ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے والیدنیا کی پہلی معذور لڑکی ارونیما سنہا
یہ واقعہ بارہ اپریل 2011 کا ہے جب چوبیس سالہ ارونیما سنہا (Arunima Sinha) جو قومی سطح پہ کھیلنے والی والی بال کی چیمپئین بھی تھی، اپنی ملازمت کے امتحان کے سلسلے میں لکھنو سے دلی جانے والی ایک ٹرین میں سوار ہوئی۔ لیکن اس کو علم نہیں تھا کہ اس سفر میں اس کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا امتحان درپیش ہو گا۔ ایک ایسا حادثہ جو اس کی تمام تر ہمتوں اور حوصلوں کو چیلنج کرے گا۔ ہوا یہ کہ رات کے وقت چار پانچ غنڈہ نما چوروں نے اس کے گلے میں پڑی سونے کی زنجیر چھیننے کی کوشش کی۔
ارونیما نے بہادری سے مزاحمت کی تو ایک نوجوان نے اس کے پیٹ پر لات مار کر اسے چلتی ٹرین سے باہر اچھال دیا۔ جہاں وہ دوسری جانب کے ٹریک پر تیز رفتار دوڑتی ٹرین سے ٹکرائی۔ اس حادثے میں اس کی بائیں ٹانگ ٹرین کے نیچے آ گئی اور سیدھی ٹانگ کی ہڈی بھی چور چور ہو گئی۔ اس پوری رات وہ دو ٹریکوں کے بیچ کراہتی رہی۔ ریلوے کے ریکارڈ کے مطابق اس سات گھنٹے کی طویل رات میں 49 ٹرینیں گزریں۔ صبح کو مقامی دیہاتیوں نے اسے دیکھا جو ٹریک کو ”عوامی ٹوائیلٹ“ کے طور پہ استعمال کرتے تھے۔
اس طرح ارونیما بریلی ڈسٹرکٹ کے مقامی ہسپتال پہنچائی گئی۔ گنگرین (زہرِ بادی) کے پیش نظر فوری طور پہ آپریشن ضروری تھا۔ مگر بدقسمتی سے ہسپتال میں اس وقت بے ہوشی کے انتظام کی سہولت نہیں تھی۔ آنکھیں بند مگر پورے ہوش و حواس میں ارونیما نے عملہ کی گفتگو سنتے ہوئے کہا۔ ”مجھے ہوش میں ہی آپریٹ کر دو۔ “ لہذا بغیر بے ہوش کیے اس کی ٹانگ کو گھٹنے سے کاٹ دیا گیا۔
ارونیما نے کہا کہ وہ آج بھی اس درد کو محسوس کرتی ہے۔ اس سرجری کے بعد اسے اٹھارہ اپریل کو دلی کے (AMEI:All India Institute of Medical Services) میں داخل کر دیا گیا۔ جہاں وہ چار ماہ داخل رہی۔ اب وہ ایک ٹانگ سے محروم تھی۔ جبکہ دوسری میں روڈ لگی ہوئی تھی۔
گوکہ ارونیما لکھنو سے قریب ایک قصبہ امبیڈ کرنگر (Ambedkar Nagar) کے متوسط گھرانے میں 20 جولائی 1988 کو پیدا ہوئی۔ اس کے والد جو کہ فوج میں انجینئر تھے ان کا انتقال اس وقت ہوا جب ارونیما تین برس کی تھی اور والدہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں سپروائزر تھیں۔ مگر ارونیما کی پہچان بحیثیت قومی والی بال کھلاڑی کے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس دوران پورے میڈیا میں اس حادثے کی خبر پھیل گئی اور اس کے علاج معالجہ میں مالی سہولت بھی فراہم کی گئی مگر ہسپتال میں اسے مختلف کلمات اور الزامات کابھی سامنا کرنا پڑا۔
مثلا یہ کہ ”اس سے شادی کون کرے گا؟ یا“ اس کے پاس ٹکٹ نہ تھا اور اپنے دفاع میں پولیس کا یہ الزام کہ وہ خود کشی کر رہی تھی۔ ”ظاہر ہے کہ یہ الزامات غلط ثابت ہوئے مگر ہسپتال کے بستر پہ ہی ارونیما نے خود سے یہ وعدہ کیا کہ وہ ان سبھوں کو غلط ثابت کرے گی اور دنیا میں وہ کارنامہ انجام دے گی جو اب تک کسی نے نہ کیا ہو یعنی وہ دنیا کے سب سے اونچے پہاڑ ایورسٹ کی چوٹی ( 8848 میٹر) کو فتح کرے گی اور اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لئے وہ اپنی کمزوری کو اپنی طاقت بنائے گی۔ لوگوں نے اسے پاگل قرار دیا۔ مگر اس کے جنون میں کمی نہیں آئی۔ پھر اگلے اٹھارہ ماہ وہ مستقل کوہ پیمائی کی مشق کرتی رہی۔ اس سلسلے میں اس نے پہلے بچانڈارا پال سے رابطہ قائم کیا۔ جو 1985 میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون تھی۔
بچانڈرا پال نے اس کی ہمت سے متاثر ہوتے ہوئے کہا ”اپنے اندر تو تم نے ایورسٹ پہلے ہی فتح کر لیا ہے۔ اب تو صرف دنیا کو دکھانا ہے۔ “ ارونیما نے بچانڈارا کی زیرتربیت نہرو انسٹی ٹیوٹ آف ماؤنٹیرنگ سے تربیت لی۔ خوش قسمتی سے اسے کچھ اداروں سے مالی تعاون یا اسپانسر شپ بھی حاصل ہوئی اور یوں مشق کا وہ صبر آزما دوارنیہ شروع ہوا کہ جس میں نہ کوئی اتوار تھا نہ دیوالی اور نہ ہی ہولی کا تہوار۔ ”اسکے سامنے اپنے ہدف (goal) کے آگے کچھ بھی نہ تھا۔
ایورسٹ سر کرتے وقت ایسے مقامات بھی آئے کہ جہاں پہاڑ پر چوڑے فاصلے تھے اور سوائے جمپ کرنے کے کوئی چارہ نہ تھا۔ ایک چھوٹی سی غلطی بھی اس کی جان لے سکتی تھی۔ جگہ جگہ اس کا مصنوعی پیر ہل جاتا اور خون نکلنے لگتا۔ چوٹی کے مقام سے اس کی آکسیجن ختم ہونے لگی تو واپس لوٹ جانے کا مشورہ بھی دیا گیا۔ لیکن اس نے ہار نہیں مانی اور آخر کار ایورسٹ چوٹی پہ ہندوستان کا جھنڈا گاڑ کے ہی دم لیا۔ باوجود تھکاوٹ اور آکسیجن کی کمی کے باعث جانپی بنی ہونے کے اس نے بصد اصرار تصویر اور ویڈیو بھی بنوائی۔ اسنے کہا ”وہاں پہنچ کر میں جو کہ ایک معذور مڈل کلاس لڑکی ہوں چلا چلا کر بتانا چاہتی تھی کہ آپ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ آدمی معذور اپنی سوچ سے ہوتا ہے۔ “
ارونیما نے 21 مئی 2013 کو باون دن کے بعد اپنے جنونی مشن کو ختم کیا۔ واپسی کا سفر بہت ہی مشکل تھا۔ عموما زیادہ تر اموات اترتے وقت ہی ہوتی ہیں۔ ارونیما کی آکسیجن ختم ہو چکی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ گر پڑی مگر بقول اس کے ابھی اوپر والے کی لسٹ میں میرا نام نہیں تھا۔ ”
لہذا حسن اتفاق سے کچھ برطانوی کوہ پیما اپنا دورہ ملتوی کر کے واپس لوٹ رہے تھے۔ ان کے پاس فاضل آکسیجن ٹینک تھا۔ جو عین اس سمے ارونیما کو ملا جب وہ اس کی کمی کی وجہ سے گر پڑی تھی۔ اس سلسلے میں اس کا کہنا ہے کہ ” قسمت بھی اسی کا ساتھ دیتی ہے کہ جس میں جینے کا جذبہ ہو۔ باقی تو سب بہانے ہیں۔ ۔ “ واپسی میں اس کا مصنوعی پیر نکل گیا۔ منفی 60 درجۂ حرارت پہ اس کے ہاتھوں کی رنگت بدلنے اور حرکت ختم ہونے لگی۔ یہ وہ وقت تھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔ مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔ اپنی کوہ پیمائی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا اورمصنوعی ( جدا ہوئے ) پیر کو دوسری ٹانگ سے دھکیلتی رہی۔ راستے میں واپسی پر اکثر لوگوں نے اسے حیرت سے دیکھا کیونکہ وہ اس کی تسخیر کی نہیں موت کی خبر کے متوقع تھے۔
ایورسٹ کو فتح کرنا ہی ارونیما کا ہدف (goal) نہیں تھا۔ اس نے مزید چھ براعظموں کے بلند ترین پہاڑوں کو سر کرنے کوبھی ہدف (goal) بنایا تھا۔ لہذا اس نے 2014 میں افریقہ کے تنزانیہ میں واقع پہاڑ کالی منجرف (Kilimanjaro) ، یورپ میں ماؤنٹ البرز، آسٹریلیا میں کوسینزکو (Kosciuszko) ، ارجنٹینا میں اکن کاگوا (Aconcagua) اور انڈونیشیا میں کارٹونوز پیپرمڈ (Carstensz Pyramid) کو سر کیا۔ جبکہ اس سال چار جنوری 2017 کو اس نے انٹارکٹیکا میں ماؤنٹ ونسن (Mount Vinson) کو بھی سر کرایاہے۔
اسی محنت، جراتمندی کے اعتراف میں ارومینا کو بہت سے ایوارڈز بشمول انڈیا کاچوتھابڑا شہری اعزاز پدما شری ایوارڈ ( 2015 ) سے بھی نوازا گیا۔ پچھلے سال یو کے کی یونیورسٹی آف اسٹرتھ کلاینڈ نے اس کی صلاحیتوں اعتراف میں ماسکو میں پی ایچ ڈی کی ڈگری پیش کی گئی۔
اپنے اعزازات اور میڈلز کے سلسلے میں ملنے والی رقم سے ارومینا ہندوستان میں غریب اور معذور بچوں کے لئے مفت اسپورٹس اکیڈمی قائم کر رہی ہیں۔
ارومینیا نے مختلف اوقات میں کچھ اہم جملے کہے۔ مثلا
٭ سب سے بڑی موٹیویشن (motivation) یا تحریک آپ خود ہیں۔ جس دن آپ نے سوچا آپ کر گزریں گے۔
٭ انسان معذور اپنی سوچ سے ہے۔
٭ جیسا ہم سوچتے ہیں ہمارا جسم اسی طرح عمل کرتا ہے۔ ، ”
ارومینا کی شاندار کامیابی نے ثابت کیا کہ وہ حرف با حرف درست ہے۔

