اشتعال انگیزی سے گریز کی ضرورت ہے


اگرچہ پاکستان میں بھی صورت حال مثالی نہیں ہے لیکن پلوامہ سانحہ کے بعد پاکستانی میڈیا نے نسبتاً متوازن رویہ اختیار کیا ہے۔ میڈیا اور سیاست دانوں کا مجموعی رویہ جنگ مخالف رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں انتہا پسند گروہوں کے خلاف اقدام کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد جماعت الدعوۃ اور انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی لگانے کے علاوہ جیش محمد کے دفاتر پر حکومت نے قبضہ کرلیا ہے۔

بھارتی حکومت اگر جارحانہ طرز عمل اختیار کرنے کی بجائے ان قدامات کے حوالے سے پاکستان سے روابط بڑھاتی تو پاکستان اس کے اطمینان کے لئے مزید کارروائی کرنے پر بھی آمادہ تھا۔ لیکن نریندر مودی کی حکومت یہ سمجھنے سے قاصررہی ہے کہ وہ اگر اپنے انتخابی نعروں کے لئے پاکستان دشمنی کو استعمال کریں گے اور کسی ایسے واقعہ کی سرپرستی ضروری سمجھی جائے گی جس کی وجہ سے اشتعال اور تصادم کی کیفیت پیدا ہو تو پاکستان کے تعاون میں بھی کمی ہوگی اور اس کی طرف سے بھارت کوگزند پہنچانے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

پلوامہ سانحہ کے بعد یہ بات زیادہ کھل کر سامنے آئی ہے کہ بھارتی قیادت جنگ کی ہولناکی کا اندازہ کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔ حالانکہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے۔ ایس۔ دولت ایک انٹرویو میں متنبہ کرچکے ہیں کہ ’اب جنگ تین چار دہائی پہلے والے ہتھیاروں کی بجائے زیادہ حساس اور خطرناک ہتھیاروں اور عسکری طریقوں سے لڑی جاتی ہے۔ یہ کوئی پکنک پارٹی نہیں ہوتی‘ ۔ انہوں نے مودی حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ پاکستان کے خلاف جنگ کی باتیں کرتے ہوئے پہلے اپنے آپشنز اور صلاحیتوں کا جائزہ لے لیں۔ لیکن تحمل اور عقل کی کوئی بات اس وقت بھارتی قیادت کو سمجھانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

اس پس منظر میں دیکھا جائے تو آج بھارتی فضائیہ کی طرف سے پاکستانی علاقے میں پرواز اور بقول بھارتی سیکرٹری خارجہ ’حملہ‘ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ البتہ سیکرٹری خارجہ گھوکالے کی اس بات میں کوئی وزن نہیں ہے کہ انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق دہشت گرد بھارت پر تازہ حملہ کرنے کے لئے جمع تھے اور تربیت حاصل کررہے تھے، اس لئے انہیں ختم کرنا ضروری تھا۔ یہ بیان اس لحاظ سے بھی ناقص ہے کہ بھارتی نمائندے نے اہم دہشت گرد کمانڈروں اور متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حالانکہ وہ اس کی معلومات پاکستان کو فراہم کرکے دوستانہ ماحول میں بھی بھارت کی حفاظت کا مقصد حاصل کرسکتا تھا۔ اس کے علاوہ ایک ایسے وقت میں جب بھارت حملے کرنے اور انتقام لینے کی باتیں کررہا ہو اور اس کی مسلح افوج چوکنا ہوں تو نام نہاد دہشت گردہ کیوں کر ایک بڑے کیمپ میں جمع ہو کر اس بات کا انتظار کریں گے کہ بھارتی فضائیہ حملہ کرکے انہیں ہلاک کردے۔

اس بحث سے قطع نظر کہ اس فضائی کارروائی میں کوئی نقصان ہؤا یا نہیں۔ پاکستان کا مؤقف درست ہے کہ بھارتی طیاروں کو بھاگتے ہوئے اپنا ساز و سامان پھینک کر جانا پڑا۔ یا یہ بھارتی مؤقف حقائق کے قریب ہے کہ ایک دہشت گرد کیمپ پر حملہ کیا گیا تھا جس میں متعدد دہشت گرد ہلاککیے گئے۔ البتہ یہ بات مسلمہ ہے کہ بھارتی فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرکے خطرناک صورت حال پیدا کی ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ بھارتی قیادت اور میڈیا اس واقع کو اپنی سیاسی اور عسکری کامیابی قرار دے کر لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کریں گے۔

اب پاکستان نے بھی اپنی مرضی کی جگہ اور وقت پر اس جارحیت کا انتقام لینے کا وعدہ کیا ہے۔ اگر پاکستان بھی ایسی ہی کوئی کارروائی کرتا ہے تو یہ اشتعال قابو سے باہر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لئے چین کا یہ مشورہ صائب اور مناسب ہے پاکستان اور بھارت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور اشتعال بڑھانے کی بجائے اسے کم کرنے کے لئے کام کرنا چاہیے تاکہ حالات معمول پر لائے جاسکیں۔

اس سرحدی خلاف ورزی کے بارے میں اگر پاکستانی فوج کا یہ دعویٰ درست ہے کہ پاک فضائیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بھارتی طیاروں کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔ اور میجر جنرل آصف غفور نے بھی ’پے لوڈ‘ گرانے کی بات کی ہے۔ تو بھی اسے محض اتفاق ہی سمجھنا چاہیے کہ بھارتی طیاروں کا یہ بارود ویران علاقے میں گرا اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہؤا۔ پاک فضائیہ کی کارروائی اس لحاظ سے ناقص کہی جائے گی کہ وہ سرحدی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھارتی طیارے کو مارگرانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اس لئے اسے کامیابی تصور کرنے کی بجائے مستقبل میں بہتر منصوبہ بندی کرنے اور زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہوگی۔

اسی طرح بھارت نے بالاکوٹ کے علاقے میں دہشت گرد کیمپ تباہ کرنے اور دہشت گرد کمانڈروں کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اگر اس دعوے میں کوئی صداقت ہے تو اسے اس کے دستاویزی شواہد سامنے لانے چاہئیں۔ اس سے ایک تو بھارت کے دعوے کی تصدیق ہوسکے گی دوسرے پاکستان پریہ واضح ہو گا کہ حکومت کے فیصلہ کے باوجود انتہا پسند عناصر پاکستانی علاقے کو دوسرے ملک میں جنگ جوئی کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ اگر بھارت یہ ثبوت دینے میں کامیاب نہیں ہوتا تو اس کی قیادت کو یہ سوچنا چاہیے کہ ایسے دعوؤں سے جو جنگی جنون پیدا کیا جارہا ہے، اس کے نتیجے میں زیادہ نقصان پاکستان کو ہو گا یا بھارت کی معیشت اور پیداواری صلاحیت پر اس کی زیادہ چوٹ پڑے گی۔

لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی ایک افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے۔ بھارت کو اس پر غرور کرنے کی بجائے شرمندہ ہونے اور اس کے افسوسناک نتائج سے اپنے عوام کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اگرچہ پاکستانی حکومت کا یہ اعلان اس کی مجبوری ہے کہ اس جارحیت کا بدلہ لیا جائے گا لیکن کوئی عسکری کارروائی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوسکتی۔ اس سے اشتعال اور غیر یقینی میں اضافہ ہوگا۔ اس کی بجائے سفارتی طور پر بھارت کے عزائم اور خطرناک ہتھکنڈوں کو دنیا کے سامنے لانے کا طریقہ مناسب اور درست راستہ ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali