دفاع ضروری ہے مگر جنگ آپشن نہیں ہے


پاکستان نے عملی طور سے اور اعلان کی صورت میں بھی یہ واضح کردیا گیا ہے کہ اس کی افواج اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لئے مستعد بھی ہیں اور اس میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گی۔ بھارت سے بھی اسی قسم کے اعلانات سامنے آئے ہیں۔ تاہم ایک تو اس قسم کا پالیسی بیان دینے کے بعد اسے دہرانے کی ضرورت صرف اسی وقت پیش آتی ہے جب دشمن کو مرعوب اور اپنے لوگوں کے جذبات کو انگیختہ کرنا مطلوب ہو۔ اس معاملہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کوئی بھی ملک جب ایک بڑی فوج استوار کرتا ہے اور قومی دولت میں سے اس کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں تو کیا اس اقدام سے ہی یہ واضح نہیں ہو جاتا کہ وہ ملک پاکستان ہو، بھارت ہو یا کوئی دوسرا، وہ اپنے دفاع کرنے کی صلاحیت اور ارادے سے مالامال ہے۔

پھر بھی پاک بھارت سیاسی تنازعہ میں جنگ کے اقدام اور باتیں خطے کو مزید مشکل کی طرف لے جانے کے علاوہ کوئی کردارا دا نہیں کرسکتیں۔ لیکن جب ہمسایہ ملک کی سرزمین پر حملہ کیا جارہا ہو یا دشمن کے جہاز گرائے جارہے ہوں تو ماحول میں سنسنی اور ہیجان پیدا ہونا بھی فطری ہے۔ اس وقت پاکستان اور بھارت دونوں ہی اس بحران کا سامنا کررہے ہیں۔

منگل اور بدھ کو پیش آنے والے سانحات نے برصغیر کے افق پر مسلح تصادم کے بادل گہرے کردیے ہیں۔ بدھ کو دو بھارتی فائیٹر جیٹ گرانے اور ایک پائیلٹ کو حراست میں لینے بعد اگرچہ وزیر اعظم عمران خان نے امن و مذاکرات کی بات کی تھی اور جمعرات کو پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے زیر حراست بھارتی پائیلٹ ونگ کمانڈر ابھے نندن کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن خیر سگالی کے اس اظہار کے باوجود بھارت کے ساتھ اعتماد سازی میں کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔

اس وقت امریکہ سمیت متعدد ممالک دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے خطرے کو ٹالنے کے لئے سرگرم ہیں اور انہیں مصالحت اور مفاہمت سے کام لینے کے مشورے دیے جارہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو مثبت پیش رفت کی نوید بھی دی ہے۔ اس کے باوجود بھارت کی سرد مہری اور خاموشی کی وجہ سے یہ اندیشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ نریندرمودی کی حکومت بدھ کو پاکستانی فضائیہ کی کارروائی کے بعد جو شرمندگی محسوس کررہی ہے، اسے ختم کرنے کے لئے کوئی نیا ایڈونچر کرنے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔

بھارت میں اگلے ماہ ہونے والے انتخابات میں کامیابی کے لئے نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو طاقت ور اور پاکستان پر حاوی دکھائی دینا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارتی سیاست میں پاکستان دشمنی کے رجحان کو تقویت ملی ہے۔ انتخابات میں کامیابی کے لئے پاکستان کے خلاف نعرہ کو سیاسی سلوگن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے انتخابات گو کہ اس قسم کی انتہائی سیاسی نعرے بازی سے محفوظ ہیں لیکن معاشرہ میں عام طور سے بھارت دشمنی اور کشمیر کی آزادی کے نام پر جنگ جوئی کا رجحان مضبوط ہے۔ اس لئے رائے عامہ کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا رویہ کم و بیش دونوں ملکوں میں یکساں قوت سے موجود رہا ہے۔

منگل کو بھارت نے اعلان کیا تھا کہ اس کی فضائیہ نے بالاکوٹ کے علاقے میں جیش محمد کے ایک تربیتی کیمپ پر حملہ کرکے ساڑھے تین سو دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے اور پاکستانی فضائیہ اس کے ہوابازوں کا بال بھی بیکا نہیں کرسکی۔ اگرچہ پاک فوج کے ترجمان نے پاکستانی علاقے میں بھارتی طیاروں کی پرواز اور پاک فضائیہ کی طرف سے انہیں بھاگنے پر مجبور کرنے کا مؤقف اختیار کیا تھا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے فوری طور پر قومی و بین الاقوامی میڈیا کے نمائیندوں کو علاقے میں جانے کی سہولت فراہم کی۔

اس طرح یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ انڈین ائیرفورس کے بم ویران علاقے میں گرے تھے اور ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہؤا تھا۔ بھارتی معلومات کے برعکس سامنے آنے والی اطلاعات کے باوجود وہاں کی حکومت اور میڈیا کو پاکستان کو زیر کرنے کا نادر روزگار موقع ضرور ہاتھ آگیا تھا۔ منگل سے بدھ کے دوران چوبیس گھنٹوں میں نریندر مودی سے لے کر عام ٹیلی ویژن اینکر تک نے بھارت کی برتری اور پاکستان کو خاک چٹوانے کی ایسی پر جوش تصویر پیش کی کہ بھارت کے شہریوں کے لئے سچ تلاش کرنا اور اسے تسلیم کرنا ناممکن ہو چکا تھا۔

نریندر مودی کو توقع کے مطابق انتخابات میں مخالف سیاسی پارٹیوں کے الزامات کا جواب دینے کے لئے کافی مسالہ ہاتھ آگیا تھا اور اگر بدھ کو بھارتی فائیٹرز مارے جانے کے علاوہ ابھے نندن کی گرفتاری کا واقعہ رونما نہ ہوتا تو وہ اس وقت بھی مٹھیاں بھینچ کر انتخابی جلسوں میں لوگوں کو یہ بتا رہے ہوتے کہ بھارت ماتا کو ان کی جنگ سنگھی حکمت عملی ہی پاکستان کے ’شر‘ سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ تاہم بدھ کو پاکستانی فائیڑٹرز نے دن کی روشنی میں لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف جاکر بھارتی ٹارگٹس کو ’انگیج‘ کیا اور بھارتی طیاروں کو پیچھا کرنے پر مجبور کردیا۔

اس طرح دو بھارتی طیارے پاکستانی میزائیلوں کی زد پر آکر تباہ ہوگئے۔ ایک طیارے کا ملبہ بھی پاکستان کے زیر انتظام علاقے میں گرا اور اس کا پائیلٹ بھی گرفتار ہو گیا۔ اس طرح بھارت میں جنگ میں کامیابی کا جوش کچھ ماند پڑا۔ اپوزیشن پارٹیوں کو بھی بھارتیہ جنتا پارٹی سے سوال کرنے کا حوصلہ ہؤا اور اکا دکا آوازیں جنگ کی ہولناکیوں سے متنبہ کرنے کے لئے سامنے آنے لگیں۔

پاک فضائیہ کی کارروائی اگرچہ ’دفاع‘ کے نام پر کی گئی تھی اور بھارتی طیارے بھی پاکستان کی ائیر سپیس میں نشانہ بنے تھے لیکن اس کے باوجود بھارتی حکومت کے لئے اس جوابی کارروائی کو برداشت کرنا مشکل ہورہا ہے۔ نریندر مودی نے دشمن کے ارادوں سے خبر دار کرتے ہوئے قومی اتحاد کے نام پر اپنی خجالت کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلکہ مودی نے ان کی حکمت عملی کو سیاست قرار دینے والی ملک کی 21 پارٹیوں کے متوازن بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ سوال بھی داغا ہے کہ ’یہ لوگ بتادیں کہ وہ بھارت کی افواج کے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں اور پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں؟ ‘ مودی اس سے پہلے بھی اپنی حکمت عملی کو چیلنج کرنے والے سیاست دانوں کو پاکستان چلے جانے کا مشورہ دے چکے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali