آخر تم کرتی کیا ہو سارا دن

سارا دن گھر میں تھیں فلاں کام نہیں کرسکتیں تھیں؟ سارا دن فارغ ہوتی ہو گھر میں ایک کام یاد نہیں رہا تمہیں؟ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا آخر تم کرتی کیا ہو سارا دن؟ ؟ یہ وہ کلمات ہیں جن سے تقریبا ہر مشرقی خاتون کی سماعت مانوس ہوگی اور شاید ہم مرد…

Read more

نواں کٹا کھلنے کی دیر ہے بس

بحیثیت قوم ہمیں اس بات کو تسلیم کرنے جتنا جگرا دکھانا چاہیے کہ ہم سب ٹرک کی بتی کے پیچھے لگنے والی مردہ قوم ہیں۔ مردہ قوم اس لئے کہ جس کا جب دل چاہے ہمیں اپنی مرضی کے ایشو کے پیچھے لگا کر ہماری تمام تر توجہ اصل اور حقیقی معنوں میں تصفیہ طلب مسائل سے ہٹادیتا ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ اس سے اہم مسئلہ تو کوئی ہے ہی نہیں اور یہ مسئلہ کسی اور کا نہیں بلکہ ہمارے گھر کا ہے۔ مثال کے طور پر ابھی کچھ روز پہلے کی بات ہے کہ پنجاب کے شہر ساہیوال میں کمسن بچوں کے سامنے ان کے والدین اور بہن کو گولیوں سے یوں چھلنی کردیا گیا جیسے وہ پڑوسی ملک سے آکر سیدھا وزیراعظم ہاوس المعروف یونیورسٹی کو مسمار کرنے جارہے ہوں، کچھ روز اس موضوع پر ملکی مبصرین اور فیس بکی دانشوروں کو طبع آزمائی کا بھرپور موقع ملا، سب نے اپنی قلمی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے، جگہ جگہ ڈیجیٹل ماتم اور سافٹ وئیر کے آنسو بہائے گئے، پروفائل پکچرز بدلی گئیں گویا سب نے اپنا حق ادا کردیا، میڈیا سوشل میڈیا اور اخبارات میں وہ غم و غصے کا اظہار کیا گیا کہ ہم سب کا بس نہیں چل رہا جا کر انہی سیکورٹی فورسز کا ناس ماردیں جن کی شان میں گزشتہ آٹھ سالوں سے قصیدے پڑھ رہے ہیں۔

Read more

نکاح کے بغیر جنسی تعلق

ان دنوں انسانیت جن سنگین مسائل سے دو چار ہے ان میں سے ایک خاندان کی تباہی و بربادی ہے۔ خود غرضی، مفاد پرستی، شہوت رانی، مادیت کے غلبے اور مال و دولت کی حرص کے سبب خاندان کی ذمہ داریوں سے فرار کی راہیں تلاش کی جارہی ہیں، یہاں تک کہ اب اس کی ضرورت سے بھی انکار کیا جانے لگا ہے اور نکاح کے بغیر جنسی تعلق کی توجیحات تلاشی جارہی ہیں۔ اس رجحان کو اصطلاحی طور پر Live in Relationship کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی مرد اور عورت کا ایک ساتھ رہتے ہوئے زندگی گزارنا۔

اس کا اطلاق ان جوڑوں پر کیا جاتا ہے، جو نکاح کے بغیر ایک ساتھ رہنے لگیں۔ ان کی یہ معاشرت عارضی اور چند روزہ بھی ہوسکتی ہے اور اس میں پائیداری بھی ممکن ہے کہ وہ طویل زمانے تک ایک ساتھ رہیں۔ اس عرصے میں ان کے درمیان جنسی تعلق بھی قائم رہتا ہے، جس کے نتیجے میں بسا اوقات بچے بھی ہوجاتے ہیں، لیکن میاں بیوی کی طرح رہنے کے باوجود ان کے درمیان نکاح کا معاہدہ نہیں ہوتا، جس کی بنا پر ان میں سے ہر ایک کواختیار رہتا ہے کہ جب بھی اس کی مرضی ہو علیٰحدگی اختیار کرلے۔ نکاح نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے ساتھی کے تعلق سے ہر طرح کی ذمہ داریوں سے آزاد رہتا ہے اور اس پر کوئی قانونی بندش نہیں ہوتی۔

Read more

کیا خصوصی افراد کے لئے کوئی تبدیلی آئے گی؟

میرا جنم آج سے چھبیس سال قبل صوبہ بلوچستان کی ایک یخ بستہ وادی وادئی کوئٹہ میں ہوا تھا۔ شاید یہ موسم سرما کی برفباری کے اثرات تھے یا میرے رب کی رضا لیکن مجھے مسکیولر ڈسٹرافی نامی بیماری نے ہمیشہ کے لئے دبوچ لیا۔ ماں کے پیٹ سے ٹھیک ٹھاک پیدا ہونے والے بچے کو دیکھ کر اس کے اس مرض میں مبتلا ہونے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، پہلی بار احساس تب ہوا جب میرا کھلونا ہاتھ سے پھسل کر مجھ سے دور جا گرا اور اسے اپنی پہنچ سے دور پا کر میں نے اٹھانے کی کوشش تک نا کی، یہی وہ دن تھا جب میری ماں کی جدوجہد کا آغاز ہوگیا۔

ملک بھر کے تمام بڑے چھوٹے ہسپتالوں سے لے کر مزاروں، پیروں فقیروں اور درگاہوں تک ہر جگہ علاج کے لئے قسمت آزمائی لیکن رب کا فیصلہ سب پے بھاری اور اٹل تھا۔ اس مرض کا علاج ابھی تک دریافت ہی نہیں ہوا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کیا جاسکتا ہے کہ اس مرض کو بڑھنے سے روکا جائے، کیونکہ عمر گزرنے کے ساتھ متاثرہ شخص کا جسم اور صحت بہت بری طرح خراب ہونے لگتا ہے اور اس سچائی کو میں ان دنوں محسوس کررہا ہوں۔

Read more

خصوصی افراد کا عالمی دن اور پاکستان

یوں تو دنیا کی آبادی کا 10 فیصد جبکہ پاکستان کی کل آبادی کا 7 فیصد حصہ ذہنی یا جسمانی معذوری سے گزر رہا ہے۔ تاہم یہ آبادی اس وقت 50 فیصد سے تجاوز کرجاتی ہے جب اس میں کسی معذور فرد کے ساتھ اس کے گھرانے کو بھی شامل کرلیا جائے کیونکہ ایک فرد…

Read more

ڈپریشن اور خود کُشی کا بڑھتا ہوا رجحان

ڈپریشن ایک نفسیاتی مرض کا نام ہے۔ عرف عام میں اسی مایوسی کہا جاسکتا ہے۔ یہ بیماری آپ کے اندر سے جینے کی چاہ اور حالات و واقعات سے لڑنے کی ہمت کو ختم کردیتی ہے۔ ڈپریشن کی کچھ واضح علامات میں نیند کی کمی، ہر وقت اداس اور خفا رہنا، اپنے وجود کے نا ہونے کا احساس ہونا اور خود کو بیکار تصور کرنا، کسی بھی چیز کو توجہ نہ دے پانا اور یاداشت کا کمزور ہونا، لوگوں سے ملنے جلنے سے اجتناب کرنا اور بھوک کا مٹ جانا شامل ہیں۔ اور یہی جسمانی تبدیلیاں وہ خطرناک علامات ہیں جو ایک اچھے بھلے انسان کو بستر مرگ تک پہنچا سکتی ہیں۔

ڈپریشن کی وجوہات کی بات کی جائے تو پہلی وجہ کیمیائی تبدیلی ہے یعنی آپ کے دماغ کے اہم حصے میں موجود نیورو ٹرانسمیٹرز میں فرق آجانا ہے جو آپ کے موڈ کو متوازن رکھ رہے ہوتے ہیں۔ دوسری وجہ جینیاتی ہے یعنی اگر آپ کے خاندان میں کسی کو ڈپریشن ہو تو پھر آئیندہ یا موجودہ نسل میں بھی وراثتی طور پر پایا جاسکتا ہے۔ تیسری وجہ آپ کی شخصیت ہے، اگر آپ کی شخصیت کچھ اس طرح کی بن چکی ہے کہ آپ چھوٹی چھوٹی باتوں پر حد سے زیادہ پریشان ہوتے ہیں، منفی باتوں پر بہت زیادہ غور کرتے ہیں اور آپ کی خود اعتمادی بتدریج کم ہورہی ہے تو آپ بہت آسانی سے ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ چوتھی اور آخری وجہ ماحولیاتی عناصر ہیں۔ مسلسل جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہونا، گھریلو ماحول کا خراب ہونا، مسلسل ناکامیاں، کسی بہت ہی عزیز شخص کی جدائی، والدین یا اپنوں کی غفلت، اور معاشی مسائل بھی ڈپریشن کا باعث ہوسکتے ہیں۔

اسلامی روُ سے خودکشی حرام اور ناقابل بخشش گناہ ہے اور بحیثیت مسلمان ہم اگلی زندگی اور موت کے بعد دوبارہ اُٹھائے جانے پر ایمان بھی

Read more

بچوں کی اچھی تربیت کیسے کریں

اگر آپ اور آپ کا بچہ دونوں ہی اپنی بات منوانے کے لئے ضد پر اڑ جاتے ہیں تو آپ میں اور اس بچے میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ آپ کو یہ شکایات رہتی ہیں کہ ہر بار آپ کا بچہ کسی نہ کسی طرح سے اپنی بات منوا ہی لیتا ہے۔ ، آپ کا بچہ اُس وقت آپ کی بات کو نظرانداز کر دیتا ہے جب آپ اُسے کوئی ایسا کام کرنے کو کہتے ہیں جسے وہ کرنا نہیں چاہتا اور جب آپ بچے کو کسی کام سے منع کرتے ہیں تو وہ غصے میں رونا پیٹنا شروع کر دیتا ہے۔ ۔

شاید آپ یہ سوچتے ہوں کہ اس عمر میں تو بچے ایسا کرتے ہی ہیں ابھی نادان ہے، بڑا ہوکر ٹھیک ہوجائے گا مگر ایسا نہیں ہے۔ بچپن میں پڑنے والی عادات بچے کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں اور عمر بھر رہتی ہیں۔ آپ چھوٹے بچوں کو کہنا ماننا سکھا سکتے ہیں۔ آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ بچوں کے کہنا نہ ماننے کی وجہ کیا ہے۔ ‏

Read more