آئیے اس بار سیکھ لیتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 20
  •  

پاک بھارت سرحدوں پہ کشیدگی ہے، خطے کا امن خطرے میں ہیں۔ بھارت ہڈدھرمی دکھا رہا ہے اور عالمی برادری خاموش بیٹھی ہے۔ پاکستانی حکومت مدبرانہ اور فوج جرات مندانہ فیصلے کر رہی ہے۔ امید ہے جنگ نہیں ہوگی اور اگر خدانخواستہ پاکستان پہ جنگ مسلط کی گئی تو افواجِ پاکستان دفاع کا ہنر جانتی ہے۔ سرحدی اور سفارتی محاذ تو محفوظ ہیں لیکن ہماری غیرت مند قوم ثقافتی محاذ کو غیر محفوظ کیوں چھوڑ دیتی ہے؟ جنگ کے حالات میں ہی کیوں بھارتی کلچر سے نفرت کا اظہار کرتی ہے؟

دشمن تو امن والے دن بھی دشمن ہی ہوتا ہے۔ ہم کیوں نہ مکمل اور مستقل بنیادوں پہ بھارتی ثقافت کو رد کر دیں؟ آخر ہم بھی تو ایک قوم ہیں، ایک زندہ قوم۔ موہنجوداڑو یا ہڑپہ کی قومیں مدتوں پہلے ختم ہوگئیں لیکن جب صدیوں بعد وہ شہر کھدائی میں دریافت ہوئے تو ان کے ظروف، دیواروں پہ بنی تصاویرو نقوش اور دیگر اشیا نے انہیں پھر زندہ کردیا۔ یعنی اگر ثقافت زندہ ہے تو قوم بھی زندہ ہے۔ لیکن ہم جیتے جی اپنی ثقافت کو کیوں دفن کرنا چاہتے ہیں؟

ہم گزری قوموں سے کیوں نہیں سیکھتے؟ بھارت ہمیشہ ہمارے فن اور فنکاروں کو تذلیل کا نشانہ بناتا ہے، ان کی مختلف ثقافتی تنظیمیں، الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا ہاوسز آئے روز پاکستانی فنکاروں کو روکنے کے نوٹیفیکیشنز جاری کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ ہم ان کے فنکاروں کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور اُن کی فلمیں اور ڈرامے خرید کر انہیں پیسے دے رہے ہیں یعنی ہم اپنے دشمن کی مالی معاونت بھی کرتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے ڈرامے تو وہاں نہیں دکھائے جاتے اور فلمیں نمائش پذیر بھی نہیں ہوتیں۔

لیکن ہم ایک اوپن مارکیٹ بنے ہوئے ہیں انڈین، ٹرکش یہاں تک کہ چائینز اور جاپانی ڈراموں اور فلموں کو اردو ڈبنگ کے ساتھ یہاں چلایا جاتا ہے، کیا ہم ایک چراگاہ ہیں؟ کہ جو چاہے آئے ہماری مارکیٹ سے اپنا شیئر لے جائے اور ہم احمقوں کی مانند منہ کھولے دیکھتے رہ جائیں۔ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟ حکومتی ادارے، میڈیا اور سینما ہاوسز یا ساری عوام؟ شاید ہم سب لوگ۔ کیونکہ ہم سوچتے نہیں اور نہ ہی سمجھتے ہیں۔ میڈیا ہاوسز اس لئے غیر ملکی مواد چلاتے ہیں کہ سستا پڑتا ہے، یقینا یہ ایک انتہائی سستی سوچ ہے۔

دوسری جانب اگر پاکستانی مواد بھی چلایا جائے تو کاروباری نقصان ممکن نہیں کیونکہ کمرشلز کی کوئی کمی نہیں۔ چھوٹے سے چھوٹا ٹی وی چینل ہو یا اخبار اشتہار ضرور دیکھنے کو ملتا ہے۔ مگر افسوس لالچ کا کیا کیا جائے، سیٹھوں کو زیادہ منافع کمانا ہے خواہ اپنی ثقافت گھاٹے میں چلی جائے۔ سنیما گھروں کو بھارتی فلمیں چاہیے، کیوں؟ اس کیوں کا جواب بھی بڑا دلچسپ ہے کہنے والے کہتے ہیں کہ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں۔ عوام کی اپنی کوئی سوچ نہیں ہوتی، اگر ہو تو وہ خاص نہ ہوجائیں۔

لوگوں کو جو دکھایا جائے گا انہیں وہی دیکھنا پڑے گا۔ حالیہ مثال ہمارے سامنے ہے، کہ سپریم کورٹ نے بھارتی چینلز اور بھارتی مواد پہ پابندی لگائی، لگ بھگ چھ ماہ ہوگئے، کیالوگوں نے ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیا؟ جواب ہے نہیں۔ انہیں اب جو بھی دکھایا جارہا ہے وہ وہی دیکھ رہے ہیں۔ پاکستانی فلموں کو سینما گھر ملیں گے تو زیادہ تعداد میں فلمیں بنیں گی یوں سینما ہاوسز کا پیٹ بھی بھرے گا اور پاکستانی تخلیق کاروں کا بھی۔

پاکستانی فلمسازوں کو بھی نئی چراہ گاہیں تلاش کرنا ہوں گی، اردو اور پنجابی سمجھنے والی آبادی کے حامل ممالک یو اے ای اور کنیڈا یا پھر ڈبنگ کے ذریعے چین جیسا بڑی آبادی کا ملک۔ کام صرف کرنے سے ہوگا، ہمیں سوچنا، سمجھنا اور کرنا پڑے گا۔ فلموں کا معیار بہتر کرتے ہوئے بِنا کہانی کی بھونڈی مزاحیہ فلموں کی بجائے، کسی بھی موضوع پہ بامقصد فلم بنائیں اور حکومتی اداروں کے ساتھ ملکر نئی مارکیٹ میں نمائش کریں۔ اپنی پراڈکٹ بنائیں خود بھی استمعال کریں اور ایکسپورٹ بھی کریں، یہی ترقی کا زینہ ہے۔

غیر ملکی خصوصاً بھارتی مواد سے ہماری ثقافت اور تجارت دونوں کا گھاٹا ہے۔ ثقافت کا مدعا تو شاید اوپر کامیابی سے بیان ہوگیا ہو لیکن ثقافت کے تناظر میں کاروبار اور تجارت بھی غور طلب ہیں۔ شاید یہ ایک مثال سب واضح کردے۔ ایک شہر میں دس درزی دکان کھولے بیٹھے تھے، لوگ اُن سے کپڑے سلوایا کرتے تھے۔ جس سے وہاں کئی کپڑے کی دکانیں چلتی تھیں، کاج کرنے والے اور اوورلاک والے بھی مشین رکھے بیٹھے تھے، سوئی دھاگہ، بکرم اور بٹن کا بھی خاصا کاروبار رواں تھا۔

کڑھائی والے کاریگر بھی تھے۔ سلائی مشین کی مرمت والے بھی اوزار ہاتھوں میں لئے رہتے تھے، اِس سب کاروبار سے کئی گھروں کا راشن چلتا تھا۔ پھر ایک خود غرض شخص نے لنڈے اور کچھ ریڈی میڈ کپڑوں کی دکان کھول لی اور ساری کہانی ختم۔ ہمیں اپنی ثقافت بھی بچانا ہے اور اُس جُڑے لوگوں کا کاروبار بھی۔ اُٹھیں، سوچیں، سمجھیں اور عمل کریں۔ حکومتی اداروں اور میڈیا ہاوس مالکان کو قومی ذمہ داری قبول کرنا چاہیے۔ عوام کو سوچنے کا اورشعور کا راستہ اپناتے ہوئے خواص میں سے ہونا پڑے گا۔ ہماری ثقافت باقی رہے گی تو ہم بھی قائم رہیں گے۔ جنگ ایک بدصورت چیز ہے لیکن اس نے ہمیں ایک بار پھر سوچنے اور سیکھنے کا موقع دیا ہے، آئیے اس بار سیکھ لیتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 20
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں