نہ جنگ کی تمنا، نہ راہِ فرار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”آپ کس سے جنگ لڑنا چاہتے ہیں۔ آپ ان سے جنگی اقدام کر رہے ہیں، جن کا پختہ عقیدہ ہے کہ اگر وہ مرتے ہیں، توشہید ہوں گے۔ بلکہ ان کی زندگی ہی موت کے بعد شروع ہوتی ہے۔ گویا ایک طرف وہ ہیں جن کی موت ہی زندگی ہے، جو مرنا ہی اپنی حیات سمجھتے ہیں۔ ۔ اور دوسری طرف وہ جو مرنا نہیں چاہتے۔ یعنی ایک طرف وہ مرنے کو تیار اور دوسری طرف وہ جو مرنے سے فرار، اب ذرا سوچیں! کہ یہ کیسا مقابلہ ہے؟ کیا ان سے جنگ بے وقوفی نہیں؟ “
ایک صحافی نے انڈین اینکر پرسن کے ایک سوال پر یوں لب کشائی کی۔

تجزیانہ طور پر ان باتوں کو ذرا دلجمعی کے ساتھ سوچیں کہ، ان باتوں میں کس حد تک سچائی ہے کہ، کیا واقعی جنگ کرنا بے وقوفانہ حرکت ہوگی؟ جی ہاں!
جس قوم کی حیات موت سے شروع ہو، اس کو مارنے کی دھمکی دینا، بے وقوفی نہیں تو اور کیا ہے؟

جن کے رب کا فرمان یہ ہو کہ ”جو اللہ کے راستے میں مارے جائیں، ان کو مردہ مت کہو، وہ تو زندہ ہیں“ ان کو موت دکھلانا حماقت نہیں تو اور کیا ہے؟
جن کے نبی کا فرمان یہ ہو ”الجنۃ تحت ظلال السیوف“، ”کہ جنت تو تلواروں کے سائے تلے ہے“ ان پر دھاوا بولنا احمقانہ حرکت نہیں تو اور کیا ہے؟

نبی علیہ السلام نے فرمایا! ”تم دشمن سے ملاقات کی تمنا مت کرو، بلکہ عافیت مانگو، اور صبر سے کام لو، (اگر دشمن تمھارے صبر کو نہ سمجھے، اور دست درازی کرتا رہے، تو اس صورت میں ) اگر ملاقات کی نوبت آجائے تو (یاد رکھنا) جنت تلواروں کے سائے تلے ہے“۔

اس حدیث کو اگر موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو کچھ یوں سمجھنے کا موقع ملتا ہے کہ، حدیث میں ابتدائی تعلیمات وہ امن خواہی ہے کہ ہر ممکن امن کا راستہ اختیار کیاجائے۔ ہمارے موجودہ وزیر اعظم ”جناب عمران خان صاحب“ اور ”افواج پاکستان“ اس موقع پر لائق تعریف اور لائق تحسین ہیں، جو موجودہ حالات میں، دشمنوں کی مسلسل پھنکار اور دھمکیوں کے باوجود، امن کا اعلان کرتے رہے، اور ہر ممکن خطہ کے امن کے داعی بنے رہے، اور دشمنوں کی زبانی یلغار کو صبر کے ہتھیار سے پست کرتے رہے۔ ۔ لیکن جب دشمن نے ترچھی نگاہ ڈال کر ڈرانے کی کوشش کی، اور خطہ کے امن کو سبوتاز کرنے کا ارادہ کر ہی لیا، تو افواج پاکستان نے بھی اپنے نبی کے فرمان ”الجنۃ تحت ظلال السیوف“ کا عملی مظاہرہ کرکے، دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ بتادیا کہ ہمارے صبر کو ہماری کمزوری نہ سمجھو!

لگتا یوں ہے کہ دشمن ہماری نسبت کو بھلا بیٹھا ہے، کہ ہماری نسبت اس محمد عربی سے ہے جن کی تمنا یہ تھی کہ (اللہ کے نبی نے فرمایا ) ”میری خواہش یہ ہے کہ میں اللہ کے راستے میں شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں۔ “

اگر دشمن ہمارا ماضی بھلا بیٹھا ہے، تو جان لے ہمارا ماضی وہ ہے، جو غزوۂ بدر سے شروع ہو کر فتح مکہ کے راستے سے ہوتا ہوا، غزوۂ تبوک پر جاکر ختم ہوتا ہے۔

گزشتہ کل پارلیمنٹ کے ایک مشترکہ اجلاس میں ”جناب عمران خان صاحب“ نے اپنے دو ٹوک پیغام میں کہا! کہ ”دشمن ہمارے صبر کو کمزوری نہ سمجھے۔ ماضی میں دو بادشاہ گزرے ہیں ؛ایک بہادر شاہ ظفر اور دوسرا ٹیپو سلطان، اس ملک کا ہر فرد ٹیپو سلطان ہے“۔

دشمن کو یہ بخوبی جان لینا چاہیے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی، تو یہ کبھی نہ سوچنا کہ لاکھوں کی فوج سے مقابلہ ہے بس۔ نہیں! اس ملک کا ہر فرد جو زندگی کی کسی بھی عمر میں سانس لے رہا ہو، وہ تمھارے سامنے کھڑا ہوگا، تمھاری جنگ اس وطن کے ہر فرد سے ہوگی، اس وطن کا ہر باسی اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔

فی الحقیقت اس وطن عزیز کی حفاظت، یہاں پر بسنے والے ہر شخص کا فرض منصبی ہے، جسے پورا کرنا بلا امتیاز ہر فرد پر واجب ہے۔ اس لیے ہر ایک کے لیے ضروری ہے کہ اس سلسلہ میں از خود جہاں تک ممکن ہو اپنا کردار ادا کرے، اور اس کی حفاظت کے لیے تمام تر قوتیں بروئے کار لائے، کیوں کہ ان حالات میں جہاں تمام تر مخالف قوتوں کی نظر اس سرزمیں پر ہے، تو ایسے موقع نزاکت میں ہمارا وجود بھی اس کے وجود پر موقوف ہے۔

اس سلسلہ میں چند باتیں قابل ذکر ہیں۔ یاد رکھیں! یہ فوج محض سرحد کی پاسبانی نہیں کررہی، بلکہ سرحد کے ورے ہر اینٹ کی بھی محافظ ہے، اگر رات سکون کی نیند سونے کا موقع میسر آتا ہے، تو یقیناً سرحد کنارے کوئی اپنی نیند کی قربانی دے رہا ہوتا ہے، اگر آپ اپنے مسکن میں بیٹھیں سہولت سے اپنا پیٹ بھر پاتے ہیں، تو یاد رہے یہ بھی سرحد کنارے کسی کے بھوکے رہنے کا ثمرہ ہوتا ہے، اگر آپ اپنے ٹھکانے میں جان ومال کے تحفظ کے ساتھ ہیں، تو یقیناً کوئی غیر محفوظ ٹھکانے میں اپنی جان ہتھیلی پر لیے کھڑا ہوتا ہے۔

ان تمام تر حالات میں، ہم میں سے ہر ایک پر لازم ہے، کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں، اور پاسبان وطن کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کریں، ان کو اپنی دعاؤں میں جگہ دیں، شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار، اور حسب استطاعت ان کا دست بازو بنیں، اور یوں عہد کریں، کہ اس سرزمین کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کر کریں گے، اس طور پر کہ اگر جان کی بازی بھی لگانی پڑے، تو کسی قسم کی تاخیر کے بغیر جان نچھاور کردیں گے۔

پاک فوج زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
آصف اقبال انصاری کی دیگر تحریریں
آصف اقبال انصاری کی دیگر تحریریں