چائے کیسی تھی؟
جنگ میں دوسرا حملہ سچائی پر کیا جاتا ہے۔ پہلے حملے میں انسانی دانش کو قتل کیا جاتا ہے۔ اور پھر پاگل پن ننگا ہوکر بڑے فخر سے انسانی کھوپڑیوں کے مینار وں، ہوا میں تحلیل ہوتے ہوئے زندہ جسموں، سسکتے ہوئے زخمیوں، بلکتے ہوئے یتیموں، چوڑیاں توڑتی اور سیندور مٹاتی ہوئیں سہاگنوں کی بیوگی کو، بہادر، سورما، سرفروش، جنتی، سورگباشی، نعرہ علی اور ہرہرمہادیو کے خوبصورت پیراہن پہنا کر باقی عمر بیچتا ہے۔ اسلحے کے سوداگر اور کمیشن کھانے والے دلال موٹے ہوجاتے ہیں۔ اور جنگ میں یتیم ہونے والے بچے گرائے گئے جہازوں کے ٹکڑے اور پھٹے ہوئے بموں کے حصے بیچتے بیچتے کباڑیوں کی قوم بن جاتی ہے۔ جنگ کے بعد جس سے بات کرو وہ جیتا ہوا ہوتا ہے۔ البتہ اپنا نقصان، موسم کی خرابی، قسمت کی خرابی، بندوق اور جہاز کی خرابی، دشمن کی چالاکی اور مکاری کی وجہ سے ہوا ہوتا ہے۔
جنگ انسانیت کے خلاف سب سے بڑا اور منظم جرم ہے۔ جس کو ہمیشہ دیوتا بناکر پوجا گیا اور جس کے چرنوں میں زیادہ تر معصوم اور بے گناہوں کی بلیاں چڑھائی گئیں۔ جب ایک شخص قتل کرتا ہے تو پولیس قانون عدالت اسے پکڑ کر اس کے جرم پر سزا دیتی ہے۔ لیکن جب پوری قوم پاگل بن کر دوسری قوم کو قتل کرنے کے لئے اپنی پوری توانائیاں، نفرتیں، بدنیتیاں، اسلحہ، گولہ بارود استعمال کرنے پر تیار ہوجاتی ہے۔ اسے عظیم ترین جذبہ، ملک وقوم سے وفاداری، حب الوطنی، قربانی اور بہادری کے مقدس اور پوتر زمزم اور گنگا سے اشنان کرا دیا جاتا ہے۔ مرنے والے کو شہید اور بچ جانے والے لنگڑے کو غازی کہتے ہیں۔ البتہ جس بیوی بچوں کی مستقل کے خاطر اس نے یہ سب کچھ کیا تھا۔ ان کا کیا بنا اسے مدتوں ہوش نہیں رہتا۔
جب جنگ کی آگ بجھتی ہے۔ تو اس کی دھویں سے کافی مدت تک انسانیت کی سانسیں گھٹتی ہیں۔ جس طرح طرفین جنگ کے بعد اپنی اپنی لاشیں ڈھونڈتی اور دفن کرتی ہیں۔ اسی طرح جنگ کے دوران دیے گئے ماہرانہ مشینی بریفننگ، گمراہ کن تقریروں اور زہریلے، نفرت انگیز پروپیگنڈے میں، سچائی ڈھونڈنے والے سچائی ڈھونڈھتے ہوئے مدتوں سرگرداں رہتے ہیں۔ آئیے سچائی ڈھونڈنے کی تھوڑی سی کوشش کرتے ہیں۔
کل انڈیا نے پاکستانی جنگی جہازوں کے انڈیا پر حملے اور ایک پاکستانی ایف سولہ طیارے کو گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ میجر جنرل غفور نے حملے سے انکار کیا لیکن ساتھ کہا ہم نے اس کے لئے ایف سولہ تو استعمال ہی نہیں کیے۔ ساتھ ساتھ وزیراعظم پاکستان نے امن اور مذاکرات کی خواہش کے باوجود بتایا کہ ہم نے صبر اس لئے کیا کہ انڈین حملے سے اپنے نقصانات کا اندازہ کرنا تھا۔ ہم نے کولیٹرل ڈیمیج (عوامی نقصانات) سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ طرفین کے بیانات کے تجزیے سے سچائی کی شکل یوں بنتی ہے
انڈیا نے پاکستانی حملے کا جو دعویٰ کیا۔ وہ سچا تھا۔ کیونکہ ہمارے وزیراعظم کے بیان کے مطابق ”ہم نے کولیٹرل ڈیمیج سے بچنے کی کوشش کی“ سے معلوم ہوتا ہے کی حملہ کیا گیا ہے اور فوجی نوعیت کا تھا۔ کیونکہ انڈیا نے بھی حملے کا مقصد فوجی انسٹالیشن پر ہونے پر کہا تھا۔
اس سے پہلے میجر جنرل غفور نے دو باتیں کیں تھیں۔ سرپرائز دیں گے۔ اور دشمن کو احمق کہہ کر افسوس کیا تھا۔ کہ کاش انڈیا عقلمند دشمن ہوتا۔
میجر جنرل غفور کا سرپرائز یہ تھا۔ کہ پاکستانی جہاز دن کی روشنی میں حملے کے لئے گئے۔ تاکہ دیکھے جا سکیں۔ انڈین جہاز پیچھے لگے۔ جیسے کہ ہمارا اندازہ اور پلاننگ تھی۔ پاکستانی جہاز اپنے بارڈر کی طرف پلٹے، جیسا کہ پروگرام تھا۔ انڈین میگ جیت بہادری خوداعتمادی اور حماقت میں پیچھے لگے۔ جیسے کہ انسانی نفسیات ہوتی ہے۔ پاکستانی جہاز جوں ہی اپنے بارڈر کو پار کرگئے۔ زمین پر بیٹھے ائیر ڈیفنس کے مستعد اور ماہر نشانہ بازوں نے پلک جھپکنے میں تاکا، لاک کیا اور گرایا۔
( ایسا کارگل میں بھی کیا گیا تھا اور انڈیا نے تین سے پانچ جہازوں سے ہاتھ دھوئے تھے۔ لیکن بے شک انسان جلدی بھول جاتا ہے)۔ دو میزائل شوو کرتے ہوئے اڑے اور دو جہاز شور مچاتے ہوئے گرے۔ پہلا سیدھا پاکستانی علاقے میں منصوبے کے مطابق گرا۔ (تاکہ یوں لگے حملہ کرنے آئے تھے ) دوسرا جہاز سمجھ تو گیا کہ پھندا لگا ہے۔ لیکن اس کے پاس بس یہی ایک سیکنڈ تھا سوچنے کے لئے۔ ہٹ ہوکر اس نے لوپ لیا۔ اپنے علاقے میں گرا لیکن اس کی اسی ہوشیاری اور بچنے کی خواہش نے اس کی جان لے لی ورنہ سیدھا آتا تو آج ابھے نیندن کی طرح چائے انجوائے کر رہا ہوتا۔ پورا آپریشن جس نے بھی کوریوگراف کیا تھا۔ انڈین کوریوگرافر فرخ خان کو اس سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہی سرپرائز تھا۔ زبردست، مکمل، نتیجہ خیز اور مہلک۔
میجر جنرل غفور نے دشمن کی حماقت کا ذکر کیا تھا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بالاکوٹ والا حملہ ڈرائی رن (انڈرسٹینڈنگ کے ساتھ۔ کیونکہ ہمارے وزیراعظم نے نریندر مودی کو سمجھاتے ہوئے کہا تھا کہ پھر جنگ نہ میرے ہاتھ میں ہوگی نہ تمہارے۔ جس سے انڈرسٹینڈنگ سمجھ آتی ہے ) تھا۔ اس لیے پاکستانی ائرفورس اور ائیر ڈیفنس ”سویا ہوا“ تھا۔ لیکن واپس جاکر ہندوستانی اخبارات میڈیا آرمی اور سیاستدانوں نے جو استہزا بھرا لہجہ اور رویہ اختیار کیا۔ قومی پریشر، اندرونی طعنوں، اور گرم خون والے ہاکز نے پاکستانی جواب کو ناگزیر اور دشمن کو ہوش میں لانے کے لئے سرپرائز سے بھرپور بنا دینا پڑا۔ خود کردہ را علاج نیست!
لگتا ہے پاکستان کی طرح انڈیا میں بھی افسروں کے بچے افسر بنتے ہیں۔ جس کی وجہ سے کہیں نہ کہیں معیار پر سمجھوتا کرنا ہی پڑتا ہے۔ کیونکہ ابھے نیندن وردھمان سے پہلے پینسٹھ کی جنگ میں بھی ایک پائلٹ گرا تھا۔ وہ بھی کسی انڈین ائیر مارشل کا بیٹا تھا۔ جس نے ایوب خان کے ساتھ چائے پی تھی اور اس نے جلدی بخیر و عافیت اسے واپس انڈیا بھیج دیا تھا۔ اور یہ بھی ائیر مارشل کا بیٹا ہے۔ باربار اتفاقات نہیں ہوتے۔ شاید ائیر مارشل کا بیٹا ہونے کی وجہ سے یہ بھی گرا ہو گا۔
انڈین کو 1965 سے لاہور میں چائے پینے کی خواہش ہے۔ اس لیے گرے ہوئے ونگ کمانڈر ابھے نیندن وردھمان سے پوچھا گیا۔ چائے کیسی تھی؟ اور اس نے طنزیہ اشارہ نہ سمجھتے ہوئے ایمانداری سے جواب دیا۔ زبردست۔
یہ دوسرا سرپرائز تھا۔ اور بہترین کوریوگرافی بھی۔ زبردست بھئی زبردست،


