جب رامش کو سالا ہندو سمجھا گیا
سوشل میڈیا ہو یا عام دوستوں کے ساتھ بات چیت، پاکستان کی ہندو برادری کے لیے تضحیک اور تو ہین آمیز جملے پڑھ اور سن کر احساسِ شرمندگی ہو تا ہے۔ سوچتی ہوں ان پاکستانی شہریوں پر کیا گزرتی ہوگی۔ ہماری ہندو برادری کا مرنا جینا اور روز گار پاکستان سے وابستہ ہے۔ یہ بھی پاکستان سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی ہم اور آپ۔ لیکن پاک بھارت جنگ میں ان کے جگر چھلنی کرنا کہاں کی انسانیت ہے۔
اس نفرت کی زیادہ وجہ شاید یہ ہے کہ ہم لفظ ہندو سے نفرت کرتے ہیں۔ پاکستان میں رہنے والے ہنددؤں کا جذبہء ایمانی اور حب الوطنی کسی بھی پاکستانی مسلمان سے کسی بھی طرح کم نہیں۔ اندرونِ سندھ میں ہندو کثیر تعداد میں بستے ہیں۔ ہندو اور مسلمان گھرانے محبت اور بھائی چارے سے رہتے ہیں ایک دوسرے کے دکھ درد میں کام آتے ہیں۔
میرا بیٹے کا نام رامش ہے۔ کچھ سال پہلے کی بات ہے۔ اس نے اپنے آفس میں کچھ لوگوں کا تقرر کیا، شاید کسی کے رمیش کہنے پر وہ ہندو مشہور ہو گیا۔ اس نے محسوس کیا کہ آفس کے ساتھی اس کے ہاتھ سے کچھ لینے، کھانے پینے میں ذرا جھجک محسوس کرتے تھے۔ اور رامش کے سلام کے جواب میں گڈ مار ننگ کہا کرتے۔ پھر جب رامش ان کے ساتھ گھل مل گیا تو وہ سب بھی کچھ ریلیکس تو ہوئے لیکن انداز ایسا ہو تا جیسے اس پر احسان کر رہے ہوں۔ ایک دن آفس کے ایک ملازم نے اسے اسلام کا پیغام بھی دیا۔ ہر کسی کی کوشش تھی رامش اسلام قبول کر لے۔ تین چار دن بعد رامش کی حقیقت ان پر اور ان کی حقیقت رامش پر کھلی۔
بہت کم لوگ ہو تے ہیں جو اپنے ماں باپ کے بتا ئے، سکھائے اور سمجھا ئے ہو ئے مذہب سے رو گردانی کرتے ہیں۔ سب ہی اپنے اسلاف کے مذہب پر نا صرف عمل پیرا ہو تے ہیں بلکہ اس پر فخر بھی کرتے ہیں اور ایسا ہو نا عین فطرت ہے۔ اپنے اسلاف کے مذہب، ان کے نظریے، طور طریقوں اور خیالات کے مطابق زندگی گزارنے میں نہ تو کسی شعوری کوشش یامحنت کو دخل ہے نہ ہی اسے ہم کسی کی حماقت پر محمول کریں گے۔ اپنے اسلاف کے نظریے، عقیدے کو درست جاننا اور اس پر فخر کرنے کا ہر انسان کو پوا حق حاصل ہے۔
لیکن کسی انسان کو بھی کسی دوسرے انسان کی محض اس لیے تذلیل کا حق نہیں کہ وہ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ کیوں کہ مذہب کے انتخاب میں کسی کی بھی مرضی کو دخل نہیں۔ محبت کا جذبہ ہر قسم کی مصلحت اور منافرت سے با لا ہو تا ہے اور انسانیت سے محبت کرنے والا شخص کسی انسان کو اس کے کردار کی خوبیوں اور اس کے اعلیٰ اخلاق کی بنا ء پر ہی پسند کرتا ہے۔
اگر محض ہم عقیدہ شخص سے ہی محبت لازمی قرار دے دی جا تی تو ہم آج کم از کم اپنے خاندان ہی کے مفاد کو عزیز رکھتے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ بھا ئی، بھا ئی کی گردن اتارنے کو تیار ہے۔ جیلوں میں قیدیوں کی زیادہ تعداد خاندانوں اور دوستوں کی بیچ ہی میں لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت گری میں براہِ راست ملوث ہونے والوں کی ہے۔ اچھے اور برے انسان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو سکتا ہے۔
ایک بار آنندکھتری صاحب کی بیگم نے میری امی سے کہا کہ وہ سورہء یٰسین کا وظیفہ اپنے گھر کرانا چا ہتی ہیں۔ اس نے کہا کہ اس کے کہنے سے شاید مسلمان خواتین اس کے گھر نہ آئیں۔ میری امی نے اس کے گھر خواتین کو جمع کر کے ان کے ہاں وظیفے کا اہتمام کیا۔
ہمارے ہاں اگر کسی ہندو سے کسی کے تعلقات ہوں بھی تو اس کے ساتھ کھانے پینے سے گریز کیا جا تا ہے۔ ہمارے ریستورانوں میں مالک اور ملازمین کا تعلق کس مذہب سے ہے، وہ حفظانِ صحت کا کتنا خیال رکھتے ہیں ہمیں اس کی فکر نہیں ہو تی یوں تو ہم گدھے اور کتے کا گوشت بھی کھا لیتے ہیں۔ لیکن کسی صاف ستھرے ہندو دوست کے ساتھ ہم کھانا نہیں کھا سکتے ہمارے ایمان کو خطرہ ہو جا تا ہے۔
بات ساری یہ ہے کہ آپ کو موقع نہیں ملا ان ہندوؤں کے ساتھ مل بیٹھنے کا، اگر آپ کو موقع ملے تو آپ جان سکتے ہیں کہ یہ بھی آپ کی طرح مخلص انسان دوست اور آپ کی ہی طرح مذہبی ہیں۔ سوچتی ہوں کہ اگر مجھے بھی ہندوؤں کے ساتھ میل ملاپ کا موقع نہ ملا ہو تا تو شاید میں بھی اتنی ہی تنگ نظر ہوتی۔ لیکن خدا کا کا شکر ہے کہ یہ مواقع نصیب ہوئے۔ مجھے ان کے مسائل کے بارے میں بھی علم ہوا۔ جب جیک آباد میں کوئی سات آٹھ سال قبل ہندوؤں کے گھرانوں پر حملے ہوئے۔
تو سب کے سب انڈیا میں جا بسنے کے خیال سے وہاں روانہ ہو ئے، لیکن انڈیا کی حکومت نے انہیں نہ تو شہریت دی نہ ہی ان کے ویزوں کی مدت بڑھائی، اور انہیں دوبارہ اس ملک میں لوٹنا پڑا جہاں کے شہری ان کی جان و مال اور عزت کے در پے تھے۔ آپ دبئی میں دیکھیے وہاں روز گا ر کی غرض سے آئے ہوئے تمام لوگ بلا تفریق مذہب ایک د وسرے کے ساتھ کھانا بھی کھاتے ہیں اور دکھ سکھ بھی بانٹتے ہیں۔
ظالم کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ ہمیں ظلم کے خلاف متحد ہونا ہے۔ ہندو اقلیت میں ہیں اور ہمارے نبی نے اقلیتوں کے ساتھ صلہ رحمی کی خاص تاکید کی ہے۔ جنگ سے نفرت کیجیے، مودی کی ذہنی کیفیت پر تبرہ سو بار بھیجیں۔ لیکن پاکستان میں رہنے والے ہندؤں کی دل شکنی نہ کیجیے۔
یہ ہندو مسلمان کی جنگ نہیں، یہ پاکستان اور بھارت کی جنگ ہے۔ بھارتی فوج میں کثیر تعداد مسلمانوں کی ہے جو اپنے ملک بھا رت سے محبت کرتے ہیں، اور مودی کے حکم پر پاکستان سے جنگ کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔


