جنگ کے اندیشے اور انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کے اقدامات


حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے انتہا پسند یا دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں اور افراد کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔  آج جاری ہونے والے حکم میں ایسے گروہوں اور لوگوں کے اثاثے اور املاک سرکاری تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔  حکومت کی طرف سے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کے ساتھ کشیدگی بدستور عروج پر ہے اور جنگ کے بادل برصغیر پر منڈلا رہے ہیں۔  پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نے کہا ہے کہ ’مشکل وقت ابھی ختم نہیں ہوا۔

 ہمیں اب بھی دشمن کی جانب سے کسی بھی جارحیت کا بھرپورجواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا ہو گا‘ ۔  ملکی فضائیہ کے سربراہ نے یہ انتباہ ایک ایسے وقت دیا ہے جب گزشتہ ہفتہ کے دوران بھارتی حکومت پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانے کے بعد اب اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔  حکومت کا فیصلہ اور ائیر چیف مارشل کا انتباہ موجودہ حالات کے تناظر میں بے حد اہمیت رکھتے ہیں۔

پاکستان نے گزشتہ ہفتہ کے دوران منگل اور بدھ کو ہونے والی فضائی جھڑپوں کے بعد مسلسل امن کی بات کی ہے۔  وزیر اعظم عمران خان نے یک طرفہ خیر سگالی کے اظہار کے طور پر حراست میں لئے گئے بھارتی ونگ کمانڈر ابھے نندن کو رہا کرنے کا اعلان کیا اور جمعہ کے روز انہیں واہگہ پر بھارتی حکام کے حوالے بھی کردیا گیا۔ بھارتی حکومت نے وزیر اعظم اور فوج کے ترجمان کی طرف سے مفاہمانہ گفتگو اور امن کی خواہش کے اظہار کے بعد زیر حراست ہواباز کو عجلت میں رہا کرنے کے اقدام کو پاکستان کی نیک نیتی اور ہمسائیگی کے اچھے تعلقات استوار کرنے کی خواہش کے طور پر قبول نہیں کیا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ بھارت سے پاکستان کے پیغام امن پر کسی قسم کا کوئی مثبت جواب سامنے نہیں آیا ہے۔

اس کے برعکس بھارتی وزیر خارجہ سوشما سوراج نے دو روز قبل ابوظہبی میں اسلامی تعاون کانفرنس میں شرکت کا موقع ملنے پر پاکستان کے خلاف زہر آلود اور الزام تراشیوں سے بھرپور تقریر کی۔ حالانکہ اسلامی تنظیم کے قیام کے پچاس برس کے دوران بھارت مسلسل اس ادارے کا رکن بننے یا مبصر کا درجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔  اگرچہ اسے ابھی بھی ان میں سے کوئی حیثیت حاصل نہیں ہوئی بلکہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے میزبان ملک کا استحقاق استعمال کرتے ہوئے سوشما سوراج کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا تھا۔

بھارتی وزیر خارجہ اس موقع پر دنیا بھر میں آباد مسلمانوں کے حقوق کے لئے کام کرنے یا اس خواہش کا اظہار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ وہ بھی باقی اسلامی ملکوں کے ساتھ مل کر ان مقاصد کے لئے کام کرنے کا خواہش مند ہے جن کے لئے او آئی سی قائم کی گئی تھی۔ وہ بھارت میں آباد کثیر مسلمان آبادی کی بہبود اور دیکھ بھال کے لئے کیے جانے والے اقدامات کا ذکر بھی کر سکتی تھیں۔  اس طرح بھارت کا یہ مقدمہ مضبوط ہوتا کہ وہ بھی مسلمان ملکوں کی پریشانی اور تشویش کا حصہ دار ہے اور ان کے ساتھ مل کر مشترکہ مقاصد کے لئے کام کرنا چاہتا ہے۔  تاہم ایک تو بھارتی حکومت کے پاس اپنے ملک کی اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے کوئی اچھا ریکارڈ نہیں ہے۔  وہاں پر گائے کا گوشت کھانے یا اسے فروخت کرنے کا الزام لگا کر اب بھی مسلمانوں کو ہلاک کرنے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے جن سنگھی مزاج رکھنے والے نریندر مودی کی قیادت میں ملک کی سیکولر شناخت کو مسخ کرنے اور اختلاف رائے پر تشدد کا نشانہ بنانے کے چلن کو عام کیا ہے۔  اس کا مظاہرہ گزشتہ روز کرناٹک کے ایک انجینئرنگ کالج میں بھی دیکھنے میں آیا جہاں ایک پروفیسر کو حکومت کی جنگ جوئی کے خلاف فیس بک پوسٹ لگانے کے ’جرم‘ میں انتہا پسند گروہ نے گھٹنوں کے بل معافی مانگنے پر مجبور کیا اور کالج کی انتظامیہ یا پولیس نے کسی بھی قسم کی کارروائی کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

 بلکہ اب کالج کی انتظامیہ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ اختلاف رائے کے ’جرم‘ میں اس پروفیسر کو ملازمت سے نکالا جائے۔  بھارتیہ جنتا پارٹی کی مقامی قیادت نے اس سانحہ پر شرمندگی محسوس کرنے کی بجائے اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔  بی جے پی رہنما وویک ریڈی کا کہنا تھا کہ ’پروفیسر نے بحران کی صورتحال میں ہماری فوج کے لیے ہمارے عوام کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔  آپ کچھ بھی پاکستان کے حق میں نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی کچھ ایسا کرسکتے ہیں جس سے بھارت کی غلط تصویر پیش ہو‘ ۔

حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ اس وقت نریندر مودی اور ان کے مٹھی بھر انتہا پسند ساتھی بھارت کی غلط تصویر پیش کرنے میں پیش پیش ہیں۔  وہ پاکستان کی طرف سے امن کو خوف قرار دیتے ہیں اور خیرسگالی کے پیغام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے دباؤ کی وجہ سے ونگ کمانڈر ابھے نندن کو رہا کیا ہے۔  نئی دہلی سرکار ملک کے انتہا پسند اور یک طرفہ و گمراہ کن تصویر دکھانے والے میڈیا کے تعاون سے ابھے نندن کو قومی ہیرو بنا کر پیش کررہی ہے تاکہ عوام تک یہ پیغام پہنچایا جاسکے کہ بھارت نے پاکستان پر برتری حاصل کی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali