پاکستان مسلم لیگ نون
30 دسمبر 1906 کو نواب سلیم الملک کے گھر مسلم لیگ کے قیام کی تجویز پیش کی گئی۔ سر آغا خان مسلم لیگ کے پہلے صدر منتخب ہوئے اور بعد میں قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں مملکت خداداد وجود میں آئی۔
قیام پاکستان کے بعد ہر آمر نے اپنی سیاسی بقا کے لئے مسلم لیگ کو توڑنا فرض عین سمجھا اور رفتہ رفتہ اس کے کئی گروپس بنا ڈالے گئے۔ لیکن ماضی قریب سے میاں نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ پاکستان کی مقبول اور سب سے بڑی جماعت بن کے ابھری ہے جس نے تعمیر وطن کا بیڑا اٹھایا ہے۔ مسلم لیگ نون کے بارے میں کچھ لوگ یہ خیال بھی کرتے ہیں کہ یہ ضیاء الحق کی جماعت تھی۔ آئیے تاریخی حوالوں سے دیکھتے ہیں کہ مسلم لیگ نون کب وجود میں آئی اور کیا بطور جماعت مسلم لیگ نون کبھی ضیاء کے تسلط میں رہی یا اس کی سیاسی سوچ کا تسلسل؟
اپنے موضوع کے لئے تمہیدی طور پہ عرض کرتا چلوں کہ وطن عزیز میں ذولفقار علی بھٹو مرحوم اور میاں نواز شریف کے حوالے سے ایک بڑا بھونڈا تبصرہ کیا جاتا ہے ”کہ جی وہ ڈکٹیٹر کی پیداوار تھے“ خصوصا میاں نواز شریف کو تاریخ سے نا بلد لوگ ضیاء الحق یا اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی جانشین کا طعنہ دیتے ہیں۔
آئیے اس تاریخی مغالطے کا ذرا تنقیدی جائزہ لیتے ہیں کہ دونوں احباب عوامی لیڈر کب بنے؟ تھوڑی بہت سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی اس سوال کا جواب یوں دے گا کہ یقینا جب دونوں شخصیات نے عوامی بات کی ہو گی۔ اور یہ عوامی بات یا عوامی سیاست کی ابتدا اب ظاہر ہے انہیں ادوار میں ہوئی جب ڈکٹیٹر برسراقتدار تھے۔ یہ تو کہا نہیں جا سکتا کہ ان دونوں حضرات کو اپنی سیاست شروع کرنے کے لئے ڈکٹیٹروں کی موت یا ان کے حکومتی دور کے خاتمے تک انتظار کرنا چاہیے تھا۔ اب یہاں سے اگے چلئے جمہور کی بات کس نے کی؟ ڈکٹیٹر کے خلاف کون کھڑا ہوا؟ پھانسیوں پہ کون جھولا؟ جلاوطنیاں اور قیدوبند کی صعوبتیں کس نے برداشت کیں؟ خاندان کن لوگوں نے گنوائے؟ یقینا ہر دو ادوار میں بھٹو مرحوم اور میاں نواز شریف نے، کسی ایک سطحی جز کو پکڑ کے تاریخ سے پہلو تہی نہیں کی جا سکتی۔
اب آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف، جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگانے کے چند سال بعد اپنے سیاسی گزارہ کے لئے 1985 میں ایک سیاسی جماعت کی ضرورت محسوس کی تو ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ ہی ڈکٹیٹر کے کام آئی۔ اس مقصد کے لئے جونیجو مرحوم نے مسلم لیگیوں کو اکٹھا کر کے پرو ضیاء مسلم لیگ بنائی تھی۔ جس میں زیادہ تر کنوینشنل مسلم لیگ کے بزرگ تھے اور کچھ قیوم لیگ سے۔ ابھی جنرل ضیاء الحق زندہ ہیں اور ان آخری ایام میں جونیجو مرحوم اور فدا محمد خان دو سیاسی حصوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں اور میاں نواز شریف فدا محمد کے کیمپ میں چلے جاتے ہیں جو بعد میں غلام مصطفی جتوئی کی قیادت میں اسلامی جمہوری اتحاد کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور یہ اتحاد 1993 تک قائم رہتا ہے۔
یہاں ریکارڈ کی درستی کے لئے یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ یہ بات غلط ہے کہ جونیجو مرحوم کو نواز شریف صاحب نے مسلم لیگ جونیجو سے کک آوٹ کیا تھا۔ جب اسلامی جمہوری اتحاد باقاعدہ طور پہ ختم ہوتا ہے تو اس کے بعد میاں نواز شریف نے اپنے ساتھ رہ جانے والے لوگوں کے ساتھ مل کے 1993 میں مسلم لیگ نون کی بنیاد رکھی۔ لہذا یہ بات من گھڑت ہے کہ مسلم لیگ نون دراصل ضیاء الحق کی مسلم لیگ تھی۔ اگر یہ ضیاء مسلم لیگ کا تسلسل ہوتی تو پھر اس وقت اسٹیبلشمنٹ ایڑی چوٹی کا زور غلام مصطفی جتوئی مرحوم کے لئے کیوں لگا رہی تھی؟
لہذا یہ بات ثابت کرتی ہے کہ مسلم لیگ نون کا ضیاء مرحوم کی مسلم لیگ یا ان کی سوچ کے ساتھ کسی طرح کا بھی کوئی سیاسی تعلق نہیں تھا۔ ایک اہم بات یہ بھی یہاں ذہن میں رہے کہ ابھی بھی ملک بھر سے مسلم لیگی بزرگ میاں نواز شریف کے ساتھ چلنے میں ہچکچا رہے تھے جس کی بڑی وجہ وہ سمجھتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ میاں نواز شریف کی پسند نہیں ہیں جس کی عملی تصویر وہ غلام مصطفی جتوئی کی صورت میں دیکھ چکے تھے۔ پس اس ماحول میں ساتھ رہ جانے والے مسلم لیگیوں نے فیصلہ کیا کہ اس صورت حال میں مسلم لیگی کارکنان کو خصوصا پنجاب سے چونکہ میاں نواز شریف نے اکٹھا کیا ہے لہذا نوزائیدہ جماعت انہیں کے نام سے رجسٹرڈ کی جائے گی جو بعد میں اسی مناسبت سے ”نون“ کے لاحقے کے ساتھ مسلم لیگ نون کہلائی۔
مسلم لیگ نون کے سر پہ ایک یہ تہمت بھی دھری جاتی ہے کہ یہ آئی جے آئی ہی کی شکل تھی، اگر بالفرض یہ سچ مان لیا جائے تو پھر مسلم لیگ نون آئی جے آئی کو بچائے رکھتی پھر نئی جماعت کیوں بنتی؟ اگر ضیائی دور کے فلسفے سے متاثر ہوتی تو پھر جونیجو مرحوم کو ہی مضبوط کرتی۔ اور آخری بات اگر مسلم لیگ نون آئی جے آئی کی سوچ سے مطابقت رکھتی تو پھر ملکی سیاست غلام مصطفی جتوئی کے ہاتھ میں ہوتی نا کہ میاں نواز شریف کے پاس۔
مندرجہ بالا چند حقائق کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ نون نے ہمیشہ جمہور اور جمہوریت کی بالادستی کی بات کی ہے نا کہ کسی ڈکٹیٹر کی کاسہ لیس بنی۔ کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ مسلم لیگ نون پرو اسٹیبلشمنٹ جماعت ہے جو کہ سراسر ایک معاندانہ رویہ ہے حالانکہ موجودہ وقت میں بھی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کی کھل کر اگر کوئی جماعت مخالفت کر رہی ہے تو وہ پاکستان مسلم لیگ نون ہی ہے۔


