عمران خان کو ”ابھی نندن“ کا فائدہ اٹھانا چاہیے
پلوامہ میں حملے کے بعد پاکستان عالمی طور پر شدید سفارتی دباؤ کا شکار ہو گیا تھا۔ انڈیا میں عمران خان کو بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے لیکن اس واقعے نے ان کی مقبولیت پر بھی شدید اثر ڈالا۔ بھارت اگر سفارتی سطح پر ہی پاکستان پر دباؤ ڈالتا رہتا تو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے بچنا بہت مشکل ہو جاتا، مگر الیکشن ڈیڑھ دو مہینے دور ہے اور بھارتی میڈیا نے جنگ کا جتنا جنون طاری کر دیا ہے، تو نریندر مودی حماقت کرنے پر مجبور ہو گئے اور پاکستانی علاقے پر فضائی حملہ کر دیا۔ اس حملے سے ایک دن کے لئے نریندر مودی کی بلے بلے ہو گئی مگر اگلے دن ہی جب انڈیا کے دو جہاز پاکستان نے گرا دیے اور ایک افسر کو قیدی بنا لیا تو بھارت میں فضا تبدیل ہونے لگی۔ کل کے انڈین ٹاپ ٹرینڈ میں ”جنگ نہیں کرو“ اور ”ابھِی نندن کو واپس لاؤ“ کے ٹرینڈ سب سے اوپر رہے۔
وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو اس موقعے کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ عمران خان کو ایک چھوٹی سی تقریر کر دینی چاہیے کہ ”بھارتی افسر ’ابھی آنندن‘ کے گھر والوں کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور اسے مکمل عزت و احترام سے رکھا جائے گا۔ پاکستانی فوج اعلی ترین اقدار کی حامل ہے اور جنیوا کنونشن کی مکمل پابندی کرتی ہے۔ حالات نارمل ہوتے ہی اسے واپس انڈیا بھیج دیا جائے گا۔ پاکستان جنگ نہیں چاہتا اور بھارتی لیڈر شپ سے مطالبہ کرتا ہے کہ پرامن مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل حل کرنے کی راہ اپنائے تاکہ مستقبل میں جنگ کو روکا جا سکے۔ “
اس ایک بیان سے نریندر مودی داخلی محاذ پر شدید دباؤ میں آ سکتا ہے اور عمران کی انڈیا میں بلے بلے ہو سکتی ہے۔ نریندر مودی نے اس مسئلے کو الیکشن کی جیت کے لئے استعمال کرنا چاہا تھا۔ عمران خان کی یہ تقریر نریندر مودی پر شدید داخلی دباؤ ڈالے گی کہ وہ ابھینندن کی جلد از جلد واپسی کے لئے مذاکرات کی میز پر آئے اور مسئلہ حل کرے۔ اس وقت جو بیک ڈور مذاکرات چلنے کی خبر آ رہی ہے، ان میں پاکستان کو ایک برتری حاصل ہو جائے گی۔ بھارتی سوشل اور روایتی میڈیا میں آنندن چھایا ہوا ہے۔ پاکستان کو اس کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔


