ہم سب اُمید سے ہیں کا اُلٹا کاکروچ


ہرروز کی طرح آج بھی صبح آفس میں آتے ہی اپنے ٹیبل پر چسپاں سٹوری لاینز کے آئیڈیاز کو کھنگالنے لگا، باس کے آنے سے پہلے پہلے کچھ خرافات تیار کرلی جائیں، یہ لاہور کے ڈی ایچ اے کے بلاک v کی ایک شاندار بلڈنگ تھی جس میں روزانہ کی بنیاد پر سیکڑوں آئیڈیاز اُس وقت کے کامیاب ترین کامیڈی پروگرام ”ہم سب اُمید سے ہیں“ کی نذر ہوتے تھے اور اُس سے دوگنی تعداد میں ٹھکراے جاتے تھے کیونکہ ان میں کچھ نئی بات ہے جسے شاید لوگ ہضم نہیں کر پائیں گے۔

میرا کمرا گراونڈ فلور پر باس کے کمرے کے ساتھ تھا یوں کمرے میں چار عدد کمپیوٹر ایک ایل سی ڈی جس کا ریموٹ قارون کے خزانے کی طرح چھپا کر رکھنا پڑتا تھا، ایک اے سی جو ٹھنڈی ہوا سے زیادہ پانی پھینکتا تھا کسی بوڑھے شخص کی مانند جو دانتوں سے مکمل محروم ہو چکا ہو اس کے علاوہ چار کرسیاں اور میز موجود تھے ایک فون ایکسٹنشن جس کی آواَز مجھے تو قیامت کے روز پھونکنے جانے والے صور کی آواز جیسی سنائی دیتی تھی جسے سن کر مردے بھی اپنی قبروں سے اٗٹھ کھڑے ہو اپنے نامہ عمال ہاتھوں میں لیے، اور یہ اس لیے بھی لگتا تھا کہ جب جب یہ فون ایک زور دار آواز میں چیختا ہمیں اپنے اپنے عمال ناموں کے ہمراہ پیش ہونا پڑتا تھا اس کے علاوہ ایک عدد سر پر تلوار کی طرح لٹکتا کیمرہ جو ہمارے سر کھجانے سے لے کر ہمارے جسم کے اندر ہونے والی ہل چل کی پل پل خبر دیتا تھا۔

دن کا آغاز ہمیشہ کی طرح پہلے آییڈیاز کے ریجیکٹ ہونے سے ہوا میں اور میرا کلاس فیلو جو کہ بدقسمتی سے اب میرا کولیگ بھی تھا تنویر احمد کمرے میں موجود تھے ہمارے کمرے کے اندر موجود اٹیچ باتھ کو سٹور روم بنا دیا گیا تھا اور کمرے کے دوسرے جانب شیشے کے ایک دروازے کے باہر ڈیزل کا سٹاک رکھا گیا تھا جس کے بالکل ساتھ ہی جنریٹرز رکھے ہوئے تھے یہ سب چیزیں کبھی ہماری توجہ کام سے بھٹکانے میں کامیاب نہیں ہو پائی، لیکن آج ناجانے کہاں سے ایک بھولا بھٹکا کاکروچ ہمارے کمرے میں گھس آیا تھا اور اس قید میں ہمیں دیکھ کر بے چینی اور ڈر سے مسلسل راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش میں دیوار سے ٹکرارہا تھا، میں چونکہ ایک بار کال سینٹر کی نوکری کے دوران کاکروچ کو سموسے میں کھاتے کھاتے بچ گیا تھا اس لیے مجھے وہ زندہ کاکروچ کچھ خاص نا بھایا لیکن تنویر نے اپنے 9 نمبر جوگر کو اتار کر اس کے ساتھ شکار کھیلنے میں دلچسپی دکھائی اور تقریباً 25 منٹ تک ناکام نشانے باندھنے کے بعد تنویر تھک کر بیٹھ گیا کاکروچ اے سی کے کھلے منہ کے اندر گھسنے میں کامیاب ہوگیا تھا لیکن یہ کامیابی زیادہ دیر تک قائم نہ رہی اور پانی کے قطروں کے ساتھ زمین پر آگرا جیسے بھارتی جہاز زمین پر گرا ہوگا۔ آواز میں اُتنی گونج نا تھی، یہ کاکروچ اپنا ایک پر تڑوا کر اُلٹا زمین پر پڑا تھا۔

اتنے میں عامر جو ہماری طرح رائٹر بننے کا خواب لے کر یہاں کام کر رہا تھا، کمرے میں داخل ہوا عامر نے ہم دونوں انسانوں کو چھوڑ کر اس کاکروچ میں دلچسپی دکھائی اور اُسے مار کر اپنے اوپر کچھ لمحہ قبل ہونے والے کریٹیو حملوں کا بدلا اس زخمی اور معزور کاکروچ کوکچل کر لینا چاہا جسے تنویر نے یہ کہ کر روک دیا کہ اس کی سزا یہی ہے کہ اسے ہمارے ساتھ اس کمرے میں زندہ رہنا ہوگا اور اسی حالت میں جہاں یہ اڑنا نہ سہی، چلنے کی قوت تو رکھتا ہے مگر چل نہیں سکتا۔ کچھ لمحے پہلے جب وہ کمرے میں داخل ہوا تھا اپنی طاقت جلال اور پرواز سے ہمیں حقیر سمجھ کر نچا رہا تھا، میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی بے بسی اور تکلیف سے نظریں نہ ہٹا پا رہا تھا، وہ اپنے اینٹینا ہلاتا تو یوں معلوم ہوتا کے دونوں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ رہا ہے اور کہ رہا ہے کہ بس ایک بار سہارا دے کر چاہے پیروں کی ٹھوکر ہی سے سہی میری تقدیر پلٹ دو، اے سی کا گرتا ہوا پانی اس کے گرد جمع ہو رہا تھا کمرے میں صفائی کرنے کے لیے ملازم معمول سے تھوڑا لیٹ آیا تھا تنویر نے اسے دیکھتے ہی کاکروچ کو ہٹانے سے منع کردیا، جب سویپر کمرے میں صفائی کرنے لگا تو پل بھر کے لیے زمین پر کونے میں پڑے اس لال بیگ کی آنکھیں خوف اور خوشی کی ملی جلی کیفیت سے چمک اُٹھی جیسے سزائے موت کا قیدی جو برسوں سے معافی کا طلب گار ہو پھانسی کے دن جیلر کو جیل کا دروازہ کھولنے دیکھ کر ہوتا ہے۔

مجھے فرنز کافکا کی کہانی میٹامورفوسس یاد آگئی جہاں ایک شخص رات کو سونے کے بعد اگلے دن کیڑا بن جاتا ہے اور خود کو کمرے میں قید کرلیتا یے تاکہ دنیا سے سچ چھپا سکے کہ وہ اب کسی کام کا نہیں رہا، گھر نہیں چلا سکتا بہن اور ماں باپ کا سہارا نہیں رہا بلکہ اب وہ ایک بوجھ بن چکا ہے اور پھر یہ ہی بوجھ اس کی جان لے لیتا ہے۔

ایک پل کے لیے مجھے وہ کاکروچ اپنے جیسا لگا، جسے آزادی چاہیے تھی، چلنے کی طاقت بھی تھی پھر سے اُڑنے کا حوصلہ بھی لیکن وقت نے ایسے گرا دیا تھا کہ خود کو سیدھا کھڑا کرنے میں زندگی گزرجاتی، وہ یقیناً اپنے گھر والوں کا سوچ کر ہاتھ پاؤں مارتا ہوگا، جب اُسے ذمہ داری یاد آتی ہوگی، وہ اپنی آواز میں پکارتا اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی پر چیختا چلاتا، اور میں اگلے ہی لمحے اُسکی تقدیر لکھنے اور بدلنے والے خدا کی طرح اُس کی بے بسی اور لاچاری پر خوش ہوتا سارا دن پلٹ پلٹ کر اُسے دیکھتا رہا، اور اپنے ساتھ ہونے والی زندگی کی تمام نا انصافیوں اور ظلم کا بدلہ لیتا۔

جب یہ احساس ہوتا کہ میں کسی کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرسکتا ہو اُسکی تقدیر بدل سکتا ہوں اُسے ازادی یا قید میں رکھنا میرا فیصلہ ہے تو انسایت پر ہونے والے تمام مظالم، تکالیف اور آزمائشیں مجھے اوپر والے کی خوشی کا بہانہ لگتی۔ اُس لمحے میں میں خود کو رکھ کر دیکھتا تو خدا کا ہر فیصلہ مجھے درست لگتا جب ہر اختیار میرے پاس ہے میں کسی کو جوابدہ نہیں توپھر کیا اچھا کیا برا، مجھے اپنے اُس فیصلے پر جو تنویر کے ساتھ مل کر کیا تھا کبھی ندامت ہوتی تو کبھی فخر ہوتا کہ جسے ایٹم بم بھی نہیں مار سکتا اُسے میری مسکراہٹ مار دے گی، لیکن وہ ڈھیٹ نا جانے کون سی اُمید باندھے بیٹھا تھا کس روشنی نے اُسے یہ حوصلہ عطا کیا تھا کہ ہر طرف سے نوچے جانے کے بعد بھی ابھی تک وہ ہمت قائم رکھے ہوئے تھا

اُسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ اگر وہ غلطی سے میرے ساتھ والے کمرے میں چلا جاتا تو اب تک سینکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم ہوجاتا، اور اس کی وجہ سے کمرے کی صفائی پھر سے کرنی پڑتی اور باس کو بھی گھر کا چکر لگا کر آنا پڑتا۔ پر ایسا کچھ نہ ہوا تھا اور وہ ابھی تک زندہ تھا لیکن جیسے جیسے دن ڈھلتا گیا اُسکی اُمید میں کمی آتی گئی، زندگی بھی اُسی زندہ کا ساتھ دیتی ہے جو زندگی جینے کے لیے ہر بار گر کر چوٹ کھا کر ٹوٹ کر پھر سے کھڑا ہونا جانتا ہے ورنہ موت بھی اس زندہ کے ساتھ آنکھ مچولی کرتی کرتی اُسے بکھیرنے لگنتی ہے، خیر رات جب میں کمرے سے لائٹس آف کرنے لگا تو میری آخری بار نظر اُس بے بس پر پڑی جسے اب چونٹیاں نوچ نوچ کر کھا رہی تھی اور اُسکی زندگی میں روشنی کا فاصلہ اتنا ہی تھا جتنا میرے ہاتھ اور بٹن کا جسے دباتے ہی کمرے میں اور اُس کاکروچ کی زندگی میں اندھیرا ہوگیا۔ اور یہ روشنیوں بھری زندگی ایک شاندار بنگلے کے کمرے میں ہم سب اُمید سے ہیں کی نذر ہوگئی۔

Facebook Comments HS