کیا طالبان نے امریکہ کو استعمال کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان گزشتہ چالیس برسوں سے حالت جنگ میں ہے۔ اس جنگ کو غیروں کی جنگ کا نام بھی دیا گیا، وقتاًفوقتاً اس جنگ سے جان چھڑانے کی باتیں بھی کی جاتی رہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا کہ اس جنگ سے منشیات اور کلاشنکوف کا کلچر پاکستان میں درآیا۔ ان دعووں میں کتنی حقیقت ہے اور ہم نے اس جنگ سے کیا کھویا اور کیا پایا؟

امریکی سی آئی نے 17 جنوری 2017 ءکو اپنی خفیہ دستاویز کو عام کیا جس میں افغانستان اور روس جنگ کے حوالے سے چند باتیں سامنے لائی گئیں، اس جائزہ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان یہ سمجھتا تھا کہ سوویت یونین کا افغانستان میں داخل ہونا خلیج فارس اور بحرِ ہند تک رسائی حاصل کرنے کے طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ پاکستان کو یہ بھی خدشہ تھا کہ سوویت یونین کی کامیابی کے بعد پاکستان پر بڑا حملہ ہوسکتا ہے تاکہ بلوچستان پر قبضہ کیا جاسکے اور پاکستان کو چین سے ملانے والی شاہراہ قراقرم کو منقطع کرکے بھارتی فورسز سے منسلک ہوا جا سکے۔ پاکستان کو یہ خدشہ تھا کہ سوویت یونین اور بھارت پاکستان کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کرکے پشتونستان، بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں ”ماتحت ریاستیں“ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

سی آئی اے کے جائزہ رپورٹ کو دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ روس افغانستان کے پہاڑوں سے اپنا سر پھوڑنے نہیں آیا تھا، اس کا ہمارے سمندروں کی طرف صدیوں سے سفر جاری تھا۔ اس نے ایک ایک کر کے مشرق میں مسلمان علاقوں پر قبضہ کیا، ان عظیم الشان مسلم ریاستوں کا نشان تک باقی نہیں رہا، اب یہ سب روس کا قدرتی حصہ معلوم ہوتی ہیں۔ افغانستان کے بعد اس کی اگلی منزل براستہ بلوچستان سمندر تک پہنچنا تھا، یہ پاکستان کے لئے خطرے کا الارم بلکہ آخری گھنٹی تھی۔

اسی لئے جیسے ہی روس 27 دسمبر 1979 ءکو افغانستان پہ حملہ آور ہوا اس کے دوسرے یا تیسرے دن یعنی 28 دسمبر 1979 ءکو جنرل ضیاءالحق نے ایک میٹنگ میں کہا: ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ روس کو افغانستان میں ٹکنے نہیں دیں گے۔ اس پرایک اعلیٰ عہدیدار نے سوال کیا! روس بڑی بے رحم عالمی طاقت ہے اور افغانستان کا ہمسایہ بھی، پاکستان اسے کس طرح روک پائے گا؟ جنرل ضیاءبولے، افغانستان میں روس اور کیمونزم کے خلاف بڑی نفرت پائی جاتی ہے اور افغان اپنی سرزمین پر غیرملکی فوج کو برداشت نہیں کرتے، ہم ان کی مدد کریں گے۔ کہنے لگے! افغانستان میں روس کے لئے ٹرانسپورٹیشن، کمیونیکیشن، سپلائی کی سہولتیں کافی نہیں ہیں، اسلحہ ڈپو، رن وے، فوجی چھاونیاں، تیل کے ذخائر یہ سب کچھ بنانا اور تعمیر کرنا پڑے گا۔ درکار، دستیاب سہولتوں کے حساب سے وہ زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ ”ٹروپس“ لا سکتا ہے۔

پاکستان اور ایران کی طرف قدم بڑھانے کے لئے اسے دس لاکھ کی تعداد میں فوج درکار ہے، اتنی فوج کی تیاری اور سہولتوں کی تعمیر کے لئے اسے پندرہ، بیس سال درکار ہوں گے، وہ بھی اس صورت میں کہ اسے پرامن افغانستان مل جائے۔ اس لئے آج ہم نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ ”امریکہ کا مشورہ کچھ بھی ہو، ہم افغانستان میں روس کو پرامن قیام کا موقع نہیں دیں گے، ہمارے لئے آسان ہے کہ آج افغانستان کے پہاڑوں میں ایک لاکھ روسیوں کا سامنا کریں بجائے اس کے کہ دس برس بعد“ ایک ملین ”روسی فوجیوں کے خلاف پنجاب کے میدانوں یا بلوچستان میں لڑنا پڑے۔ آپ کوئی فکر نہ کریں، جب تک ہم زندہ ہیں یہی کریں گے، جب ہم نہیں ہوں گے تو ہماری ذمہ داری ختم۔

امریکہ کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ روس کا افغانستان پہ حملہ پاکستان کے لیے کتنا خطرناک ہے اور امریکی صدر کارٹر نے جنرل ضیاءالحق کو اس حملے کے فوری بعد کہا کہ پاکستان کو خاموش رہ کر حالات پر نظر رکھنی چاہیے اور روسیوں کو اشتعال دلانے سے اجتناب کریں تاکہ وہ مشتعل ہو کر پاکستان کو نقصان نہ پہنچائیں۔ لیکن جنرل ضیا فیصلہ کر چکے تھے اور انہوں نے اپنے منصوبے پہ کام شروع کر دیا۔ امریکی بعد میں مجاہدین کی قربانی دیکھ کر اس جنگ میں کودے جب کہ پہلے وہ خود پاکستان کو افغان مجاہدین کی مدد کرنے اور روس سے ٹکرانے سے روک رہے تھے۔

یہ بات تاریخی طور پر غلط ہے کہ افغانستان میں روس کے خلاف جنگ امریکہ کے کہنے پر لڑی گئی ہے۔ اس لیے کہ افغانستان میں سوویت یونین کی مسلح افواج کی آمد پر مولوی محمد نبی محمدی، مولوی جلال الدین حقانی، مولوی محمد یونس خالص، مولوی ارسلان رحمانی اور دیگر جن علماءکرام نے اپنے اپنے علاقوں میں جہاد کا فتویٰ دے کر اس کا عملی آغاز کیا تھا ان کا امریکہ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے طور پر شرعی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے جہاد کا فتویٰ دیا اور انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں اس کا آغاز کر دیا۔

اس وقت ان کے پاس پرانا روایتی اسلحہ بھی مناسب مقدار میں نہیں تھا، وہ بوتلوں میں پٹرول اور صابن کے محلول بھر کر ان بوتل بموں سے ٹینکوں کا مقابلہ کیا کرتے تھے۔ اور شروع کے کم و بیش تین سال تک یہ کیفیت رہی ہے کہ وہ بہت معمولی اسلحہ کے ساتھ اور انتہائی فقر و فاقہ کے ماحول میں محض ایمانی قوت کے ساتھ روسی فوجوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ البتہ اس دوران جب انہوں نے افغانستان کے اچھے خاصے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا تو امریکہ اور دیگر ممالک ان کی طرف متوجہ ہوئے۔

اور پھر جس جس نے بھی روس کے ساتھ کوئی حساب چکانا تھا وہ اس جنگ میں کود پڑا۔ اس کے بعد امریکہ اور اس کے ساتھیوں نے اسلحہ بھی دیا، دولت بھی دی اور ہر طرح کی امداد کی۔ چنانچہ یہ کہنا تو درست ہے کہ اس جنگ میں امریکہ کا بھی مفاد تھا اور اس نے اپنے مفاد کی خاطر افغان مجاہدین کی بھرپور مدد کی ہے، لیکن یہ کہنا قطعی طور پر غلط اور حقائق کے منافی ہے کہ افغان جہاد امریکہ کے کہنے پر شروع کیا گیا تھا اور افغان علماءنے اس معرکہ میں امریکہ کی جنگ لڑی ہے۔

یہ کہنا درست ہے کہ روسی استعمار کے خلاف جہاد افغانستان کے نام پر لڑی جانے والی یہ جنگ ابتدائی تین چار سال کے بعد افغان مجاہدین اور امریکہ کی مشترکہ جنگ بن گئی تھی جس میں دونوں نے ایک دوسرے سے فائدہ اٹھایا ہے۔ افغان مجاہدین کو یہ فائدہ پہنچا کہ امریکہ کے تعاون کی وجہ سے ان کی جنگ آسان ہوگئی۔ جبکہ امریکہ کو یہ فائدہ پہنچا کہ اپنی باقاعدہ فورسز استعمال کیے بغیر اس نے سوویت یونین کو شکست دے کر نہ صرف اس کے خلاف سرد جنگ جیت لی بلکہ ویت نام کی ہزیمت کا بدلہ بھی لے لیا۔

امریکہ اور افغان طالبان میں سے کس نے دوسرے کو استعمال کیا؟ اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں جنگ کے بعد کے حقائق پر ایک نظر ڈالنا ہوگی۔ اور اس سلسلہ میں بھی ایک سادہ سا معیار اور کسوٹی یہ ہے کہ اگر تو جنگ کے خاتمہ اور روس کی شکست کے بعد افغان مجاہدین کی قیادت امریکہ کے ایجنڈے پر چل رہی ہے اور افغانستان میں امریکہ کی پالیسیوں پر عمل ہو رہا ہے تو ہمیں یہ تسلیم کر لینے میں کوئی باک نہیں ہونا چاہیے کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنے مفاد کے لیے مولوی کو استعمال کر لیا ہے اور افغان مولوی نے جہاد کے نام پر امریکہ کی جنگ لڑی ہے۔

لیکن اگر افغان مولوی نے جنگ کے بعد والے افغانستان میں امریکہ کی پالیسی اور پروگرام کو مسترد کر کے اپنے ایجنڈے پر عمل شروع کر رکھا ہے اور وہ امریکہ کی طرف سے تمام تر مخالفت، دھمکیوں اور پابندیوں کے باوجود اپنے ایجنڈے پر قائم ہے تو ہمیں پورے شرح صدر کے ساتھ تاریخ کے اس فیصلے کو قبول کرنا ہوگا کہ افغان مولویوں نے اپنی جنگ کے لیے امریکہ کو استعمال کیا ہے۔ اور امریکہ اپنے تمام تر جاہ و جلال اور شکوہ و دبدبہ کے باوجود افغانستان کی سنگلاخ زمین پر سادہ، غریب اور بے سروسامان مولوی کے ہاتھوں بری طرح استعمال ہوگیا ہے۔ اور یہی پیچ و تاب امریکہ کو اس حوالے سے کسی کروٹ چین نہیں لینے دے رہا۔

حقیقت یہ ہے کہ جنرل ضیاءالحق نے یہ جنگ لڑ کر پاکستان کی بقا کی راہ فراہم کی۔ ان کی اس خدمت کو تسلیم نہ کرنا احسان فراموشی اور ظلم ہوگا۔ اب روس کے بعد امریکہ افغانستان پہ حملہ آور ہے اور اب کی بار پاکستان کے خلاف بھارت، ایران، امریکہ اور اسرائیل کی صورت میں ایک اتحاد قائم ہوچکا ہے۔ اب پاکستان کو ایک بار پھر جنرل ضیاءالحق جیسے کامیاب اور ذہین حکمران کی ضرورت ہے۔ تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب کی بار پاکستان کے بقا کی جنگ میں کامیابی کا اعزاز کس کو جاتا ہے۔ اس تناظر میں کیا مجاہدین کو امریکہ و بھارت کے کہنے پر پس زنداں کر دینا دانشمندانہ فیصلہ ہو گا؟

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •