پاک بھارت تنازعہ: خیرسگالی کا مثبت اظہار اور سفارتی ٹھوکر
اس پس منظر میں بھی پاکستانی وزیر خارجہ کے لئے ضروری تھا کہ وہ اس موقع پر خود بھی موجود ہوتے تاکہ سشما سوراج کی سفارتی کوششوں یا پاکستان کے بارے میں جھوٹ کی قلعی کھول سکتے۔ لیکن جب اس اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس سے پاکستان نے خود ہی یہ موقع ضائع کردیا۔ اس کے ساتھ ہی ابوظہبی حکومت کے علاوہ سشما سوراج کو مدعو کرنے کا فیصلہ کروانے والے دیگر طاقت ور ارکان کو بھی خفیف کیا۔ پاکستان کو اس وقت وسیع تر عالمی حمایت کی ضرورت ہے اور بھارت کے ساتھ جاری تصادم کی صورت حال میں دوستوں کے ساتھ فاصلے پیدا کرنے والا کوئی اقدام بھی نامناسب اور غلط ہی کہلائے گا۔
پلوامہ سانحہ سے ذرا پہلے جب ابوظہبی کے ولی عہد کی طرف سے سشما سوراج کو مہمان خصوصی کے طور پر او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا تو پاکستان نے کوئی سرکاری پوزیشن اختیار نہیں کی تھی۔ بلکہ اخبارات میں یہ رپورٹیں بھی منظر عام پر آئی تھیں کہ ا س موقع پر شاہ محمود قریشی اور سشما سوراج کی دو بدو ملاقات کا امکان موجود ہے۔ اس لحاظ سے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پاکستان یہ توقع کررہا تھا کہ بھارت کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطہ اور مذاکرات کے لئے کوئی بریک تھرو حاصل کیا جائے۔
یہ خواہش و کوشش کسی لحاظ سے نامناسب نہیں تھی۔ تاہم اس ہفتہ کے دوران لائن آف کنٹرول پر ہونے والی کارورائیوں کے بعد اس کانفرنس میں شرکت سے انکار پرانی حکمت عملی کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔ اگر پاکستان سشما سوراج کو دعوت دینے کے فوری بعد اپنی مخالفت کا اظہار کرتا اور واضح کیا جاتا کہ بھارتی وزیر خارجہ کو بلایا گیا تو پاکستان اجلاس میں نہیں آئے گا تو اس وقت شاہ محمود قریشی کے دلائل کو قبول کرنا آسان ہوتا۔ تاہم چند ہفتے قبل اختیار کی گئی پوزیشن کو تصادم و تنازعہ کی صورت میں تبدیل کرنے کا یہی مطلب لیا جائے گا کہ پاکستان، بھارتی نمائیندوں کے دلائل کا سامنا کرنے سے کترا رہا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تصادم کی صورت میں بظاہر کمی آئی ہے۔ امریکہ سمیت متعدد ممالک نے دونوں ملکوں سے روابط کیے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس رابطوں کے نتیجہ میں مثبت پیش رفت کی خبر بھی دی ہے۔ تاہم تصادم کو ٹالنے کا یہ مطلب نہیں ہوسکتا کہ تنازعہ حل ہو گیا ہے یا پاکستان کی طرف سے بات چیت کی پیش کش کو مان لیا گیا ہے۔ صورت حال اب بھی اتنی کشیدہ ہے کہ پاکستان نے ابھی تک اپنی ائیر سپیس کو مکمل طور سے انٹرنیشنل پروازوں کے لئے نہیں کھولا ہے۔
ابھے نندن کی واپسی جیسے اہم اور فوری اظہار خیر سگالی کے باوجود بھارت نے پر اسرار خاموشی اختیار کی ہے۔ سرکاری طور ابھی تک نہ مذاکرات کے حوالے سے کوئی رائے دی گئی ہے اور نہ ہی پاکستان پر الزام تراشی میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس لئے نہایت احتیاط کے ساتھ یہ امید تو کی جا سکتی ہے کہ جذبات پر معقولیت حاوی ہوگی اور بھارت کوئی نیا ایسا اقدام نہیں کرے گا جو ایک نئے تنازعہ اور تصادم کا سبب بن جائے۔
پاکستان اور بھارت کسی صورت عسکری تصادم کے متحمل نہیں ہو سکتے لیکن دونوں جانب ایسے عناصر کی بھی کمی نہیں ہے جو جنگ ہی کو تمام مسائل کا واحد حل سمجھتے ہیں اور اپنے تئیں یہ گمان رکھتے ہیں کہ ان کی افواج ’دشمن‘ کو ایک ہی ہلے میں زیر کرلیں گی۔ یہ رویہ اختیار کرنے والوں کو یہ بتانے سے مسلسل گریز کیا جاتا ہے کہ جنگ صرف تباہی کا نام ہے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی قسم کی جنگ دونوں ملکوں کی معیشت کے لئے ہلاکت خیز ہوگی۔
پاکستان کو بطور خاص اس ہفتہ حاصل ہونے والی سفارتی اور اخلاقی برتری کے زعم میں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ بھارت بڑی آبادی اور کثیروسائل کا حامل ملک ہے۔ دنیا بھر کے ممالک ا س کے ساتھ تعلقات استوار کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ پاکستان کو ہر فورم اور ہر موقع کو یہ بات واضح کرنے کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ بھارت کا دشمن نہیں ہے اور اس پر عائدکیے جانے والے الزامات درست نہیں۔ اس حوالے سے ابوظہبی کے اجلاس میں شرکت سے انکار دراصل پاکستان کے مفاد کے برعکس فیصلہ ہے۔


