بیچارے میڈیکل سٹوڈنٹس


ان دنوں ہمارا ایم بی بی ایس سال اول کا امتحان ہو چکا تھا۔ عصر کی نماز پڑھ کے جب ہم تین دوست مسجد سے نکل آئے تو سورج بھی مغرب کی جانب بادلوں سے نکل چکا تھا۔ ہلکے ہلکے بادل آسمان پر ادھر ادھر گھوم رہے تھے جیسے انہوں نے بھی عصر کی نماز ادا کی ہو اور سکون کی حالت میں ہو۔

گاؤں کی صاف ستھری فضا، کھیتوں کی ہریالی اور پرندوں کی چہک ویسے بھی بنی آدم کو شام کے وقت ہری بری کھیتوں کی جانب کھینچتی ہے لہذا ہم بھی سڑک کے کنارے آہستہ آہستہ گپ شپ لگاتے چلتے گئے۔

سامنے سے گڈریا اپنے بے شمار بھیڑ بکریوں کا لشکر تھامے اپنے منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ دائیں جانب دیکھا تو بچے کھیل کھود میں مست دنیا کے غموں سے انجان شور مچا رہے تھے۔ پرندے جوق در جوق اپنی گھونسلوں کی جانب خالی منہ اس امید پر گامزن تھے کہ کل اللہ اور رزق دے گا اور ہم دنیا کی باتوں کو ڈسکس کرتے کرتے چلتے گئے کہ سامنے سے میرے دوست کے والد محترم آرہے تھے جو کہ ہمارے گاؤں کے ہائی سکول میں ٹیچر ہیں۔

ملاقات ہوئی، میں نے ان کی خیریت دریافت کی انہوں نے میری، ادھر ادھر کی باتیں ہوئی باتیں آتی اتی ہمارے میڈیکل کی تعلیم تک آپہنچیں۔ اچھا بیٹا جی آپ کا امتحان تھا کیسا ہوا، میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا، ماشاء اللہ انکل بہت اچھا ہوا۔ حالانکہ میرے میڈیکل کے قارئین دوست جانتے ہوں گے کہ امتحان کیسا ہوتا ہے اور گائٹن اور بی ڈی چوراسیا (میڈیکل کتب کے مصنفین) ہم پر کیسے کیسے سرجیکل سٹرائیکس کرتے ہیں۔

اب انہوں نے جو قول کہا وہ کمال کا تھا۔ کہنے لگے ؛بیٹا جی میں بھی ٹیچر ہوں، میرا بھی کچھ نہ کچھ تجربہ ہے آپ لوگ یعنی میڈیکل کے سٹوڈنٹس کو معاشرہ بڑا قابل اور ذہین مانتا ہے اور ہے بھی اس طرح حالانکہ یہ سب سے نالائق ہوتے ہیں۔ یہ کہہ کے وہ تھوڑا سا مسکرائے، میں بھی ہنسنے لگا اور کہا جی بالکل آپ کی بات ٹھیک ہے۔ اچھا بچے میں چلتا ہوں، سڑک کے کنارے چلنا، آپ لوگ تو قوم کاسرمایہ ہو۔ یہ کہہ کے انہوں نے یم سے مصافحہ کیا اور چلنے لگے۔

اس کی یہ بات میرے دل کو لگی کیونکہ بات ٹھیک جو تھی کہ میڈیکل سٹوڈنٹس نا لائق ہوتے ہیں۔ اس کے چند وجوہات ہیں جس پر میں روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔ پہلا تو ہمارا نصاب اور میڈیکل سٹوڈنٹ بیچارا اکیلا اور دوسرا یہ کہ اپنی ہم اپنے کلہاڑی پہ اپنا پاوں ماررہے ہیں یعنی پڑھ نہیں رہے ہیں۔

سال بھر ہمارا نصاب سمندر کی طرح گہرا اور وسیع ہوتا ہے۔ ہم لوگ اللہ اللہ کرکے دریا کے برابر پڑھ لیتے ہیں۔ ذہن میں ندی جتنا بیٹھ جاتا ہے اور جب پرچے میں سوال آجائے تو ہمسایوں کی کل مدد ملاکے بالٹی برابر جواب لکھ دیتے ہیں۔ یہ تو اللہ کا کرم ہیں کہ پاس ہو جاتے ہیں۔ قارئین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سمندر جتنے وسیع نصاب میں ہمیں بمشکل بالٹی برابر یاد رہتا ہے اور وہ بھی دیگر دنیوی تعلیم سے دگنا چگنا مشکل اور کمپلیکیٹڈ ہوتا ہے تو اس تناسب سے تو ہم بیچارے نالائق ہوئے۔

دوسری جانب اس میں غلطی اپنی بھی ہے کیونکہ نہ تو ہم کلاس اٹینڈ کرنے کی زحمت کرتے ہیں اور نہ ریگولر پڑھتے ہیں۔ بھلا فروری کی یخ بستہ صبح میں کون اپنے نفس سے مجاھدہ کرکے گرم بستر کو خیرباد کہنے پر رضا مند ہوگا اور جہاں تک پڑھنے کی بات ہے تو دوپہر سے سہ پہر اور سہ پہر سے رات کے تیسرے پہر پبجی (PUBG) نہ کھیلے تو شاید پیدا ہی نہ ہوئے ہو بھلا اس میں آدمی خاک پڑھائی کرسکتا ہے۔ یہ دونوں وجوہات ہمارے نالائق پن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ہمیں ”بیچارے“ کے ٹائٹل سے با آسانی نوازا جاتا ہے۔

یہی میڈیکل سٹوڈنٹس جب پروفیشنل لائف میں آتے ہیں تو ان کی قدر کرنا ہم بھول جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہسپتال کے نلکے خراب ہونے پر بھی ڈاکٹر کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ معاشرے کا اک عام فرد اس سے ناواقف ہوتا ہے کہ کتنے کٹھن راستوں سے ہوتے ہوئے یہ بندہ آج ڈاکٹر کہلانے کے قابل ہوا ہے۔ کہیں پہ وارڈ میں اساتذہ سے بے عزتی کھانا تو کہیں پہ ہاوس جاب میں چوبیس چوبیس گنٹھے ڈیوٹی سر انجام دینا۔ میڈیکل سٹور میں میڈیسن نہ ہو تو ڈاکٹر ذمہ دار، ہسپتال کا کوئی مشین خراب ہو تب بھی ڈاکٹر ذمہ دار۔ یہ بیچارا لفظ میڈیکوز کے پیچھے لگا ہوا ہے اور کہیں بھی ان کو چھوڑنے والا نہیں۔

Facebook Comments HS