کوہستان میں قیامت کا ناقوس بج رہا ہے، کسی کو خبر ہوئی؟
مارچ کا مہینہ پدرسری معاشرے کے ہربرج ہرمینارے کو لرزا کے گزرگیا۔ گزر اس لیے گیا کہ آٹھ تاریخ کے سوا مارچ میں رکھا کیا ہے۔ مگراب اس تاریخ کے پہلو میں ایک لاش بھی رکھی ہے۔ افضل کوہستانی کی لاش!
افضل کوہستانی کا تعلق کوہستان کے ضلع پالس سے تھا۔ مانسہرہ میں ایک وکیل کے پاس کلرک تھا۔ ساتھ قانون کا طالب علم بھی تھا۔ وقت آیا کہ وہ کلرک رہ سکا اور نہ طالب علم۔ یہ تب ہوا جب اس نے موت کو اپنے کچھ عزیزوں کی طرف بڑھتا ہوا دیکھا۔ یہ عزیز وہی تھے جنہیں دوہزار بارہ میں کوہستان سے منظرعام پرآنے والی ایک وڈیو میں تقریبا ہر آنکھ نے دیکھا۔ یہ شادی کی ایک تقریب کی گھریلو سی وڈیو تھی۔ جس میں چار لڑکیاں تالیاں پیٹ رہی تھیں اور دو لڑکے روایتی رقص کررہے تھے۔ وڈیو منظر عام پر آئی تو کوہستان میں ثناخوانِ تقدیس مشرق نے سوال اٹھائے۔ افضل کوہستانی جانتا تھا کہ جو ”جرم“ منظر عام پر آیا ہے اس کی سزا قتل کے سوا کچھ نہیں ہے۔
کوہستان میں غیرت مندوں کا جرگہ بیٹھا۔ افضل کوہستانی اپنے دو بھائیوں کو رات کے اندھیرے میں گاؤں سے دور کہیں نامعلوم مقام پر لے گیا۔ یہی دو لڑکے تھے جو نسوانی تالیوں پر رقص کرکے تہذیب کی طنابیں ہلارہے تھے۔ تالیاں پیٹنے والی بازغہ، بیگم جان، سیرین جان، آمنہ اور شاہین کو ساتھ لے جانا تو آسان نہ تھا، مگر افضل نے آواز لگادی کہ لڑکیوں کی جان خطرے میں ہے، کوئی بچالے۔ افضل کی یہ دہائی ابھی پہنچی نہیں تھی کہ دوسری آواز آئی، وڈیو میں نظر آنے والی لڑکیوں کو قتل کردیا گیا ہے۔
افضل نے کہا، میں لڑکیوں کو بچانہیں سکتا مگر قاتلوں کا اب میں پیچھا ضرور کروں گا۔ اس نے عدل کے ایوانوں کو متوجہ کیا تو ایک کمیشن قائم ہوا۔ کمیشن نے بڑی جان ماری کے ساتھ تحقیق کرنے کے بعد عدالت پرانکشاف کیا کہ لڑکیاں ابھی بھی زندہ ہیں۔ اس ملک میں ”فحاشی“ کو عام کرنے میں جن خواتین کا حصہ ہے فرزانہ باری ان میں سے ایک ہیں۔ وہ آگے بڑھیں اور اس رپورٹ کو چیلنج کردیا۔ طویل رد وکد کے بعد عدالت کے سامنے یہ حقیقت آگئی کہ لڑکیوں کو جرگے کے فیصلے تحت قتل کردیا گیا ہے۔
دوہزار بارہ اور دوہزار اٹھارہ کے بیچ مدتوں کی مسافت ہے۔ میرا تصور بارہ اور اٹھارہ کے بیچ کی اس مسافت کا احاطہ کرنے سے عاجز ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس بیچ صرف دو الیکشن ہوئے ہیں اور تین چیف جسٹس بدلے ہیں۔ کون جانتا ہے کہ اس دوران افضل کوہستانی کے پورے گھربار کو ضلع پالس سے بے جرم وخطا دھتکاراگیا۔ یہ خوش حال گھرانہ کوڑی پائی کو صرف اس لیے ترس گیا کہ پہلی بار ایک جوان نے لڑکیوں کے خون پہ پلنے والی مردانہ غیرت کو چیلنج کیاتھا۔
نو ایسے افراد اس عرصے میں موت کی گھاٹ اتار دیے گئے جنہوں نے اس کیس میں جھوٹ کی نشاندہی کی۔ قتل ہونے والوں میں تین افضل کوہستانی کے سگے بھائی تھے۔ یہاں رک کر تھوڑا اطمینان کا سانس لینا چاہیے۔ مجھے خود اپنے آپ سے یہ سوال کرنا ہے کہ کیا حادثہ وہی توجہ طلب ہوتا ہے جس کی وڈیو بن پاتی ہے؟ جیسے کہ ساہیوال میں ہونے والا سانحہ جس میں تین معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین کو چھلنی کر دیا گیا؟ یا کراچی میں ہونے والا وہ سانحہ جس میں سرفراز رینجرز کی گولیوں کانشانہ بن کر زمین پر خونم خون ڈھے گیا۔
میں خود سے یہ بھی پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ اگر ساہیوال سانحے کی وڈیو نہ آتی تو کیا میں ان تین بچوں کے لیے رو تا جن کے سر سے پلک جھپکتے میں سائبان کھنچ گیا؟ کیا میں یقین بھی کرپاتا کہ شہریوں کے تحفظ کی قسم کھانے والے شہریوں کے ساتھ ہی یہ سب کرسکتے ہیں؟ ایک سوال دودن سے یہ بھی ستائے جارہا ہے کہ کیا افضل کوہستانی اور اس کے اہل خانہ پر جو گزرا، وہ سانحہ اب تک ہونے والا کون سا سانحہ ہے جس سے کم ہے؟ مجھے اپنی خاموشی کی ایک ہی وجہ سمجھ آتی ہے کہ میں نے چیختی چلاتی بازغہ کے سینے میں گولی اترتے ہوئے نہیں دیکھی۔
میں نے بیگم جان کی آنکھوں میں خوف دیکھا اور نہ اس کے گلے پہ چھری چلنے کا منظر دیکھا۔ مجھے وہ تصویر نہیں ملی جس میں سیرین جان کا خون آلود جسم برہنہ حالت میں کسی پہاڑ پر بے یار و مددگار پڑا ہے۔ میں نے آخری رات کا وہ منظر نہیں دیکھا جب ایک لڑکی کا حلق اس لیے خشک صحرا بن چکا ہوگا کہ صبح میں نے اپنے بے بس والدین اورسہمی ہوئی بہنوں کی شکل آخری باردیکھ سکوں گی۔ تہذیب کے پھندوں میں جھکڑی ہوئی اس ماں کا کرب میرے سامنے تصویر ہونے سے رہ گیا جو بندوق بردار محستبوں کو اپنی آنکھ کے سامنے بیٹی کو بالوں سے پکڑکر گھسیٹتا دیکھ رہی ہے۔ وہ ماں جو اس لیے رو نہیں سکتی کہ اس کا رونا ُاس فحاشی کی تائید سمجھا جائے گا جس کے فروغ میں اس کی بیٹی نے ہنستے ہوئے تالی پیٹ کر حصہ ڈالا ہے۔
میں نے جب یہ سب نہیں دیکھا، تو میں یہ کیسے دیکھ سکتا ہوں کہ افضل کوہستانی ایبٹ آباد کی عدالت میں پیش ہونے سے پہلے سیکیورٹی اداروں سے کہہ رہا ہے، مجھے کیس کی آخری سماعت کے لیے ہر صورت پہنچنا ہے مگر میری جان کو خطرہ ہے، تحفظ یقینی بنایا جائے۔ اسے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں ملی، پھر بھی وہ عدالت میں پیش ہوا۔ سماعت کے بعد پولیس نے اسے اس لیے پکڑلیا کہ اس کے پاس سے لائسنس یافتہ ٹی ٹی پستول برامد ہوئی۔ وہ پستول جو اس بے رحم معاشرے میں اس کے لیے تحفظ کی واحد ضمانت تھی۔
جن سے افضل نے تحفظ مانگا، وہی افضل کے نیفے سے تحفظ کا موہوم سا امکان نوچ کے لے گئے۔ افضل کو لاتوں ڈنڈوں اور گھونسوں کی برسات میں وین کی طر ف گھسیٹ کر لے گئے۔ یہاں زمین کو پھٹ جانا چاہیے تھا، مگر افضل کا دل تک بھی نہ پھٹا۔ بہت اطمینان سے اس نے خستہ سے کمرے میں سستے سے کیمرے کے سامنے بیٹھ کر اپنی روداد سنائی۔ ہم اپنی دنیا میں رہے اور سات افراد نے آکر افضل کوہستانی کے سینے میں پورا برسٹ اتاردیا۔
میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ اب جب کچھ نہیں بچا تو اتنا ضرور دیکھ پارہا ہوں کہ کچھ برس قبل جب کوہستان میں لڑکیوں کا خون ہوا تب ایس ایچ او عبدالغفور کوہستان میں تعینات تھا۔ آج جب تھانہ کینٹ ایبٹ آباد میں افضل کوہستانی کو دن دیہاڑے قتل کیا گیا تو یہاں بھی ایس ایچ او عبدالغفور ہی تعینات ہے۔ تب وہ تحقیقاتی کمیشن کے سامنے قتل ہونے والی لڑکیوں کو زندہ ثابت کررہا تھا۔ آج وہ افضل کے ساتھ روپوشی کی زندگی اختیار کرنے والے بھانجے کو گرفتار کرکے اسی کو افضل کوہستانی کا قاتل ثابت کررہا ہے۔
میں معافی چاہتا ہوں یہ کسی کالم نگار کا کالم نہیں ہے کہ صورت حال کا محض تجزیہ پیش کرکے اخبارنویسی کے اصولوں کو مطمئن کرسکوں۔ یہ کسی صحافی کی رپورٹ بھی نہیں ہے کہ غیرجانبداررہ کر محض واقعات کا اندراج کروں۔ یہ ایک بزدل اور پشیمان شہری کی التجا ہے۔ جو نہ تو وقت پر گواہی دیتا ہے اور نہ عملی کردار کا حوصلہ رکھتا ہے۔ بیچ چوراہے پر کھڑے ہونے کی بجائے کالم کے محفوظ دائرے میں کھڑا ہوکر باعمل شہریوں سے التجا کرتا ہے کہ خدارا کھڑے ہوجاؤ۔ کھڑے ہوجاؤ اور محتسب سے صرف اتنا پوچھ لو کہ مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے؟
وڈیو میں رقص کرنے والے جس بھائی کو افضل نے کہیں محفوظ مقام پر روپوش کردیا تھا، آج وہ منظر عام پر آگیا ہے اور تھانہ کینٹ کے سامنے بیٹھ کر فریاد کررہا ہے۔ پوچھ رہا ہے کہ افضل کو قتل تو کردیا، مگر قتل کے الزام میں اس شخص کو کیوں دھرلیا جو روپوشی کے عرصے میں سائے کی طرح ہمارے ساتھ کھڑا رہا۔
آٹھ مارچ خواتین کا عالمی دن ہے اور افضل کوہستانی عورت کے خون پر مردانگی استوار کرنے والی بریگیڈ سے لڑنے والے قبیل کا سب سے ممتاز شہید ہے۔ آٹھ مارچ کی دائیں جانب کچھ فاصلے پر ایک تاریخ کی لحد میں افضل کوہستانی کی لاش دفن ہے۔ وقت پر گواہی نہ دی گئی تو آٹھ مارچ کے بائیں جانب کسی تاریخ کی قبر میں ایک ہی گھر کی پانچویں لاش اترسکتی ہے۔ اے وقت پہ کان نہ دھرنے والے انسانو! اے وقت پر گواہی نہ دینے والے انسانو!


