جنونیت کے مزار پر تبدیلی کا دھمال
تقریباً سات ماہ سے سیاسی لیبر روم میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ لیب کوٹ اور دستانے پہن کر ملک کی معیشت کے ساتھ امید ڈیلیور کرنے کی کوششیں کر رہی تھی اور دروازے کے باہر ہاتھ پاؤں پُھلائے بے چین کھڑی عوام دعائیں مانگتے ہوئے کسی خوش خبری کی منتظر تھی کہ کب سرجن عمران خان باہر آتے ہیں اور عوام کو تبدیلی کی جھلک دکھاتے ہیں۔
گو کہ اب تک ملکی معیشت کو تو خاطر خواہ سہارا نہیں مل سکا لیکن وزیراعظم عمران خان نے پچھلے دنوں انڈیا کی جنونی جارحیت کے جواب میں جو ہوش مندانہ پیش رفت کی ہے اس سے ان کی ہیرو مافق امیج میں دنیا بھر میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہاں تک کہ قومی اسمبلی میں ان کو امن کا نوبل انعام دینے کی قرارداد تک پیش کی جا چکی ہے۔ میں بذات خود تحریک انصاف کی سپورٹر نہیں رہی ہوں لیکن عمران خان اپنی حرکتوں سے ہمیشہ ہی متاثر کر دیتے ہیں۔ ایک تو اللہ نے بندے کو پرسنیلٹی دی ہے دوسرا جس اعتماد سے کیمرے کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر یہ بندہ وطن سے مخلص ہونے کا یقین دلاتا ہے، بھلا کون انکار کر سکتا ہے؟
خیر جنگ تو کس کو پسند ہوگی، لیکن ناپسند کرنے کے لیے جو وجوہات لوگوں کو معلوم ہوتی ہیں ہم میں سے اکثر تو وہ بھی نہیں جانتے۔ آپ اسے میری کم علمی کہیں یا نا شکری کہ میں یہ سوچتی تھی کہ بحیثیت پاکستانی ہمیں کم ہی فخریہ لمحات میسر آتے ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ مشکل وقت بہت سے سبق سکھا دیتا ہے اور بہت سے لوگوں کی اصلیت دکھا دیتا ہے تو یہ صرف لوگوں کے ساتھ ہی نہیں ہوتا یہ پورے ملک کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ ہمارے پیارے وطن پر آج کل جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں لیکن فوج سمیت ہمارے لوگوں کے حوصلے بلند ہیں۔
بہر حال یہ صرف ایمان کی طاقت کی بدولت ہی ممکن ہے کہ ہم اپنے سے کئی گنا بڑے ملک سے جنگ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں لیکن حقیقت پسندی کس چڑیا کا نام ہے وہ واقعی اوپر بیٹھی اسٹیبلشمنٹ ہی جانتی ہے لیکن صرف پاکستان کی، کیوں کہ ہندوستانی فوج اور حالیہ گورنمنٹ تو صرف جنون جانتی ہے۔ یہ تو وہ قوم ہے جو پاکستان سے کرکٹ میچ کو بھی جنگ کے برابر سمجھتی ہے۔ ان سے کسی اطمینان کی امید رکھنا بالکل ایسا ہے جیسے چھلاوے سے ایک جگہ ٹکنے کا گمان کرنا۔
خیر اس ساری صورتحال میں کہا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کی افواج و حکومت کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہی کسی منچلے نے پوسٹ کیا کہ اگر دونوں ملکوں کے انٹرنیٹ غیر فعال ہو جائیں تو آدھی جنگ تو یوں ہی ختم ہوجائے گی۔ اور دیکھا جائے تو ایسا ہی ہے۔
آدھے لوگ جنگ کی باتوں کو مذاق بنا کر بیٹھے ہیں، جب کہ کچھ لوگ نفرت آمیز مواد شائع کر رہے ہیں۔ ہندوستانی میڈیا کا تو کیا کہنا آپس ہی میں لڑنے مرنے کو تیار بیٹھے ہیں، لیکن ہمارے ہاں بھی کچھ صحافیوں کا یہ حال ہے کہ جنگ کے سماں پر بھی وہ اپنی تعصب کی عینک لگا کر فقرے کس رہے ہیں۔ ایک صحافی ڈاکٹر دانش جانے کون سے چینل سے جانبدارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں اپنے ٹویٹ میں لکھتے ہیں کہ
”تعجب ہے نواز شریف بھارت سے خیرسگالی کرے تو غدار جب کہ عمران خان حملہ کرنے والے پائلٹ کو خیرسگالی پہ رہا کرے تو سمجھدار؟ “
یہ صرف ان صاحب کا حال نہیں بلکہ ہمارے ہاں اور بھی کچھ شدت پسند لوگ موجود ہیں جن کا سارا ایمان فیس بک اور اپنی اسکرین کے پیچھے تک محدود ہے۔ وہ کچھ دیر کے لیے سوچیں تو سہی کہ بھائی ہندوستان کی اصلیت ہم پاکستانیوں سے زیادہ بھلا کون جانتا ہے دنیا بھر میں لیکن اس وقت عمران خان نے نا صرف انڈیا کو بِھگو کر مارا ہے بلکہ ساری دنیا کو کُھلا پیغام دیا ہے کہ امن کے پرچار کی اس سے بڑی مثال لا کر دکھاؤ۔ عمران خان نے ریاست مدینہ کی تقلید میں اپنے گرفتار شدہ دشمن کو بحفاظت اس کے گھر بھیج کر جس اسٹریٹجی کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ فخر ہے۔
اور اس کی شروعات بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کو حراست میں لینے کے فوراً بعد ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس سے ہوئی جس میں انھوں نے ایک ایک جملہ سنبھل کر ادا کیا۔ اس خطاب میں ان کے دھیمے لہجے میں یہ گونج سنائی دی کہ پاکستانی فوج کے ارادے الحمدللہ اتنے مضبوط ہیں کہ انھیں کوئی خوف نہیں لیکن اس کا ثبوت دینے کے لیے ہم جنگ نہیں کرنا چاہتے۔
یہی وجہ ہے کہ بھارتی طیارے گرانے، ابھی نندن کے پکڑے جانے اور اس کو واپس بھیجنے تک پاکستانی قیادت کے رویے سے دنیا کو سب سے بڑا تاثر یہ ملا کہ پاکستانی قیادت جنگ کرنے اور امن قائم رکھنے کی درمیانی لکیر سے نہ صرف بخوبی واقف ہے بلکہ بین الاقوامی اصولوں کی پاسدار مضبوط فوج کی مالک ہے۔ پاکستان پائندہ باد


