پہلی اور آخری جنگ


دنیا کی پہلی جنگ میں چوتھائی آبادی تباہ ہو گئی تھی۔ اس تباہی پر پوری دنیا غم میں ڈوب گئی۔ انسانیت اپنے خالق کے سامنے شرمندگی سے جھکی۔ مارنے والے بھی اپنے عمل پر شرمندہ ہی تھے وہ وقتی اشتعال تھاجو پچھتاوا بن گیا۔ ظلم کرنے کے بعد ظالم پچھتانے لگے، معافی مانگے، اپنے ظالم ہونے کا اعتراف کرے، منصف کی دی سزا قبول کرنے کا عندیہ ظاہر کرے تو منصف بھی مہربان ہو جایا کرتا ہے۔ اس بار منصف خود انسان کا خالق تھا۔

جس نے انسان کو بناتے ہوئے فرشتوں کے اس قول کو پسند نہیں کیا تھا کہ یہ خود اپنے ہی بھائیوں کا خون بہائیں گے۔ مگر بھائی نے بھائی کا خون بہا دیا تھا۔ قابیل ہابیل کو قتل کر کے دنیا پر پہلی جنگ برپا کر چکا تھا۔ اس وقت ایٹم بم تو موجود نہیں تھا مگر چار لوگوں کی بستی میں ایک جنگ کی نذر ہو چکا تھا۔ یہ پچھتاوا پورے ایک سو تیس برس تک رہا۔ خالق نے شیت عطا کر کے ابو البشر کی دل جوئی کی۔ اللہ نے قابیل سے بدلہ لیا نہ آدم ہی نے اپنے لاڈلے بیٹے ہابیل کے مار ڈالنے پر قابیل کی موت مانگی۔ ہابیل کی ماں نے بھی بدلے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔

انسانیت کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں غلط عمل صرف دو ہیں۔ ایک دنیا پیدا کرنے والے خالق کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا لینا، حضرت لقمان کے بارے میں خدا کا فرمان ہے کہ ہم نے اسے حکمت عطا کی تھی۔ اس حکیم شخص نے اپنی اولاد کو نصیحت کی تھی ْ بیٹا خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا، شرک سب سے بڑا ظلم ہے ْ۔ حضرت ابراہیم و یعقوب کی اپنی اولادوں کو اسی طرح کی نصیحت کتابوں میں مذکور ہے۔ خدا نے اٹھارہ عظیم و برگزیدہ اشخاص کا ذکر کے بتایا کہ اگر یہ بھی شرک کرتے تو ان کے اعمال برباد ہو جاتے۔

دوسرا غلط عمل بے انصافی ہے۔ یہ ایسا کریہہ عمل ہے جو بغاوت، انتقام، حسد اور بے امنی کو جنم دیتا ہے۔ آج کے دور میں موجود ہشت گردی کا منبع بھی بے انصافی ہی ہے۔ ہر معاشرہ اور ملک اپنے عوام کو انصاف مہیا کرنے کی کوشش کرتا ہے تا کہ ملک، معاشرے، خاندان اور افراد کی زندگی میں امن رہے۔ انسان حکمت کے اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں انصاف کی اہمیت کا اسے ادراک ہو چکا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہر ملک میں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی عدالتیں فعال ہیں۔

عدالت کسی قصبے کی ہو، بڑے شہر کی یا پوری دنیا کے معاملات پر فیصلے کرنے والی۔ اس میں یہ تو ممکن ہے کہ صد فی صد انصاف مہیا نہ ہو سکے۔ کیونکہ منصف فیصلہ اپنے دماغ سے کرتے ہیں اور ہر انسان کے دماغ کی سوچ کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ اس امر کا اندازہ ایک تاریخی واقعے سے ہوتا ہے۔ حضرت داود کی عدالت میں ایک مقدمہ پیش ہوا۔ دعویٰ دار ایک کھیت کا مالک تھا۔ اس کے کھیت میں رات کے وقت بکریاں داخل ہوئیں اور کھیت کی ساری فصل برباد کر دی۔ منصف نے کھیت میں ہونے والے نقصان کا مالی اندازہ لگوایا۔ یہ مالیت بکریوں کی مجموعی مالیت کے برابر تھی۔ حضرت داود نے بکریوں کے مالک کو حکم دیا کہ وہ کھیت والے کے نقصان کے بدلے اپنی بکریاں کھیت کے مالک کے حوالے کر دے۔

اس فیصلے پر ایک دوسرے منصف حضرت سلیمان نے مشورہ دیا کہ آپ ایسا حکم کیوں نہیں دیتے جو انصاف کے قریب تر ہو۔ اور بتایا کہ بکریاں کھیت والے کے حوالے کر دی جائیں وہ بکریوں کے دودھ اور اون سے مستفید ہو مگر بکریاں اس کی ملکیت میں نہ جائیں۔ بکریوں کا مالک اس دوران کھیتی میں زراعت کرے، زراعت کو سیراب کرے اور جب زراعت اس نوبت تک پہنچ جائے، جس نوبت پر بکریوں نے اسے تباہ کیا تھا۔ تو بکریوں والا کھیت کی زراعت حوالے کر کے اپنی بکریاں واپس لے لے۔ یہ فیصلہ پہلے فیصلے کی نسبت انصاف کے قریب تر تھا۔ دونوں منصف اس فیصلے پر متفق ہو گئے۔

عدالتوں میں مقدمہ پیش کرنا اور اس پر اپنے مدلل کلام کے ذریعے اثر انداز ہونے کا ذکر سیرت کی کتابوں میں بھی درج ہے۔ مگر بنیادی بات یہ ہے کہ جب کوئی مقدمہ عدالت میں پیش ہو اس پر کسی فریق کو یہ شکائت پیدا ہونا تو ممکن ہے کہ اس کے ساتھ پورا انصاف نہیں کیا گیا مگر ایسا ہونا ممکن نہیں ہے کہ مظلوم کی شکائت سنی ہی نہ جائے اور اس کو انصاف مہیا کرنے ہی سے انکار کر دیا جائے۔ سابق وزیر اعظم جناب نواز شریف کے پانامہ کیس کے بارے میں کچھ لوگ یہ تو کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ صد فی صد انصاف نہیں کیا گیا مگر یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ عدالت نے ان کے مقدمے کو سنا ہی نہیں ہے۔

1969 میں اسلامی ممالک کی تنطیم کے قیام کے بعد جب مسٗلہ فلسطین کو اقوام عالم کی عدالت میں لایا گیا تو اس فیصلے پر اکثر مسلمانوں کو اعتراض ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ اقوام عالم نے مسٰلے کو سنا۔ اس پر غور کیا اور ایک قرار داد منظور کی۔ یہ گلہ کسی کو بھی نہیں ہے کہ بات سنی نہیں جاتی یا انصاف نہیں کیا جاتا مگر انصاف کے معیار پر تنقید کی جاتی ہے۔ کم معیار کا انصاف بھی گلے شکوے دور کرنے میں مددگار ہی ہوتا ہے۔ اعلی معیار کا انصاف اعلی معیار کا امن قائم کرنے کا سبب بنتا ہے۔

جب پاکستان کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ سیاسی طور پر زندگی اور موت جیسے حالات تھے قائد اعظم نے اپنا مقدمہ اس مدلل انداز سے پیش کیا کہ گاندھی اور نہرو ہی نہیں لارڈ مونٹ بیٹن سے لے کر برطانوی وزیر اعظم تک ان کے دلائل کو رد نہ کر سکے اور پر امن طور پر ایک نئی مملکت معرض وجود میں آ گئی۔ مگر وجود میں آنے کے اعلان کے ساتھ ہی ایسی قتل و غارت شروع ہوئی جس کو قائد اعظم اور مہاتما گاندہی بھی بند نہ کرا سکے۔

بر صغیر میں 1947 میں انسانی خون سے جو رنگین ہولی کھیلی گئی۔ شیطانی اور انسانیت دشمن قوتیں وقفے وقفے سے اس عمل کو دہراتی رہی ہیں۔ ہندو اورمسلم کش فسادات کے بعد یہ کام پاک و ہند کے مابین جنگوں کی صورت میں جاری ہے۔ 1948 کی جنگ میں کشمیر کا کچھ حصہ کھو جانے کے بعد 56 میں پورے کشمیر کو چھین لینے کے لیے 56 کا معرکا برپا ہوا۔ اکہتر میں بتایا گیا یہ 56 کی جنگ کا بدلہ ہے۔ بلوچستان میں بے امنی کے ڈانڈے خالصتان سے جا ملتے ہیں۔ کارگل کے بدلے سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ سرجیکل اسٹرائیک کا بدلہ پلوامہ کہا گیا۔ پلوامہ کا بدلہ دو جہاز گرا کر اور ایک ہوا باز کو قیدی بنا کر لیا گیا۔

الہامی کتابوں میں جو جنگوں کے واقعات کا ذکر ملتا ہے ان میں یمن کی ملکہ بلقیس کے الفاظ قران نے نقل کرتے ہوئے اس تباہی اور بربادی کا ذکر کیا ہے جو جنگیں معاشروں پر مسلط کرتی ہیں کہ معیشت تباہ ہو جاتی ہے اور با عزت لوگ ذلیل ہو جاتے ہیں۔ انسان بلقیس کی اس جسارت پر داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جب اس کے جرنیل اس کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرا چکے تو اس نے اپنے عوام کو امن دینے کا فیصلہ کیا۔

پائیدار اور مشکل فیصلے وقتی طور پر شکست دکھائی دیتے ہیں۔ ہندوستان میں واجپائی کو بزدل اور نواز شریف کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑہانے کے طعنے دیے گئے۔ مودی کو جب وہ نواز شریف کی سال گرہ پر لاہور آئے تو بھارت میں اس پر پھبتیاں کسی گئیں۔ پاکستان میں مشرف کے کارگل کے کارنامہ کو پاکستان کی ایسی فتح بنا کر پیش کیا گیا جیسے اس نے پورا بھارت فتح کر لیا ہو۔ نواز شریف کی امن کی خواہش کو مودی کا یار کہہ کر طعنہ بنا دیا گیا۔

بر صغیر میں 26 جنوری کے بعد کنٹرول لائن کے دونوں اطراف امن کی خواہش ایک امید بن کر اٹھی ہے۔ پاک و ہند میں موجود امن پسندوں، انسانیت کے دوستوں، محبت آشتی کے مبلغوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس خواہش کو امن کے بیج کی طرح اس کی کاشت کریں، جب ننھی کونپلیں نکلیں تو اس کے گرد آگاہی اور دلائل کی مضبوط باڑھ لگائیں، یہ آسان کام نہیں ہے مگر ممکنات میں سے ہے۔

ہماری حکومت نیا پاکستان بنانے کی دعویدار ہے، اس نے کئی درجن مسلح گروہوں کو نابود کر دینے کا عندیہ دیا ہے۔ پاکستان کے تمام ادارے حکومت کی پشت پر ہیں۔ حکومت کو پاکستان کے امن پسند، محب وطن، امن کا مقدمہ مدلل طور پر لڑنے کے اہل شہری اپنی پشت پر کھڑے ملیں گے البتہ اندرونی حالات بہتر کرنے کے لیے ان لاوڈ اسپیکروں کی بیٹری نکالنے کی ضرورت ہے جو اپنی ساری توانایاں پاکستانیوں کو غیر ملکی ایجنٹ اور وطن دشمن ثابت کرنے پر صرف کرتے ہیں۔

48 سے لے کر بھارتی ہوا باز کہ رہائی تک تمام جنگوں اور معرکوں کے ڈانڈے کشمیر سے ملتے ہیں۔ کشمیر کو نہ بھارت ہڑپ کر سکتا ہے نہ پاکستان چھین سکتا ہے۔ اس خونی لکیر کے آر پار ستر ہزار انسانوں کا خون بہہ چکا ہے۔ اس مسٗلے نے آخر کار بات چیت سے حل ہونا ہے۔ کشمیری جان کی بازی لگا کر بھی اور پاکستان اپنے وجود کو خطرے میں ڈال کر بھی اپنا نقطہ نظر اقوام عالم کو سمجھانے میں کامیاب نہیں ہے۔ ہمیں اپنی ان خامیوں پر قابو پانا ہو گا۔

فیصلہ میز پر بیٹھ کر ہو یا کسی عدالت میں ہمیں یہ مقدمہ لڑنے کے لیے سیاستدانوں کو موقع دینا ہوگا۔ عدالت کوئی بھی ہو جانب دار نہیں ہوا کرتی۔ مقدمہ جیتنے کے لیے مضبوط دلائل کے ساتھ ساتھ دلائل پیش کرنے کا سلیقہ بھی ایک مقام رکھتا ہے۔ ہمارے دلائل اگر دنیا سمجھ نہیں پا رہی تو ہم دنیا کو اپنا موقف سمجھا بھی نہیں پا رہے ہیں۔

گھر کی صفائی شروع کر ہی دی گئی ہے تو سیاسی اختلافات، قانونی بے انصافیوں اور حکومتی جبر کے تاثرات کو بھی دھو ڈالنے کا یہی موقع ہے۔ یہ بات وقت نے سچ ثابت کر دی ہے کہ پاکستان کو خطرہ کسی بیرونی طاقت سے نہیں اندرونی طاقت ور عناصر سے ہے۔ اندرونی عناصر کو نابود کرنے کی بجائے ان کو رواں دھارے میں شامل کرنے کے لیے بات چیت ہی بہتر اور کامیاب کوئی لائحہ عمل ثابت ہو گی۔

 اب انسان کے پاس ایسے مہلک ہتھیارموجود ہیں کہ جنگ کی صورت میں چوتھائی انسانوں کا بچ جانا بھی معجزہ ہی ہو گا۔

Facebook Comments HS