دفاع ضروری ہے مگر جنگ آپشن نہیں ہے
اس حوالے سے یہ جواب جزوی طور سے جواب طلب رہے گا کہ پاک فضائیہ کو ایک ہی روز بعد جوابی کارروائی کرنے کی کیا مجبوری تھی۔ پاکستان کا مؤقف واضح اور دو ٹوک تھا کہ منگل کو بھارتی فضائیہ کے طیارے پاکستان کے علاقے میں داخل ہوئے تھے اور ان کی بمباری سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہؤا۔ پاکستان میں اس بیانیہ کو قبول بھی کیا گیا اور دنیا کے غیر جانبدار ملک بھی پاکستانی معلومات کی تصدیق کررہے تھے۔ اگرچہ نریندر مودی اس واقعہ کو اپنی کامیابی کا نعرہ بنا کر انتخابات میں ضرور فائدہ اٹھاتا لیکن یہ پاکستان کا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
عمران خان نے بدھ کی کارروائی کے بعد یہی بیان دیا تھا کہ بھارتی حملہ کے بعد جواب دینا پاکستان کی مجبوری تھی۔ لیکن اب امن کی بات کی جائے۔ بدقسمتی سے اس وقت بھارت کی حکمران پارٹی میں بھی یہی سوچ حاوی ہے۔ کہ ’پاکستانی فضائیہ نے جو برتری حاصل کی ہے، اس کا جواب دینا ضروری ہے تاکہ بھارت کا غرور بحال ہوسکے‘ ۔ اس مزاج کی نشاندہی نریندر مودی کے بیانات کے علاوہ اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں سوشما سوراج کی تقریر سے بھی ہوتا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے سوشما سوراج کو دعوت دینے پر او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس طرح بھارتی وزیر خارجہ کو دہشت گردی کو اصولی معاملہ قرار دیتے ہوئے اس کی ساری ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کا موقع مل گیا اور پاکستانی وزیر خارجہ اس کا جواب دینے کے لئے وہاں موجود ہی نہیں تھے۔ پاکستان کی طرف سے کی گئی یہ غلطی اسے سفارتی اور سیاسی لحاظ سے بھاری پڑی ہے۔ بھارت نے ایک ایسے پلیٹ فارم پر پاکستان کے خلاف اپنا یک طرفہ اور شدت پسندانہ مؤقف پیش کیا ہے، جس پر پاکستان کی جارہ داری رہی ہے۔
جب سوشما سوراج دہشت گردی کا سارا الزام پاکستان پر ڈال رہی تھیں تو پاکستان کے کسی دوست ملک نے ان کی باتوں کو مسترد کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی کی صورت میں پاکستان مذاکرات کی خواہش رکھتا ہے۔ تاہم اس خواہش کی تکمیل اور بھارت کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لئے اسے ہر دستیاب پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے او آئی اسی اجلاس ایک اچھا موقع ہوسکتا تھا اور بھارت کو یک طرفہ طور سے پاکستان کو تنہا کرنے کا موقع بھی نہ ملتا۔
پاکستان ایک طرف سفارتی پیش رفت کا ایک اہم موقع کھو چکا ہے تو دوسری طرف بدھ کی ’کامیابی‘ کے بعد ٹاک شوز، تبصروں اور سوشل میڈیا پر پاکستان کی برتری، حوصلہ و ہمت اور شجاعت کے قصیدے پڑھتے ہوئے جنگ کا ماحول پیدا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس طرح کی بیان بازی اور گفتگو سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہوجاتی ہے اور یہ تصور دلوں میں جاگزیں ہونے لگتا ہے کہ جنگ ہی مسئلہ کا حل ہے کیوں کہ پاکستان دشمن کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دشمن کو نیست نابود کرنے کی یہ ذہنیت پاکستان کی خوشحالی اور بہتری کے لئے خطرناک رجحان ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی حکومت اور رائے بنانے والوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جنگ مسئلہ کا حل نہیں ہے اس لئے اس پہلو پر غور کیا جائے کہ عسکری تصادم کے بغیر دشمن پر کس طرح بالادستی حاصل کی جاسکتی ہے۔ لیکن جب وزیراعظم ہی امن کی بات کرنے سے پہلے جوابی کارروائی کو قومی وقار کے لئے ضروری قرار دیں گے تو ملک میں عام طور سے پیدا ہونے والے جذباتی ہیجان قابو کرنامشکل ہوجاتا ہے۔
پاک فضائیہ کی کامیابی سے قطع نظر اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ کارروائی کیوں ضروری تھی۔ اگر منگل کو بھارتی طیاروں کو ناکام واپس جانے پر مجبور کردیا گیا تھا تو پاکستان کس بات کا ’بدلہ‘ لینا چاہتا تھا؟ جاننا چاہیے کہ بدھ کی جوابی کارروائی سے پاکستان زیادہ محفوظ ہؤا ہے یا جنگ کے امکانات کو بڑھا لیا گیا ہے؟ اور یہ کہ اس کارروائی کا فائدہ پاکستان کے وسیع المدت مفادات کو پہنچا ہے یا اس سے افواج پاکستان کی پبلک ریلیشننگ کا کام لیا گیا ہے۔ تاکہ ملکی معاملات میں غیر جمہوری اسٹبلشمنٹ کی مداخلت اور برتری کا جواز پیش کیا جاسکے۔
یہ بات طے ہونی چاہیے کہ بھارت کے ساتھ دشمنی اور مسلح تصادم کے نام پر اگر ملک میں جمہوری روایت کو پامال کرنے کی کوئی کوشش ہوتی ہے یا آزادیوں پر قدغن عائد کی جاتی ہے تو یہ ملک کے دفاع کے لئے بری خبر کے مترادف ہوگا۔ جنگجوئی کے ماحول میں ہوش پر جوش غالب آتا ہے۔ لیکن پاکستان اپنے گوناں گوں مسائل کی وجہ سے مختصر یا طویل کسی بھی قسم کی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ جنگ کے بغیر ملک کا دفاع کرنے کا تیر بہدف نسخہ یہی ہے کہ اس ملک کے عوام کی آزادی اور جمہوری حقوق کا تحفظ کیا جائے اور معاشرے سے انتہا پسندی کے تمام عناصر کا قلع قمع ہو۔ ہمسایہ ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کو موضوع بحث بنانے سے پہلے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ پاکستان میں مذہب کے نام پر نہ لوگوں کو تکلیف پہنچائی جائے گی اور نہ ہی مذہب کے نام پر جنگجوئی کرنے، عسکری گروپ بنانے اور ہمسایہ ملک میں عسکریت پسندوں کی اعانت کرنے کا خواب دیکھا جائے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک انٹرویو میں ایک بار پھر انتہا پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ اعلانات اتنے ہی پرانے ہیں جتنے پاکستان پر دراندازی کے الزامات۔ اس لئے اب اعلان کرنے کی بجائے عملی اقدامات کا وقت آگیا ہے۔ پاکستان نے اگر ماضی کی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے اور بقائے باہمی ہی رہنما اصول بن چکاہے تو ماضی میں نفرت، دہشت اور مذہبی عصبیت و جنگجوئی کی علامتوں اور نشانیوں کو ختم کرنے کے قومی کام کا آغاز کرنے میں دیر نہیں ہونی چاہیے۔
کسی ذی ہوش کو اس بات سے اختلاف نہیں ہو سکتا کہ ملک کا دفاع بے حد ضروری ہے۔ لیکن پاکستانیوں کو مل کر اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جنگکیے بغیر ملک کی حفاظت کیسے کی جاسکتی ہے۔

