئر زیادہ اہم ہے یا حمل؟

پچھلے ہفتے امریکی سپریم کورٹ کے ابارشن قوانین پر دیے گئے فیصلہ کے خلاف پورے ملک میں خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔ اسی سلسلے میں معروف امریکی میگزین دی اٹلانٹک پر لکھنے والی سپورٹس جرنلسٹ جمیلی ہل نے اپنے کیریر کو سامنے رکھتے ہوئے بیس سال پہلے حمل ضائع کروانے کا ذاتی تجربہ بیان کیا ہے۔ جب میں نے اسقاط حمل کروایا اس وقت میں مشی گن میں ڈیٹرائٹ فری پریس میں اسپورٹس جرنلسٹ تھی۔

Read more

ابارشن: قدامت پرست امریکی ججوں کا متنازعہ فیصلہ

کبھی وہ دن تھے جب امریکی قدامت پسند سپریم کورٹ کے ججوں سے نفرت کرتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب افریقی امریکیوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ پورے جنوب میں انہیں ووٹ دینے کے حق سے محروم رکھا گیا، عوامی سہولیات سے روک دیا گیا تھا۔ ان کو سرعام تشدد کا نشانہ بنا کر مار دیا جاتا تھا۔ شمال میں، سیاہ فام امریکیوں کو رہائش، روزگار، تعلیم اور بہت سے دوسرے شعبوں میں امتیازی سلوک کا

Read more

طلسمی بوسہ

ریحانہ نے اپنے ماسک کو سیدھا کیا۔ پھولدار سکارف کی گرہ کو مضبوطی سے باندھا، عبایہ پہنا اور چل پڑی۔ باہر گھپ اندھیرا تھا۔ پورا ملک کئی دنوں سے دھند کی لپیٹ میں تھا۔ بجلی کی فراہمی میں تعطل معمول بن چکا تھا۔ دھند کے بادل اتنے کثیف تھے کہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ پراگندہ بادلوں نے اسے بھی ملفوف کر لیا۔ وہ دبیز اندھیرے کو چیرتی ہوئی آگے بڑھتی جا رہی تھی جیسے کوئی ماہر تیراک دریا

Read more

جیون رس کی طغیانی اور شادی کی عمر

تمام انواع کی طرح انسان بھی دو صنفوں کی صورت میں پیدا کیا گیا۔ یہ زوجین دوسرے جانداروں کی طرح ایک دوسرے کی جانب طبعی میلان رکھتی ہیں۔ حیوانوں میں یہ میلان صرف بقائے نوع کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے ان کی جبلت میں اسے ایک ایسی قوت ضابطہ کا طابع بنا دیا گیا ہے جو انہیں صنفی تعلق میں مقرر کردہ حدود سے باہر نکلنے نہیں دیتا۔ اس قوت ضابطہ کی وجہ سے ان میں جنسی رغبت صرف

Read more

میرے پاس نہ آؤ

سلیم ہوٹل کی لابی میں بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا۔ دو گھنٹے گزر چکے تھے۔ ایک پل کے لیے بھی اس کی نگاہیں مرکزی دروازے سے نہیں ہٹی تھیں۔ سگریٹ پر سگریٹ پھونکے جا رہا تھا۔ جوں جوں وقت گزر رہا تھا نا امیدی بڑھتی جا رہی تھی۔ یہ ہوٹل بھی کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ لوگ آ کر تھوڑی دیر اردگرد موجود صوفوں پر بیٹھتے اور پھر چلے جاتے۔ بہت سے لوگ جو کسی کا انتظار

Read more

عمران خان کا نعرہ بھٹو

آج کل عمران خاں خود کو بھٹو ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ اس مہم کا باقاعدہ آغاز پریڈ گراؤنڈ میں ایک خط لہرا کر کیا گیا۔ بھٹو کے بغیر پاکستانی سیاست کا ہر پہلو نامکمل دکھائی دیتا ہے۔ ’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘ کے معروف نعرہ کی حقانیت کا یہی سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اس نعرہ پر پچھلی دہائی میں پی ٹی آئی میمز بناتی رہی ہے۔ پاکستان کے ہر حکمران کو بھٹو کا زندہ ہونا

Read more

خانہ جنگی کی دھمکیاں

خانہ جنگی ایک خودمختار ریاست کے اندر موجود حکومت اور ایسے غیر ریاستی عناصر کے درمیان مسلح لڑائی کو کہا جاتا ہے جو ریاست کی سرزمین پر مکمل یا جزوی خودمختاری کا دعویٰ کرتے ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، خانہ جنگی ہمیشہ سیاسی کنٹرول کے معاملے میں عدم مطابقت کے شکار فریقین کے درمیاں مسلح کشمکش کا نام ہے۔ اگر ایسے گروہ کا مقصد کسی ایک علاقے پر مکمل قبضہ کرنا ہو تو اسے علاقائی خانہ جنگی کہتے ہیں۔ گوریلا کشمکش

Read more

نفرت سے بھرا سوشل میڈیا: عمران، مودی اور ٹرمپ کی سیاست

بنی اسرائیل نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک انوکھی سزا دی، فاقتلوا انفسکم، ”اپنے کو آپس میں قتل کرو“ تفسیر طبری میں ہے کہ ”وہ اٹھے، اپنے ہاتھ میں خنجر لیے، ان پر ایک بڑا اندھیرا چھا گیا تو انہوں نے ایک دوسرے کو مارنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ ان میں سے ستر ہزار مارے گئے۔“ ایک روایت میں ہے کہ قاتل و مقتول دونوں گروہوں میں سے جو بھی مارا گیا وہ

Read more

جنگلی

  وہ شادی کے لیے تیار تھی لیکن ساتھ یہ شرط رکھ دی۔ پہلے پہل تو حشمت کو بہت دکھ ہوا کہ وہ اس کی محبت کو اتنی چھوٹی سی بات سے آزما رہی ہے۔ گرچہ یہ اس کی پسند کے خلاف تھا لیکن زمرہ نے واضح الفاظ میں کہہ دیا۔ ”قدرت نے مرد کو یہ شناخت دی ہے تو تم کیوں مٹاتے ہو؟ ایک تو تمہاری رنگت ایسی ہے اور روزانہ بلیڈ سے چھیل کر اپنے منہ کو ابلے

Read more

ناکام ہیرو، کامیاب ولن

انسان کی بڑی خواہشات میں سے ایک حکمرانی رہی ہے۔ شہرت منزل کو پانے کے لیے ایک سیڑھی ہے۔ خود کو دوسرے انسانوں سے اعلیٰ و ارفع ثابت کرنا اور منوانا حکومت کے حصول و دوام میں ہمیشہ سے مدد گار رہے ہیں۔ قدیم زمانہ سے حکمران، باد شاہ اور ان کے خاندان کے افراد ما فوق البشر خصوصیات کے حامل ہونے کے دعوے ٰ دار رہے ہیں۔ مصر، جاپان، تبت، سیام اور رومن سلطنتوں میں تو ان کی دیوتا

Read more

ان کہی بات

اس لاش کو دفنانا آسان کام نہیں تھا۔ رعنائی سے ہم آغوش پرسکون موت سامنے لیٹی تھی۔ جہد مسلسل اپنی معراج کو پہنچ چکی تھی۔ دل کے نقائص اور تقدیر میں لکھے مصائب سے لطف اندوز ہوئی کبھی بھی اس کے چہرے کو متالم نہ پایا۔ وہ ایذائے خلق سے لذت پاتی ہوئی موت اسود کی معراج کو پہنچی یا بھوک پیاس اور جسمانی ضروریات پر قابو پا کر تہی داماں و خالی شکم موت ابیض پا کر تصوف کے

Read more

میری منگیتر

(محترمہ راحیلہ خان ادیبہ کا افسانہ ’حادثہ‘ پڑھا۔ ’منگیتر اور خاوند‘ ایک ہی شخص کے دو روپ دیکھے۔ پڑھ کر دل چاہتا ہے کہ بندہ ساری عمر منگیتر ہی رہے۔ شادی والا حادثہ کبھی وقوع پذیر نہ ہو۔ ایک افسانہ پیش خدمت ہے۔ ) سچی محبت قاضی کے خطبے، پنڈت کے اشلوک یا وکیل کے ڈرافٹ کی محتاج نہیں، یہ وہ سماوی بادشاہت ہے جو انسان کے اندر پائی جاتی ہے۔ کیا یہ سماوی بادشاہت اس کے وجود کا حصہ

Read more

تنہائی کا خالی سینہ اور باشک ناگ کا دل

کاجل نے کیفے سے باہر دیکھا۔ برف پوش وادی چاندنی میں دھلی ہوئی تھی۔ بل کھاتی لمبی سڑک اور حد نظر تک پھیلے سبزہ زار سفید اوڑھنی اوڑھے درد انگیز خاموشی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ازلی دکھن و بے کلی سے آلودہ رات مرمریں روشنی میں چمکتی بے جان یخ بستہ تصویر کی طرح تھی۔ سر شام ہی بادل وادی میں گھومنا شروع ہو گئے تھے۔ چاند اب بادلوں کے ساتھ چھپن چھوت کھیل رہا تھا۔ پھر ہلکی سی پھوار

Read more

زرداری وزیراعظم، پرویز الٰہی وزیراعلیٰ، نواز لیگ کو کیا ملے گا؟

آج کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ عدم اعتماد تحریک آئے گی یا نہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ اس کی کامیابی کے امکانات کتنے ہیں؟ پاکستان انڈیا اور بنگلہ دیش میں پارلیمانی جمہوری نظام ہے۔ تینوں کو یہ نظام انگلینڈ سے وراثت میں ملا جہاں پہلی کامیاب تحریک عدم اعتماد 1742 میں پیش ہوئی۔ اس وقت سے اب تک برطانیہ میں اکیس مرتبہ یہ تحاریک کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ لیکن پچھلے ایک سو پچیس سال میں ایک

Read more

عبایہ اور تعلیمی ادارے

کسی بھی انسان کے لیے سب سے اہم چیز اس کی ذات ہوتی ہے۔ جسم کی حفاظت، اس کی حاجات پوری کرنے اور بنانے سنوارنے کی تگ و دو میں وہ سارا دن مصروف رہتا ہے۔ کارگاہ حیات پر نظر دوڑائی جائے تو قالب خاکی کی یہ ضروریات پوری کرنے کے ساتھ اس کی کچھ خواہشات بھی موجود ہوتی ہیں جن کی تکمیل کے لیے وہ تمام جسمانی و ذہنی قوتیں صرف کرتا ہے۔ خوراک اس کی بنیادی ضرورت ہے

Read more

صوبہ بہار کی عورتیں: جہیز، افسری یا مکان

ہندوستان کے صوبہ بہار کو مذہبی، معاشرتی اور سیاسی انقلابات کی زمین کہتے ہیں۔ اس گیتی کے گاؤں گیا میں ہی بدھا کو گیان ملا تھا۔ اس سرزمین سے 1978 میں ابھرنے والی بدھ گیا تحریک نے صوبہ بہار اور ہندوستان میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ اس نے بے زمین ہاریوں، عورتوں اور اچھوت دلت خاندانوں کی زندگی بدل دی۔ اس تحریک کا ایک نعرہ تھا عورت کے سہ بھاگ (حصہ داری) بنا ہر بدلاؤ ادھورا اس تحریک کی

Read more

طلاق اور خلع کی عدت میں فرق

آٹھ جنوری کو روزنامہ ڈان میں ایک خبر شائع ہوئی۔ اخبار نے اس ہیڈ لائن کو پرکشش بنانے کے لیے صحافتی اداؤں کے عین مطابق ایسا رنگ بھرا کہ یوں لگا ہائی کورٹ نے نکاح و طلاق کے اسلامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے زنا کو حلال قرار دے دیا ہے۔ ہیڈ لائن تھی، ”عدت کے بغیر دوسرا نکاح باطل یا زنا نہیں، لاہور ہائی کورٹ نے عدت مکمل کیے بغیر شادی کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔ ”

Read more

بیڈ روم کے دو دروازے

لاہور کی خوبصورتی کو رنگ برنگے اونچے مینار اور گنبد چار چاند لگا دیتے ہیں۔ شام ڈھلے، بارش سے دھلی فضا میں، جس اور بھی دیکھیں ان کی بہار کھلی کھلی نظر آتی ہے۔ چمکتے میناروں سے ابھرتی اذان کی آواز گونجتی ہے تو پورے شہر پر عجیب سی روحانیت چھا جاتی ہے۔ داتا کی اس نگری میں، بھاٹی لوہاری سے لے کر اندرون شہر تک اتنے مدارس اور مساجد ہیں کہ یہ شہر پاکستانی بخارا لگتا ہے۔ جوں جوں

Read more

غیر جانبدار اسٹیبلشمنٹ؟

دسمبر 1970 کے الیکشن میں تیرہ سال مطلق العنان حکومت کرنے والے ایوب و یحییٰ اور ان کی پارٹی کے مہرے بری طرح پٹ گئے۔ مشرقی پاکستان میں ماضی کے ’غدار‘ مجیب الرحمان اور مغربی حصہ میں مستقبل کے ’غدار‘ بھٹو کی پارٹیاں اکثریت حاصل کر گئیں۔ اس کے بعد بھی حکمران ٹولہ نوشتہ دیوار پڑھنے میں ناکام رہا۔ وہ ڈھاکہ میں ہزیمت اٹھانے کے بعد بھی حکومت چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے۔ پھر عوام کے جم غفیر نے اپنا

Read more

کمہارن

اس نے بابل، عکادی اور اشوری تہذیبوں کی جنم بھومی منطقۃ بین النہرین میں عرصہ درازتک بادیہ پیمائی کی۔ بیابانوں کی خاک چھانتے، دشت پیمائی کرتے, بلادالشراۃ اور سینائی سے ہوتے ہوئے وادی نیل پہنچی۔ یمن سے لے کر یونان تک گرد میں اٹی، کہیں غبارمیں اڑی، دھول مٹی ہم رکاب ہوئی اور کہیں اڑتی خاک اس کی ہمسفر۔ ‘سفراندر وطن’ میں، ہر جگہ، دھرتی کے انمول خزانوں سے کچھ نہ کچھ ساتھ لیا۔ اس آبلہ پائی کے صلے میں

Read more

کچہری بس سٹاپ

بھیڑ اور تنہائی۔ دونوں کا ملاپ بس سٹاپ پر ہوتا ہے۔ اس سٹاپ پر آج میرا آخری دن تھا۔ خدا نہ کرے مجھے دوبارہ ادھر آنا پڑے۔ لاہور کی آلودہ فضا، گاڑیوں کا گندا دھواں، شوراور ٹھنڈ، سارا دن سورج نظر نہیں آیا۔ لوگوں اور گاڑیوں کی دوڑ۔ زیادہ تر لوگ خاموشی سے بھاگتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دو چار لوگوں کی ٹولی بھی نظر آجاتی ہے جو باتیں کرتے چلے آرہے ہوتے ہیں۔ کسی نہ کسی چہرے پر مسکراہٹ

Read more

پچھتاوا

مصنف: Thom Conroy ترجمہ: سید محمد زاہد وہ آدمی مرتے وقت بہت پر سکون تھا۔ ہلکے پھلکے لہجے میں بات کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ میں نے ایسی کامیاب زندگی گزاری ہے جس میں کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ اس شام وہ کچن میں بیٹھی اپنی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں سوچنے لگی۔ لطف اندوز ہوتے ہوئے ان کو ترتیب دینا شروع کیا۔ دو کالموں کی فہرست بنائی۔ پچھتاوا / اطمینان۔ پہلے کالم میں شادی، بچے اور پڑھانا

Read more

عشق حقیقی

رات کی دیوی زلفیں کھولے بے حس پتھروں اور تاحد نظر بکھرے سنگریزوں کو گود میں سمیٹے سو رہی تھی۔ دور کی پہاڑی چوٹیاں دھندلی دھندلی دکھائی دیتی تھیں۔ دیوی پرسکون تھی۔ دیوی کا سکون مطلق ہر چیز سے چھو کر پوری کائنات پر سکتہ طاری کیے ہوئے تھا۔ تاریکی کے نیلمی غبار میں ایسی ہیبت پوشیدہ تھی کہ ہر چیز سہمی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ اس سکتے کو توڑنے کے لیے دریائے ہرات کی سیہ تاب موجیں پتھروں کے

Read more

بلوچستان: واپسی کا سفر شروع

ہماری اسٹیبلشمنٹ کا ملک پر حکمرانی کا یہ تجربہ بھی بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ اس سے پہلے نامزد کردہ یا پھر طوعاً و کرہاً منظور کردہ، کسی بھی وزیراعظم سے ان کی بن نہیں پائی تھی۔ الزام ہمیشہ سویلین پر آتا رہا کہ اس ناکام محبت کی وجہ ان کی نا اہلی ہے۔ اس ناکردہ گناہ کے بوجھ تلے دبے سیاستدان اور عوام اگلے دس سال ’خاکی مار‘ برداشت کرتے تا وقت یہ کہ ان کا شوق چاروں

Read more