خود بدلتے نہیں ہم، حکمرانوں کو بدل دیتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ حقیقت ہے کہ حکمرانوں کی بے شمار ذمہ داریاں ہیں جن کو اچھے طریقے سے نبھانا ان کا فرض ہے اور وہ ان ذمہ داریوں کو اچھے طریقے سے نبھانے میں بڑی حد تک ناکام ہیں، لیکن اس کے باوجود ہرقسم کے فساد کا ان کو ذمہ دار ٹھہرانا اور معاشرے کی تمام تر برائیوں کو ان کی طرف منسوب کرنا بھی کوئی انصاف نہیں بلکہ ان میں سے اکثر ہماری اچھی تربیت نہ ہونے کا یا بے پروائی کا نتیجہ ہیں۔ اگر ہم ایک اچھا معاشرہ وجود میں لانا چاہتے ہیں تو ہمیں خود کو بدلنا پڑے گا نہ کہ حکمرانوں کو، نماز، روزہ کی پابندی، زکوۃ اور صدقات سے غریبوں کی مدد نمود و نمایش سے پاک حج، قرآن کی تلاوت، بڑوں کا ادب، چھوٹوں پر شفقت، رشتداروں سے صلہ رحمی، بیماروں کی تیمار داری اور بے کسوں کی دل جوئی یہ سب اور اس قسم کے تمام اچھے کاموں سے نواز شریف نے روکا تھا اور نہ ہی خان صاحب روکتے ہیں، کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ پی ایس ایل کے میچز میں قومیت اورعصبیت کے بد بو دار نعرے لگا کر انہیں معرکے میں تبدیل ہم نے کیا حکمرانوں نے نہیں، آج کل فیس بک پر لائیو میچ دیکھنے والے کمنٹ کرتے ہوئے جو گندی گالیاں لکھتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے ان کو کسی عورت نے نہیں جنا بلکہ یونھی کسی صحرا میں پائے گئے ہوں؛ اس لیے ان کو نہ اپنی ماں بہن عزیز ہیں اور نہ ہی دوسروں کی، میچ میں بھی سیاست اور قومیت اور پھر قومیت اور سیاست میں وہ گالیاں کہ، الامان والحفیظ ”گالیوں سے ناواقف کسی مظلوم کو اگر دفاع کے لئے گالیوں کی حاجت پڑجائے تو ان فیس بکیوں کی خدمات حاصل کرنے سے اچھا خاصا ماہرِ سب وشتم بن سکتا ہے، یہ لعن طعن اور نازیبا الفاظ اور گھٹیا زبان کے استعمال کا آپ کو کس حکمران نے حکم دیا ہے؟

دھوکا، جھوٹ اور فراڈ پر ہم کو کس نے مجبور کیا ہے؟ گاڑی میں دسیوں ہارن لگا کر اور پھر بغیر کسی ضرورت کے بجا کر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اس سے کسی کو تکلیف ہو سکتی ہے؟ گاڑی میں جا بجا شیشے لگا کر دوسروں کی ماں بہن کو گھور نے کا خاص انتظام فرمانے کا آپ کو کس نے کہا تھا؟ ریڈ سگنل کی توڑ، غلط اوورٹیک اور بریک کے ساتھ گالی کی تربیت کس نے کی جناب کی؟ گاڑی کا شیشہ نیچے کر کے گاڑی کے اندر کا سارا کچرا روڈ پر پھینکنے کی عادت کس وزیر نے ڈالی؟

موسیقی سننا خلوت اور جلوت دونوں میں معصیت ہے لیکن اگر سننا بھی ہے اور آپ کے یہاں وہ تیری روح کی غذا ہے تو پبلک ٹرانسپورٹ میں دوسروں کو ڈسٹرب کر کے اور ذاتی گاڑی میں والیم تیز کرکے راہ گیروں اور شریف انسانوں کو بے جا تنگ کرنے کا نرالا انداز کیوں اپنایا؟ پیسے زیادہ کمانے کے لالچ میں پبلک گاڑیوں میں آور لوڈنگ کرکے لوگوں کی زندگیوں سے کون کھیلتا ہے؟ رمضان کے مبارک مہینے میں دیگر مسلم معاشروں میں روحانیت میں اضافہ ہوتا ہے اور ہمارے یہاں جھگڑے فساد میں، اسلام نے راستے سے تکلیف دہ چیز اٹھانے کو صدقہ اور صفائی ستھرائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے، آپ اٹھاتے نہیں تو غیر مناسب جگہ پھینک کر معاشرے کے ماحول کو گندہ کیوں کرتے ہیں؟

پبلک مقامات پر پیشاب کرنا ہمارے معاشرے میں عام ہے، نہ شرم و حیا مانع ہے اور نہ ہی دوسروں کوضرر نہ پہنچانے کا جذبہ، شاہراہوں اور گزرگاہوں پربیٹھ کر گپیں مارتے ہوئے یا کھیلتے ہوئے کبھی سوچا ہے کہ اس سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے اور کسی کو تکلیف دینا اسلام میں حرام ہے؟ اردو، پشتو، پنجابی اورسندھی میں لکھیں وہ ناپاک تحریریں جن سے ہر ملک کے ٹوائلٹز کی دیواریں، جہازوں اور بسوں کی سیٹیں سیاہ ہیں، کیا ہماری سوسائٹی کے گھٹیا مزاج کی عکاسی نہیں کرتی ہیں؟

دشمن کے خلاف لڑنا حکومت کا کام ہے لیکن دشمن کے اسلام مخالف تہواروں اور رسومات کا بائیکاٹ کر کے کیا آپ اپنی نئی نسل کو آوارگی اور بے ہودگی سے نہیں بچا سکتے؟ خوشی ہو یا غمی کیا ہندوانہ رسومات ہمارے ہاں عام نہیں؟ غیر ضروری اور سودی قرضے لے کر دھوم دھام سے شادی کرتے وقت کبھی سوچا آپ نے کہ میرے اس طرزِعمل سے غریب کی شادی مشکل ہو جائے گی؟ یا معاشرے میں غلط کلچر کو فروغ ملے گا؟ کبھی طلاق کے مسئلے کے علاوہ دیگر اسلامی تعلیمات سیکھنے کے لئے بھی کسی عالم دین کی صحبت اختیار فرمائی ہے؟

اور یہ انڈین بے ہودہ فلمیں آپ کے گھر میں آپ کے ٹی وی اسکرین پر خان صاحب آ کر چلاتے ہیں نا؟ مان لیا کہ حکومتیں کرپٹ رہی ہیں لیکن کیا آپ نے انفرادی طور پر رشوت سے بچنے کی کوشش بھی کی ہے؟ یاد رکھ! اللہ جلّ شانہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنا طرزِ عمل درست نہ کر لے، بعید نہیں کہ ہماری اپنی اصلاح سے اللہ تعالی ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرمائے یا متبادل انتظام فرمائے، کہ سدھری قوم پر برے حکمران کو قیادت کرتے ہوئے شرم آتی ہے، سدھریں گے تو حضرت موسی علیہ السلام جیسی قیادت ملے گی، نہیں تو فرعون جیسے حکمرانوں کی جابرانہ حاکمیت میں خوارہوتے رہیں گے، سدھر جائیے!

ایسا نہ ہو کہ ہماری اخلاقی گراوٹ ہی ہماری پہچان بن جائے اور مہذب قومیں یہ کہہ کر ہمیں دھتکارے کہ تم سے پاکستانیت کی بو آرہی ہے، خدارا! تبدیلی کا عمل اپنی ذات سے شروع کریں۔ تنقید اگر مہذب طریقے سے برائے اصلاح ہو تو فائدہ ہوتا ہے اور یقینا حکمرانوں کو بھی فائدہ ہو گا اور اگر دوسروں کو ذلیل خوار کرنے کی نیت سے ہو، تو نتیجہ نقصان اور فساد ہی کی شکل میں آئے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •