پاکستان اور بھارت: جنگی ہیجان کی نفسیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان اور بھارت میں اس وقت جنگ کا ہیجان فتح کے جھنڈے گاڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ جمہوریت کے تسلسل اور جمہوری اداروں کی مضبوطی پر بھارت ایک جانب تو بجا طور پر درست فخر کرتا  دکھائی دیتا ہے  جبکہ دوسری طرف اگر عوام کی سطح پر دیکھا جائے تو جنگ کے حوالے سے جو انسیت اور ‘دشمن ملک’ کو نیست و نابود کر دینے کی جو خواہش وہاں پروان چڑھتی دکھائی دیتی ہے وہ کسی ‘سیکیورٹی سٹیٹ’ میں بھی شاید ہی دکھائی دے۔ یہ کیسا عجیب تضاد ہے؟

دوسری جانب عوام کی سطح پر پاکستان میں بھی جنگ سے انس کہیں زیادہ ہے گو کہ اس کا موازنہ بھارت کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم ایک طرف تو خلا میں جا پہنچے ہیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے قانون سازی میں انقلابی اقدامات اٹھا ئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی شکل میں ایک بین الاقوامی برادری کا ادارہ بنا لیا ہے تو کیا جنگ کی قبائلی نفسیات کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ ماہرین نفسیات نے جنگ کے حوالے سے قابل قدر کام کیا ہے۔

اس موضوع پر کافی کتابیں لکھی گئیں ۔ غور کیا گیا کہ جنگ کے حوالے سے اچانک کسی قوم کی سوچ کی کایا کیسے پلٹ جاتی ہے؟ کیسے ایک قوم چاہے وہ عقلی حوالے سے مناسب سطح پر کھڑی ہو تو بھی اچانک جاہلیت کے جوہڑ میں کیوں غوطے کھانا شروع ہو جاتی ہے؟

تابعداری ،  محبت جیسے موضوعات پر جب تحقیق کی گئی تو تجربات نے ہمیں بتایا کے یہ رویے ہماری فطرت کا ناگزیر حصہ بن چکے ہیں۔ جنگی ہیجان کسی بھی ملک چاہے وہ ترقی یافتہ ہو یا ترقی پذیر و پسماندہ ، بڑی آسانی سے پیدا کیا جا سکتا ہے ۔

نائن الیون کے بعد امریکی صدر کی تقریر کسی بھی عقلی پیمانے پر پورا نہیں اترتی تھی جب وہ مخالفین کو برائی اور اپنے ملک کے عوام کو نیک بتا کر ایک تقسیم واضح کرنا چاہ رہے تھے ۔۔لیکن بہرحال اس سے ایک جنگی ہیجان ضرور برپا ہوا اور اس سے کثیر المقاصد سیاسی فوائد بھی حاصل کر لیے گئے۔

ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں جنگی ہیجان برپا کرنا یو ں سمجھئے ‘بایاں ہاتھ’ کا کھیل ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ ایسے ممالک جہاں بنیادی سہویات کا فقدان جبکہ مسائل بہت زیادہ ہوں وہاں فرد کی صلاحیتیں روزمرہ کے مسائل میں گم ہو جاتی ہیں، روزمرہ کے مسائل سے نبٹتا یہ فرد ‘منفرد شناخت’ کی ناگزیر نفسیاتی ضرورت کو دبا لیتا ہے۔ وہ ایک بہت بڑے ہجوم کا ناقابل ذکر حصہ بن جاتا ہے۔

مختصر الفاظ میں اس کی زندگی سے ‘معنویت’ خارج ہو جاتی ہے۔ انفرادیت کی یہ خواہش اس کو اپنے یا  اپنی قوم کے نام سے گاڑی کی خصوصی نمبر پلیٹ لینے پرمجبور کرتی ہے یا  وہ کسی چھوٹے گروہ کا حصہ بن کر اس کے منفرد پہناوے یا ٹوپی وغیرہ کو پہن کر طمانیت حاصل کرتاہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ فرد پسماندہ یا ترقی پذیر ملک کا فرد ہونے کے ناطے بہت سی ناکامیوں سے نبرد آزما ہوتا ہے۔ سماجی تانے بانے میں اس کی یہ ناکامیاں اس کے متعلقہ افراد نہ صرف نوٹ کر رہے ہوتے ہیں بلکہ اس کو مذمت  اور طعنوں کی شکل میں ایک فیڈ بیک بھی مل رہی ہوتی ہے۔

تیسری اہم بات یہ ہے کہ پسماندہ و ترقی پذیر ممالک کا فرد ،  مسائل کی پیچیدہ نوعیت کی وجہ سے فیصلہ سازی میں کمزور ہوتا ہے۔ اس کے سامنے مسائل کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ ہر دو  یا تین طرف کا فیصلہ اس کو مزیدذلت کی جانب دھکیلنے کا پوٹینشل رکھتا ہے ایسے میں کسی بھی فرد کے لیےدرست فیصلہ لینا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

چوتھی اہم بات یہ ہے کہ ماسلو  کےنظریہ کے اعتبار سے خودیابی کی جانب سفر تقریبا ناممکن ہوتا ہے۔ ایک عام فرد کی زندگی میں ساری توانائی  بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے خرچ ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ زندگی کا وہ دائرہ ہے جہاں عزت نفس کا کچومر جگہ جگہ پر نکل رہاہوتا ہے ۔

پانچویں اہم بات یہ ہے کہ معاملات کی پرکھ کا ایک طریقہ ‘دیومالائیت نکتہ نظر’ ہے جس میں آپ کا ملک نیک جبکہ دشمن ملک ‘بد’ ہوتا ہے۔ گروہی نفسیات کے مطابق ایک گروہ کی ہر اکائی دوسرے گروہ کو اکائیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ اس کو ایک اکائی  کے طور پر لیتی ہے۔ جبکہ فرد اپنے گروہ کواکائیوں کا مجموعہ سمجھتا ہے۔

اب جبکہ دشمن گروہ ایک اکائی ہے تو یہ خیال کرنا ہی عبث ہے کہ اس گروہ میں بچے عورتیں بوڑھے اور کچھ نیک خیال افراد بھی ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن ملک کو نیست و نابود کرنا اور صفحہ ہستی سے مٹا دینا پہلے گروہ کے ہر فرد کی شدید خواہش ہوتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہی کارڈ بہت کامیابی سے استعمال ہو تا ہے۔نیکی اور بدی کی جنگ جہاں آپ کو روزمرہ کی لگی بندھی زندگی سے نجات دیتی ہے وہاں آپ کی زندگی کو معنویت سے بھی بھرپور کر دیتی ہے۔

جنگی ہیجان سے فرد کچھ نفسیاتی فوائد حاصل کر رہا ہوتا ہے۔ ایک تو ‘نیکی اور بدی کی جنگ’ میں اچانک اس کی زندگی کو معنویت حاصل ہو جاتی ہے۔ اب وہ برائی کے خاتمے کے لیے  کائنات کا اہم ترین فرد بن جاتا ہے۔ اسکو بغیر سفر کیے ایک عارضی خودیابی کی منزل مل جاتی ہے۔ جنگی ہیجان سے اس کے ارد گرد ان لوگوں کی توجہ اس سے ہٹ جاتی ہے جو بصورت مذمت اور طعنہ اس کی زندگی میں وبال تھی ۔ اب توجہ کا مرکز وہ نہیں بلکہ دشمن گروہ ہے۔

جنگی ہیجان  سے اس کو اب پیچیدہ اور دقیق فیصلہ سازی سے نہیں گزرنا پڑتا ۔ زندگی اچانک نیکی اور بدی کی جنگ میں سادہ صورت اختیار کر جاتی ہے۔ اس کے ذاتی مسائل جنہوں نے اس کو چڑ چڑا بنا رکھا تھا اچانک غائب ہو جاتے ہیں یا ان کا قد چھوٹا ہو جاتا ہے۔روزمرہ زندگی میں اچانک ایک معنویت در آئی ہے۔

اس کو ایک آسان مثال سے سمجھ لیتے ہیں ۔اگر آپ کو بچپن کسی ایسے سکول میں گزرا ہے جہاں بچوں پر بدترین تشدد ہوتا تھا تو آپ کو یہ مثال سمجھنے میں دقت نہیں ہونی چاہیے۔ ایسے سکول میں بچہ ہر وقت خوف میں جکڑا ہوتا ہے۔ اگر اس کی جماعت میں تشدد نہیں بھی ہو رہا تو سکول کے کسی کونے سے مار پیٹ کی آواز اس کے دل کی دھڑکن کو مسلسل بے ترتیب کیے ہوئے ہیں۔

جب ماہ و سال ایسے عقوبت خانہ نما سکول میں گزریں تو شہر میں کسی آفت کی موجودگی ایک طمانیت دیتی ہے۔کسی زلزے کی آمد آپ کو اس عذاب سے نجات دلا دیتی ہے جس سے آپ روزانہ گزر رہے  ہوتےہیں۔ سکول سے چھٹی کی خوشی زلزلے کے عذاب پر بازی لے جاتی ہے۔ اب آپ متشدد اساتذہ کی توجہ کا مرکز نہیں ہیں۔ اب گھر میں پڑھائی کا  جو کرفیو ماحول ہے  اس سے نجات مل گئی ہے۔

فرد جب ایک ذلت میں مسلسل گزرتا ہے تو ایک وقت میں اس کی یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ اس منحوس دائرے کو کسی طرح توڑوں ۔۔چاہے اس سے زیادہ ذلت میں پھنس جاؤں لیکن اس موجود ہ مسلسل تکلیف دہ صورت سے نکل جاؤں۔

ایسے میں میڈیا وہی بیچتا ہے جو بکتا ہے۔ جو فرد چاہتا ہے ۔جس سے فرد کو نفسیاتی طمانیت ہوتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کا میڈیا یہی بیچ رہا ہے گو کہ بھارت کا میڈیا کہیں زیادہ کایاں دکاندار ہے اور ‘پیکنگ اور بیچنے ‘میں پاکستان سے کہیں آگے ہے۔پاکستان اور بھارت کے معصوم شہریوں کو یہ نہیں معلوم کو وہ یہ سب غیر معیاری مال کس قدر بھاری قیمت پر خرید رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 158 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik