ایک شاعرہ پر پابندیوں نے اسے اپنی زندگی جینے کو آزاد کر دیا
خوشبو کی حقیقی کہانی میں نے آٹھ مارچ کو ہم سب کے لیے رکھ چھوڑی تھی۔ لیکن 8 مارچ کو اسکول میں صبح اسپرنگ فیسٹیول اور شام کو او لیول کی الوداعی تقریب کی تیاریوں اور شرکت کی وجہ سے مضمون بھی نہ بھیج سکی اور جو آج صبح فیس بک پر مختلف دوستوں کے اسٹیٹس پر نظر پڑی تو اندازہ ہوا کہ اس بار کے نعروں نے اچھوں اچھوں کی قلعی کھول دی۔
ایک خاتون کے کارڈ پر درج تھا میں آوارہ میں بد چلن۔
ایک حساس افسانہ نگار نے کمنٹ لکھا، کہیں یہ دعوت تو نہیں۔
اسی طرح ایک خاتون کو کچھ خواتین کے کارڈ پر لکھے گئے چند بے باک نعروں پر اعتراض تھا۔ ہمارے ایک اور حقوقِ نسواں کے علمبردار بھی خواتین کے کچھ نعروں پر معترض تھے اور ایسی خواتین کے لیے اپنے دل سے احترام جا تا ہوا محسوس کر رہے تھے۔
ہر عورت کے کارڈ پر جو کچھ بھی درج تھا، وہ اس کے اپنے مشاہدے اور ذاتی تجربے کی دین بھی ہو سکتا ہے۔ ایک صاحب نے لکھا یہ پلے کارڈ ہاتھ میں تھامے عورتیں اپنے لباس اور چال ڈھال سے صاف لگتا ہے کہ تمام نسوانی حقوق انجوائے کر رہی ہیں۔
ماشا اللہ یہ نام نہاد خواتین کے حقوق کے علم بردار خود کو عقلِ کل سمجھتے ہوئے ان خواتین کے لیے احترام محسوس نہیں کر پارہے۔ اس لیے بے چین دل کی تڑپ کو اسٹیٹس سے ظاہر کر دیا۔
جنہیں احساسِ قید ہی نہیں وہ آزادی کی طرف قدم نہیں بڑھا تے۔ گاؤں اور چھوٹے شہروں یا بڑے شہروں میں خواتین کے ساتھ استحصال کی ایک بڑی وجہ غربت اور جہالت ہے۔ جس کی وجہ سے خواتین کو ئی قدم نہیں اٹھا پاتیں۔ اور مرد غربت سے نبرد آزمائی میں ایک ہدف اپنی عورت کو بھی سمجھتا ہے۔ کسمپرسی، غربت اوربے بسی کا اظہار وہ عورت کو پیٹ کر کرتا ہے۔ اور غریب عورت بھی روزآنہ خود کو اس کے لیے سنوار رکھتی ہے۔ اوربرا نہیں منا تی۔
خوشبو اورسطوت، میڈیکل کی طالبات، ہم جماعت اور پکی سہیلیاں، ہم راز اور ہم مزاج۔ ، دونوں شاعری کرتی تھیں۔ بہترین مقررہ تھیں۔ کوئی محفل ہو نظامت کے فرائض یہ ہو انجام دیا کرتیں۔ سطوت کو ایک شخص سے پیار ہو گیا۔ مگر اس کے گھر والے اس رشتے پر رضا مند نہ ہو ئے کیوں کہ وہ غیر فرقے سے تھا۔ خوشبو نے دونوں کے ساتھ جا کر کورٹ سے اجازت نامہ حاصل کیا، نکاح کے موقع پر سارے دوستوں کو مدعو کیا۔ سطوت کے والدین نے اپنی بیٹی کے اس جرم پر اس سے قطع تعلق کر لیا۔
اس دوران خوشبو کے لیے ایک رشتہ آیا۔ والدین کے خیال میں وہ بہت اونچے گھرا نے سے تعلق رکھتا تھا۔ امیر اور خوشحال گھرانہ تھا اور لڑکا اٹامک انجینئر تھا۔ گھر کے باہر چار مسلح گارڈ ہر وقت پہرا دیا کرتے۔ خوشبو کے والدین اپنے داماد سے بڑے مرعوب تھے۔ جس کا اظہار وہ ہر ایرے غیرے سے کیا کرتے۔ اس کے عہدے اور مرتبے سے مرعوب ہو کر اپنی بیٹی کی خوش نصیبی پر رشک کیا کرتے۔ داماد کی افسر انہ شان کی چکا چوند میں خوشبو کی ساری صلاحیت، شہرت، قا بلیت اور اس کا اعتماد ان کی نظروں میں دھندلا چکا تھا۔
شادی کے بعد اس اٹامک انجینئر نے پہلے خوشبو کی شاعری پر قدغن لگائی۔ پھر اسے ہاؤس جاب سے منع کر دیا اس کے خیال میں وہ اتنے دولت مند تھے کہ خوشبو کو نوکری کی ضرورت نہیں تھی۔ خوشبو نے گھر پر اپنے والد اور والدہ سے شکایت کی تو والدین نے اسے سمجھایا کہ یہ تو اچھی بات ہے اور تمہارے بھلے کے لیے ہی ہے۔ خوشبو نے والدین کے اس رویے پر دل برداشتہ ہو کر کر ان سے شکایت کرنا اور پھر ان کے ہاں جا نا ہی چھوڑ دیا۔
دوسری طرف سطوت کے شوہر نے اس کی شاعری اور اس کی جاب میں اسے پورے طور پر معاونت کی۔ یوں ہاؤس جاب کے بعد وہ مختلف ہسپتالوں میں شفٹس کرنے لگی اور شاعری کے سا تھ ساتھ اور شعری نشستوں میں بھی شرکت کرنے لگی۔
خوشبو کے دو بچوں کی پیدائش کے بعد دو جڑواں بچے ہوئے اور خوشبو اب اپنے آپ کو بھی بھول کر بچوں کی دیکھ بھا ل میں لگ گئی۔ بچے بڑے ہوئے تو اس کے ہاتھ اس کی اپنی ڈائری لگی اپنا کلام دیکھ کر اسے اپنی گمشدہ ہستی کا خیال آیا۔ اسے یاد آیا کہ کتنی محنت کے بعد اسے میڈیکل کا لج میں داخلہ ملا تھا۔ پھر میڈیکل کی تعلیم کے دوران موٹی موٹی کتابوں نے اس کی کتنی راتوں کو آنکھوں میں کا ٹا تھا۔ اسے یاد آیا کہ وہ سرجن بننا چا ہتی تھی۔ اسے آنکھوں کا ڈاکٹر بنا تھا۔ اسے اسپیشلائز کرنا تھا۔
وہ کو ن ہے، کیا ہے۔ وہ کہیں بھی جا تی ہے۔ مسز دانش کے نام سے پہچانی جا تی ہے۔ دانش کو ن ہے۔ کون ہے دانش۔
وہ اٹامک انجنیئر۔ دروازے پر ہر وقت گا رڈ بیٹھے رہتے ہیں۔ ہر آئے گئے پر ان کی چوکس نظریں ہو تی ہیں۔ دانش اس کا شوہر اسے ہر وقت یہ ہی تو با ور کراتا رہتا ہے۔ دیکھو تمہاری کتنی عزت ہے یہ آتے جا تے تمہیں گارڈسلیوٹ کرتے ہیں۔
ہاں وہ مجھے سلیوٹ کرتے ہیں۔ لیکن کیوں؟
کیوں کہ تم میری بیوی ہو؟
تو یہ تو آپ کی عزت ہو ئی نا۔
میری عزت تو نہیں ہو ئی نا۔
عورت کی عزت اس کے شوہر سے ہی ہو تی ہے۔
مگر سطوت کی عزت تو اس کی اپنی وجہ سے ہے۔
وہ دو ٹکے کی شاعرہ، راتوں کو شفٹیں لگا نے والی ڈاکٹر، تمہیں کیا معلوم عزت کیا ہو تی ہے۔ دانش نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا۔
خوشبو اپنے کمرے میں چلی گئی۔ بچے سہم کر سو چکے تھے۔ اس نے اپنی چھوٹی بہن کو فون کیا۔ اس سے کہا کہ وہ اس کی فیس بک آئی ڈی بنا دے۔
کچھ دنوں بعد اس نے فیس بک پر اپنی شاعری پوسٹ کرنا شروع کر دی۔ ایک دن اس کی ہم جماعت نے اسے فرینڈ ریکوئسٹ بھیجی۔ پھر اسی ہم جماعت کے توسط سے اس نے ایک این جی او میں بطور ہیلتھ افسر جاب کر شروع کر دی۔
اس کے فیس بک پر ایکٹو ہو نے کی وجہ سے اس کے پرانے دوست اکٹھے ہو نے لگے اسے مشاعروں میں مدعو کیا جا نے لگا۔ اس کا شوہر سے روز جھگڑا ہو تا۔ اس کے ماں با پ کو بلا یاگیا والدین نے بھی اسے سمجھا یا کہ اپنے شوق کی خاطر وہ اپنی شادی کو دا ؤ کیوں لگا رہی ہے۔ لیکن اب خوشبو اپنی صلاحیتوں سے آگاہ ہو چکی تھی۔ اپنا آپ پہچان چکی تھی۔ اسے خود سے پیار ہو گیا تھا۔
پرانے دوستوں سے ملا قات ہوئی تو سب ہی نے اسے شاعری کرنے، گھر سے نکلنے، ادبی نشستوں، مشاعروں میں جانے اور پریکٹس شروع کرنے کا مشورہ دیا۔ کسی کو اس کے میاں کے مزاج کے بارے میں علم نہیں تھا سب اس کی گوشہ نشینی کو اس کی کاہلی اور سستی پر محمول کر رہے تھے۔ اس نے شوہر کے منع کرنے اور لڑائی جھگڑوں کے باوجود گھر سے نکلنا شروع کر دیا۔ اب اسے ادبی نشستوں میں شرکت اور نظامت کے فرائض کی انجام دہی کے یے بلا وے ملنے شروع ہو گئے۔ گھر میں لڑائی جھگڑوں اور ہنگاموں کے باوجود خوشبو کی ہٹ دھرمی بر قرار رہی۔ ایک سال بعد اسے انگلینڈ سے مشاعرہ پڑھنے کی دعوت موصول ہو ئی اس نے اپنے میاں کو بتایا تب اس نے کہا کہ اگر وہ وہاں گئی تو وہ اسے طلا ق دے دے گا۔
خوشبو اب اس طرح کی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لا تی تھی۔ وہ اپنے بچوں کو شوہر کے پاس چھوڑ کر انگلینڈ چلی گئی۔ جب واپس آئی تو شوہر نے اس کے ماں باپ کو بلا یا اور اس کی ہٹ دھرمیوں کی طویل فہرست سنانے کے بعد اسے ایک طلاق دے دی۔ خوشبو نے اب اس کم ظرف کی زندگی سے نکلنے کا تہیہ کر لیا تھا۔ وہ کراچی کی مختلف ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگی۔ بڑے عہدے والے داماد نے ہر طرح کے ظلم روا رکھ کر دیکھ لیے۔ اس کی طلاق کی دھمکی بھی کار گر نہ ہوئی تو اس نے بیوی کو سمجھانے کے کے مختلف علماء سے ایسی ہٹ دھرم بیوی کو سمجھانے اور راہ راست پر لانے کے لیے رابطہ کیا۔ لیکن خوشبو خود آگاہ ہو چکی تھی۔ اس عرصے میں اس کے والد کا انتقال ہو گیا اور اس کی امی اپنے بیٹے کے پاس جرمنی چلی گئیں۔
اسی اثنا میں خوشبو کو کینیڈاسے مشاعرہ پڑھنے کی دعوت آئی۔ انگلینڈ کے مشاعرے سے وہ اتنی رقم لے آئی تھی کہ اس بار وہ اپنے بچوں کے ساتھ کینیڈاجا سکتی تھی۔ اس نے چپکے چپکے ساری تیاری کر لی۔
اس کا بزدل شوہر اٹامک انجینئر ایک طلاق دینے کے بعد سمجھ رہا تھا کہ وہ اسے ڈرا دے گا لیکن عورت جب کرنی پر آجائے تو کوئی دھمکی، طاقت یا لالچ اسے روک نہیں سکتی وہ ہر قیمت پر اس کے سائے سے بھی خود اور بچوں کو دور لے جا نا چا ہتی تھی۔
اس بار اس نے اپنے شوہر کو بتانے کی ضرورت نہیں سمجھی تھی کہ مشا عرہ پڑھنے کینیڈا جا رہی ہے اسے معلوم تھا جواب میں اسے دوسری طلاق کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ وہ خود اور بچوں کو ہمیشہ کے لیے اس کے سائے سے بھی دور کر دینا چا ہتی تھی۔ اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر پولیس میں نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کروئی۔ اور اس کی ایک کاپی بھی اپنے ساتھ رکھ لی۔
کینیڈا گئے ہوئے اب اسے پانچ سال ہو چکے ہیں۔ اس نے وہاں کی شہریت حاصل کر لی ہے۔


