تم بستر کیسے گرم نہیں کروگی؟
عورت مارچ میں ایک خواجہ سرا پوسٹر پکڑے کھڑی تھی، کھانا گرم کروں گی بستر خود گرم کرلو! اس تصویر کو دومرتبہ پڑھا۔ اور سوچنے پر مجبور ہوا۔ کیا بیوی بستر گرم کرتی ہے؟ میرے خیال میں بالکل نہیں۔ بستر رنڈی گرم کرتی ہے وہ بھی پیسوں کی خاطر۔ بیوی تو گھر کو ٹھں ڈا کرتی ہے، گھر کو جنت کرتی ہے، شوہر کو لطف اندوز کرتی ہے۔
میرے خیال میں اس طرح کی عورتیں مردوں کو بے وقوف سمجھ رہی ہیں۔ باور کرایا جا رہا ہے کہ عورت کو سیکس کی طلب نہیں ہوتی نہ ہی وہ اس سے لطف اندوز ہوتی ہے۔ عورت تو سیکس بس مرد کی خوشی اور خواہش کے لیے کرتی ہے۔ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ عورت جنس سے بھرپور لطف اندوز ہوتی ہے اور خواہش بھی رکھتی ہے۔
ایک واہیات خیال کو سوچتے ہیں، بیوی خاوند کے ساتھ سونے سے منع کردے تو کیا ہوگا؟ اگر خاوند کھاتا پیتا اور خوش شکل ہوا تو اسے کوئی اور مل جائے گی، ورنہ بازار میں سیکس ایک ہزار روپے سے لے کر ایک لاکھ روپے تک برائے فروخت ہے، وہ خرید لے گا۔ بہت ہی برے حالات ہوئے تو مشت زنی سے کام لے گا، یا پھر صبر کرلے گا۔ اب ایک بیوی جس نے اپنے شوہر کو انکار کیا ہے، وہ کیا کرے گی؟ کسی اور مرد کے ساتھ چکر چلائے گی۔ ظاہر ہے جس سے وہ دوسرا مرد بھی لطف اندوز ہوگا۔ اس سے بہتر نہیں تھوڑی عقل کرلی جائے۔ ایسی بات ہی نہ کی جائے جس سے گھر یا پورا نظام ہی خراب ہوجائے۔
آپ ٹائر کا پنکچر لگا لیتی ہیں یہ بہت عمدہ بات ہے مگر آپ کو ایسا کرنے کی کیا ضرورت ہے جب مرد یہ کام کررہا ہے؟ شاید گھر بیٹھی خواتین سمجھتی ہیں کہ باہر جاکر نوکری کرنا بہت آسان یا اچھا کام ہے، جیسا کہ چند نا سمجھ مرد خواتین کے گھر سنبھالنے کو کوئی کام ہی نہیں سمجھتے۔ یہ بھی ہمارے معاشرے کا ایک مسئلہ ہے۔ یہاں نوکری کرنے کو نوکر بننے کو برا سمجھنے کے بجائے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ آپ کیسی بھی نوکری کررہے ہوں، آپ نوکر ہیں! دفتر میں سیاست ہوتی ہے، پرموشن کی ٹینشن، اپنے آقا کی تعریفیں، خوش آمدیں وغیرہ وغیرہ۔
میرے خیال میں چند خواتین جوکہ مردوں سے یا تو نفرت کرتی ہیں یا پھر مردوں کو اپنا غلام بنانا چاہتی ہیں نے عورتوں کے دن کو یرغمال بنالیا اور یہ خواتین کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوا۔
غلامی کسی کے لیے بھی اچھی نہیں نہ ہی عورت کے لیے نی ہی مرد کے لیے۔ مردوں کے گلے میں پٹا ڈالنے کی خواہش رکھنے والی خواتین جب اپنے بیٹوں کے ساتھ یہ سب ہوتا دیکھیں گی تو کیا ہوگا؟
زندگی مرد اور خواتین دونوں ایک دوسرے کے بغیر گزارسکتے ہیں، مگر بے رنگ! مرد شادی صرف سیکس کے لیے ہی نہیں کرتا۔ ایک مرد اگر شادی پچیس لاکھ روپے میں کرتا ہے، اور ملک میں اوسط درجے کی رنڈی تین ہزار روپے میں میسر ہے تو ایک مرد آٹھ سو تینتس مختلف خواتین کے ساتھ سیکس کرسکتا ہے۔ مگر شادی نہ تو خواتین محض سیکس کی خاطر کرتی ہیں اور نہ ہی مرد۔
کاش! خواتین اور معاشرے کے مسائل پر بات کی جاتی۔ جہیز کا مسئلہ اٹھایا جاتا، دیہات میں کام کرنے والی خواتین پر بات ہوتی، تیزاب سے جھلسا دینی والی خواتین سے کوئی دلجوئی کرتا۔ مزید سنجیدہ موضوعات پر بات کی جاتی حل تلاش کیا جاتا۔ مگر چند خواتین نے سب بگاڑ دیا۔ خواتین نے ہی خواتین سے دشمنی نکالی۔


