مشہور ترین لوگ جو سیاست میں بری طرح ناکام ہوئے

 انسان کی بڑی خواہشات میں سے ایک حکمرانی رہی ہے۔ مشہور ہو جانا اس خواہش کے رستے کی ایک سیڑھی ہے۔ دوسرے انسانوں سے اپنے آپ کو اعلیٰ و ارفع ثابت کرنا اور منوانا حکومت کے حصول اور دوام میں ہمیشہ سے مدد گار رہے ہیں۔ دنیا کے تمام ممالک میں قدیم زمانہ سے حکمران،…

Read more

نواز شریف کا سب سے بڑا امتحان

نوازشریف اس وقت عمر اور تجربہ میں ملک کے سب سے بڑے سیاست دان ہیں۔ وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ ملک کے واحد سیاستدان ہیں جو تین مرتبہ وزیر اعظم اور دو مرتبہ سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھی رہے۔ وہ اکلوتے سیاستدان ہیں جنہوں…

Read more

سنگین غداری کیس کے پاکستان کے مستقبل پر اثرات

سپریم کورٹ نے سنگین غداری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ، ”مشرف 2 مئی کو پیش نہیں ہوتے تو کیس کا ٹرائل ملزم کی غیرحاضری میں مکمل کیا جائے“۔ سنگین غداری کا کیس درج کروانا حکومت ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس کیس کا آغاز کرنے کے لئے پیپلز پارٹی کی حکومت پر دباؤ رہا لیکن آصف زرداری نہیں مانے۔ نواز شریف کی حکومت کا آغاز پانچ جون 2013 میں ہوا تو اس سے اگلے دن سپریم کورٹ میں اسی کیس کے متعلق بات کرتے ہوئے بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اگر متعلقہ اتھارٹی اس کو شروع کرنے سے اجتناب بھی کرے تو پھر بھی ہم آرٹیکل چھ کی وضاحت ضرور کریں گے۔

Read more

بس اب بہت ہو چکا

اب ہمارے مقناطیسی شخصیت کے مالک سابق کرکٹر عمران خاں کو حکومت سنبھالے نو ماہ ہو نے کو ہیں۔ ان کو دانستہ یا نادانستہ بلاول بھٹو نے سلیکٹڈ وزیر اعظم کہہ کر پکاراتو محترم خا ں صاحب نے بھی بھولے پن میں ان کی اس بات پر داددی۔ پہلے پہل ان کی الیکشن میں اس فتح پر غیر سیاسی قوتوں نے اپنی کامیابی محسوس کی لیکن اب حالات کچھ اور ہی بتا رہے ہیں۔ یہ قوتیں پچھلی ایک دہائی سے نا پسندیدہ سویلین قیادت سے مسلسل حکومت چھین لینے کی کوشش میں تھیں۔اس کھینچا تانی سے ملک کمزور اور غیر محفوظ ہوا۔ پچھلے سال خان صاحب کے مخالفین اور غیر ملکی مبصرین نے اہل پنڈی اور ڈ ی چوک کے باسیوں پر الیکشن میں تحریک انصاف کی مدد کا خوب شور مچایا۔ درحقیقت میڈیا پر پابندی، مذہبی انتہا پسندوں کی پشت پناہی، ان کے الیکشن میں حصہ داری، سیاستدانوں پرعائدکفرو غداری کے فتاویٰ اور الیکشن سے کچھ دن پہلے انتہائی مضبوط امیدواروں کی سزاوں سے نا اہلی کے اقدامات نے دائیں بازو کے ہامی خان صاحب کی انتخابات جیتنے میں مدد کی۔

Read more

ہم یوم جمہوریہ کب منائیں گے؟

ہم اتحاد کی روح کی دعاکرتے ہیں، کہ ہم اپنے تمام مسائل اچھے طریقے سے بات چیت سے حل کر سکیں۔ ہم (مملکت) کے تمام معاملات کی عکاسی تلخی کے بغیرکر سکیں۔ ہم (مملکت) کے تمام وسائل، تمام حصہ داروں میں برابری سے تقسیم کرسکیں۔ کہ ہم اپنا حصہ عاجزی سے وصول کریں رگ ویدا…

Read more

استاد کا مرثیہ

اتہاس میں مختلف شخصیات کو خدا کا پرتو کہا گیا ہے۔ خدا کو زمین پر سامنے لا کر دیکھنے کی تمنا انسان کی جبلت میں ہے۔ انسان کی یہ خواہش ہمیشہ رہی ہے جو کبھی پوری نہیں ہو سکتی، لیکن خدائی صفات کا حامل انسان دھرتی پر اسی کا مظہر ہے۔ خدا اور انسان کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ ازل میں خدائے بزرگ و برتر نے ملائکہ کے خیال بدگمان کو شکست خوردہ دیکھنے کے لئے آدم سے خالق و مخلوق کا رشتہ جوڑنے کے فورا ً بعداستاد کا رشتہ استوار کیا۔ ”وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمآء َ کُلَّھَاثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَی الْمَلٰٓءِکَۃِفَقَالَ اَنْبِءُوْنِی بِاَسْمَآءِ ہٰٓوءُ لَٓا ءِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ اور اس نے آدم کو (سب چیزوں ) کے نام سکھاے۔ ، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا مجھے ان کے نام بتاؤ اگر تم سچے ہو۔ “ سورۃالبقرۃ

Read more

انتہا پسندی کے خاتمہ کے لئے ریاست کی ذمہ داریاں

دنیا کے تمام معاشرے سیاسی اور معاشرتی طور پر ایک خاص ڈگر پر چل رہے ہوتے ہیں۔ معاشی طور پرطاقتوراور حکمران طبقہ کی خواہش ہوتی ہے کہ معاملات جوں کے توں چلتے رہیں اور ان کے مفادات پورے ہوتے رہیں۔ مضبوط لوگ کوشش کرتے ہیں کہ نسل در نسل ان کے اختیارات بڑھتے جائیں۔ ان کے بعد ان کی اولاد اور بھی زیادہ طاقتور بن کر ابھرے۔ معاشرہ میں کچھ لوگوں سے زیادتی ہو رہی ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اس کو سمجھ رہے ہوتے ہیں اور اس کو تبدیل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

Read more

ففتھ جنریشن وار اور میڈیا پر پابندیاں

انسان کی تاریخ جنگوں کی تا ریخ ہے۔ پہلے دو گروپ آمنے سامنے آجاتے تھے اور لڑتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ آلات حرب تبدیل ہوتے گئے۔ لیکن ہمیشہ سے اپنے مخالف کو جھوٹا، کمزور، بے ایمان، مکاراوربزدل ثابت کرنا اور اپنے آپ کو بہادر، طاقت ور، سچا اور راہ راست پر کہناجنگ میں شامل رہا ہے۔ نیک نامی، تشہیر اور تبلیغ ہمیشہ سے جنگ کے ہتھیاررہے ہیں۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے، دوران اور بعد میں پروپیگنڈا انتہائی اہم ہے۔اسلام سے قبل کے شاعر عرب معاشرہ میں مورخ، جوتشی، داعی اورصحافی کا کردار ادا کرتے تھے۔ ان کی شاعری میں انوکھی سوچ کو فروغ دینا اور واقعات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے والے اشعار ہوتے تھے۔ قبائل کے قصیدے اور مخالفین کی ہجو گوئی ان کی شاعری میں شامل تھی۔ مکہ کے قریب واقع ”عکاز“ کے بازارمیں شاعری کے سالانہ میلے ہوتے تھے جن میں تمام عرب کے شعرأ طبع آزمائی کرتے اور ان کے اشعار پورے عرب میں حفاظ سناتے۔ اس طرح رائے عامہ کے خیالات میں تبدیلی کا باعث بنتے۔

Read more

صنعت تضاد

تضاد دنیا کی ابدی و آخروی حقیقت ہے۔ یہ دنیا کے استقام اور ترقی کی علامت ہے۔ مخالف قوتیں ایک دوسرے کے خلاف کام کرتے ہوے ارتقأکا سبب بنتی ہیں۔ ادب کی زبان میں اس تضاد کوخوبصورتی سے استعمال کیاگیا ہے۔ دنیا کی تمام زبانوں میں تضاد کو استعمال کرتے ہوے شاعری، ڈرامہ اور نثر میں اعلی ٰدرجہ کی تخلیقات وجود میں آیئں۔فیض احمد فیض جیل میں تھے، ان سے ملاقات پر پابندی تھی۔ لیڈی عبداللہ ہارون تمام پابندیوں توڑ کر جیل پہنچ گئی تھیں۔ اس جرأت کی داد دیتے ہوے فیض صاحب نے ”حبیب عنبر دست“ نظم لکھی۔ جب وہ جیل سے رہا ہوے تو جاب ختم ہو چکی تھی۔ ان کو عبداللہ ہارون کالج کے ریکٹر کا عہدہ پیش کیا گیا۔ اس دوران لیڈی عبداللہ ہارون کو وفات کے بعدکالج کے احاطہ میں دفن کر دیا گیا۔ فیض صاحب روزانہ قبر کے پا س سے گزرتے تھے۔ اس وصل و ہجرکی متضادحالت کوایک مرثیہ میں انہوں نے انتہائی خوبصورتی سے اکٹھا کیا۔

Read more

انسان جنگ کرتا کیوں ہے؟

آپ دنیا کی تاریخ کی کوئی کتاب پڑھ لیں آ پ کا ایک ہی تاثر ہوگا کہ ا نسان کو ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہنے کا موقع مشکل سے ہی ملتا ہے۔ تاریخ کی یہ کتابیں عام طور پر 3000 سال پرانی مصر اور سمیرین (دجلہ و فرات) تہذیبوں سے شروع ہو کر آ ج تک کی لامتناہی جنگوں کی فہرست سے مزین ہیں۔ 1740 سے 1897 کے درمیان یورپ میں 230 انقلابات اورجنگیں ہویئں۔ جن میں شامل ممالک نے جنگی اخراجات سے اپنے آپ کو تقریباًدیوالیہ کر لیا۔

انیسویں اور بیسویں صدی کے ابتدائی دور میں ٹیکنالوجی کی طاقت کا استعمال شروع ہوا، جس کا مطلب تھا کہ جنگ کا جلد اختتام۔ اس سے جنگوں کی تعداد میں کچھ کمی ہوئی۔ لیکن حقیقتاً ان سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ 1740 سے 1897 کے درمیان تین کروڑ ہلاکتوں کے مقابلہ میں صرف پہلی جنگ عظیم میں پچاس لاکھ سے سوا کروڑ اور دوسری میں پانچ کروڑ اموات ہوئیں۔

Read more