نواز شریف شطرنج کی خطرناک ترین چال چل رہے ہیں


شطرنج میں دلچسپی رکھنے والوں کے جسم میں ایک کھلاڑی کا نام جیسی سنسنی دوڑاتا ہے ویسا کوئی دوسرا کھلاڑی نہیں کر پاتا۔ یہ نام ہے شطرنج کے آٹھویں ورلڈ چیمپئن میخائل تال کا۔ میخائل تال کو تاریخ کے بہترین اٹیکنگ پلیئرز میں گنا جاتا ہے۔ انہیں شطرنج کی دنیا میں ”ریگا کا جادوگر“ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مشہور کتابوں ”دی میمتھ بک ہو ورلڈز گریٹسٹ چیس گیمز“ اور ”ماڈرن چیس بریلینسز“ میں تال کی گیمز کی تعداد کسی بھی دوسرے کھلاڑی سے زیادہ ہے۔

گرینڈ ماسٹر لیول پر شطرنج کی گیم تقریباً ویسی ہی ہوتی ہے جیسے ایک اژدھا شکار کرتا ہے۔ آہستہ آہستہ شکار کے گرد گھیرا تنگ کیا جاتا ہے۔ ایک پیادے کا ایڈوانٹیج بھی گرینڈ ماسٹرز کی گیم کا فیصلہ کر ڈالتا ہے۔ ایسے میں اگر ایک ایسا کھلاڑی سامنے آئے جو دنیا کے بہترین چیس پلیئرز کے ساتھ کھیلتے ہوئے اس دھیمی گیم میں اچانک اپنا فیل، رخ حتی کہ وزیر بھی بظاہر بلاوجہ ہی قربان کر دے تو بڑے بڑے مبصر بھی چند لمحوں کے لئے حیران رہ جاتے ہیں۔ لیکن چار پانچ چالوں کے بعد جب اپنے آدھے سردار حریف کے پیادوں کے بدلے مروانے کے بعد جب اچانک میخائل تال شہ مات دیتے تو ان کا حریف اور شطرنج کے مبصر دونوں ششدر رہ جاتے۔

شطرنج کے کھیل میں دشمن کو شہ مات دینے یا بڑا نقصان پہنچانے کی خاطر اپنا بڑا مہرہ قربان کرنا سیکریفائس یعنی قربانی کہلاتا ہے۔ تال کے کھیل کی خاص بات یہ تھی کہ وہ محض جارحانہ پوزیشن میں آنے کی خاطر بھی اپنا مہرہ قربان کر دیتے تھے۔ ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ بورڈ پر اتنی زیادہ پیچیدہ صورتحال پیدا کر دی جائے کہ مخالف غلطی کرنے پر مجبور ہو جائے۔ اور بہت بڑے بڑے پلئیر تال کے مقابل یہ غلطی کر دیا کرتے تھے۔ شطرنج کے عالمی ماسٹر اور مصنف جیمز ائیڈ کے مطابق میخائل تال اپنی اسی غیر متوقع قربانی کی وجہ سے شطرنج کی تاریخ کے ان تین کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن سے ہم عصر کھلاڑی کھیلتے ہوئے خوفزدہ رہتے تھے۔ دوسرے دو کھلاڑی شطرنج کی دنیا کے عظیم نام کیوبا کے کیپابلانکا اور امریکی بوبی فشر تھے جو روایتی گیم میں اپنی تکنیک کی وجہ سے جینئیس شمار کیے جاتے ہیں۔

نواز شریف بھی بظاہر میخائل تال کی راہ پر چل رہے ہیں۔ اپنی عزیز ترین جیون ساتھی بیگم کلثوم نواز کو جس وقت وہ کومے میں چھوڑ کر واپس آئے جب کہ ان کو علم تھا کہ ان کا مقدر جیل ہے، تو ان کے عزائم ظاہر ہونے لگے تھے۔ اڈیالہ جیل کے ابتدائی تین دن کی قید نے ان کی جان کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ وہ بیک وقت دل، شوگر اور اس سے پیدا ہونے والی دیگر پیچیدگیوں میں مبتلا ہیں۔ اب جس طرح علاج کی مناسب سہولیات نہ ملنے کے سبب کوٹ لکھپت جیل میں انہوں نے اپنی تکلیف سے جیل حکام کو مطلع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہسپتال جانے سے انکاری ہیں اس سے بھی اس اندازے کو تقویت ملتی ہے کہ ان کا مقصد صرف اپنی جان قربان کرنا ہے۔

غالباً ان کے ذہن میں یہ بات جم چکی ہے کہ وہ اپنی اننگز کھیل چکے ہیں۔ وہ دوبارہ حکمران نہیں بن سکتے۔ لیکن اپنے تینوں ادوار میں وہ جس بے بسی سے دوچار رہے ہیں، اس سے وہ اپنی جانشین مریم کو بچانا چاہتے ہیں۔ اگر وہ قربان ہو گئے تو اس مرتبہ پنجاب میں ویسی بے چینی پیدا ہو سکتی ہے جیسی بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بالخصوص سندھ میں ہوئی تھی۔ پنجاب میں جلاؤ گھیراؤ کا امکان تو نہیں ہے کیونکہ نواز شریف کا ووٹر سٹریٹ ایجی ٹیشن پر یقین نہیں رکھتا، لیکن جیسے سندھ میں بھٹو زندہ ہے، ویسے پنجاب میں نواز شریف اگلی کئی دہائیوں کے لئے زندہ رہے گا۔ پنجاب میں مظلوم کا ساتھ دینے کی روایت پرانی ہے۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کے لئے ایک سیاہ دن ہو گا۔

دوسری طرف تحریک انصاف کے صوبائی اور مرکزی حکام کے لئے حکومت سے نکلنے کے بعد صورتحال خوشگوار نہیں رہے گی چونکہ شریف خاندان کا اتنا بڑا دل نہیں ہے جتنا بھٹو خاندان کا ہے۔ وہ بدلہ لینے پر یقین رکھتے ہیں۔ دوبارہ نون لیگ کی حکومت آنے کے بعد موجودہ حکمرانوں کو بھی بے نظیر بھٹو اور دیگر رہنماؤں کی مانند جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

ہو سکتا ہے کہ نواز شریف کی قربانی کے باعث جمہوری حکومت کو طاقت مل جائے۔ لیکن میخائل تال کی گیم بیشتر صورتوں میں نہایت کامیاب ہونے کے باوجود چند بڑے کھلاڑی ایسے تھے جو انہیں ناکام بنا دیا کرتے تھے۔ ورلڈ چیمپئن بورس سپاسکی، پیٹروسین، سمیسلوو اور گرینڈ ماسٹرز کیرس، کورچنوئی، سٹائن وغیرہ جیسے کھلاڑی میخائل تال کی قربانی سے پیدا کردہ پیچیدہ صورتحال سے عموماً کامیابی سے نمٹ لیتے تھے۔ بڑے مہرے کی قربانی میں اگر حریف کو سنبھلنے کا موقع مل جائے تو بری طرح سے گیم ہارنا انجام ہوتا ہے۔ یہ شطرنج کی خطرناک ترین چال ہوتی ہے جو تخت تو دلوا سکتی ہے، مگر وار اوچھا پڑنے پر تختہ مقدر ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar