فیاض چوہان، نوائے وقتی سچ اور اسرائیلی پائلٹ
مثلآ عراق، شام یا خود افغانستان میں جہاد کا مطلب ہندو مذہب کی دشمنی نہیں ہے۔ ہم کبھی نہیں جان پائیں گے کہ پاکستان میں اس دو قومی نظریے کے بطن سے نکلے جہادی فلسفے نے کتنے گھر اجاڑے، کتنوں کو یتیم کیا، یہ اعداد و شمار جو دستیاب ہیں یہ محض ان لاشوں کے ہیں جن کے جنازے اٹھائے گئے۔ وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے ان کا حساب موجود ہی نہیں۔ اور جن کے پیارے کھو گئے ان کے پیچھے زندہ بچ جانے والے در اصل بچتے نہیں، زندگی کے راستوں پر گم جاتے ہیں۔
اس کی مثال پاک فوج کے حوالے سے دیکھیں۔ پاک فوج کا شہید ہمارا ستارہ ہوتا ہے، اور اس کے اہل خانہ کو وہ عزت و احترام ملتا ہے جس کے جائز طور پر مستحق ہوتے ہیں مگر ان کے مقابلے میں ایک بے نام گھر کا بغیر وردی کا انسان، جہادی فلسفے سے متاثر ہو کر جب جنگ میں کام آتا ہے اس کو کتنے لوگ اپناتے ہیں۔ اس کے پیچھے ”بچ“ جانے والوں کا کیا حال ہوتا ہے کیا بتانے کی ضرورت ہے۔
اور تو کسی نے ان کو کیا پوچھنا تھا، امید تھی کہ مجید نظامی مرحوم جن کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی وہ ہی اپنی کھربوں کی جائیداد مرنے سے قبل ان بے نشان جہادیوں کی بیواؤں اور بچوں میں تقسیم کر جائیں گے، یا کوئی ایسا ٹرسٹ بنا جائیں گے جس کی مستقل آمدنی سے کشمیر میں یا افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کوئی ہسپتال بن کر چلتا رہے گا۔ کوئی ایسا آسرا جو ان یتیموں کی کسی حد تک تو دادرسی کرتا رہے جن کے باپ نوائے وقت کے اداریے پڑھ کر اسے دائمی سچ سمجھ بیٹھے اور شہادت پائی۔
گنگا رام ہسپتال تو چلو ہندو نے بنایا تھا مگر وہ کسی سچے کھرے مسلمان ہسپتال کو ہی چندہ دیں گے اور کچھ نہیں تو کم از کم غریب یتیموں کو اپنا وارث بنا جائیں گے مگر آفرین ہے کہ جب خود اپنی دولت اور جائیداد دینے کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے ہی مالی طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی خاتون کو قانونی طور پر اپنی بیٹی بنا کر تمام جائیداد اس کے حوالے کی جو پہلے ہی سے کروڑ پتی تھی۔ ظاہر ہے اس کا صحافت یا کسی نظریے سے کیا لینا دینا تھا وہ اس کی ابجد سے بھی واقف نہیں تھی اور نہ آج تک ہے۔
دو قومی نظریہ کا جہاد جسے کارکن صحافی حقیقت میں اپنے لئے دین و جان کا مسئلہ بنائے بیٹھے تھے، انہیں چن چن کر خاتون نے ذلیل کیا اور جو ادارہ نظامی مرحوم کی تیار کردہ فورس آرام سے طویل عرصہ کامیابی کے ساتھ چلا سکتی تھی اسے چند ہی سالوں میں مرحوم بنانے کے قریب لے آئی۔ جلد ہی اس کا جنازہ یہ خاتون شوق سے پڑھا دے گی اور کھربوں کی جائیداد بیچ کر شان سے زندگی گزارے گی۔
یہ ہے اس جہاد کو بڑھاوا دینے والوں کی حیثیت اور حقیقت۔ فیاض الحسن چوہان غم نہ کریں ان کی صرف وزارت ہی گئی ہے، اس نوائے وقتی سچ سے لوگوں کے تو خاندان کے خاندان اجڑ گئے، ان کے بچے بھیک مانگتے جسم فروشی کے اڈوں پر پہنچے اور بیواؤں کا شمار ہی نہیں۔
آخر میں یہ کہ ہمدم دیرینہ فواد چوہدری نے کل یاد کیا۔ گپ شپ کے دوران عرض کیا کہ اگر بطور وزیر اطلاعات و نشریات، پی ٹی وی کا کنٹرول ہی آپ کے پاس نہیں تو بہتر ہے کہ وزیر اعظم سے گزارش کریں کہ یہ وزارت کی تہمت آپ سے واپس لے لیں اور وزیر اعظم ہاؤس کی ترجمانی کے فرائض سنبھال لیں۔ چوہدری صاحب نے اتفاق کیا اور امید ظاہر کی چند دنوں میں یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ دوسری بات اسرائیل کے ایک مبینہ پائلٹ کی گرفتاری کی افواہ یا خبر پر ہوئی۔
عرض کیا کہ اگر 27 فروری کو واقعی ہم نے کوئی اسرائیلی پائلٹ بھی پکڑا ہے تو اسے سامنے کیوں نہیں لاتے، ہمارا بہت بڑا شو ہو سکتا ہے اور اس پائلٹ کو واپس کرنا گویا جنگ کی ایسی تاریخ بنا دے گا جو منفرد ہو گی اور دنیا بھر میں یاد رکھی جائے گی۔ ان کا جواب تھا کہ ایسا نہیں ہے، پھر عرض کیا اگر نہیں ہے تو تردید کر دیں۔ جس پر وہ بات کو بدل گئے۔

