بھارتی میڈیا کا جنون: شکر ہے میں بھارتی نہیں
میرا بھارت سے کوئی لینا دینا نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو کیا پڑھاتے ہیں کیونکہ بھارت جنگ کے میدان میں زیادہ سے زیادہ جو کر سکتا ہے اس کا جواب میری فوج دے لے گی اور اگر جان سے گزر کے ایٹم بم بھی آخری صورت میں چلانا پڑا تو چلا دے گی کہ ہار کی ذلت سے عزت کی موت کہیں بہتر ہے اور میں اس کے لئے تیار بھی ہوں اور پاک فوج کے ساتھ بھی۔ مگر اس کے ساتھ زندہ رہنے کی فطری خواہش، ترقی کی امنگ مجھے مجبور کرتی ہے کہ میں اپنے بچوں کو آج کی دنیا اور آنے والے عظیم چیلنجوں کے بارے پڑھا کر تیار کروں۔
ہم اپنے بچوں کو کیا پڑھاتے رہے ہیں جس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلا۔ کہاں وہ غلطیاں ہیں کہ دنیا ہماری بات سننے کو تیار نہیں۔ سچ بتائیں کہ بھارتی شب خون کے بعد تمام دن کس ملک نے بھارت کی مذمت کی۔ میں انتظار ہی کرتا رہ گیا جب آخر کار آسٹریلین حکومت نے بیان جاری کیا مگر وہ ہمارے ہی خلاف تھا، پھر فرانس بھی بھارت کے ساتھ کھل کر کھڑا ہو گیا۔ یہ پاکستان کی اگلے دن کے کارروائی تھی اور بھارتی پائلٹ کا پکڑے جانا تھا جس کے بعد امریکہ اور برطانیہ نے دونوں ملکوں سے صبر کی اپیل کی اور او آئی سی، سمیت عرب ملکوں کی مذمت سامنے آئی۔
ہمیں سوچنا ہو گا کب تک ہم اپنی تمام آبادی کو اس خطرے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اگر یہاں کہیں کوئی دہشت گردوں کو پال رہا ہے تو وہ سب سے پہلے کس سے دشمنی کر رہا ہے۔ مجھے جو فخر آج اپنے وزیر اعظم پر ہے، فوج پر ہے، ائیر فورس پر ہے، اپوزیشن اور میڈیا پر ہے، میں اس فخر میں آگے بھی جینا چاہتا ہوں۔ مجھے اس دن کے لئے کوشش کرنا ہے جب میں فخر سے کہوں کہ میرے ملک میں ایک ہی نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ مجھے اس دن کا انتظار ہے جب میں فخر سے کہوں کہ میرے ملک میں جو تاریخ پڑھائی جاتی ہے وہ سچ ہے، میری جدو جہد ہے کہ میرے بچوں میں کوئی دہشتگرد نہ بن پائے، میں کامیابی تب حاصل کروں گا جب بچے بھکاریوں کے روپ میں سڑکوں پر نظر نہ آئیں۔ سپر پاور بننے کا شوق نہیں اور نہ ہی خطے کا چوہدری ہاں مگر تنخواہوں کے لئے قرض تو نہ مانگنا پڑے۔ میں اس عزت کی واپسی چاہتا ہوں جو کبھی میرے ملک کے پاسپورٹ کو حاصل تھی۔ کیوں مجھے دنیا بھر میں ایک دہشتگرد سمجھا جائے کب تک میں اپنا دفاع کروں کہ میرا انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہیں۔
اس کا واحد حل تعلیم ہے۔ سچی اور کھری تعلیم۔ سچی تاریخ اور کھرا نصاب۔ سب کے لئے ایک نصاب۔ اس کی شروعات پاکستان کی سچی کہانی سنانے، پڑھانے سے ہوگا۔ ہم میں سے کتنے جانتے ہوں گے کہ قائد اعظم نے پہلے امریکی سفیر کو انٹرویو میں بھارت اور پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے کس خواہش کا اظہار کیا تھا۔ بھارت میں گاندھی کو کس نے اور کیوں گولی ماری تھی۔ پاکستان میں گاندھی کے قتل پر سرکاری سوگ قائد کے حکم پر کیوں منایا گیا تھا۔
تقسیم کے وقت کے وحشیانہ قتل و غارتگری کے تازہ خون کے چھینٹوں کے باوجود آخر کیسے اٹھارہ سال تک دونوں ممالک کے عوام سرحدوں کے آرپار آیا جایا کرتے تھے۔ حسین شہید سہروردی نے دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے یہ کس کو اور کیوں کہا تھا کہ آپ لوگ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو استعمال کر کے خود اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ یہاں ہمیشہ یا تو ”اسلام خطرے میں ہے“ یا ”پاکستان خطرے میں ہے“ کا نعرہ لگتا رہے گا۔
کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم آخر کار طے کر لیں کہ جنگ سے جڑے تمام معاملات فوج اور صرف فوج پر چھوڑ دیے جائیں اور امن و خوشحالی کے راستوں پر چلنے کی تیاری تعلیم کے ہتھیار سے کی جائے۔ اگر یہ تبدیلی آ گئی تو عمران خان، لمحوں یا دنوں کے نہیں تاریخ کے عظیم انسانوں میں شمار ہوں گے۔

