کیا حکومت مولانا سے خائف ہے؟

مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کی تاریخ کا اعلان کرکے ان لوگوں کو سرپرائز دیا ہے جو کہہ رہے تھے کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد میں دھرنا نہیں دیں گے، مولانا فضل الرحمان کے مخالفین یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی نوبت ہی…

Read more

کتے کا کاٹا کیا کرے؟

ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ کتے کا کاٹنا موت کا سبب بن سکتا ہے، کتے کے کاٹنے پر گھریلو ٹوٹکے استعمال نہ کریں بلکہ متاثرہ شخص کو فوری طورپر متعلقہ ہسپتال لے جائیں کیونکہ پاگل کتے کے کاٹنے کے فوری بعد حفاظتی تدابیر اپنا کر اگرعلاج شروع کردیا جائے توانسان کی قیمتی جان بچائی جا سکتی ہے، لیکن اگر ہسپتال میں کتے کے کاٹے کی ویکسین ہی نہ ہو تو مریض کو کیسے بچایا جا سکتا ہے؟ برادرعزیز عدنان خان کاکڑ نے ”مشرق“ کی ایک خبر کی طرف توجہ دلائی کہ ”صوبائی دارالحکومت کے ہسپتالوں میں باولے کتے کے کاٹے کا انجکشن دستیاب نہ ہونے کے سوال پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ خیبر پختونخوا نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ شہر میں دندناتے پھرنے والے کتوں کا ہی کام تمام کر دیا جائے، ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ جب پاگل کتے ہی نہیں رہیں گے تو انجکشن کی بھی ضروت نہیں رہے گی۔“

Read more

احتجاج کو موثر کیوں نہ بنایا جا سکا؟

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے آج جمعہ کے روز 12 سے ساڑھے 12 تک پورے پاکستان میں احتجاج ریکارڈ کرانے کے لئے اپیل کی گئی تھی۔ وزیراعظم عمران خان کی آواز پر بلاشبہ بڑی تعداد میں لوگ باہر نکلے اور کشمیر کی آزادی کے لئے آواز بلند کی،…

Read more

منتخب نمائندے ضمیر کا سودا کیوں کرتے ہیں؟

سینیٹ میں اپوزیشن کے 64 ارکان تھے جبکہ حکومت کے 36 ارکان لیکن اس واضح اکثریت کے باوجود اپوزیشن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی۔ اپوزیشن کی اس شکست کے جہاں دیگر بہت سے عوامل ہیں میری نظر میں اس کے ساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ سینیٹرز کی نا اہلیت بھی ہے جو پارٹی سے وفاداری اور ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کی بجائے وقتی مفاد کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں، منتخب نمائندوں کے ایسے اقدامات کی ذمہ دار سیاسی جماعتیں ہیں جو میرٹ اور اہلیت کی دھجیاں اڑاتے ہوئے محض پیسہ اور سرمایہ کی وجہ سے ایک نا اہل شخص کو سینیٹر بنا دیتی ہیں۔

Read more

وزیرستان مسئلہ اور راہِ عمل

رنگ ونسل اور علاقوں کا مختلف ہونا انسانوں کے مزاجوں پر بھی اثرا نداز ہوتا ہے جیسا کہ مکہ مکرمہ کے لوگ اپنی سخت مزاجی اور سخت لہجے کی وجہ سے مشہور ہیں جب کہ مدینہ کے لوگ مہربان اور خوش مزاجی میں شہرت رکھتے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنے لہجے کی تلخی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں لیکن دل کے صاف ہوتے ہیں توان کی سخت مزاجی کو نظر انداز کر کے ان کے ساتھ معاملات کیے جاتے ہیں کیونکہ وہ دل کے صاف ہوتے ہیں۔ پاکستان سمیت پوری دنیا میں بسنے والے لوگ ایسی ہی خصلتوں کے حامل ہیں اگر ہم پاکستان کی پانچ بڑی اقوام کا ذکر کریں جس میں پنجابی، پختون، سندھی اور بلوچی شامل ہیں تویہ اقوام ایک ملک کے باسی کے ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ہی مذہب کے پیروکار بھی ہیں لیکن اس کے باوجود پنجابیوں کے مزاج سندھیوں سے مختلف ہیں اور پختونوں کے مزاج دیگر اقوام سے مختلف ہیں۔

Read more

یونیورسٹیوں کے پاور فل بابو

اہل دانش نے کرپشن کا سدباب یہ تجویز کیا کہ اختیارات نچلی سطح پر منقتل کر دیے جائیں، نہ فرد واحد کے پاس اختیارات ہوں گے نہ ہی کوئی اختیارات کا غلط استعمال کرکے کرپشن کرے گا لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلاہے جو کیمونیکیشن کے گیپ کانکلتا ہے، جیسے کیمونیکیشن کے گیپ میں پہلے سے آخری شخص تک بات پہنچے پہنچتے کیا سے کیا بن جاتی ہے بالکل ویسے ہی اختیارات کی متعددلوگوں کو منتقلی سے معاملہ ایسا الجھاؤ کی شکل اختیار کرلیتا ہے کہ اسے سلجاھتے ہوئے بہت وقت درکار ہوتا ہے۔ اس کی ہلکی سی جھلک دیکھنی ہو تو کسی بھی سرکاری ادارے کا وزٹ کرلیں آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔

گزشتہ دنوں ہمیں بھی ایک ایسے ہی تلخ تجربے سے گزرنا پڑا۔ ہم انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے اپنی چھ سات سال پرانی ایم اے کی ڈگری لینے گئے، سالوں بعد اس لئے گئے کہ ہم نے 2008 میں بھی کسی دوسرے سبجیکٹ میں ایم اے کر رکھا تھا، جب بھی ضرورت پیش آتی اورملازمت وغیرہ کے لئے اسی سے کام چلاتے رہے۔ یونیورسٹی جاتے ہی ہم نے کلیئرنس فارم حاصل کیے اور ہاسٹل کی کلئیرنس سے اس کا آغاز کیا، لائبریری، فیس سیکش، ڈین سے کلئیرنس میں کامیاب ٹھہرے۔

Read more

کیا طالبان نے امریکہ کو استعمال کیا؟

پاکستان گزشتہ چالیس برسوں سے حالت جنگ میں ہے۔ اس جنگ کو غیروں کی جنگ کا نام بھی دیا گیا، وقتاًفوقتاً اس جنگ سے جان چھڑانے کی باتیں بھی کی جاتی رہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا کہ اس جنگ سے منشیات اور کلاشنکوف کا کلچر پاکستان میں درآیا۔ ان دعووں میں کتنی حقیقت…

Read more

جب مودی کو اپنے گھر میں شکست ہوئی

پاک بھارت حالیہ کشیدگی بارے بھارت کے وزراء، ججز، سول سوسائٹی کے لوگ اورصحافی کیا کہتے ہیں زیر نظر مضمون میں ان شخصیات کے بیانات کے مخصراً اقتباس پیش کیے گئے ہیں۔ پاکستان سے کشیدگی کے دوران بھارتی حکومت کی جانب سے عوام کو گمراہ کیے جانے اور جھوٹے دعوے کرنے پر مودی کو اپنے ہی ملک میں مشکل سوالات کا سامنا ہے، اپوزیشن سمیت ایک موجودہ، 3 سابق وزرائے اعلیٰ و ریاستی وزیر نے پاکستان میں حملے کو بھارتی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ناکام ہوگئی، بالاکوٹ حملے کے ثبوت دے۔چندرا بابو نائیدو نے کہا ہے کہ جو بھی مودی کے خلاف بات کرتا ہے اس کے خلاف کیسز بنادیے جاتے ہیں، مایا وتی نے کہا ہے کہ مودی نے ملکی سلامتی کے معاملات کو نظر انداز کردیا، شیلہ دکشت نے کہا ہے کہ مودی نے سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی، محبوبہ مفتی نے کہا کہ بالا کوٹ آپریشن پر سوال کرنا ہمارا حق ہے، پریانک خرج نے کہا کہ دو تین روز میں سچ سامنے آجائے گا جبکہ سرندرا جیت سنگھ نے اعتراف کیا کہ بالاکوٹ حملے میں کوئی انسانی نقصان نہیں ہوا۔ بھارتی وزیر مملکت سرندرا جیت سنگھ آہلووالیہ نے بالاکوٹ حملے سے متعلق بھارتی انتہا پسند میڈیا کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بھارتی فضائیہ کی کاررو ائی محض وارننگ تھی اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

Read more

ذیشان کا معاملہ مشکوک کیوں؟

سانحہ ساہیوال میں مارے جانے والے ذیشان کے بارے میں جے آئی ٹی نے شکوک کا اظہار کیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ ذیشان بارے حتمی رائے قائم کرنے کے لئے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ بادی النظر میں دیکھا جائے تو جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ نے ذیشان کو بے گناہ ثابت کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، وہ اس طرح کہ جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق سی ٹی ڈی کی طرف سے آپریشن ٹھوس انفارمیشن پر نہیں کیا گیا اس بات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ سی ٹی ڈی نے ایک ایسی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے متعلق ان کے پاس مکمل انفارمیشن نہیں تھی، جب ٹارگٹ ہی درست نہ تھا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اسی گاڑی کے تین سوار تو بے گناہ ہوں اور ایک سوار گناہ گار ہو۔

Read more

ویلڈن وزیراعلیٰ عثمان بزدار

سانحہ ساہیوال کے بعد جب پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے معاملے کی تحقیق کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دی تو ان پر تنقید کی گئی کہ جے آئی ٹی تشکیل دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کی طرف سے بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا گیا اور عوام میں بھی اسی طرح کا موقف اپنایا گیا، جے آئی ٹی کے حوالے سے عوام میں پایا جانے والا غم وغصہ اور تحفظات بلاوجہ نہ تھے کیونکہ اس سے پہلے جتنی بھی جے آئی ٹی بنائی گئی ہیں ان کی تحقیقات سامنے نہیں آسکی ہیں اگر کسی واقعے کی تحقیقات آئی بھی ہیں تو ایسی کہ متاثرین کو کوئی فائدہ نہیں ہو سکا ہے بلکہ معاملہ مزید بگڑ گیا۔

Read more