جنگ کے اندیشے اور انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کے اقدامات


پاکستان کی حکومت کا یہ رویہ قابل تحسین ہے کہ اس کی طرف سے بدھ کو دو بھارتی طیارے گرانے کا کارنامہ سرانجام دینے کے باوجود اسے ’کامیابی‘ قرار دینے کا ڈھول نہیں پیٹا بلکہ ان واقعات کو بھول کر آگے بڑھنے اور مذاکرات کے ذریعے اختلافی معاملات طے کرنے کی پیشکش دہرائی ہے۔  اس کے برعکس بھارت میں نریندر مودی اپنی حکمت عملی کے علاوہ سرکاری جھوٹ اور نا اہلی پر سوال اٹھانے والوں کو ملک کا غدار قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں۔  اسی پر مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کی سابق حلیف محبوبہ مفتی نے سوال کیا ہے کہ ’ائیر فورس کی کامیابی یا اس کے بارے میں کیے گئے دعوؤں کے بارے میں سوال پوچھنا کیسے ملک دشمنی کہا جاسکتا ہے؟ ‘

بھارت اس کے برعکس سوال کرنے والوں کو ملک دشمن قرار دے کر اور بالاکوٹ حملہ کی حقیقت جاننے کی کوشش کرنے والوں کو مسترد کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔  اس سلسلہ کی تازہ ترین کوشش بھارتی فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل بریندر سنگھ دھناؤ کی طرف سے کی گئی ہے جو کہتے ہیں کہ ’ہماری فضائیہ نے ہدف حاصل کرلیا تھا۔ اس میں مارے جانے والے لوگوں کو گننا ہمارا کام نہیں ہے‘ ۔  یہ معصومانہ سا جواب ہے لیکن بھارت میں رائے عامہ کو گمراہ کرنے میں ان ہتھکنڈوں کو نہایت چالاکی وعیاری سے استعمال کیا جارہا ہے۔

 نریندر مودی کے لئے اگلے ماہ ہونے والا انتخاب، ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔  وہ اپنی فضائیہ اور پروپیگنڈا مشینری کو استعمال کرتے ہوئے 26 فروری کے حملہ کو انتخاب جیتنے کے لئے ترپ کے پتے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔  لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ جوں جوں عالمی ذرائع سے بھارت کے جھوٹ کی حقیقت سامنے آرہی ہے ملک کے اندر سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور انتخاب میں بھارتی جنتا پارٹی کی کامیابی کا امکان بھی کم ہورہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ابھی تک پاکستان کے ساتھ کسی بڑے تصادم کا خطرہ کم نہیں ہؤا ہے۔  نریندر مودی نے پاکستان کے ہر مثبت قدم کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے مسترد کیا ہے۔  حتیٰ کہ وزیر اعظم عمران خان نے جب فون پر بات کرنے کی کوشش کی تو اس سے بھی انکار کردیا گیا۔ فی الوقت مصالحت کے تمام راستے مسدود ہیں۔  اگرچہ امریکہ اور دیگر ملکوں کی مداخلت کی وجہ سے فوری جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے لیکن اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ انتخاب سے پہلے بھارت کی طرف سے پھر کوئی مہم جوئی ہوسکتی ہے۔  اسی لئے مسلح افواج مستعد ہیں اور حکومت انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کا بار بار اعلان کرکے عالمی رائے کو یقین دلانا چاہتی ہے کہ پاکستان ایسے عناصر کو پناہ نہیں دے گا جو بھارت یا کسی دوسرے ملک میں کارروائی کرنے میں ملوث ہوں۔

خطے میں البتہ حالات اس نہج پر پہنچے ہوئے ہیں کہ پاکستان کا ہر مثبت قدم بھی بھارت کی کامیابی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔  اور اسے مودی کے سخت گیر رویہ کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے۔  انتہا پسندی کے خلاف اقدام کرنا پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے اور اسی طرح وہ اقوام عالم میں سرخرو بھی ہو سکتا ہے۔  لیکن ایک ایسے وقت میں ان کا تواتر سے اعلان اور اقدامات پاکستان کی شہرت کے لئے منفی پہلو بھی لئے ہوئے ہیں۔  یوں بھی تنظیموں پر دیر سے پابندی اور ان کے اثاثے ضبط کرنے کے اقدامات بھارت کی اس شکایت کا مداوا نہیں ہیں کہ بعض نامزد افراد اس کے ملک میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

یہ بات اگرچہ درست ہے کہ بھارت 14 فروری کو ہونے والے پلوامہ سانحہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا لیکن ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں کے بارے میں پاکستانی عناصر کے ملوث ہونے کو پوری دنیا مانتی ہے۔  یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ملک نے بھارت کے اس الزام کو مسترد نہیں کیا کہ پلوامہ حملہ میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔  بلکہ امریکہ نے تو اس کا جواب دینے کو بھارت کا ’حق دفاع‘ قرار دیا تھا۔ امریکہ کو اپنی یہ پوزیشن گزشتہ ہفتہ بھارتی فضائیہ کی ہزیمت اور پاک فضائیہ کی کامیابی کے بعد پیدا ہونے والے جنگ کے خطرہ کی وجہ سے تبدیل کرنا پڑی۔

پاکستان کی نیت اور ارادے نیک ہوسکتے ہیں۔  گزشتہ ہفتہ کے واقعات میں وہ سرخرو بھی ہؤا ہے لیکن قومی سطح پر پائی جانے والی گرم جوشی اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتی کہ سفارتی لحاظ سے پاکستان تنہائی کا شکار ہے۔  بھارت کو اب بھی مظلوم اور متاثرہ فریق مانا جاتا ہے۔  او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں مہمان خصوصی کے طور پر بھارتی وزیر خارجہ کی شرکت اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔  پاکستان اب بھی فضا میں جیتی ہوئی بازی سفارتی میدان میں ہار سکتا ہے۔  اس سے نمٹنے کے لئے ملک میں سیاسی یک جہتی کے علاوہ انتہا پسندی کے بارے میں اقدامات کا واضح روڈ میپ سامنے لانے کی ضرورت ہے۔  فی الوقت پاکستان یہ دونوں کام کرنے میں ناکام ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali