کیا ونگ کمانڈر ابھینندن دوبارہ پرواز کریں گے؟ انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ
شیو ایرور، انڈیا ٹوڈے۔ نئی دہلی
اب ونگ کمانڈر ابھینندن واپس، محفوظ اور زندہ ہیں، اور ہزاروں ہندوستانیوں کا سوال ہے کہ یہ ہیرو پائلٹ پھر کبھی پرواز کرے گا یا نہیں؟ پورے ملک کی خواہش ہے کہ ونگ کمانڈر ابھینندن دوبارہ آسمانوں کا رخ کریں۔
جب انہوں نے لائن آف کنٹرول کے سندربنی سیکٹر سے 27 فروری کی صبح اپنے جہاز کی ایجیکشن سیٹ کے بٹن کو دبایا تو ونگ کمانڈر ابھینندن نے اس واقعے کا ایک سلسلہ شروع کیا جس کے نتیجے میں چند منٹ بعد پاکستان کی فوج نے ان کو گرفتار کر لیا۔
ایجیکشن ہینڈل کھینچنے کے بعد پہلے جہاز کی کینوپی کے ساتھ لگا دھماکہ خیز مواد پھٹا جس نے کینوپی کو مگ 21 جہاز کے فریم سے دور پھینک دیا اور چند لمحات کے لئے سوویت یونین کے زمانے کے جہاز کو کھلی چھت والی ایک اڑن گاڑی میں تبدیل کر دیا۔
چند سیکنڈ کے بعد، سیٹ کی نیچے لگے راکٹ چل گئے جنہوں نے کاک پٹ میں بیٹھے پائلٹ کو بجلی کی سی سرعت سے باہر اچھال دیا۔ اتنی تیزی سے کہ اس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے تو بچ جائے لیکن وہ نہایت تیز رفتار سے حرکت کرتے جہاز کی دم سے نہ ٹکرائے۔
جہاز سے دور ہونے کے بعد سیٹ ابھینندن سے الگ ہو گئی اور گھومتی ہوئی نیچے جا گری۔ اس کے اوپر ایک پیراشوٹ کھل گیا جس نے اس کے نیچے گرنے کی رفتار کو کم کر دیا اور اسے دشمن کے علاقے میں آہستگی سے اتار دیا۔ اگلے لمحات میں کیا ہوا، یہ وہ بات ہے جس نے پورے انڈیا کو اگلے اڑتالیس گھنٹوں کے لئے مبہوت کیے رکھا۔
لیکن اب ابھینندن واپس آ گیا ہے، محفوظ اور زندہ ہے، ہزاروں کی تعداد میں ہندوستانیوں کے ذہن میں یہ سوال مچل رہا ہے کہ ہیرو پائلٹ پھر کبھی پرواز کرے گا یا نہیں؟ اگر آپ بھی یہی سوچ رہے ہوں تو، نہیں۔ یہ ایک سادہ یا براہ راست جواب نہیں ہے۔
جیسا کہ ابھینندن دہلی کے آرمی ہسپتال میں طبی امتحانات سے فارغ ہو چکے ہیں، اس رپورٹ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پائلٹ میں ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصے میں چوٹ آئی ہے اور ایک پسلی ٹوٹ گئی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی حیرت انگیز نہیں ہے۔
جہاز میں سے ایجیکٹ ہونے والے تین میں سے ایک پائلٹ کو ریڑھ کی ہڈی میں کمپریشن فریکچر کا سامنا کرتا ہے۔ یہ اچانک اور دھماکہ خیز مواد کی قوت کا ایک ناگزیر نتیجہ ہے جس کے ساتھ وہ کاکپیٹ سے باہر پھینکا جاتا ہے، اکثر اوقات یہ قوت ”پچیس تیس جی“ کی ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں، فضائی معرکے کے دوران پائلٹس عام طور پر انتہائی خطرناک اور تیز حرکات میں بھی 9 جی سے زیادہ قوت کا سامنا نہیں کرتے ہیں۔
پسلی کا ٹوٹنا یا تو زمین پر چوٹیں کھانے کا نتیجہ ہو سکتا ہے یا ایجیکشن کے دوران اس کی پوزیشن سے۔ ٹوٹے ہوئے انگوٹھے، پسلیاں یا نرم ٹشو کے زخم ان حالات میں غیر معمولی نہیں ہیں۔ ابھینندن کے جسم کے کئی حصوں میں خراشیں آئیں۔ ایک بار پھر، یہ غیر معمولی نہیں ہیں۔ کاک پٹ سے باہر نکلتے ہوئے تیز ہوا کے تھپیڑے ایسی بیرونی چوٹیں لگا سکتے ہیں جو جلنے کے نشان سے مشابہ ہوتی ہیں۔
جب ایک پوری قوم اس گرفتاری کے نتیجے میں مبہوت ہو کر بیٹھ گئی تو تقریباً ہر ایک نے دیکھا تھا کہ گزشتہ ہفتے واہگہ اٹاری بارڈر سے واپسی کے دوران ابھینندن کی کمر تیر کی طرح سیدھی تھی۔ یہ فوری طور پر ظاہر نہیں ہوا تھا کہ اسے چوٹیں لگی ہوئی تھیں، جن مین ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ بھی شامل تھی جو عام طور پر نہایت تکلیف دہ ہوتی ہے۔
رپورٹوں میں آیا ہے کہ ان کے پاکستانی قید کرنے والوں نے انہیں نیند سے محروم کر کے انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کی، تاہم جسم پر کسی بھی قسم کے تشدد کا نشان نہیں ہے۔ ونگ کمانڈر ابھینندن دوبارہ ایک لڑاکا جہاز میں پرواز کریں گے یا نہیں، یہ ان کے زخموں کی نوعیت پر منحصر ہے اور اس بات پر کہ کیا ان زخموں کا علاج کیا جا سکتا ہے۔
جبکہ ایک لڑاکا جہاز سے دوسرا ایجیکشن ایک پائلٹ پر بھی زیادہ نقصان دہ اثرات چھوڑ سکتا ہے جو پہلے ہی ایک بار شدید دباؤ کا سامنا کر چکا ہے۔ لیکن اس کے بعد دوبارہ پرواز کرنا غیر معمولی نہیں ہے۔
انڈین ائیر فورس کے پاس بھی ایسے پائلٹ بھی ہیں جنہوں نے دو مرتبہ ایجیکٹ کیا ہے۔ انڈین ائیر فورس کے پائلٹ ونگ کمانڈر سدھاتھ منج، اب ایک ایئر لائن پائلٹ ہیں۔ انہوں نے پچھلے پانچ برس میں دو مرتبہ اپنے فائٹر سے ایجیکٹ کیا، اور دونوں مرتبہ یہ فائٹر سخوئی 30 جیٹ تھا۔
2012 میں انڈین ائیر فورس کے 59 سالہ ایئر مارشل انیل چوپڑا نے میراج 2000 سے مدھیہ پردیش میں چمبل کے علاقے میں چھلانگ لگائی۔ وہ ایجیکٹ کرنے والے معمر ترین افسر تھے۔
ایئر مارشل چوپڑا نے اس تجربے کے بارے میں لکھا کہ ”ایجیکشن ہینڈل کو کھینچنا ایک مشکل فیصلہ ہے۔ کاک پٹ کے آرام اور تحفظ نے بہت سے ہوابازوں کو زمین سے ٹکرایا ہے۔ انسٹھ سال سے زیادہ عمر میں ایجیکٹ کرنے کے اپنے معاملات ہیں۔ اس عمر میں ریڑھ کی ہڈی اور گردن سب سے زیادہ کمزور پوائنٹ ہوتے ہیں۔ میری پوری توجہ اس عمر میں جسم کے دو بہت اہم حصوں کو بچانے کے لئے ایک خاص پوزیشن اختیار کرنے پر مرکوز تھی۔“
”ہینڈل کھِینچنے سے پیراشوٹ کھلنے کے عمل میں پورے دو اعشاریہ چھے سیکنڈ لگے۔ اس وقت یہ اتنی طویل مدت محسوس ہوتی ہے جو کبھی ختم نہ ہو گی۔ میں نے کینوپی کے سامنے کے کارٹرج کو فائر ہو کر شیشہ توڑتے دیکھا۔ اس کے بعد میری سیٹ کے نیچے موجود راکٹ فائر ہوئے اور میں ہوش کھو بیٹھا۔ اس دوران مجھے اپنے جسم پر دھکیلے والی قوتوں کا شدید دباؤ محسوس ہوا۔ میں نے بڑی تعداد میں کارٹریجوں اور راکٹوں کے ترتیب وار فائر ہونے کی آوازیں سنیں۔ میری بند آنکھوں میں پھلجھڑیاں سی چلتی دکھائی دے رہی تھیں۔ پھر اچانک ہر طرف خاموشی چھا گئی۔“
دفاعی صحافی کے طور پر مجھے چھے مرتبہ فائٹر جہاز میں پرواز کرنے کا موقع ملا ہے۔ 2007 ء سے میں نے بوئنگ ایف 18 سپر ہورنیٹ، روسی مگ 35، ایف سولہ فالکن، ساب گرپن ڈی، داسال رافیل اور پچھلے دنوں 2019 کے ایرو انڈیا شو میں بھارتی لائٹ جنگی جہاز تیجا میں سفر کیا ہے۔
ان مواقع میں سے ہر ایک پر، پرواز سے پہلے کے طریقہ کار میں لازمی طور پر ایجیکشن کے طریقہ کار پر ایک مفصل بریفنگ شامل تھی۔ سول پروازوں کے برعکس، جہاں کیبن کے عملے نے ان سے پہلے ’ممکنہ طور پر‘ جیسے الفاظ کے ساتھ ابتدائی طور پر ہنگامی حالتوں کے امکان کو نرم کر دیا ہے، میری لڑاکا پروازوں پر، ایجیکشن کے لئے ہدایات میں ہمیشہ اس بات کی یاد دہانی کرائی جاتی ہیں کہ یہ ایک سنجیدہ امکان ہے۔
ہر پائلٹ جس کے ساتھ میں نے پرواز کی، نے مجھے تفصیل سے سیٹ کو ایجیکٹ کرنے کا عمل سمجھایا۔ ان میں سے ایک نے مجھے سپاٹ چہرے کے ساتھ پرخلوص انداز میں بتایا کہ اگر وہ تین مرتبہ ایجیکٹ کا لفظ ادا کرے یا مجھے حتمی طور پر یقین ہو کہ وہ اپنی سیٹ پر ہی مر چکا ہے یا کسی وجہ سے ہوش کھو بیٹھا ہے تو میں فوراً ایجیکشن ہینڈل کھینچ دوں۔
مجھے خوشی ہے کہ میں نے کبھی ایجیکٹ نہیں کیا۔ لیکن اگر میں کبھی بھی کرتا ہوں، تو میں اس چیک لسٹ کو کبھی نہیں بھولوں گا۔
فائٹر پائلٹس کے ساتھ اپنا کیرئیر گزارنے کے بعد اور ان کے ساتھ پرواز کرنے کے بعد میں یہ جانتا ہوں کہ ابھینندن کو اس سے بڑی کوئی خواہش نہیں ہو گی کہ وہ دوبارہ پرواز کرنے کے لئے فٹ قرار دے دیا جائے۔


