فواد چوہدری اور فیاض چوہان: نواب ڈھمک جنگ اور امک جنگ
پاکستان میں بسنے والے ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کی پاداش میں پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو اپنی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ فیاض الحسن چوہان سیاسی حریفوں پر سخت اور نا شائستہ جملے بازی کے ساتھ ساتھ معاشرے کے دوسرے طبقات کے بارے میں بھی کچھ ایسی ہرزہ سرائی کر چکے ہیں جس پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بننا ہڑا۔ تحریک انصاف کی حکومت میں پنجاب کے سابقہ وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان ہی متنازع بیانات میں ”مہارت“ نہیں رکھتے۔ وفاقی حکومت میں وزارت اطلاعات کے منصب پر براجمان فواد چوہدری نے ان سے بھی دو قدم آگے ہیں جو اپوزیشن کو اشتعال دلانے کے لیے کڑوے کسیلے بیانات اور جملوں کے گولے داغ کر سیاسی فضا کی حدت میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ فواد چوہدری اور فیاض چوہان کیونکر تحریک انصاف کی حکومت کا حصہ ہیں؟ بہت سارے ذہنوں میں یہ سوال کلبلاتا ہوگا۔ ان دونوں کے اندر ایسی کیا صلاحیت اور قابلیت ہے کہ یہ دونوں حکومت میں اتنے اعلیٰ مناصب پر فائز ہوئے۔
یہ سوئے اتفاق ہے یا کسی پس پردہ قوت کی انہیں حمایت اس بارے میں ہم قیاس آرائی سے پرہیز ہی برتتے ہیں۔ لیکن کیا فقط تحریک انصاف کے دربار حکومت میں ایسے ”نادر روزگار“ اشخاص ہی اعلیٰ مناصب پر پہنچے ہیں۔ ایسی بات نہیں ہر حکومت کے دربار میں ایسے کچھ نظر آتے ہیں جو بڑے منصب پر فائز ہونے کے باوجود اندر سے ڈھول کی طرح خالی ہوتے ہیں۔ فواد چوہدری اور فیاض الحسن چوہان کو دیکھ کر ذہن کے دریچوں پر نواب ڈھمک جنگ اور نواب امک جنگ کے کرداروں کی یاد دستک دیتی ہے۔
قارئین سوچیں گے کہ یہ دو فرضی کردار کیا ہیں؟ سب سے پہلے تو عرض یہ ہے کہ یہ کوئی فرضی کردار نہیں بلکہ یہ حیدر آباد دکن کی ریاست کے نواب معظم جاہ شجیع کے دربار کے دو حقیقی کردار تھے۔ اردو زبان کے شاعر حضرت صدق جائسی کی تصنیف ”دربار دربار“ ہمیں نواب ڈھمک جنگ اور نواب امک جنگ کے کرداروں سے متعارف کراتی ہے جو اعزازی مصاحب کے طور پر نواب صاحب کے دربار سے منسلک تھے۔ نواب صاحب کے دربار کے ان دو کرداروں کے بارے میں صدق جائسی کچھ یوں رقمطراز ہیں، ”درباریوں میں سے ایک قابل ذکر نواب امک جنگ تھے جو بے حسن و خرم کے ایک کم استطاعت امیر تھے۔ ان کو ترکہ پدری سے دھن دولت تو برائے نام ہی ہاتھ آئی تھی البتہ ڈائننگ ہال کی کرسیاں بافراط ملی تھیں جنہیں وہ اپنے ڈرائنگ روم میں ایک لمبی قطار کی صورت میں سجائے رہتے تھے۔ ملاقاتیوں کی تعداد چھ سات افراد سے زیادہ نہ تھی لیکن کرسیوں کو دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ نصف حیدر آباد کے شرفاء صبح و شام ان کے سلام کو ضرور حاضر ہوتے ہوں گے۔ شاعری کی صلاحیت صفر سے زیادہ نہ تھی مگر سنانے کا وہ شوق تھا کہ جس آفت کے مارے کو قابو کر لیا، اس کا دماغ چاٹ گئے۔
دفتر ہو، گھر ہو، کھیل کا میدان ہو، شادی بیاہ کی تقریب ہو، انہیں اپنا اور دوسرے کا وقت ضائع کرنے سے مطلب۔ ایک کہن سال شاعر کو پچیس روپے ماہانہ تنخواہ دیتے تھے، طرح وہ خود دیتے تھے، غزل بوڑھا شاعر کہہ دیتا۔ اس کا کلام اپنے نام سے سناتے پھرتے تھے۔ حافظہ بے شک قابل تعریف تھا، ہزاروں غزلیں نوک زبان تھیں، جس کے گھر پہنچ گئے وہ غریب مصیبت میں مبتلا ہو گیا۔ دوسرے نواب ڈھمک جنگ تھے جنہیں بخت و اتفاق نے ایک اونچی کرسی پر بٹھا دیا تھا مگر شعر کہنے کی صلاحیت ان میں بھی نہ تھی۔
یہ آگرے کی مشہور و معروف غزل ساز فیکٹری کو آرڈر دے کر بہ قیمت غزلیں لکھواتے تھے جنہیں لفافے کی صورت میں آئے دن وصول کیا کرتے تھے۔ انہیں غزلوں پر حضرت طبا طبائی سے اصلاح لیتے تھے، پھر وہی مال غیر اپنا کر دوسروں کو سناتے، داد لیتے اور جھک جھک کر سلام کرتے تھے، ان میں سیمابیت بہت زیادہ تھی، آگ کے سامنے بے قرار رہتے تھے ”
حیدرآباد دکن کے دربار میں نواب ڈھمک جنگ اور نواب امک جنگ کے کرداروں سے لے کر فواد چوہدری اور فیاض الحسن چوہان جیسوں کو دیکھ کر کچھ اور نہیں صدق جائسی کا ہی شعر یاد آ یا
ساتویں شب اپنے کوٹھے پر وہ مہ پارہ چڑھا
دونوں ٹکڑے مل گئے اک چاند پورا ہو گیا


