کشمیر اٹوٹ انگ سے عمران خان کے لئے نوبل امن انعام تک کا سفر
پاک بھارت تنازعہ کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم میں بھارت کی انٹری اور پھر اس کے خلاف قرار داد اور نئی دہلی کی طرف سے کشمیر کو اٹوٹ انگ قرار دینے کی صورت حال میں البتہ یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اگر مذاکرات شروع بھی ہوجائیں تو انہیں کسی نتیجہ تک پہنچنے میں کم از کم ایک نسل کی مدت درکار ہوگی۔ کیوں کہ دونوں ملکوں میں کشمیر کو کشمیری عوام کے حق خود اختیاری سے بڑھ کر قومی وقار کا معاملہ بنا لیا گیا ہے۔
بھارت کا مذاکرات سے گریز دو پہلو لئے ہوئے ہے۔ ایک تو یہ کہ نریندر مودی کی حکومت بہر صورت پاکستان کو معاشی اور سفارتی دباؤ میں رکھنا چاہتی ہے تاکہ اسے مسلسل بحران کا سامنا رہے۔ دوسرے پاکستان کے ساتھ بات چیت کسی بھی سطح اور معاملہ پر ہو، اسے کشمیر کے سوال پر بات کرنا پڑے گی۔ بھارت کے پاس بھی اس بارے میں اٹوٹ انگ جیسے گھڑے ہوئے جواب کے علاوہ کوئی وضاحت موجود نہیں ہے۔ اس لئے بات نہ کرنا ہی بھارتی پوزیشن کو درست ثابت کرنے کا واحد راستہ قرار پاتا ہے۔
پاکستان نے کبھی کشمیر کے سوال پر اقوام متحدہ کی 1948 میں منظور ہونے والی قرار دادوں سے آگے بڑھ کر کوئی مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔ حالانکہ ان 72 برس میں کشمیر میں تیسری نسل جوان ہو رہی ہے اور اپنے وطن کے بارے میں ان کی رائے اور جذبات سات دہائی پہلے اختیارکیے جانے والے مؤقف سے مختلف ہوسکتے ہیں۔ یہ لچک نہ دکھانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مذاکرات کی میز پر لین دین کے لئے زیادہ سے زیادہ گنجائش موجود رہے۔ دونوں ملکوں میں گزشتہ دس برس کے دوران بات چیت سے گریز کی پالیسی اختیار نہ کی جاتی تو صورت حال مختلف ہوسکتی تھی۔
بھارت کشمیر میں نوجوانوں کی بے چینی و ناراضگی اور عوام کی سیاسی رائے کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ نریندر مودی جیسے لیڈر اور بھارتی جنتا پارٹی جیسی سیاسی جماعتیں صورت حال کا سارا بوجھ پاکستان کی طرف سے دراندازی پر ڈال کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مسئلہ کی جڑ تک پہنچ گئے۔ کیوں کہ بھارت میں عمومی رائے کو اس بات پر تیار کرلیا گیا ہے کہ پاکستان کی مداخلت کی وجہ سے ہی کشمیر میں خوں ریزی ہورہی ہے۔ وہاں کے عوام کی اکثریت کشمیر میں بھارتی فوج کے انسانیت سوز رویہ اور کشمیریوں کے حقوق سلب کرنے کی پالیسی کی کمزوریاں دیکھنے اور سمجھنے پر آمادہ نہیں ہے۔
اس طرح بزعم خویش دنیا کی سب سے بڑی جمہوری حکومت اور اس کے عوام، کشمیر یوں کو وہی بنیادی حق دینے سے انکار کرتے ہیں جس کی بنا پر بھارت کو سب سے بڑی جمہوریت کہا جاتا ہے۔ اس پہلو پر غور کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کہ جمہوریت صرف اپنی آزادی کا نام ہی نہیں ہوتا بلکہ ہمہ قسم لوگوں کے حق رائے کے لئے آواز اٹھانا بھی جمہوریت ہی کا سبق ہے۔
پاکستان اس دوران بھارت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لئے انتہا پسند عناصر کے خلاف قومی ایکشن پلان کے تحت کارروائی کرنے کا بار بار اعلان کررہا ہے۔ جماعت الدعوۃ، انسانیت فاؤنڈیشن اور جیش محمد کے خلاف اقدامات کسی حد تک بھارت کو یہ باور کروانے کے لئے کیے گئے ہیں کہ اگر وہ مذاکرات پر آمادہ ہو تو پاکستان ایک قدم آگے بڑھانے کے لئے تیار ہے۔ البتہ پاکستان کو بھارت کی عالمی سفارتی حیثیت، اس کے ساتھ وابستہ دنیا کے متعدد ممالک کے مفادات اور اس خطے میں امریکہ کے اسٹریجک پارٹنر کے طور پر اس کی حیثیت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ تصادم سے گریز پاکستان اور بھارت دونوں کی ضرورت ہے۔ لیکن پاکستان کو اب بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا۔ بھارت کے مقابلے میں عالمی رائے کو ساتھ لے کر چلنا آسان نہیں ہوگا۔
آزادی کشمیر کو اب سفارتی اور سیاسی کوششوں تک محدود کرنا پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔ کشمیریوں کی تازہ ترین جد و جہد نے واضح کیا ہے کہ وہ بھارت سے ٹکرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کی زیادہ پرجوش حمایت بھی ان کی منزل کھوٹی کرسکتی ہے۔ اہل پاکستان کو یہ کڑوا سچ بھی تسلیم کرلینا چاہیے کہ مسلمان صرف کشمیر میں ہی استبداد کا شکار نہیں ہیں۔ مسئلہ کشمیر کو تو مسلمانوں کا معاملہ ایک خاص فکر اور سیاسی مقصد سے بنایا گیا تھا۔
کشمیری جدوجہد بھی فلسطینی تحریک آزادی کی طرح مسلمانوں کے حق کی لڑائی نہیں بلکہ ایک قوم کی شناخت اور آزاد حیثیت کا سوال ہے۔ مسلمان تو بھارت کے علاوہ چین، برما اور متعدد دوسرے ملکوں میں بھی حکومتوں کے عتاب کا شکار ہیں۔ لیکن ان کی ہمدردی میں اہل پاکستان کی طرف سے بھی کم ہی آواز سننے کو ملتی ہے جبکہ کشمیر کے لئے ہر پاکستانی قربان ہونے کو تیار ہے۔
تنازعہ، تصادم اور جنگ سے بچنے کے لئے نوبل امن انعام کی امید کرنے والے عمران خان اور ان کے حامیوں کو اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔

