آخر تم کرتی کیا ہو سارا دن


سارا دن گھر میں تھیں فلاں کام نہیں کرسکتیں تھیں؟ سارا دن فارغ ہوتی ہو گھر میں ایک کام یاد نہیں رہا تمہیں؟ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا آخر تم کرتی کیا ہو سارا دن؟ ؟ یہ وہ کلمات ہیں جن سے تقریبا ہر مشرقی خاتون کی سماعت مانوس ہوگی اور شاید ہم مرد حضرات بھی۔ کیوں کہ ہم ہی تو وہ عظیم ہستی ہیں جو ان زہر آلود احسان فراموش اینٹوں سے ایک اچھی بھلی خاتون کو بگاڑنے کی بنیاد رکھتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ کسی کی بیٹی کو بیاہ کر لاتے ہی اس لئے ہیں کہ محض روٹی، کپڑا اور چھت کے بدلے ہر فن مولا خادم خرید لیں جو بیک وقت دھوبی، خاکروب، خانساماں، چوکیدار، جنسی تسکین کا سامان، بچوں کی آیا اور دفتر سے واپسی پر دن بھر کی تھکن سے پیدا ہونے والے غصے اور چڑچڑے پن کو نکالنے کے لئے ایک بے زبان غلام کا کام دے۔

اب یہ سب وہ خواتین تو برداشت کرلیتی ہیں جن کی تربیت مشرقی اقدار کی بنیاد پر استوار کی جاتی ہے اور بوقت رخصتی انہیں جہیز کے ساتھ ایک نصیحت بھی نتھی کردی جاتی ہے کہ بیٹا ڈولی میں جارہی ہو جنازے میں واپس آنا اس سے پہلے نہیں، سو جن خواتین کے پاس کوئی پلان بی یعنی طلاق کی صورت میں کوئی دوسرا ٹھکانہ یا کاروبار زندگی چلانے کا کوئی مناسب بندوبست نہیں ہوتا وہ چپ چاپ تمام عمر یہ سب سہہ کر گزار لیتی ہیں اور مردوں کی ایک بڑی تعداد اسے اپنا حق اور فرض سمجھتا ہے، بس یہیں سے بگاڑ کی شروعات ہوتی ہے۔

بحیثیت مجموعی ہمارا المیہ ہی یہ ہے کہ ہم کسی بھی معاملے میں اعتدال قائم رکھنے میں ناکام رہے ہیں، ہمارا ہر جذبہ اور ہر سوچ انتہائی درجے کی ہے۔ اگر ہم ظالم اور دقیانوسی ہیں تو انتہا کے ہیں اور اگر ہم لبرل اور جورو کے غلام بننے والے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں تو اس میں ہم اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ہم میں سے کچھ لوگ اپنی شریک حیات کے بارے میں یہ سوچ رکھتے ہیں کہ اسے روٹی کپڑا اور چھت دے کر اس کے دن رات ہم خرید چکے ہیں اب اس کی چمڑی ادھیڑنا اور اس سے کام لینا ہماراحق ہے۔

اس طرح کا رویہ ہی اس خطرناک سوچ کو جنم دیتا ہے جس کی لپیٹ میں ہمارا معاشرہ ان دنوں رفتہ رفتہ آتا جا رہا ہے اور ہمیں احساس تک نہیں ہورہا۔ جب خواتین کا طبقہ یہ سوچنے لگتا ہے کہ اپنے ماں باپ، بہن بھائی اور سب رشتہ دار چھوڑ کر آنے کے بعد جس گھر کو وہ اپنے چوبیس گھنٹے دیتی ہے وہاں اس کی حیثیت ایک زرخرید غلام جتنی بھی نہیں، اس کی بے لوث خدمات کو اس کا کام اور اس دنیا میں آنے کا مقصد گردانہ جاتا ہے تو غیردانستہ طور پر بغاوت کے جذبات سر اٹھانے لگتے ہیں اور جب ایک سے زائد خواتین ایک جگہ بیٹھ کر اسی مسئلے کا مشترکہ طور پر شکار ہوں تو ”انکار کرو“ اور ”میرا جسم میری مرضی“ جیسے المناک نظریے وجود میں آتے ہیں۔

مگر ان ”موم بتی“ والی تحاریک کی بانیان یہ بات بھول جاتیں ہیں کہ ”انکار کرو“ کا حکم کس کے لئے ہے؟ کسے انکار کریں؟ جب یہ کہا جاتا ہے کہ ”میں ماں ہوں، بہن ہوں، بیوی ہوں، بیٹی ہوں اور عورت بھی تو ہوں“ تب یہ منشور خودکار طور پر اپنے اندر خواتین کے ہر روپ کو سمو لیتا ہے۔ گویا ایک ماں کو اولاد سے، بیوی کو شوہر سے اور بہن سے بھائی کو انکار کرنے کو کہا جارہا ہے؟ اور جب خواتین کے اذہان میں ”میرا جسم میری مرضی“ اور ”اپنا کھانا خود گرم کرلو“ کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں تب یہ بات بھلا دی جاتی ہے کہ اس خطرناک کھیل کا انجام کیا ہوگا؟

شعور، آگہی اور تعلیم کے نام پر خواتین کے پسے ہوئے طبقے کی جو ذہن سازی کی جارہی ہے اس کا انجام۔ تباہ کن ہے۔ لیکن بات گھوم پھر کر وہیں آجاتی ہے کہ آخر اس تمام خرابی کا ذمہ دار کون ہے؟ ہم مرد حضرات کو اس بات کو تسلیم کرنے جتنا ظرف دکھانا ہوگا کہ ہم ہی اصل کلپرٹس ہیں جو ایک گھریلو خاتون کو اس نہج پر دھکیل دیتے ہیں جہاں وہ اپنی شرعی ذمہ داریاں فراموش کرکے مردوں کی برابری کرنے گھر سے نکل پڑتی ہے (جبکہ عورت کا مرتبہ مرد سے کہیں محترم ہے ) ۔

اس کے لئے زندگی کا مقصد مرد کی طرح روپیہ کماکر مصنوعی رتبہ حاصل کرنا ہوجاتا ہے۔ جس کی سعی میں اسے پبلک ٹرانسپورٹ میں ہراسگی، نوکری کے حصول کے لئے انٹرویو پینل کی ہراسگی اور دوران ڈیوٹی دفتر میں ہراسگی سمیت ان گنت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نوکری کے حصول اور ترقی پانے کی قیمت ادا کرنے کا تجربہ اس معاشرے کی ہر تیسری بدقسمت عورت کرچکی ہوتی ہے۔ مگر ان کی ایک بڑی تعداد چپ چاپ اس سب کو برداشت کرتی رہتی ہے کیونکہ ایک بار گھرکی دہلیز پارکرنے کے بعد واپسی کا فیصلہ انتہائی کٹھن ہوتا ہے۔

پیسوں کا چسکہ، آزادی کی لت یا گھر کے کام کاج سے فرار وجہ جو بھی ہو خواتین واپس گزشتہ زندگی کا راستہ کم ہی چنتی ہیں۔ مگر کیا نوکری چھوڑدینا ہی واحد حل ہے؟ کیا ہم کسی طرح خواتین کی آمدورفت اور ورک پلیس پر تحفظ یقینی نہیں بنا سکتے؟ خواتین کے غیر محفوظ ہونے اور آسان شکار سمجھ کر ڈرائے دھمکائے اور ہراس کیے جانے کے اسباب کیا ہیں؟ ذمے داران کی سوچ اور موقف کیا ہے؟ کیا وہ خواتین کے پہناوے، فیشن اور رویے کو کھلی دعوت گردانتے ہیں؟ یہ ایسے چھبتے ہوئے سوالات ہین جو تسلی بخش جواب کے منتظر ہیں۔ خواتین کا عالمی دن منانے والے انصاف اور حقوق نسوان کے علمبرداروں کو ان سب کا جواب دینا چاہیے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لئے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔

Facebook Comments HS