ہندو بزدل نہیں ہوتا


اشوک ہلاک ہوا، اشوک مرگیا، اشوک شہید ہوا۔ کیا لکھتا میں، آج! اگر میں کسی پاکستانی اخبار کا مدیر ہوتا۔

جب کوئی گھبرو پاکستانی سپاہی دشمن کی چلائی ہوئی گولی سینے پر کھاتا ہے، جب اسے جھٹکا لگتا ہے، جب موت اسے گرانا چاہتی ہے۔ تو وہ گرنے سے انکار کرتا ہے۔ کیونکہ اسے یقین نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ ساتھ لڑنے والے دوسرے سپاہی محفوظ ہیں۔ کیونکہ وہ یقینی بنانا چاہتا ہے۔ کہ اسے اچانک گرتا دیکھ کر دشمن آگے نہ بڑھے اور جن ماؤں بہنوں کی عزتیں بچانے وہ گھر سے نکلا تھا۔ دشمن ان پر کوئی بری نظر نہ ڈالے۔ اس لیے وہ گرتا نہیں۔

صرف ایک گھٹنے کے بل بیٹھ جاتا ہے۔ اپنی بندوق کا سہارا لے کر کھڑا ہونے کا ڈرامہ کرتا ہے۔ اس وقت تک جب تک کہ کوئی دوسرا اس کی جگہ نہیں لیتا۔ وہ کھڑا ہوتا ہے، کھڑا ہوتا نظر آتا ہے۔ کیونکہ موت کے سامنے کھڑا ہونا ہی اصل کھڑا ہونا ہے۔ سپاہی کو موت گرا ہی نہیں سکتی۔ سپاہی تو تب گرتا ہے جب اسے اپنے گرا دیتے ہیں، دل سے نظروں سے۔

اشوک بھی ایک ایسا ہی بہادر اور بدنصیب سپاہی تھا۔ جس کی عزت اور مقام نہ اس کی قوم کے دل میں تھی نہ نظروں میں، تاریخ کے اوراق میں تھی نہ نصاب کی نفرت بھری کتابوں میں۔ ہماری ایک ہی ماں ہوتی ہے لیکن ہندو اپنی جنم دینے والی ماں کے ساتھ ساتھ، اپنی دھرتی کو بھی ماں مانتے ہیں اور اپنی ماں جیسی مان سمان دیتے ہیں۔ اشوک کو بچپن میں ہی احساس دلا دیا گیا ہوگا۔ کہ وہ ایک مکار اور ملک دشمن قوم کا بیٹا ہے۔ وہی مکار قوم جنہوں نے کبھی بھی تہہ دل سے ہمارے ملک کو تسلیم نہیں کیا۔

سکول اور کالج کی کتابوں میں بار بار پڑھا ہوگا۔ کہ ہندوستان میں دو قومیں رہتی ہیں۔ جس میں ایک نیک، ایماندار، پارسا، بہادر اور سادہ دل ہے۔ جبکہ دوسری بے ایمان، دھوکے باز، مکار، چاپلوس اور ناقابل اعتبار ہے۔ جس نے اول الذکر سادہ دل قوم پر بار بار ظلم کیے ہیں، ان کے ساتھ جنگیں لڑی ہیں۔ اشوک نے کئی بار سوچا ہوگا کہ 1857 سے پہلے مسلمانوں کی حکومت تھی ہندو ان کے غلام تھے۔ اس کے بعد حکومت انگریز نے قبضہ کی، ہندو مسلمان دونوں انگریز کے غلام بنے 14 اگست 1947 کو مسلمانوں کو آزادی ملی اور ایک دن بعد یعنی 15 اگست کو ہندوؤں کو آزادی ملی۔

جب ہندوؤں نے ان مسلمانوں پر کبھی حکومت کی ہی نہیں تو پھرظلم کب کیے؟ اس نے اپنی ماتا پتا سے ضرور پوچھا ہوگا۔ کہ ہم مکار بے ایمان اور دھوکہ باز کیوں ہیں اپنے مسلمان ہمسایوں جیسے ایمان دار، صاف دل اور زبان کے پکے کیوں نہیں؟ ماں باپ نے سمجھایا ہوگا کہ بیٹا یہ تو ستر سالہ پرانے سیاسی نعرے ہیں۔ جو کانگریس اور مسلم لیگ والے الگ کرنے کے لئے لگاتے تھے۔ ہندو یا مسلمان مذہب کا کوئی بنیادی عقیدہ نہیں۔ ہم اسی زمین کے بیٹے بیٹیاں ہیں، کوئی مہاجر نہیں۔

باقیوں نے اس زمین کے لئے ہجرت کی ہوگی یا یہاں پیدا ہوئے ہیں ہم یہاں پیدا بھی ہوئے ہیں اور موقع ملنے کے باوجود اس ملک میں رہنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اشوک نے ضرور سوال کیا ہوگا کہ دودھ میں پانی، دال میں کنکر، پتی میں چنے کا چھلکا ملانے والے اور مسلمان بچوں کو دو نمبر کی ٹافیاں اور بیماریوں کو دو نمبر کی دوائیاں ہمسائے بیچتے ہیں اور بے ایمان ہم ہیں۔ پھر وہ ضرور ڈگمگایا ہوگا۔ کہ وہ تو مکے جاکر آب زمزم پی لیتے ہیں اور کعبے کے چکر لگا کر لوگوں کو دیے ہوئے چکر معاف کروا چکے ہوں گے۔ ایماندار جو ٹھہرے۔ لیکن گھر میں ضرور کسی نے دلاسا دیا ہوگا۔ کہ ہم ملاوٹ نہیں کرتے ملاوٹ شدہ اشیاء استعمال کرنے والے ہیں۔ ملک کو لوٹنے والوں کی فہرست میں ہم غیرمسلموں کے نام کہیں نہیں۔ اس نے بھگوان کا شکریہ ادا کیا ہوگا کہ بے ایمانوں کی واحد حقیقی فہرست میں ان کا نام نہیں۔

جب گھر والوں نے فوج میں بھرتی ہونے کا مشورہ دیا ہوگا۔ وہ سہم گیا ہوگا۔ کہ ہندو تو بزدل ہوتے ہیں۔ بہادروں کی فوج میں ایک بزدل ہندو کیسے بھرتی ہوگا؟ بوڑھے باپ نے اسے حوصلہ دیا ہوگا، کہ ہندو تو کھشتری، گورکھا راجپوت اور مرہٹے ہوتے ہیں۔ جنگ پر نکلنے سے پہلے اپنی بیوی بچوں کو قتل کرنے والے راجپوت، جو جنگ کے لئے صفیں بناتے تو اپنی پگڑی سے اپنا پیر دوسرے راجپوت کے ساتھ اور یا زمین میں گڑے ہوئے کھونٹے کے ساتھ لگی زنجیر کے ساتھ باندھتے تاکہ جنگ کی سختی میں بشری کمزوری کی بنا پر پیچھے نہ ہٹ سکے۔ تب اشوک کو فوج میں جانے کا اعتماد ملا ہوگا۔ بزدل اور بہادر ہر قوم، ملک اور مذہب میں پائے جاتے ہیں۔

فوجی وردی میں سج کر اس نے ضرور اپنے آپ کو خوابوں خیالوں میں ایک راجپوت سورما کی شکل میں دیکھا ہوگا۔ جو جنگ پر جانے سے پہلے اپنی بیوی، ماں یا بہن کے ہاتھوں اپنی ارتھی اترواتا ہے۔ اس نے ضرور ماتھے پر ٹیکہ لگوایا ہوگا۔

محاذ پر نکلنے سے پہلے بھگوان کی سوگند کھائی ہوگی۔ میدان میں اترنے سے پہلے دھرتی ماں کی مٹھی بھر مٹی چہرے پر ملی ہوگی۔ حملہ کرتے ہوئے، نعرہ حیدری کے ساتھ ساتھ دشمن نے ایک آواز ہرہرمہادیو کی بھی سنی ہوگی۔ جب سینے پر اس نے پہلی گولی کھائی ہوگی۔ اسے جھٹکا ضرور لگا ہوگا۔ لیکن گرنے سے اپنے اپ کو بچایا ہوگا۔ تاکہ دشمن اسے کمزور سمجھ کر آگے نہ بڑھ سکے۔ وہ گھٹنے کے بل بیٹھا ہوگا۔ تاکہ اس کا ساتھی سپاہی اس کی جگہ لے سکے۔

تاکہ دشمن کو اگے بڑھنے کا حوصلہ نہ ملے۔ جب مورچے میں بیٹھے اس کے ساتھی، محمد علی نے دیر لگائی ہوگی۔ تو اس نے خون سے تر اپنے سینے پر ہاتھ پھیر کر وہی ہاتھ، محمد علی کو دکھانا چاہا ہوگا۔ کہ دیکھ علی مجھے سچی گولی لگی ہے لیکن دشمن مجھے گرا نہیں سکا ہے۔ لیکن محمد علی کو دیکھ کر اس کی آنکھیں پتھرا گئیں۔ کیونکہ اس کے سینے سے نکلنے والا خون اس کے بھاری فوجی بوٹوں سے ہوتا ہوا محمد علی کے سر سے بہنے والے خون میں شامل ہو رہا تھا۔

جب کمک پہنچی، تو ساتھی سپاہی اشوک کی پھٹی پھٹی کھلی آنکھیں دیکھ کر حیراں ہوئے۔ کہ اشوک کی انکھیں اتنی کھلی اور حیرت زدہ کیوں ہیں؟ کیا نظارہ مرتے مرتے اس نے دیکھا کہ موت بھول گیا؟ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ اشوک کسی ڈر کے مارے کھلی آنکھوں کے ساتھ نہیں مرا۔ بلکہ اس کی حیرانی کی وجہ یہ تھی کہ علی اور اشوک دونوں کا خون یک رنگ تھا دونوں کو مارنے والا دشمن بھی ایک تھا۔ کوئی بھی ان کے بہتے ہوئے خون کی الگ الگ پہچان نہیں کرسکتا تھا، نہ جدا کرسکتا تھا۔

یہاں تک کہ جس دھرتی ماں پر دونوں قربان ہوئے تھے وہ بھی فرق کرنے سے قاصر تھی کہ علی اور اشوک کے خون میں کیا فرق ہے۔ دونوں اسی دھرتی کے سپوت تھے۔ اور دونوں نے ملکر بیرونی دشمن کے ساتھ ساتھ اندرونی نفرتیں پھیلانے والے جنگ کے سوداگروں اور سیاست کو مذہب سمجھانے اور سمجھنے والی فرسودہ بیمار ذہنیت کو شکست دی تھی۔

اگر میں کسی پاکستانی اخبار کا مدیر ہوتا، تو آج بڑی مصیبت میں ہوتا۔ کیونکہ خبر بناتے ہوئے میں کیا لکھتا؟ کہ اشوک مرگیا، اشوک ہلاک ہوا یا اشوک، دھرتی ماں کا بہادر سپوتر، سینے پر دشمن کی گولی کھا کر علی کے شانہ بشانہ شہید ہوگیا۔

Facebook Comments HS

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 140 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani