مہاراجہ رنجیت سنگھ: تاریخی تناظر میں پنجابی، پختون تعلقات

مہاراجہ رنجیت سنگھ، پنجابی شاونسٹ، قوم پرستوں کی بالادستی کی علامتی اسطورہ ہے۔ چونکہ تاریخی طور پر مسلمان پنجابی، نامعلوم وقت سے، مزاحمتی اسطوروں، سیاسی اور جنگی قیادت اور اسی قسم کی علامتوں کی لحاظ سے بانجھ پن کا شکار ہے۔ اس لیے، مذہبی طور پر الگ سہی، لیکن نسلی طور پر پنجابی قوم پرست مسلمان اور سکھ دونوں کے لئے مہاراجہ رنجیت سنگھ سے بڑھ کر کوئی مشترکہ ہیرو نہیں۔ پھر مسلمان پنجابی اور سکھ پنجابی دونوں کا، تاریخی مقابل اور مخالف بھی مشترکہ طور پر ایک یعنی پختون ہے۔

سکھ پنجابی نے ماضی قریب میں پشاور تک حکومت کرکے پختونوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کے بعد اپنے دلی ارمان بڑی حد تک پورے کرلیے ہیں۔ لیکن مسلمان پنجابی کو، باوجود سکھ حکمرانوں کے ساجھے دار کے، ابھی تک کوئی ایسا کھلم کھلا موقع نہیں ملا، جس میں وہ صدیوں پر محیط اپنی ذاتی، مذہبی اور نسلی توہین کا حساب کتاب چکا سکے۔ کیونکہ پختون کبھی خود، افغانستان کے کوہ و دمن سے، ہندوستان کو باجگزار بنانے کی نیت سے اترا، تو کبھی کسی اور حملہ اور کے ہراول دستے میں شامل ہوا۔

Read more

”جہاد کشمیر“ کے ثمرات، پختون اور جناح صاحب کا ٹیلکس

ہندوستان تقسیم کیا گیا تو نیا اسلامی ملک 1935 کے انگریز کے بنائے ہوئے قانون کے تحت چلانا منظور ہوا۔ وزیر خارجہ قادیانی، وزیر قانون ہندو، اور جرنیل کرنیل انگریز بنے۔ فارورڈ پالیسی والوں نے گریٹ گیم کے تحت جیسی فیلڈنگ ترتیب دی تھی۔ اسی فیلڈنگ کے ساتھ دوسری اننگ شروع کی۔ میدانی علاقوں کے…

Read more

شمالی پختونخوا، جنوبی پختونخوا اور ان کی شاملات

پختون مسئلہ نہیں مسئلے میں گرفتار ایک مصیبت زدہ، باصلاحیت لیکن منتشر قوم ہے۔ تقسیم ہند کے وقت پنجابی بھی، پختونوں کی طرح تقسیم کردیے گئے تھے۔ لیکن ان کی تقسیم واضح فالٹ لائن، یعنی سکھ پنجابی اور مسلمان پنجابی کے اصولوں پر مبنی تھی۔ پختونوں کے درمیان اس قسم کی کوئی فالٹ لائن بھی…

Read more

انسیسٹ – محرمات سے جنسی فعل

ہم اپنے آپ کو بہت ترقی یافتہ سمجھتے ہیں۔ اردو کو عالمی زبانوں کی صف میں کھڑی زبان سمجھتے ہیں۔ کتابوں، اخباروں، کالجوں، یونیورسٹیوں، پروفیسروں اور قاموسوں کی زبان کہتے ہیں۔ لیکن دو دن کی کوشش کے باوجود مجھے اردو زبان میں محرمات کے ساتھ جنسی زیادتی کے لئے کوئی مناسب، واحد لفظ نہیں ملا۔ جسے میں یقین کے ساتھ لکھوں۔ جس کی تشریح اور وضاحت کی مزید کوئی ضرورت نہ پڑے۔ جو علمی، ادبی اور معاشرتی ماحول میں یکساں قابل قبول ہو۔ لچر لگے نہ ننگا، معاشرتی اور ادبی معیار سے گرا ہوا ہو اور نہ میرے مدیر کے لئے سنسر اور معاشرتی معیارات کا کوئی مسئلہ کھڑا کردے۔ جیسا کہ انگریزی زبان میں لفظ انسیسٹ ہے۔گمان ہوتا ہے کہ انسیسٹ کے لئے ہمارے ہاں کوئی لفظ شاید اس لیے موجود نہیں کہ یہ جنسی عمل یا زیادتی، ہمارے معاشرتی معمولات اور روایات کے بالکل خلاف ہے۔ 

Read more

خوف کی صنعت

اگر اسلحہ سازی صنعت ہے۔ تو جنگیں اس اسلحے کی جانچ، مظاہرہ اور مارکیٹنگ کے لئے، وقفے وقفے سے منعقد ہونے والے عالمی ٹورنامنٹس ہیں، جو کمزور اور نسبتاً پسماندہ ممالک کے محاذوں، میدانوں اور شہروں میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ جنگوں کی اصطلاحاتی درجہ بندی میں، ففتھ جنریشن وارفیئر آج کل زیر بحث ہے۔…

Read more

اسلام کا کاروبار، طلباء کی شدت پسندی اور تعلیمی اداروں میں قتل

جس نام یا کاروبار کے آگے پیچھے اسلامی کا دم چھلا لگا ہوا ہوتا ہے، سمجھ جاؤ اسلام کا کاروبار کیا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر، اسلامی ملک، اسلامی مرکز، اسلامی بنک، اسلامی بیمہ، اسلامی طب، اسلامی قانون، اسلامی شہد، اسلامی مدرسہ، وغیرہ۔ آپ نے کبھی کسی اسلامی مسجد کا نام نہیں سنا یا…

Read more

پروپیگنڈے کی طاقت

برطانوی مدبر اور سیاست دان بنجمن ڈسرائیلی نے کہا ہے۔ میں الفاظ کی طاقت سے لوگوں پر حکومت کرتا ہوں۔ جو کچھ ہم روزانہ دیکھتے سنتے یا پڑھتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں، ہم یہی دیکھنا سننا اور پڑھنا چاہتے تھے۔ لیکن یہ ہماری غلط فہمی ہوتی ہے۔ کیونکہ ہمارے دیکھنے سننے اور پڑھنے میں وافر حصہ وہ ہوتا ہے۔ جو ہمیں کسی نے ایک خاص مقصد کے پیش نظر سنایا، دکھایا اور پڑھایا، ٹھیک اسی طرح جیسے اپ ابھی یہی سمجھتے ہیں کہ اپ یہ سب اپنی مرضی سے پڑھ رہے ہیں لیکن میں اپکو نہ صرف پڑھا رہا ہوں بلکہ میرا اپکو یہ سب پڑھانے کا ایک اہم مقصد بھی ہے۔ میں اپکو اپنے خیالات نہ صرف یہ کہ منتقل کر رہا ہوں بلکہ آپ کو اپنے خیالات کے ساتھ متفق کرنے پر قائل بھی کررہا ہوں۔

Read more

عورتوں کی جنت میں بے چارہ مرد

عورتوں نے بھی مردوں کی طرح ایک بار ہی یہاں اس دنیا میں جینا ہے۔ اس لیے ان کو ان کی مرضی سے جینے کا حق ہے۔ دیدو حق جینے دو۔ بلغراد، پرانے یوگوسلاویہ میں صبح کے وقت میں لوکل بس میں بیٹھا ریلوے اسٹیشن جارہا تھا۔ ں بس کی سیٹیں زیادہ کھلی نہیں تھی۔ میرے ساتھ بیٹھا ہوا شخص اخبار پھیلا کر پڑھ رہا تھا۔ میں آدھا اخبار کے نیچے چھپا ہوا تھا کبھی کبھی سر نکال کر سامنے کے شیشے سے باہر دیکھتا رہتا۔ کہ کہیں اپنے سٹاپ سے آگے نہ نکل جاؤں۔

اتنے میں کوئی تیس سال کی عمر کی ایک عورت جو بہت واضح طور پر پیٹ سے تھی۔ بس پر چڑھی۔ ایک بازو میں درمیانی سائز کا بیگ لٹکایا ہوا تھا۔ دوسرے سے میرے سامنے والی سیٹ کا بیک سپورٹ پکڑ لیا۔ کیونکہ بس میں کوئی سیٹ خالی نہیں تھی۔ بس کے معمولی جھٹکے سے بھی پیٹ میں موجود بچے کی بوجھ سے وہ اگے کو جھک جاتی۔ کبھی ایک اور کبھی دوسری ٹانگ پر مسلسل اپنا وزن منتقل کرتی رہی۔ تھوڑی دیر تک میں بھی دوسروں کی طرح انجان بنا اپنی جگہ بیٹھا رہا۔

Read more

ہندو بزدل نہیں ہوتا

اشوک ہلاک ہوا، اشوک مرگیا، اشوک شہید ہوا۔ کیا لکھتا میں، آج! اگر میں کسی پاکستانی اخبار کا مدیر ہوتا۔ جب کوئی گھبرو پاکستانی سپاہی دشمن کی چلائی ہوئی گولی سینے پر کھاتا ہے، جب اسے جھٹکا لگتا ہے، جب موت اسے گرانا چاہتی ہے۔ تو وہ گرنے سے انکار کرتا ہے۔ کیونکہ اسے یقین…

Read more

تحریک بستر بند اور تحریک بارود جیکٹ

تحریک ترک دنیا اور تحریک طالبان بظاہر الگ الگ مگر مقاصد، اہداف اور نتائج میں یکسو یکساں اور یک زباں ہیں۔ اول الذکر دنیاوی کام کاج، گھریلو ذمہ داریوں، روزگار، خاندانی حقوق وفرائض، معاشرتی اعمال اور ثقافتی رنگارنگی سے کنارہ کشی اور کنی کترانے کی ترغیب اور تحریص دلاتی ہے۔ تو تحریک طالبان بھی دنیاوی…

Read more