جنگی جنون، جاوید اختر کا ٹویٹ اور واجپائی کی نظم
پلوامہ واقعہ کیا ہوا، بھارت اور پاکستان کے امن پسندعوام کا ایک بار پھر فن اور آرٹ کے سرحدوں سے ماورا ہونے پر یقین متزلزل ہو گیا۔ اب واجپائی کی نظم ’ جنگ نہ ہونے دیں گے‘ حقیقت کا روپ دھارنے کے بجائے محض شاعر کا ایک خواب نظر آ رہی ہے اور جاوید اختر کے ٹویٹ کے بعد کراچی میں کیفی اعظمی کی یاد میں ہونے والی صد سالہ تقریب ہی ملتوی نہیں ہوئی امن اور بھائی چارے کی خواہش بھی التوا کا شکار ہو گئی۔
پلوامہ واقعہ کے بعد پہلے تو دونوں ملکوں کے درمیان لفظی جنگ کا آغاز ہوا، پھر سچ مچ جنگ چھیڑنے کی باتیں ہونے لگیں اور پھر نوبت امن کی فاختہ کو فی الواقع زخمی کرنے تک پہنچ گئی۔ بھارت نے فضائی حملہ کرتے ہوئے صوبہ کے پی میں بم گرا دئیے، اگلے روز پاکستان نے دوبارہ پاکستانی حدود میں آنے والے دو بھارتی جنگی طیارے مار گرائے۔ یہ جنگ آگے چلے نہ چلے، میڈیا پر جنگ جاری ہے اور دونوں ملکوں کے عوام جنگی جنون میں ہونے مبتلا ہو رہے ہیں، سڑکوں پر افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، نعرے لگائے جا رہے ہیں، پرانے جنگی ترانوں کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔ ایسے حالات میں موسیقار نئی دھنوں کو ترتیب دینے کے چکرمیں ہوتے ہیں اورمغنی حب الوطنی کے جذبے سے لبریز گائیکی کے لئے ٹی وی چینلوں پر مواقع ملنے کے ا نتظار میں بیٹھ جاتے ہیں کہ کب جنگ چھڑے، لوگ ان کے گیت سنیں اور ان کا کوئی نیا البم ریلیز ہو۔ خط تنصیف کے اس پار بھی عوامی جذبات یقیناً کچھ مختلف نہیں ہوں گے۔
پلوامہ واقعہ کے بعد نوجوت سنگھ سدھو کو انتہائی مقبول کامیڈی شو’دی کپل شرما شو‘ سے امن کی بات کرنے پر الگ کر دیا گیا ہے۔ وہ اس شو کی جان تھا اور ہنستے ہنستے تھکتا ہی نہیں تھا۔ یہ وہی نوجوت سنگھ ہے جو وزیراعظم عمران خان کا دوست ہے اور جسے کرتار پور راہداری کھلوانے کا کریڈٹ بھی دیا جاتا ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس ایسی بھی آئی ہیں کہ بی جے پی کے ایک رہنما راجہ سنگھ نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ثانیہ مرزا سے ریاست تلنگانا کی خیر سگالی سفیر کا اعزاز واپس لے لیا جائے۔ وہی ثانیہ مرزا جسے پاکستانی کرکٹرشعیب ملک بھارت سے بیاہ کر لائے۔ بات جب جنگی جنون کی ہوتو پھر۔۔۔ مجھ پہ آئی کہاں ٹلی ہے ابھی۔
بھارتی اداکار سلمان خان نے پاکستانی گلوکارعاطف اسلم کو اپنی فلم ’نوٹ بک‘ کے لئے گانے سے روک دیا ہے، فلم انڈسٹری میں پاکستانی اداکاروں، گلوکاروں اور ٹیکنیشئنز کے کام کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے، پاکستانی اداکاروں سے طے شدہ معاہدے ختم کیے جارہے ہیں اور پلوامہ حملے کے بعدآل انڈیا سینما ورکرز ایسوسی ایشن نے پاکستانی فنکاروں اور اداکاروں پر مکمل پابندی لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔
اجے دیوگن نے بھی اس مہم میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے ٹویٹر پر اعلان کیا ہے کہ ’ٹوٹل دھمال‘ کو پاکستان میں ریلیز نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان میں بھارتی چینلز بند ہیں اور یہاں کے عوام ٹی وی پر بھارتی فلمیں اور ڈرامے دیکھنے سے قاصر ہیں۔ یہی حال بھارت میں بھی ہے۔ پاکستانی ٹی وی چینلز پر پابندی کی وجہ سے وہاں کے عوام ہمارے مقبول ڈراموں کونہیں دیکھ پا رہے۔ ایک خبر آئی ہے کہ لاہور اور سرگودھا کے کیبل آپریٹرز نے بھارتی فلمیں اور ڈرامے نہ دکھانے کا اعلان کیا ہے۔ چینلز بند ہونے کا معاملہ نیا نہیں، ایسا پہلے کئی بار ہوا، اڑی واقعہ پر بھی ایسا ہو چکا ہے۔

نامور بھارتی شاعر اور فلموں کے سکرپٹ رائٹر جاوید اختر کو اپنی اہلیہ شبانہ اعظمی کے ہمراہ 23 اور 24 فروری کو کیفی اعظمی کی یاد میں صد سالہ تقریب میں شرکت کیلئے کراچی پہنچنا تھا مگر پلوامہ واقعہ ہو گیا اور بذریعہ ٹویٹ نہ آنے کی اطلاع دے دی۔ منتظمین اور فن و ادب سے وابستہ نہ جانے کتنے پاکستانیوں میں مایوسی پھیل گئی۔ جاوید اختر نے اپنے ٹویٹ میں 1965 کی جنگ کے بارے میں لکھی گئی کیفی اعظمی کی ایک نظم ’اور پھر کرشن نے ارجن سے کہا‘ کا حوالہ بھی دے دیا جس میں شاعرنے کہا تھا کہ ہم امن پسند ضرور ہیں مگراس صورت حال میں ہمدردیاں اپنے ملک بھارت کے ساتھ ہی ہیں۔ اب ذرا ایک لمحے کیلئے اس نظم کو موجودہ صورت حال پر منطبق کر کے دیکھیں تو بات کی تفہیم میں اور آسانی پیدا ہوگی۔
اٹل بہاری واجپائی بھارت کے وزیر اعظم ہی نہیں، شاعر بھی تھے۔ 1998 میں جب دوستی بس پر سوار واہگہ بارڈر کے ذریعے لاہور آئے تو ان کا اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نےمثالی استقبال کیا۔ واجپائی نےگورنر ہاؤس میں شاندار تاریخی تقریر کی۔ ’لاہورڈیکلیریشن‘ جاری ہوا جس میں مسئلہ کشمیر سمیت دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ، کمرشل اور ثقافتی تعلقات بڑھانے کا خصوصی ذکر ہوا۔ یہ بھی کہا گیا کہ دونوں ممالک لڑائی سے گریز کریں گے۔ یاد پڑتا ہے کہ واجپائی کے وفد میں آرٹ اور فلم سے وابستہ اہم شخصیات بھی شامل تھیں۔ اداکار دیو آنند کچھ وقت نکال کر اپنے مادر علمی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور گئے۔ گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی سجدہ ریز ہو گئے اور سب سے پہلے کالج کی مٹی کو بوسہ دیا۔ اندر گھومے پھرے، اپنے کلاس رومز دیکھے، لان دیکھے جہاں بیٹھا کرتے تھے اور خوب جذباتی ہوئے۔ پلوامہ واقعہ جیسے سانحات افراد کو ان کی اپنی مٹی کی خوشبو سونگھنے سے روک دیا کرتے ہیں۔
واجپائی نے گورنر ہاؤس میں اپنی نظم ’ہم جنگ نہ ہونے دیں گے‘ بھی سنائی۔ اس نظم کی چند سطریں دیکھئے:
وشو شانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے
کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی
کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل اگے گی
آسمان پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا
ایٹم سے ناگا ساکی پھر نہیں جلے گا
واجپائی آگے چل کراپنی نظم کا اختتام یوں کرتے ہیں:
بھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہنا ہے
پیار کریں یا وار کریں دونوں کو ہی سہنا ہے
تین بار لڑ چکے لڑائی، کتنا مہنگا سودا
روسی بم ہو یا امریکی، خون ایک ہی بہنا ہے
جو ہم پر گزری بچوں کے ہم سنگ نہ ہونے دیں گے
ہم جنگ نہ ہونے دیں گے
واجپائی کی امن کی خواہش کو کوئی عملی صورت میں ڈھال کر واقعتاً تسلسل سے آگے لے کر چل رہا ہوتا تو آج جاوید اختر کو ٹویٹ نہ کرنا پڑتا اور لوگوں کو یہ پوچھنے کی بھی ضرورت نہ پڑتی کہ کیا واقعی آرٹ اور فنون لطیفہ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔


